علماء و حفاظ کو قانونی میدان میں لانے کا عظیم منصوبہ؛ ڈاکٹر عبدالقدیر کا آئندہ دس برسوں میں 3 ہزار وکیل تیار کرنے کا اعلان
نئی دہلی,11جون شاہین گروپ آف انسٹی ٹیوشنز کے بانی و چیئرمین ڈاکٹر عبدالقدیر نے علماء و حفاظ کو عصری قانونی تعلیم سے آراستہ کرنے کے ایک اہم اور دور رس منصوبہ پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ آئندہ دس برسوں کے دوران تین ہزار علماء و حفاظ کو وکالت کے پیشے سے وابستہ کیا جاسکتا ہے، تاکہ ملک میں ایسے ماہرین قانون تیار ہوں جو دینی علوم کے ساتھ ساتھ آئینی اور قانونی معاملات پر بھی گہری نظر رکھتے ہوں۔ڈاکٹر عبدالقدیر نے اس منصوبے کی عمل آوری کیلئے متحدہ کوششوں پر زور دیا۔ انہوں نے اس منصوبے کا اعلان نئی دہلی کے کانسٹی ٹیوشن کلب میں منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ یہ تقریب سپریم کورٹ کے معروف ایڈوکیٹ مولانا کعب رشیدی کی کتاب "آئین ہند” کی رسمِ اجرا کے موقع پر منعقد کی گئی تھی، جس میں مختلف علمی، قانونی اور سماجی شخصیات نے شرکت کی۔ اپنے خطاب میں ڈاکٹر عبدالقدیر نے کہا کہ موجودہ دور میں مسلمانوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ تعلیم کے ہر شعبے میں اپنی مؤثر نمائندگی کو یقینی بنائیں، بالخصوص قانون اور عدلیہ جیسے اہم میدانوں میں۔ انہوں نے بتایا کہ اس منصوبے کے تحت پہلے سال تین سو علماء و حفاظ کو ایل ایل بی کی تعلیم دلانے کا ہدف مقرر کیا جانا چاہئے ، جبکہ آئندہ دس برسوں میں اس تعداد کو بڑھا کر تین ہزار تک پہنچایا جا سکتا ہے۔ ڈاکٹر عبدالقدیر نے شاہین گروپ آف انسٹی ٹیوشنز کے کامیاب تعلیمی تجربات کا ذکر کرتے ہوئے حاضرین کو بتایا کہ جس طرح شاہین نے میڈیکل، انجینئرنگ، سول سروسز اور دیگر شعبوں میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں، اسی طرح اب قانونی تعلیم کے میدان میں بھی ایک مضبوط اور مؤثر تحریک شروع کی جا رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ شاہین اس سمت میں عملی پیش رفت بھی کر چکا ہے اور پہلے تجربے کےطور پر دس مفتیانِ کرام کو خصوصی تربیت فراہم کرکے وکالت کے پیشے سے جوڑا جا چکا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دینی اور قانونی علوم کا امتزاج معاشرے کو ایسے رہنما فراہم کرے گا جو آئینی حقوق، عدالتی امور اور سماجی انصاف کے تقاضوں کو بہتر انداز میں سمجھ سکیں گے۔ تقریب کے شرکاء نے ڈاکٹر عبدالقدیر کے اس وژن کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ یہ منصوبہ ملک میں علماء اور حفاظ کے لیے نئے مواقع پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ قانونی شعبے میں ان کی مؤثر نمائندگی کا ذریعہ بنے گا۔