انسانی زندگی کی سب سے متحرک اور تخلیقی سرگرمیوں میں کھیلوں کو ہمیشہ ایک نمایاں مقام حاصل رہا ہے۔ کھیل صرف جسمانی قوت کا امتحان نہیں ہوتے بلکہ انسان کے حوصلے، ذہانت، صبر، نظم و ضبط، اجتماعی شعور اور فیصلہ سازی کی صلاحیتوں کو بھی کسوٹی پر پرکھتے ہیں۔
دنیا کا سب سے مقبول کھیل فٹ بال ہے۔ دو سو سے زائد ممالک میں یہ کھیل کھیلا جاتا ہے۔ گیارہ کھلاڑیوں پر مشتمل دو ٹیموں کے درمیان نوّے منٹ تک جاری رہنے والی یہ جدوجہد اربوں انسانوں کے دلوں میں سنسنی، جوش اور ولولہ پیدا کرتی ہے۔
فٹ بال بذاتِ خود ایک رومان ہے، اور جب دنیا کے بہترین کھلاڑی میدان میں اترتے ہیں تو یہ کھیل ایک عالمی جشن میں تبدیل ہو جاتا ہے۔امریکہ، کینیڈا اور میکسیکو میں منعقد ہونے والا فٹ بال ورلڈ کپ 2026 کئی حوالوں سے تاریخی اہمیت رکھتا ہے۔ پہلی مرتبہ تین ممالک مشترکہ طور پر اس عظیم مقابلے کی میزبانی کر رہے ہیں۔ اڑتالیس ٹیمیں اور ایک سو سے زائد میچ اس عالمی میلے کا حصہ ہوں گے۔ اس لیے ممکن ہو تو وقت نکال کر زیادہ سے زیادہ میچ دیکھنے کی کوشش کیجیے۔ انہیں صرف ایک کھیل کے طور پر نہیں بلکہ انسانی صلاحیتوں کے عظیم مظاہرے کے طور پر دیکھیے۔فٹ بال کی تاریخ میں برازیل کے پیلے اور ارجنٹائن کے ڈیاگو میراڈونا کو افسانوی حیثیت حاصل ہے۔ موجودہ دور میں لیونیل میسی، کرسٹیانو رونالڈو اور کائلیان ایمباپے دنیا کے مقبول ترین اور باصلاحیت کھلاڑیوں میں شمار ہوتے ہیں۔
میں نے 1986 اور 1990 کے عالمی کپ میں میراڈونا کا کھیل براہِ راست دیکھا تھا۔ بعض اوقات ایسا محسوس ہوتا تھا کہ وہ گیند سے نہیں کھیل رہا بلکہ گیند خود اس کے قدموں سے چمٹ گئی ہے۔ 1986 کے عالمی کپ میں اس کا وہ تاریخی گول آج بھی فٹ بال کی تاریخ کے عظیم ترین لمحات میں شمار ہوتا ہے، جب اس نے تقریباً پوری مخالف ٹیم کو چکمہ دیتے ہوئے گیند کو جال تک پہنچا دیا تھا۔
بعض انسان مخصوص شعبوں میں فطری طور پر غیر معمولی صلاحیتوں کے حامل ہوتے ہیں۔ موٹر ریسنگ میں مائیکل شوماخر، کرکٹ میں ڈان بریڈمین، ہاکی میں دھیان چند، دوڑ میں یوسین بولٹ، ٹینس میں فیڈرر، نڈال اور جوکووچ، مارشل آرٹس میں بروس لی، شطرنج میں گیری کاسپروف اور میگنس کارلسن، ادب میں شیکسپیئر اور ٹالسٹائی، سائنس میں آئن اسٹائن اور مصوری میں لیونارڈو ڈاونچی ایسے ہی چند نام ہیں۔ میراڈونا بھی اسی قافلے کا ایک درخشاں ستارہ تھا۔پیلے، میراڈونا، رونالڈو، میسی اور ایمباپے کو کون بھول سکتا ہے۔
فرانس کے نپولین بوناپارٹ نے کہا تھا:
"ہر انسان کو اپنی زندگی کے سفر میں ایسے نقوش چھوڑنے چاہئیں جو اس کے بعد بھی باقی رہیں۔”
لیکن جدید زندگی کا ایک المیہ یہ ہے کہ اکثر لوگ اپنی پوری جوانی گھر، گاڑی، قسطوں اور معاشی دوڑ میں گزار دیتے ہیں۔ بیس سے ساٹھ سال کی عمر تک کا قیمتی عرصہ روزمرہ کی ضروریات پوری کرنے میں گزر جاتا ہے۔ اس دائرے سے باہر نکل کر کچھ نیا سوچنے اور کچھ بڑا کرنے والے لوگ ہی دنیا میں اپنی الگ شناخت قائم کرتے ہیں۔
ہمارے ملک میں ایک اور پہلو بھی سنجیدہ غور و فکر کا متقاضی ہے۔ نوجوان نسل کی بڑی تعداد تقریباً مکمل طور پر کرکٹ کے گرد سمٹ کر رہ گئی ہے۔ کرکٹ یقیناً ایک عظیم اور دلکش کھیل ہے، لیکن کسی ایک کھیل کی غیر معمولی مقبولیت کے نتیجے میں دیگر عالمی کھیلوں کو نظر انداز کر دینا مناسب نہیں۔
فٹ بال دنیا کا سب سے مقبول کھیل ہے۔ اس کے ساتھ ایتھلیٹکس، تیراکی، باسکٹ بال، والی بال، جمناسٹکس اور کئی دیگر کھیل انسانی صلاحیتوں کے مختلف پہلوؤں کو نکھارتے ہیں۔ افسوس کہ ہمارے ہاں اکثر کھیلوں کی دنیا کرکٹ سے شروع ہو کر کرکٹ پر ہی ختم ہو جاتی ہے۔ نتیجتاً بے شمار نوجوان، جو دیگر کھیلوں میں عالمی معیار کی صلاحیت رکھتے ہیں، مناسب مواقع نہ ملنے کے باعث گمنامی میں کھو جاتے ہیں۔ترقی یافتہ ممالک میں کھیلوں کا مقصد صرف چیمپئن پیدا کرنا نہیں بلکہ ایک صحت مند، منظم، پُراعتماد اور متحرک معاشرہ تشکیل دینا بھی ہوتا ہے۔ جس دن ہمارے نوجوان کرکٹ کے ساتھ ساتھ فٹ بال اور دیگر عالمی کھیلوں کی طرف بھی متوجہ ہوں گے، اسی دن ہندوستانی کھیلوں کا افق مزید وسیع ہو جائے گا۔ایک سو سینتالیس کروڑ آبادی رکھنے والا بھارت ابھی تک عالمی فٹ بال میں نمایاں مقام حاصل نہیں کر سکا۔ صلاحیتوں کی کمی نہیں، لیکن ان صلاحیتوں کو تلاش کرنے، سنوارنے اور عالمی معیار تک پہنچانے والا نظام ابھی تک مطلوبہ سطح پر نہیں پہنچ سکا۔
ڈیاگو میراڈونا ارجنٹائن کی ایک غریب بستی سے نکل کر دنیا کا عظیم ترین فٹ بالر بن سکتا ہے تو یقیناً ہمارے دیہات، قصبوں اور پسماندہ علاقوں میں بھی بے شمار میراڈونا، میسی اور رونالڈو موجود ہوں گے۔ ضرورت صرف انہیں تلاش کرنے اور آگے بڑھانے کی ہے۔یہ عالمی کپ ہمارے لیے ایک آئینہ بھی ہے، جس میں ہم اپنی قومی ترجیحات اور اجتماعی صلاحیتوں کا جائزہ لے سکتے ہیں۔حالیہ برسوں میں بھارت نے کشتی، باکسنگ، ویٹ لفٹنگ، تیراندازی اور بیڈمنٹن جیسے کھیلوں میں حوصلہ افزا کامیابیاں حاصل کی ہیں، لیکن عالمی سطح پر مستقل برتری حاصل کرنے کے لیے صرف فنڈز کافی نہیں ہوتے۔ ایک دیانت دار، سائنسی اور مسلسل کام کرنے والا نظام درکار ہوتا ہے۔یہ تنقید اپنے وطن سے محبت کے خلاف نہیں بلکہ اسی محبت کا اظہار ہے۔ خواہش صرف اتنی ہے کہ بھارت بھی دنیا کی کھیلوں کی بڑی طاقتوں میں شامل ہو اور ہمارے بچے عالمی میدانوں میں ملک کا پرچم بلند کریں۔
گزشتہ عالمی کپ میں ارجنٹائن نے جس فنکارانہ انداز سے فٹ بال کھیلا، وہ کھیل کی خوبصورتی کا ایک اعلیٰ نمونہ تھا۔ لیونیل میسی نے اپنی غیر معمولی صلاحیتوں سے دنیا بھر کے شائقین کے دل جیت لیے اور اپنی ٹیم کو عالمی چیمپئن بنانے میں فیصلہ کن کردار ادا کیا۔حقیقت یہ ہے کہ کھیل صرف جیت اور ہار کا نام نہیں۔ یہ زندگی کا ایک مکمل درس گاہ ہے۔ اس میں امید بھی ہے اور مایوسی بھی، خوشی بھی ہے اور غم بھی، کامیابی بھی ہے اور ناکامی بھی۔ میدان میں پیش آنے والا ہر لمحہ زندگی کا کوئی نہ کوئی سبق اپنے اندر سموئے ہوتا ہے۔کھیل انسان کو برداشت، نظم و ضبط، اجتماعی سوچ، قیادت، حوصلہ اور خود اعتمادی عطا کرتے ہیں۔ شاید اسی لیے میدانوں میں پسینہ بہانے والی قومیں اکثر دنیا کے دوسرے میدانوں میں بھی کامیابی حاصل کرتی ہیں۔آئیے فٹ بال ورلڈ کپ 2026 کو محض ایک عالمی مقابلے کے طور پر نہ دیکھیں بلکہ اسے اپنے لیے ایک پیغام سمجھیں۔ ایسا پیغام جو ہمیں یاد دلائے کہ عظمت کا راستہ محنت، نظم و ضبط، تخلیقی سوچ اور مسلسل جدوجہد سے ہو کر گزرتا ہے۔شاید اگلا میراڈونا، پیلے،میسی یا ایمباپے کسی ارجنٹائنی یا فرانسیسی گلی میں نہیں بلکہ ہمارے کسی گاؤں، کسی بستی یا کسی سرکاری اسکول کے میدان میں دوڑ رہا ہو۔ ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ ہم اسے پہچان سکیں، اس کے خوابوں کو سہارا دے سکیں اور اس کے لیے ترقی کا راستہ ہموار کر سکیں۔ دعا کریں کہ ہمارا ملک ذات پات، فرقہ واریت، بدعنوانی، سیاسی شور اور محض دولت کمانے کی دوڑ سے اوپر اٹھ کر کھیلوں سمیت ہر میدان میں عالمی معیار حاصل کرے۔ہمارے نوجوان صرف اچھی ملازمت، گھر، گاڑی اور مادی آسائشوں تک محدود نہ رہیں بلکہ علم، تحقیق، کھیل اور تخلیقی سرگرمیوں کے ذریعے اپنی شخصیت اور اپنے وطن کی عظمت میں بھی اضافہ کریں۔جس دن ہم نے کھیل کو محض تفریح نہیں بلکہ قومی تعمیر، شخصیت سازی اور عالمی شناخت کا ذریعہ سمجھ لیا، اسی دن بھارت حقیقی معنوں میں ایک عظیم کھیلوں کی طاقت بننے کی سمت تیزی سے آگے بڑھنا شروع کر دے گا۔