آئین، ادارے اور جمہوریت: کیا ہندوستان ایک نازک دوراہے پر کھڑا ہے؟
ازقلم:جاوید جمال الدین
ہندوستان کی سیاسی فضا میں اس وقت غیر معمولی بے چینی محسوس کی جا رہی ہے۔ ایک جانب لوک سبھا میں اپوزیشن کے قائد راہل گاندھی ملک کے آئینی اداروں کے اندر بڑھتی ہوئی بے چینی، ممکنہ سیاسی بحران اور معاشی تباہی کے خدشات کا اظہار کر رہے ہیں، تو دوسری جانب سینئر صحافی اور انسانی حقوق کے کارکن قربان علی نفرت انگیز تقاریر، ریاستی اداروں کی خاموشی اور قانون کی غیر مساوی عملداری کو جمہوریت کے لیے سنگین خطرہ قرار دے رہے ہیں۔ دونوں شخصیات کے بیانات اگرچہ مختلف موضوعات سے متعلق ہیں، لیکن ان کا مرکزی نکتہ ایک ہی ہے: ہندوستانی جمہوریت ایک ایسے دوراہے پر کھڑی ہے جہاں آئینی اداروں کی ساکھ، قانون کی حکمرانی اور سماجی ہم آہنگی سخت آزمائش سے گزر رہی ہے۔
معاشی بحران کی آہٹ اور سیاسی بے یقینی
دہلی میں آل انڈیا آدیواسی کانگریس کی قومی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے راہل گاندھی نے دعویٰ کیا کہ ملک ایک بڑے سیاسی اور معاشی بحران کے دہانے پر کھڑا ہے۔ ان کے مطابق مودی حکومت نے گزشتہ برسوں میں وہ معاشی حفاظتی ڈھانچہ کمزور کر دیا ہے جس نے 2008 کی عالمی کساد بازاری کے دوران ہندوستان کو نسبتاً محفوظ رکھا تھا۔ عالمی سطح پر اگر کوئی نئی معاشی مندی یا مالی بحران پیدا ہوتا ہے تو ہندوستان اس کا سامنا کرنے کے لیے پہلے جیسی تیاری اور صلاحیت نہیں رکھتا۔ ان کے مطابق مہنگائی، بے روزگاری، سرمایہ کاری میں سست روی اور معاشی عدم مساوات پہلے ہی عوامی زندگی پر منفی اثرات مرتب کر رہی ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر موجودہ رجحانات برقرار رہے تو ملک ایک ایسے معاشی بحران کی طرف بڑھ سکتا ہے جس کی شدت موجودہ نسل نے پہلے کبھی نہ دیکھی ہو۔
ان کے بقول یہ صرف معاشیات کا مسئلہ نہیں بلکہ اس کے سیاسی اور سماجی نتائج بھی مرتب ہوں گے۔ جب روزگار کے مواقع کم ہوں، مہنگائی بڑھ رہی ہو اور عوام کی معاشی مشکلات میں اضافہ ہو رہا ہو تو اس کے اثرات ریاستی استحکام اور سیاسی نظام پر بھی پڑتے ہیں۔
آئینی اداروں کے اندر بے چینی کا دعویٰ
راہل گاندھی کے بیان کا سب سے زیادہ توجہ حاصل کرنے والا حصہ وہ تھا جس میں انہوں نے الیکشن کمیشن، عدلیہ اور انٹیلی جنس اداروں کے اندر بڑھتی ہوئی بے چینی کا ذکر کیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان اداروں سے وابستہ بعض افراد انہیں مسلسل معلومات فراہم کر رہے ہیں اور ان حلقوں میں حکومتی پالیسیوں کے حوالے سے شدید اضطراب پایا جاتا ہے۔
ان کے مطابق گزشتہ بارہ برسوں میں قائم ہونے والا حکومتی نظام اندرونی طور پر کمزور پڑ رہا ہے اور ایسے عناصر جو اب تک خاموش تھے، وہ بھی سوالات اٹھانے لگے ہیں۔ راہل گاندھی نے یہاں تک کہا کہ یہ بے چینی کسی بڑے ادارہ جاتی ردعمل یا ’’بغاوت‘‘ کی صورت اختیار کر سکتی ہے۔
اگرچہ ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق ممکن نہیں، لیکن یہ حقیقت اپنی جگہ موجود ہے کہ حالیہ برسوں میں الیکشن کمیشن، تحقیقاتی ایجنسیوں اور عدالتی نظام کی غیر جانبداری کے حوالے سے سیاسی حلقوں میں مسلسل بحث جاری رہی ہے۔ اپوزیشن جماعتیں بارہا یہ الزام عائد کرتی رہی ہیں کہ بعض ادارے حکومتی دباؤ سے مکمل طور پر آزاد نظر نہیں آتے، جبکہ حکومت ان الزامات کو مسترد کرتی رہی ہے۔
ایمرجنسی کے خدشات اور جمہوری سوالات
راہل گاندھی نے اپنے خطاب میں یہ خدشہ بھی ظاہر کیا کہ اگر عوامی غصہ اور ادارہ جاتی دباؤ میں مزید اضافہ ہوا تو حکومت حالات پر قابو پانے کے لیے غیر معمولی اقدامات پر غور کر سکتی ہے۔ انہوں نے ’’ایمرجنسی جیسی صورتحال‘‘ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی اور انتظامی دباؤ بعض اوقات حکومتوں کو غیر معمولی راستے اختیار کرنے پر آمادہ کر دیتا ہے۔
ہندوستان کی سیاسی تاریخ میں ایمرجنسی کا باب ایک حساس موضوع رہا ہے۔ اسی وجہ سے جب بھی کسی سیاسی رہنما کی جانب سے اس نوعیت کے خدشات کا اظہار کیا جاتا ہے تو وہ قومی سطح پر بحث کا موضوع بن جاتا ہے۔ راہل گاندھی کا یہ بیان بھی اسی تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔
نفرت انگیز تقاریر اور خاموش ادارے
دوسری جانب سینئر صحافی اور انسانی حقوق کے کارکن قربان علی نے ایک مختلف مگر اتنا ہی اہم مسئلہ اٹھایا ہے۔ ان کے مطابق ہندوستان میں نفرت انگیز تقاریر کا بڑھتا ہوا رجحان اور ان کے خلاف مؤثر کارروائی کا فقدان جمہوریت اور سماجی ہم آہنگی کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔
قربان علی نے اپنے تجربات بیان کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے بعض سیاسی بیانات کو نفرت انگیز قرار دیتے ہوئے قانونی کارروائی کی کوشش کی، لیکن انہیں پولیس اور انتظامیہ کی سطح پر مطلوبہ تعاون حاصل نہیں ہو سکا۔ ان کے مطابق جب طاقتور افراد کے خلاف قانون یکساں طور پر نافذ نہ ہو تو عام شہریوں کا نظامِ انصاف پر اعتماد متزلزل ہونے لگتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ نفرت انگیز تقاریر محض سیاسی نعرے بازی کا مسئلہ نہیں بلکہ ان کے نتیجے میں سماجی تقسیم، مذہبی کشیدگی اور بعض اوقات تشدد کے واقعات بھی جنم لے سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ایسے معاملات میں ریاستی اداروں کی ذمہ داری مزید بڑھ جاتی ہے۔
ہریدوار دھرم سنسد اور قانونی جدوجہد
قربان علی نے دسمبر 2021 کی ہریدوار دھرم سنسد کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہاں بعض مقررین کی جانب سے ایسے بیانات دیے گئے جنہیں انہوں نے کھلی اشتعال انگیزی اور تشدد پر اکسانے کے مترادف قرار دیا۔ ان کے مطابق ان واقعات کے بعد انہوں نے سابق جج جسٹس انجنا پرکاش کے ساتھ مل کر سپریم کورٹ سے رجوع کیا تاکہ نفرت انگیز تقاریر کے خلاف واضح قانونی رہنما اصول وضع کیے جا سکیں۔
انہوں نے کہا کہ اس قانونی جدوجہد کا مقصد کسی مخصوص جماعت یا نظریے کو نشانہ بنانا نہیں تھا بلکہ آئین کے بنیادی اصولوں کا تحفظ تھا۔ ان کے مطابق جب کوئی فرد یا گروہ کھلے عام تشدد، امتیاز یا نفرت کی ترغیب دے تو ریاستی اداروں کو فوری مداخلت کرنی چاہیے۔
عدالتی ہدایات اور زمینی حقیقت
قربان علی نے یاد دلایا کہ 2022 میں سپریم کورٹ نے اہم مشاہدات کرتے ہوئے انتظامیہ کو ہدایت دی تھی کہ نفرت انگیز تقاریر کے معاملات میں محض شکایت کا انتظار نہ کیا جائے بلکہ ازخود کارروائی کی جائے۔ عدالت نے اس رجحان کو جمہوری اقدار اور آئینی اصولوں کے لیے خطرہ قرار دیا تھا۔
تاہم ان کے مطابق عدالتی ہدایات کے باوجود زمینی سطح پر صورتحال میں مطلوبہ بہتری نہیں آئی۔ وہ سمجھتے ہیں کہ جب نفرت پھیلانے والوں کو مؤثر احتساب کا خوف نہ ہو تو ان کے حوصلے مزید بڑھ جاتے ہیں، جس کے نتیجے میں معاشرے میں تقسیم اور عدم اعتماد میں اضافہ ہوتا ہے۔
مشترکہ تشویش: اداروں کی ساکھ اور جمہوریت کا مستقبل
راہل گاندھی اور قربان علی کے بیانات مختلف زاویوں سے سامنے آئے ہیں، لیکن دونوں کی تشویش کا مرکز ہندوستانی جمہوریت کی صحت اور آئینی اداروں کا کردار ہے۔ راہل گاندھی معاشی بحران، سیاسی عدم استحکام اور ادارہ جاتی بے چینی کی بات کرتے ہیں، جبکہ قربان علی قانون کی غیر مساوی عملداری، نفرت انگیز تقاریر اور ریاستی خاموشی کو موضوع بناتے ہیں۔
دونوں اس بات پر متفق دکھائی دیتے ہیں کہ جمہوریت صرف انتخابات کا نام نہیں بلکہ اس کے لیے آزاد ادارے، مؤثر عدالتی نظام، غیر جانبدار انتظامیہ اور شہری حقوق کا تحفظ بھی ضروری ہے۔ اگر اداروں پر عوامی اعتماد کمزور پڑ جائے تو جمہوری ڈھانچہ بظاہر قائم رہتے ہوئے بھی اندر سے کمزور ہونے لگتا ہے۔
ہندوستان دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہے اور اس کی اصل طاقت اس کے آئین، اداروں اور تنوع میں پوشیدہ ہے۔ سیاسی اختلافات، انتخابی مقابلے اور نظریاتی کشمکش کسی بھی جمہوری معاشرے کا حصہ ہوتے ہیں، لیکن ان اختلافات کو آئینی حدود کے اندر رکھنا ریاست اور سماج دونوں کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
موجودہ حالات میں ضرورت اس بات کی ہے کہ سیاسی جماعتیں ایک دوسرے کے خلاف محاذ آرائی کے بجائے قومی مسائل پر سنجیدہ مکالمے کو فروغ دیں، آئینی ادارے اپنی غیر جانبداری اور خودمختاری کو مزید مضبوط کریں، اور قانون کا اطلاق ہر شہری پر یکساں طور پر ہو۔ اسی طرح نفرت انگیز تقاریر، معاشی بے یقینی اور سیاسی عدم اعتماد جیسے چیلنجز کا مقابلہ بھی ممکن ہو سکے گا۔
جمہوریت کی اصل طاقت صرف حکومتوں میں نہیں بلکہ ان اداروں، اصولوں اور اقدار میں ہوتی ہے جو حکومتوں سے بالاتر ہوتے ہیں۔ آج ہندوستان کو شاید پہلے سے کہیں زیادہ انہی اصولوں کی ضرورت ہے۔
javedjamaluddin@gmail.com
9867647741