مدینہ منورہ کی حاضری میں ادب و احترام، اخلاص و اتباعِ سنت ضروری: مولانا محمد ریاض احمد قادری حسامی
سوشل میڈیا کیلئے مقدس مقامات کو فوٹو شوٹ و ریئلز کا مرکز بنانے سے گریز کیا جائے، اسلامی آداب کا خیال رکھیں
حٰیدرآباد،17اکٹوبر(الہلال میڈیا) مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ مسلمانوں کے لیے نہایت مقدس مقامات ہیں، جہاں حاضری ہر مسلمان کے دل کی آرزو اور ایمان و محبت کا اہم حصہ ہے۔ ان مقدس مقامات کی زیارت جہاں روحانی سکون اور قلبی وابستگی کا ذریعہ ہے، وہیں اس موقع پر ادب و احترام، اخلاص، تقویٰ اور شریعتِ اسلامی کی تعلیمات پر عمل کرنا بھی بے حد ضروری ہے۔ مدینہ منورہ کی حاضری محض ایک سفر نہیں، بلکہ عشقِ رسولؐ کے اظہار، روحانی اصلاح، توبہ و استغفار اور اپنی زندگی کو سنتِ نبوی ؐ کے مطابق ڈھالنے کا ایک اہم موقع ہے۔ ان خیالات کا اظہار مولانا محمد ریاض احمد قادری حسامی(ناظم مدرسہ اسلامیہ ریاض العلوم) نے مسجد محمودہ، شاستری پورم میں نمازِ جمعہ سے قبل اپنے خطاب میں کیا۔انہوں نے سوشل میڈیا کے بڑھتے ہوئے رجحان کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ افسوس کی بات ہے کہ بعض افراد مقدس مقامات کی حاضری کو بھی نمائش اور شہرت کا ذریعہ بنا رہے ہیں۔
مولانا محمد ریاض احمد قادری حسامی نے کہا کہ مسجد نبویؐ میں نکاح کرنا یقیناً ایک مبارک اور قابلِ مسرت عمل ہے، لیکن افسوس کہ بعض افراد اس پاکیزہ عمل کو بھی فیشن، نمائش اور سوشل میڈیا پر شہرت حاصل کرنے کا ذریعہ بناتے جارہے ہیں۔ نکاح کی سادگی اور اسلامی اقدار کو ترجیح دینے کے بجائے بعض جوڑے اس تقریب کو یادگار بنانے کے نام پر بڑی بڑی پی آر کمپنیوں کی خدمات حاصل کررہے ہیں، جو گھر سے مدینہ منورہ روانگی، نکاح کی تقریب اور واپسی تک ہر مرحلے کی پیشہ ورانہ انداز میں عکس بندی کرتی ہیں۔ اس مقصد کے لیے لاکھوں روپے خرچ کیے جاتے ہیں، کیمرہ مین، خصوصی لائٹنگ اور دیگر انتظامات کیے جاتے ہیں، پھر ان تصاویر اور ویڈیوز کو یوٹیوب اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر عام کیا جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس سارے عمل میں بعض اوقات گھر کی خواتین کو بھی کیمروں کے سامنے لاکر ان کی تصاویر اور ویڈیوز بنائی جاتی ہیں، جس سے پردے اور حیا کے اسلامی تقاضے متاثر ہوتے ہیں۔ افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ جس مقدس مقام پر انسان کو عبادت، درود و سلام اور روحانی سکون کے لیے حاضر ہونا چاہیے، وہاں بعض لوگ اپنی ذاتی خوشیوں کی تشہیر اور دنیا بھر میں اپنی نمائش کو زیادہ اہمیت دینے لگے ہیں۔ نکاح ایک مقدس بندھن اور سنتِ نبویؐ ہے، اسے سادگی، پاکیزگی اور اسلامی تعلیمات کے مطابق انجام دینا چاہیے، نہ کہ مہنگے فوٹو شوٹ، غیر ضروری تشہیر اور سوشل میڈیا پر مقبولیت حاصل کرنے کی دوڑ کا حصہ بنایا جائے۔ نکاح کی تصاویر اور ویڈیوز کو سوشل میڈیا پر عام کرنے سے پہلے یہ بھی سوچنا چاہیے کہ ان میں شامل خواتین کی نجی زندگی، پردے اور عزت و وقار پر کیا اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔
مسجد نبویؐ میں حاضری اور نکاح جیسے مبارک عمل کو تشہیر کا ذریعہ بنانے کے بجائے اسے عبادت، دعا، شکرگزاری اور ایک پاکیزہ ازدواجی زندگی کے آغاز کا موقع بنانا چاہیے۔ مولانا ریاض حسامی نے مزید کہا کہ اسلام میں حیا، پاکیزگی، نگاہوں کی حفاظت اور پردے کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے مردوں اور عورتوں دونوں کو نگاہیں نیچی رکھنے اور پاک دامنی کی حفاظت کرنے کی تعلیم دی ہے۔ لہٰذا نکاح کے بعد خوشی کے اظہار یا یادگار لمحات محفوظ کرنے کے نام پر ایسے انداز اختیار کرنا جن سے بے پردگی، غیر مناسب نمائش یا اخلاقی حدود کی پامالی کا اندیشہ ہو، اسلامی تعلیمات کے منافی ہے۔
مسجد نبوی ئ میں عبادت گزاروں کی آمدورفت میں رکاوٹ پیدا کرنا، دوسروں کو تصاویر میں شامل کرنا، ان کی نجی زندگی اور پردے کا خیال نہ رکھنا یا عبادت کے ماحول کو ویڈیو سازی سے متاثر کرنا مناسب نہیں۔ زائرین کو چاہیے کہ وہ سعودی عرب کے متعلقہ حکام کی ہدایات اور مسجد کے انتظامی ضوابط کی پابندی کریں اور کسی بھی ایسی سرگرمی سے بچیں جو دوسروں کے لیے پریشانی کا باعث بنے۔