کیا ممتا بنرجی ’تنہا بنرجی‘ ہو جائیں گی؟

کیا ممتا بنرجی ’تنہا بنرجی‘ ہو جائیں گی؟

کیا ممتا بنرجی ’تنہا بنرجی‘ ہو جائیں گی؟

ازقلم:(حافظ)افتخاراحمدقادری
iftikharahmadquadri@gmail.com

بھارتی سیاست میں گزشتہ چند برسوں کے دوران ایک ایسا رجحان نمایاں ہوا جس نے جمہوری اداروں، سیاسی جماعتوں اور عوامی مینڈیٹ کے بارے میں کئی بنیادی سوالات کو جنم دیا ہے۔ یہ رجحان منتخب حکومتوں اور سیاسی جماعتوں کے اندر اختلافات کو اس انداز سے ہوا دینے کا ہے کہ بالآخر اصل جماعت ہی تقسیم کا شکار ہو جائے اور اقتدار یا سیاسی اثر و رسوخ کا توازن بدل جائے۔ مہاراشٹر میں شیوسینا اور نیشنلسٹ کانگریس پارٹی کے ساتھ جو کچھ ہوا اس نے ہندوستانی سیاست میں ایک نئی بحث کو جنم دیا۔ اب مغربی بنگال میں ترنمول کانگریس کے اندر پیدا ہونے والی کشیدگی اور اختلافات کو دیکھ کر سیاسی مبصرین یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ کیا وہی فارمولا بنگال میں بھی دہرایا جا رہا ہے؟ اور کیا ایک زمانے میں ناقابلِ شکست سمجھی جانے والی ممتا بنرجی اب سیاسی تنہائی کا شکار ہو سکتی ہیں؟

مغربی بنگال کی سیاست گزشتہ پندرہ برس سے تقریباً مکمل طور پر ممتا بنرجی کے گرد گھومتی رہی ہے۔ انہوں نے بائیں بازو کی طویل حکمرانی کا خاتمہ کرکے ریاست میں ترنمول کانگریس کو اقتدار دلایا اور پھر مسلسل اپنی سیاسی گرفت مضبوط بناتی رہیں۔ ان کی شخصیت، عوامی رابطہ، جارحانہ سیاسی انداز اور بی جے پی کے خلاف سخت موقف نے انہیں قومی سطح پر بھی اپوزیشن سیاست کی ایک اہم علامت بنا دیا۔ لیکن ہر طویل سیاسی اقتدار کے ساتھ کچھ ایسے مسائل بھی جنم لیتے ہیں جو وقت کے ساتھ اندرونی اختلافات اور ناراضگیوں کو بڑھا دیتے ہیں۔ بنگال میں بھی یہی صورتحال دکھائی دے رہی ہے۔ ترنمول کانگریس کے اندر گزشتہ کچھ عرصے سے مختلف سطحوں پر بے چینی کی خبریں سامنے آ رہی تھیں۔ بعض رہنماؤں کو شکایت تھی کہ پارٹی میں فیصلہ سازی کا دائرہ محدود ہو گیا ہے اور چند افراد کے ہاتھوں میں تمام اختیارات مرتکز ہوتے جا رہے ہیں۔ خاص طور پر ابھیشیک بنرجی کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ پر سوالات اٹھائے جا رہے تھے۔ اگرچہ ابھیشیک بنرجی پارٹی کے اہم رہنما ہیں اور ممتا بنرجی کے قریبی رشتہ دار بھی ہیں لیکن پارٹی کے بعض سینئر اراکین یہ محسوس کرتے ہیں کہ تنظیمی اور سیاسی فیصلوں میں ان کا کردار حد سے زیادہ بڑھ گیا ہے۔ ایسے ماحول میں رتبرت بنرجی اور ان کے ساتھیوں کی جانب سے سامنے آنے والی سرگرمیوں نے سیاسی حلقوں میں ہلچل مچا دی۔ اطلاعات کے مطابق باغی گروپ نے نہ صرف اپنی الگ شناخت قائم کرنے کی کوشش کی بلکہ اسمبلی کے اندر خود کو ایک منظم قوت کے طور پر پیش کیا۔ ان کی جانب سے اسپیکر کو خط جمع کرانا، اپنی حمایت میں اراکین اسمبلی کے دستخط پیش کرنا اور قانون ساز پارٹی کی قیادت کے دعوے کرنا اس بات کی علامت ہے کہ معاملہ صرف چند ناراض رہنماؤں تک محدود نہیں رہا بلکہ ایک منظم سیاسی حکمت عملی کی شکل اختیار کرتا جا رہا ہے۔

مہاراشٹر کے تجربے نے اس پورے معاملے کو مزید اہم بنا دیا ہے۔ وہاں سب سے پہلے شیوسینا کے اندر بغاوت ہوئی، پھر پارٹی دو حصوں میں تقسیم ہوگئی اور بالآخر قانونی و آئینی اداروں کی مداخلت کے بعد سیاسی نقشہ ہی بدل گیا۔ بعد ازاں نیشنلسٹ کانگریس پارٹی بھی اسی نوعیت کے بحران کا شکار ہوئی۔ ان دونوں واقعات نے یہ تاثر پیدا کیا کہ اگر کسی جماعت کے اندر مناسب تعداد میں منتخب نمائندے الگ ہو جائیں تو وہ نہ صرف نئی سیاسی قوت بن سکتے ہیں بلکہ بعض حالات میں اصل جماعت پر بھی دعویٰ کر سکتے ہیں۔ اسی پس منظر میں بنگال کے حالات کو دیکھا جا رہا ہے۔ اگر واقعی ترنمول کانگریس کے اندر ایک مضبوط باغی دھڑا وجود میں آتا ہے تو اس کے اثرات صرف ریاستی سیاست تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ قومی سیاست پر بھی مرتب ہوں گے۔ ممتا بنرجی کو اپوزیشن اتحاد کے ممکنہ چہروں میں شمار کیا جاتا رہا ہے۔ اگر ان کی اپنی جماعت کمزور ہوتی ہے تو قومی سطح پر ان کی حیثیت بھی متاثر ہوسکتی ہے۔ یہ امر بھی قابلِ غور ہے کہ باغی گروپ نے ابھی تک ممتا بنرجی کی قیادت کو براہِ راست چیلنج نہیں کیا۔ وہ بظاہر انہیں اپنا رہنما تسلیم کر رہا ہے لیکن اختلاف کا محور ابھیشیک بنرجی اور موجودہ تنظیمی ڈھانچہ بتایا جا رہا ہے۔ یہی وہ نکتہ ہے جو اس بحران کو مزید پیچیدہ بنا دیتا ہے۔ اگر بغاوت کا مقصد صرف قیادت کی تبدیلی ہوتا تو معاملہ نسبتاً سادہ ہوتا لیکن جب ایک گروپ بیک وقت پارٹی کی اصل شناخت اور موجودہ انتظامی ڈھانچے دونوں پر سوال اٹھا رہا ہو تو صورتحال زیادہ الجھی ہوئی ہو جاتی ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ ترنمول کانگریس کو اس وقت سب سے بڑا خطرہ اندرونی انتشار سے ہے۔ بی جے پی گزشتہ کئی برسوں سے بنگال میں اپنی سیاسی بنیاد مضبوط کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ اگرچہ 2021 کے اسمبلی انتخابات میں اسے کامیابی حاصل نہیں ہوئی لیکن اس نے خود کو ریاست کی سب سے بڑی اپوزیشن قوت کے طور پر ضرور منوایا۔ ایسے میں اگر ترنمول کانگریس کے اندر تقسیم پیدا ہوتی ہے تو اس کا سب سے زیادہ فائدہ بی جے پی کو پہنچ سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بعض مبصرین موجودہ صورتحال کو محض ایک داخلی اختلاف نہیں بلکہ ایک بڑے سیاسی منصوبے کا حصہ قرار دے رہے ہیں۔ ان کے نزدیک مہاراشٹر میں آزمودہ طریقہ اب دوسرے صوبوں میں بھی استعمال کیا جا رہا ہے۔ پہلے پارٹی کے اندر ناراض عناصر کو منظم کیا جاتا ہے پھر انہیں سیاسی اور قانونی جواز فراہم کیا جاتا ہے اور بالآخر وہ اصل جماعت کی سیاسی طاقت کو کمزور کر دیتے ہیں۔

ترنمول کانگریس کی جانب سے اپنی تمام تنظیمی کمیٹیوں اور ذیلی تنظیموں کو تحلیل کرنے کا فیصلہ بھی اسی تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔ یہ اقدام معمولی نوعیت کا نہیں ہے۔ کوئی بھی سیاسی جماعت اس وقت تک اپنی پوری تنظیمی ساخت کو ختم نہیں کرتی جب تک اسے یہ احساس نہ ہو کہ اندرونی سطح پر سنگین مسائل پیدا ہو چکے ہیں۔ اس فیصلے سے یہ تاثر ملتا ہے کہ پارٹی قیادت کو صورتحال کی نزاکت کا پوری طرح احساس ہے اور وہ نئے سرے سے تنظیم کو منظم کرکے ممکنہ خطرات کا مقابلہ کرنا چاہتی ہے۔ اس بحران کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ ترنمول کانگریس کا وجود بڑی حد تک ممتا بنرجی کی شخصیت سے وابستہ ہے۔ پارٹی کی نظریاتی اور تنظیمی شناخت کا مرکز بھی وہی ہیں۔ اگر ان کے ارد گرد موجود حلقوں میں اختلافات بڑھتے ہیں تو اس کا براہِ راست اثر پوری جماعت پر پڑتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج سوال صرف چند اراکین اسمبلی کی بغاوت کا نہیں بلکہ خود ممتا بنرجی کی سیاسی حیثیت اور مستقبل کا ہے۔

ممتا بنرجی کی سیاسی زندگی پر نظر ڈالی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے ہمیشہ مشکل حالات کا سامنا کیا ہے۔ انہوں نے کانگریس چھوڑ کر اپنی الگ جماعت بنائی، بائیں بازو کی مضبوط حکومت کو شکست دی، مرکزی حکومتوں سے ٹکر لیں اور متعدد سیاسی بحرانوں سے کامیابی کے ساتھ نکلیں۔ اس لیے یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ موجودہ بحران ان کے سیاسی سفر کا خاتمہ ثابت ہوگا۔ تاہم یہ ضرور کہا جا سکتا ہے کہ اس مرتبہ چیلنج بیرونی سے زیادہ اندرونی ہے اور اندرونی اختلافات اکثر زیادہ خطرناک ثابت ہوتے ہیں۔ بنگال کی سیاست میں آنے والے مہینے انتہائی اہم ہوں گے۔ اگر باغی گروپ اپنی قوت برقرار رکھتا ہے اور مزید حمایت حاصل کر لیتا ہے تو ترنمول کانگریس کے لیے مشکلات بڑھ سکتی ہیں۔ دوسری طرف اگر ممتا بنرجی تنظیمی اصلاحات کے ذریعے ناراض عناصر کو دو بارہ ساتھ ملانے میں کامیاب ہو جاتی ہیں تو یہ بحران وقتی ثابت ہو سکتا ہے۔ سیاسی اعتبار سے سب سے دلچسپ سوال یہی ہے کہ آیا بنگال میں مہاراشٹر والا منظرنامہ دہرایا جا سکے گا یا نہیں؟ مہاراشٹر اور بنگال کے سیاسی حالات میں بنیادی فرق موجود ہے۔ بنگال میں ممتا بنرجی کی عوامی مقبولیت اب بھی کافی مضبوط ہے اور ان کی جماعت کی جڑیں ریاستی سیاست میں گہری ہیں۔ اس لیے محض چند تنظیمی اختلافات کی بنیاد پر فوری طور پر کسی بڑے سیاسی انقلاب کی پیش گوئی کرنا مناسب نہیں ہوگا۔

لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ اگر اختلافات مسلسل بڑھتے رہے اور قیادت نے انہیں سنجیدگی سے حل نہ کیا تو صورتحال سنگین رخ اختیار کر سکتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہندوستانی سیاست میں اب جماعتی وفاداریوں کی نوعیت بدل رہی ہے۔ نظریاتی وابستگی کی جگہ عملی سیاست، اقتدار کی شراکت اور انتخابی امکانات زیادہ اہم ہوتے جا رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سیاسی جماعتوں کے اندر بغاوتیں اور انشقاق پہلے کے مقابلے میں زیادہ عام ہوگئے ہیں۔ ترنمول کانگریس بھی اسی رجحان سے محفوظ نہیں رہ سکی۔ فی الحال یہ کہنا مشکل ہے کہ موجودہ بحران کا انجام کیا ہوگا؟ لیکن ایک بات واضح ہے کہ مغربی بنگال کی سیاست ایک نئے موڑ پر کھڑی ہے۔ ممتا بنرجی اب بھی ریاست کی سب سے بڑی سیاسی شخصیت ہیں لیکن انہیں اپنی جماعت کے اندر پیدا ہونے والی دراڑوں کو نظر انداز کرنے کی گنجائش نہیں رہی۔ اگر وہ ان اختلافات کو بروقت سنبھال لیتی ہیں تو ایک بار پھر اپنی سیاسی مہارت کا ثبوت دے سکتی ہیں لیکن اگر اندرونی بغاوت مضبوط ہوتی گئی تو وہ دن بھی آسکتا ہے جب ان کے مخالفین یہ سوال مزید زور سے پوچھیں گے کہ کیا ممتا بنرجی واقعی تنہائی بنرجی بننے جا رہی ہیں؟ مغربی بنگال کی سیاست کا مستقبل اسی سوال کے جواب میں پوشیدہ ہے۔ آنے والے دن نہ صرف ترنمول کانگریس بلکہ پورے ملک کی اپوزیشن سیاست کے لیے فیصلہ کن ثابت ہو سکتے ہیں۔ اس وقت سب کی نظریں کولکاتا پر جمی ہوئی ہیں جہاں اقتدار، قیادت، وفاداری اور سیاسی بقا کی ایک نئی جنگ شروع ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔

*کریم گنج،پورن پور،پیلی بھیت،مغربی اترپردیش
(مضمون نگار معروف صحافی و تجزیہ نگار ہیں)
iftikharahmadquadri@gmail.com

By Maqsood

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے