اردو اساتذہ کی 800 آسامیوں کا مطالبہ، روشن بیگ میدان میں.
وزیر اعلیٰ ڈی کے شیوکمار سے ملاقات، کابینہ کے فیصلے پر عمل درآمد کی اپیل
بنگلورو، 25 اکتوبر ( ایجنسیز)
کرناٹک میں اردو میڈیم اساتذہ کی بھرتی کے منتظر امیدواروں کے مطالبات کو مؤثر انداز میں پیش کرتے ہوئے سابق وزیر و سینیر رہنما روشن بیگ نے وزیر اعلیٰ ڈی کے شیوکمار سے ملاقات کی اور آئندہ بھرتی نوٹیفکیشن میں کم از کم 800 اردو میڈیم اساتذہ کی جائیدادیں شامل کرنے کی اپیل کی۔ انہوں نے اردو میڈیم اسکولوں میں اساتذہ کی کمی، ہزاروں اہل امیدواروں کے مستقبل اور اردو میڈیم تعلیم کے تحفظ سے متعلق مسائل پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا۔روشن بیگ نے وزیر اعلیٰ سے کہا کہ ریاست کے مختلف علاقوں میں اردو میڈیم اسکول قائم ہیں، جہاں طلبہ کو معیاری تعلیم فراہم کرنے کے لیے اساتذہ کی مناسب تعداد میں تقرری ناگزیر ہے۔ اگر حکومت دیگر مضامین کے لیے 15 ہزار اساتذہ کی بھرتی کررہی ہے تو اردو میڈیم اسکولوں کے لیے 800 اساتذہ کی تقرری کو پیچیدہ بنانے کی کیا وجہ ہے؟ انہوں نے زور دیا کہ کابینہ میں کیے گئے فیصلے کے مطابق پہلے مرحلے میں 800 اردو میڈیم اساتذہ کی بھرتی کا نوٹیفکیشن جاری کیا جائے، تاکہ اسکولوں میں تدریسی عملے کی کمی دور کرنے کی سمت پیش رفت ہوسکے۔
جناب روشن بیگ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اساتذہ کی تقرری محض سرکاری ملازمتوں کی فراہمی کا معاملہ نہیں، بلکہ اس کے اثرات پورے خاندان اور آنے والی نسلوں کے مستقبل پر مرتب ہوتے ہیں۔ ایک اہل امیدوار کو سرکاری ملازمت ملنے سے پورا خاندان معاشی طور پر خودکفیل ہوسکتا ہے، جبکہ اسکولوں میں اساتذہ کی مناسب تعداد بچوں کے تعلیمی معیار کو بہتر بنانے اور ان کے مستقبل کو محفوظ بنانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ سے اپیل کی کہ امیدواروں کی طویل انتظار کی کیفیت اور اردو میڈیم اسکولوں کی حقیقی ضروریات کو پیش نظر رکھتے ہوئے اس معاملے میں جلد فیصلہ کیا جائے۔
ان مطالبات پر وزیر اعلیٰ ڈی کے شیوکمار نے روشن بیگ کو یقین دہانی کرائی کہ وہ اس معاملے پر متعلقہ حکام کو ہدایات دیں گے اور محکمہ تعلیمات کی ایڈیشنل چیف سکریٹری ریشمی مہیش سے بھی بات کریں گے۔دریں اثنا، بعض اقلیتی وزراء سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق، آئندہ بھرتی نوٹیفکیشن میں اردو میڈیم اساتذہ کی صرف 530 جائیدادیں شامل کیے جانے کا امکان ظاہر کیا جارہا ہے۔ تاہم، اس تعداد کی سرکاری طور پر تصدیق نہیں ہوئی ہے اور حتمی صورتِ حال نوٹیفکیشن جاری ہونے کے بعد ہی واضح ہوگی۔ اس اطلاع کے باعث اردو میڈیم اساتذہ کے امیدواروں میں تشویش پائی جاتی ہے، کیونکہ ان کا مطالبہ ہے کہ کم از کم 800 جائیدادیں مختص کی جائیں۔امیدواروں کا کہنا ہے کہ اردو میڈیم اسکولوں میں اساتذہ کی کمی اور تدریسی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے جائیدادوں کی تعداد مقرر کی جانی چاہیے۔ ان کے مطابق، محدود تعداد میں تقرریوں سے نہ صرف اہل امیدواروں کے لیے روزگار کے مواقع کم ہوں گے بلکہ اردو میڈیم اسکولوں میں اساتذہ کی کمی دور کرنے کا مقصد بھی پوری طرح حاصل نہیں ہوسکے گا۔اردو میڈیم اساتذہ کی بھرتی کے معاملے میں اب حکومت کے آئندہ فیصلے پر نظریں مرکوز ہیں۔ امیدواروں کو امید ہے کہ وزیر اعلیٰ کی مداخلت اور روشن بیگ کی نمائندگی کے نتیجے میں کابینہ کے فیصلے کے مطابق کم از کم 800 اردو میڈیم اساتذہ کی جائیدادوں کے لیے نوٹیفکیشن جاری ہوگا اور اردو میڈیم اسکولوں کی تعلیمی ضروریات کو مناسب اہمیت دی جائے گی۔