عورت آدھا آسمان نہیں: بھارت کی پانچ ہزار سالہ داستان
ازقلم: ڈاکٹر صدیقی نسرین فرحت
لکھنؤ کی ایک خاموش صبح تھی۔ 1857ء کے ہنگامہ خیز دنوں میں ایک خاتون گھوڑے پر سوار شہر کی گلیوں سے گزری۔ اس کے چہرے پر خوف کے بجائے عزم و حوصلہ جھلک رہا تھا اور اس کے ہاتھ میں کسی ہتھیار کے بجائے آزادی کا ایک انوکھا تصور تھا۔ وہ بیگم حضرت محل تھیں، جن کی پیدائش تقریباً 1820ء کی دہائی میں ہوئی تھی۔ تاریخ کے صفحات میں وہ صرف ایک نام نہیں بلکہ خود ایک انقلاب ہیں۔ یہ وہ تاریخی لمحہ تھا جس میں بھارتی عورت نے صدیوں سے اپنے وجود کو ثابت کیا ہے، کبھی خاموشی سے، کبھی مزاحمت سے اور کبھی کھل کر قیادت کے ذریعے بھی۔
اگر ہم اس کہانی کے تانے بانے ماضی میں تلاش کریں تو اس کی جڑیں ہزاروں سال پرانی تہذیبوں میں پیوست نظر آتی ہیں۔ ماہرینِ آثارِ قدیمہ کے مطابق وادیِ سندھ کی تہذیب تقریباً 2600 قبلِ مسیح میں فلاح و بہبود کی بہترین مثال تھی۔ آثارِ قدیمہ کے ریکارڈ کے مطابق مٹی کی بنی ہوئی مادری دیوی کے مجسمے، جنہیں ماہرین نے بڑی تعداد میں دریافت کیا ہے، اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ اس عہد میں عورت کو محض ایک فرد نہیں بلکہ تخلیق اور بقا کی علامت سمجھا جاتا تھا۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ احترام حقیقی سماجی برابری میں بھی ظاہر ہوتا تھا؟ قطعی طور پر تو کچھ کہنا مشکل ہے، مگر دستیاب آثار اس بات کی طرف ضرور اشارہ کرتے ہیں کہ عورت کا مقام بعد کے کئی ادوار کے مقابلے میں زیادہ مستحکم اور مضبوط تھا۔
یہی رجحان ویدک دور میں مزید واضح ہو کر سامنے آتا ہے۔ رگ وید، جو قدیم ترین ہندو مذہبی متون میں شمار ہوتا ہے، نہ صرف مردوں بلکہ خواتین کی فکری شرکت کا بھی بین ثبوت فراہم کرتا ہے۔ ‘برہدارنیک اپنشد’ کے مطابق گارگی واچکنوی کا وہ منظر، جب وہ راجا جنک کے دربار میں فلسفیانہ سوالات اٹھاتی ہیں، محض ایک علمی مکالمہ نہیں بلکہ ایک سماجی اعلان تھا کہ عورت سوال کر سکتی ہے، بحث کر سکتی ہے اور علم کے میدان میں مرد کے شانہ بشانہ کھڑی ہو سکتی ہے۔ اسی طرح میترئی کا یہ اصرار کہ انہیں وہ علم چاہیے جو انہیں لافانی بنا دے، نہ کہ وہ دولت جو فنا ہو جائے، اس فکری خودمختاری کا اظہار ہے جسے آج بھی جدید تعلیم کا بنیادی اصول سمجھا جاتا ہے۔
لیکن تاریخ کا سفر ہمیشہ سیدھا نہیں ہوتا۔ ویدک دور کے بعد جب سماجی ڈھانچے زیادہ منظم اور درجہ بندی کا شکار ہونے لگے تو خواتین کی آزادی بتدریج محدود ہوتی چلی گئی۔ ڈاکٹر اے ایس آلٹیکر کی کتاب "دی پوزیشن آف ویمن ان ہندو سولائزیشن” میں درج ہے کہ منوسمرتی جیسے متون میں عورت کو مرد کی سرپرستی میں رکھنے کا تصور پیش کیا گیا، جس نے صدیوں تک سماجی رویوں کو متاثر کیا۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ تبدیلی مذہبی تھی یا سماجی؟ مؤرخین کی ایک بڑی تعداد کا خیال ہے کہ یہ تبدیلی زیادہ تر سماجی و معاشی تغیرات کا نتیجہ تھی، جہاں جائیداد، وراثت اور خاندانی نظام کو مستحکم کرنے کے لیے عورت کے دائرہ کار کو محدود کر دیا گیا۔
اسی پس منظر میں جب چھٹی صدی قبلِ مسیح میں بدھ مت کا ظہور ہوا تو اس نے ایک نئی فکری فضا پیدا کی۔ گوتم بدھ نے خواتین کو ‘سنگھ’ میں شامل ہونے کی اجازت دی، جو اس دور کے لحاظ سے ایک انقلابی قدم تھا۔ پالی کینن کے مطابق مہاپراجاپتی گوتمی کا سنگھ میں داخلہ اور ‘تھیری گاتھا’ میں شامل خواتین راہباؤں کے اشعار اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ عورت نے نہ صرف مذہبی بلکہ فکری سطح پر بھی اپنی جگہ بنائی۔ ان اشعار میں ہمیں ایک عورت کی وہ پکار سنائی دیتی ہے جو سماجی بندشوں کو توڑ کر اپنی شناخت خود تخلیق کر رہی ہے۔
قرونِ وسطیٰ میں داخل ہوتے ہی بھارتی معاشرہ ایک بار پھر تبدیلی کے مرحلے سے گزرتا ہے۔ نامور مؤرخ رومیلا تھاپر کے مطابق گپتا دور، جسے اکثر سنہری دور کہا جاتا ہے، ہمیں ایسے شواہد فراہم کرتا ہے جو خواتین کی سیاسی شرکت کو ظاہر کرتے ہیں۔ چندرگپت اول کے سکے، جن پر ان کی ملکہ کمارا دیوی کی تصویر بھی موجود ہے، اس بات کی علامت ہیں کہ خواتین اقتدار کے رسمی ڈھانچے کا حصہ تھیں۔ تاہم یہ شرکت سماج میں کتنی وسیع تھی، یہ سوال اب بھی تحقیق کا موضوع ہے۔
اسی دور کے بعد بھکتی تحریک نے ایک ایسی فکری لہر پیدا کی جس نے عورت کو مذہبی اور سماجی سطح پر نئی آزادی دی۔ میرابائی کا کردار یہاں خاص طور پر اہم ہے۔ ایک راجپوت شہزادی کا سماجی روایات کو تیاگ کر کرشن بھکتی میں ڈوب جانا محض ایک مذہبی عمل نہیں بلکہ ایک خاموش بغاوت تھی۔ ان کی شاعری میں جو درد، عشق اور آزادی کی خواہش جھلکتی ہے، وہ دراصل ایک عورت کی اپنی شناخت کی تلاش ہے۔ اسی طرح اکا مہادیوی اور لل دید نے بھی روحانیت کے موثر وسیلے سے سماجی بندشوں کو چیلنج کیا۔
جب ہم دہلی سلطنت اور بعد میں مغل دور کی طرف بڑھتے ہیں تو ہمیں خواتین کا ایک اور روپ اقتدار کی صورت میں نظر آتا ہے۔ ستیش چندر کی کتاب "میڈیول انڈیا” کے مطابق رضیہ سلطانہ 1236ء سے 1240ء تک دہلی سلطنت کی واحد خاتون حکمران تھیں جنہوں نے عملی طور پر نظمِ مملکت سنبھالا۔ نورجہاں نے مغل دربار میں جو سیاسی اثر و رسوخ قائم کیا، وہ محض ملکہ ہونے کا نتیجہ نہیں تھا بلکہ ان کی اعلیٰ انتظامی صلاحیتوں کا اعتراف تھا۔ ان کے نام سے سکے جاری ہونا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ وہ محض پسِ پردہ قوت نہیں بلکہ اقتدار کا فعال چہرہ تھیں۔
تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ یہ مثالیں عمومی سماجی صورتِ حال کی نمائندگی نہیں کرتی تھیں۔ زیادہ تر خواتین اس دور میں بھی سخت سماجی پابندیوں کا شکار تھیں۔ یہی تضاد یعنی ایک طرف طاقت اور دوسری طرف پابندی، بھارتی تاریخ میں عورت کے کردار کو پیچیدہ بناتا ہے۔
انیسویں صدی میں جب برطانوی استعمار نے بھارت پر اپنی گرفت مضبوط کی تو سماج ایک بار پھر تبدیلی کے دہانے پر کھڑا تھا۔ اس دور میں خواتین کی تعلیم اور اصلاح کے لیے کئی تحریکیں شروع ہوئیں۔ راجہ رام موہن رائے اور ایشور چندر ودیا ساگر جیسے مصلحین نے ستی اور کم عمری کی شادی جیسے قبیح مسائل کے خلاف آواز اٹھائی، مگر ان اصلاحات کی حقیقی روح خواتین کی اپنی جدوجہد میں پنہاں تھی۔ ایلینر زیلیوٹ کے مطابق ساوتری بائی پھولے نے 1848ء میں لڑکیوں کے لیے پہلا اسکول قائم کر کے ایک ایسا قدم اٹھایا جس نے آنے والی نسلوں کی سمت بدل دی۔ انہیں روزانہ راستے میں پتھروں اور کیچڑ کا سامنا کرنا پڑتا تھا، مگر وہ تعلیم کے مشن سے پیچھے نہیں ہٹیں۔ یہ منظر ہمیں یاد دلاتا ہے کہ تبدیلی ہمیشہ آسان نہیں ہوتی، مگر ممکن ضرور ہوتی ہے۔
یہی وہ تاریخی پس منظر تھا جس نے 1857ء کی جنگِ آزادی کو جنم دیا اور اس بغاوت میں خواتین نے جو کردار ادا کیا، وہ محض علامتی نہیں بلکہ عملی تھا۔ ایس این سین کی کتاب "1857 ریولٹ” کے مطابق بیگم حضرت محل تقریباً 1820ء سے 1879ء تک زندہ رہیں اور انہوں نے صرف مزاحمت نہیں کی بلکہ باقاعدہ قیادت فرمائی۔ انہوں نے عوام کو منظم کیا، فوجی حکمتِ عملی اختیار کی اور اپنے نوعمر بیٹے برجیس قدر کو تخت پر بٹھا کر نائب السلطنت کے طور پر حکومت کی۔ ان کے ساتھ ساتھ عزیزاں جیسی خواتین نے بھی خواتین کی بٹالین منظم کر کے مسلح جدوجہد میں حصہ لیا۔ گیل مینالٹ کے مطابق تاریخی اندازوں کے مطابق سینکڑوں خواتین نے اس بغاوت میں حصہ لیا، جن میں قابلِ ذکر تعداد مسلم خواتین کی تھی۔ یہ ایک تخمینہ ہے، کوئی سرکاری ریکارڈ نہیں ہے۔
1857ء کی جنگ کے بعد بھارت کی تاریخ ایک نئے موڑ پر داخل ہوتی ہے، ایک ایسا موڑ جہاں انفرادی مزاحمت کی جگہ منظم تحریکوں نے لے لی اور جہاں عورت کا کردار محض جذباتی یا علامتی نہیں بلکہ سیاسی، فکری اور اجتماعی قیادت کی صورت میں سامنے آیا۔ یہی وہ دور ہے جب بھارتی عورت پہلی بار ایک واضح قومی بیانیے کا حصہ بنی اور اس کی آواز گھروں کی چاردیواری سے نکل کر عوامی جلسوں، سیاسی تحریکوں اور فکری مباحثوں تک پہنچی۔
بیسویں صدی کے آغاز میں جب آزادی کی تحریک زور پکڑ رہی تھی تو خواتین کی شرکت ایک فیصلہ کن عنصر بن چکی تھی۔ گیل مینالٹ کی تحقیق کے مطابق آبادی بانو بیگم، جنہیں ‘بی اماں’ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے، 1850ء سے 1924ء تک زندہ رہیں اور وہ اس دور کی ایک نمایاں مثال ہیں۔ جب ان کے بیٹے یعنی علی برادران (مولانا محمد علی اور مولانا شوکت علی) برطانوی حکومت کے خلاف سرگرمیوں کے باعث قید میں تھے، تو بی اماں نے نہ صرف تحریک کو جاری رکھا بلکہ خود عوامی جلسوں سے خطاب بھی کیا۔ ایک بزرگ خاتون کا پردے سے نکل کر ہزاروں لوگوں کے سامنے آزادی کا پیغام دینا اس بات کا ثبوت تھا کہ سماجی ڈھانچے میں ایک بنیادی تبدیلی آ چکی تھی۔ یہ محض سیاسی سرگرمی نہیں بلکہ ایک گہرا سماجی انقلاب تھا۔
اسی دور میں سروجنی نائیڈو، جو 1879ء سے 1949ء تک زندہ رہیں، انہوں نے سیاست اور ادب دونوں میدانوں میں اپنی شناخت قائم کی۔ ان کی شاعری میں جہاں حسن اور جذبہ تھا، وہی ان کی سیاست میں حکمت اور جرات تھی۔ انڈین نیشنل کانگریس کے ریکارڈ کے مطابق 1925ء میں وہ انڈین نیشنل کانگریس کی پہلی ہندوستانی خاتون صدر بنیں۔ یہ اس بات کا واضح اشارہ تھا کہ خواتین اب قیادت کے مرکز میں داخل ہو چکی ہیں۔ کستوربا گاندھی، جو 1869ء سے 1444ء تک زندہ رہیں، انہوں نے عدم تشدد کی تحریک میں جو کردار ادا کیا، وہ بھی کم اہم نہیں۔ انہوں نے نہ صرف مہاتما گاندھی کا ساتھ دیا بلکہ کئی مواقع پر خود قیادت کی ذمہ داری سنبھالی۔
یہاں یہ سوال اہم ہے کہ خواتین کی یہ بڑھتی ہوئی شرکت کیوں ممکن ہوئی؟ بپن چندر کے مطابق اس کی ایک بڑی وجہ نوآبادیاتی نظام کے خلاف مشترکہ جدوجہد تھی، جس نے صنفی حدود کو عارضی طور پر کمزور کر دیا۔ جب قوم کا وجود خطرے میں ہو تو سماجی درجہ بندیاں پیچھے رہ جاتی ہیں اور یہی کچھ اس دور میں بھی ہوا۔
بھارتی مسلم خواتین کا کردار اس مرحلے پر مزید واضح ہو کر سامنے آتا ہے۔ عائشہ جلال کے مطابق رشید جہاں، جو 1905ء سے 1952ء تک زندہ رہیں، ایک ڈاکٹر بھی تھیں اور ادیبہ بھی، انہوں نے اپنے افسانوں کے ذریعے سماجی جمود کو چیلنج کیا۔ 1932ء میں شائع ہونے والی کتاب "انگارے” میں شامل ان کی تحریریں اس قدر بے باک تھیں کہ انہیں شدید مخالفت کا سامنا کرنا پڑا۔ مگر یہی مزاحمت اس بات کا ثبوت تھی کہ ان کی آواز اثر رکھتی ہے۔ انیس کدوائی، جو 1906ء سے 1981ء تک زندہ رہیں، ان کا مخلصانہ کردار تقسیمِ ہند کے بعد سامنے آتا ہے، جب لاکھوں لوگ بے گھر ہو رہے تھے۔ انہوں نے مہاجرین کی آباد کاری اور امداد کے لیے خود کو وقف کر دیا اور ان کی یادداشتوں پر مبنی کتاب "آزادی کی چھاؤں میں” اس دور کے انسانی المیے کی سچی گواہی دیتی ہے۔
1947ء میں آزادی کے بعد بھارت نے ایک نیا آئینی ڈھانچہ اختیار کیا، جس میں خواتین کو قانونی طور پر مساوی حقوق دیے گئے۔ مگر جیسا کہ اکثر ہوتا ہے، قانون اور حقیقت کے درمیان فاصلہ باقی رہا۔ اس کے باوجود خواتین نے مختلف میدانوں میں اپنی جگہ بنانا شروع کی۔ اندرا گاندھی، جو 1917ء سے 1984ء تک زندہ رہیں، ان کا وزیرِ اعظم بننا ایک تاریخی واقعہ تھا۔ بپن چندر کے مطابق ان کی قیادت میں 1971ء کی جنگ اور بنگلہ دیش کا قیام اس بات کا ثبوت ہے کہ خواتین نہ صرف داخلی سیاست بلکہ عالمی سطح پر بھی فیصلہ کن کردار ادا کر سکتی ہیں۔
سائنس اور ٹیکنالوجی کے میدان میں بھی بھارتی خواتین نے نمایاں کامیابیاں حاصل کیں۔ ڈی آر ڈی او (DRDO) کی سرکاری رپورٹس کے مطابق ٹیسی تھامس، جنہیں "میزائل وومن آف انڈیا” کہا جاتا ہے، انہوں نے ‘اگنی IV’ اور ‘اگنی V’ میزائلوں کے پروجیکٹ ڈائریکٹر کے طور پر قیادت کی۔ یہ کامیابی اس تصور کو رد کرتی ہے کہ دفاعی سائنس جیسے شعبے صرف مردوں کے لیے مخصوص ہیں۔ کلپنا چاولا، جو 1962ء سے 2003ء تک زندہ رہیں، ان کا خلا میں جانا نہ صرف ایک سائنسی کامیابی تھی بلکہ ایک علامتی واقعہ بھی تھا، جو اس خواب کی تعبیر تھا جو کبھی گارگی اور میترئی نے علم کے میدان میں دیکھا تھا۔
معاشی میدان میں بھی خواتین کی شرکت بڑھ رہی ہے، مگر اب بھی کئی رکاوٹیں موجود ہیں۔ حکومتِ ہند کے قومی خاندانی صحت سروے کے مطابق تقریباً 30 فیصد خواتین گھریلو تشدد کا سامنا کرتی ہیں، جبکہ خواتین کی لیبر فورس میں شرکت کی شرح تقریباً 25 فیصد ہے۔ میک کینزی گلوبل انسٹی ٹیوٹ کی ایک رپورٹ کے مطابق اگر خواتین کو مردوں کے برابر معاشی مواقع فراہم کیے جائیں تو بھارت کی معیشت میں 2.9 ٹریلین ڈالر کا اضافہ ممکن ہے۔ یہ اعداد و شمار اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ مسئلہ صلاحیت کا نہیں بلکہ مواقع کا ہے۔
دیہی اور قبائلی علاقوں میں خواتین کی جدوجہد ایک الگ داستان ہے۔ رام چندر گوہا کے مطابق 1973ء کی ‘چپکو تحریک’ میں جب درختوں کو بچانے کے لیے خواتین نے انہیں گلے لگا لیا، تو یہ محض ایک ماحولیاتی احتجاج نہیں تھا بلکہ ایک سماجی اعلان تھا کہ عورت اپنے ماحول، اپنے وسائل اور اپنے مستقبل کی حقیقی محافظ ہے۔ سالوماردا تھماکا کا ہزاروں درخت لگانا بھی اسی تسلسل کا حصہ ہے، یعنی ایک فرد کا عمل جو اجتماعی شعور کو جنم دیتا ہے۔
تعلیم اس پورے سفر کی بنیاد رہی ہے۔ یونیسکو کے مطابق ساوتری بائی پھولے کی کوششوں سے شروع ہونے والا یہ سفر آج بھی جاری ہے، مگر اب بھی تشنہ ہے۔ بھارت میں خواتین کی شرحِ خواندگی میں نمایاں اضافہ ہوا ہے جو 1971ء میں تقریباً 22 فیصد سے بڑھ کر حالیہ برسوں میں 70 فیصد سے تجاوز کر چکی ہے، مگر دیہی علاقوں میں صنفی فرق اب بھی موجود ہے۔ یہ فرق صرف تعلیم کا نہیں بلکہ مواقع، وسائل اور سماجی رویوں کا بھی ہے۔
موجودہ سیاسی منظرنامے میں خواتین کی نمائندگی آہستہ آہستہ بڑھ رہی ہے۔ 2024ء کے عام انتخابات میں لوک سبھا میں 74 خواتین ارکان منتخب ہوئیں، جو کل ایوان کا تقریباً 14 فیصد ہے۔ سائنس اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں بھی خواتین کی شمولیت میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے اور اعلیٰ تعلیم میں اسٹیم (STEM) مضامین میں ان کا اندراج گزشتہ دہائیوں کے مقابلے میں خاصا بڑھا ہے۔
یہاں ایک بنیادی سوال ابھرتا ہے کہ کیا ہم واقعی اس تاریخ کو سمجھ پائے ہیں جسے ہم بیان کرتے ہیں؟ کیا ہم نے عورت کے کردار کو اس کی مکمل وسعت کے ساتھ تسلیم کیا ہے یا ہم اب بھی اسے ایک ضمنی باب کے طور پر دیکھتے ہیں؟ تاریخی شواہد واضح طور پر بتاتے ہیں کہ عورت کبھی بھی محض ایک ساکت کردار نہیں رہی بلکہ ہمیشہ ایک محرک رہی ہے، یعنی ایک ایسی قوت جو تبدیلی کو جنم دیتی ہے، چاہے وہ خاموشی سے ہو یا اعلان کے ساتھ۔
آج کا بھارت ایک ایسے دور میں کھڑا ہے جہاں خواتین ہر میدان میں موجود ہیں، خواہ وہ سیاست ہو، سائنس، معیشت، ادب یا سماجی خدمت۔ اقوامِ متحدہ کے ریکارڈ کے مطابق وجئے لکشمی پنڈت، جو 1900ء سے 1990ء تک زندہ رہیں، اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کی پہلی خاتون صدر بنیں۔ آئی ایم ایف کے سرکاری ریکارڈ کے مطابق گیتا گوپیناتھ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کی پہلی بھارتی خاتون ڈپٹی مینیجنگ ڈائریکٹر ہیں، جبکہ اس سے قبل وہ اس ادارے کی چیف اکنامسٹ رہ چکی ہیں۔ کرن بیدی نے 1972ء میں بھارتی پولیس سروس میں داخلہ لے کر پہلی خاتون آئی پی ایس (IPS) افسر کا اعزاز حاصل کیا۔
اگرچہ کامیابیاں بے شمار ہیں، مگر ابھی بھی چیلنجز باقی ہیں۔ عدم مساوات، تشدد اور مواقع کی کمی جیسے مسائل اس بات کی یاد دہانی ہیں کہ سفر ابھی مکمل نہیں ہوا۔ ترقی کا یہ سفر ایک مسلسل عمل ہے اور اس میں عورت کا کردار نہ صرف اہم بلکہ فیصلہ کن ہے۔
اگر تاریخ ہمیں کچھ سکھاتی ہے تو وہ یہ ہے کہ جب عورت کو موقع دیا جاتا ہے تو وہ صرف اپنی تقدیر نہیں بلکہ پوری قوم کی تقدیر بدل دیتی ہے۔ گارگی کے سوال، میرابائی کی آواز، بیگم حضرت محل کی مزاحمت، بی اماں کی قیادت اور ٹیسی تھامس کی سائنس، یہ سب ایک ہی کہانی کے مختلف ابواب ہیں، ایک ایسی کہانی جو ابھی مکمل نہیں ہوئی۔
سوال یہ نہیں کہ خواتین نے کیا کیا، بلکہ سوال یہ ہے کہ ہم نے ان کی تاریخ کو کتنا سمجھا اور ہم اس سے کیا سیکھنے کے لیے تیار ہیں۔ کیا ہم تیار ہیں؟ مستقبل کا بھارت اسی جواب پر منحصر ہے۔ عورت واقعی آدھا آسمان نہیں بلکہ وہ پورا افق ہے جس کے بغیر کوئی بھی سورج مکمل نہیں ہوتا۔