اتر پردیش کے ضلع غازی آباد میں کھوڑا گاوں کے اندر عید الاضحیٰ کے موقع پر 17 سالہ طالب علم ‘سوریا پرتاپ چوہان’ کواسد نے چھرا گھونپ کر قتل کر دیا گیا ۔ وہ گیارہویں جماعت کا طالب علم تھا اور اسد کے ساتھ اس کے پرانے مراسم تھے ۔ اسدکئی بار سوریا کو اپنی بہن سے دور رہنے کی تلقین کرچکا تھا۔ 28 مئی کو ان کے درمیان کہا سنی ہوئی اوراس نے اپنے ہندو مسلم دوستوں کے ساتھ سوریا پر حملہ کردیا۔ اس کے بعد وہ اسے دوسرے لوگوں کے ساتھ اسپتال بھی لے کر گیا لیکن جب ہنگامہ بڑھا تو فرار ہوگیا۔ اسد کے ذریعہ یہ قتل نہایت سنگین جرم تھا اس لیے اسے گرفتار کرکے عدالت میں پیش کیا جانا ضروری تھا مگر یوپی پولیس نے اپنی ناموری کے لیے اور وزیر اعلیٰ کی خوشنودی میں 31 مئی کو اسدکا انکاؤنٹر کرکے اسے ہلاک کر دیا۔ اس کا ایک مقصد اس پر لگی 50 ہزار روپے کا انعام حاصل کرنا بھی رہا ہوگا۔سوریا کےاہل خانہ کی شکایت پر کھوڑا تھانے میں 5؍ افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ مقامی لوگوں کا الزام ہے پولیس نے اس قتل میں شامل ہندو نوجوانوں کو گواہ بناکر بچالیا۔ اس طرح کیا سوریا کے ساتھ ناانصافی نہیں ہوئی ؟ یہ بدترین نازبرداری نہیں تو کیا ہے؟ ایسا جانبدارانہ رویہ ظاہر ہے جرائم کو فروغ دے گا۔
سوریا چوہان کے قتل کو گودی میڈیا نے خوب اچھال کرحق نمک ادا کیا مگر انتظامیہ بھی پیچھے نہیں رہا۔ اس نے اپنے سیاسی آقاوں کی خوشنودی کے لیے قتل کے بعد غازی آبادکے علاقے میں ‘آپریشن کلین سویپ’ شروع کردیا۔ اس مہم کے تحت اسد کے گھر پربلڈوزر چلا نے کے بعد کھوڑا علاقے میں تین غیر رجسٹرڈ مدارس کو سیل کر دیا گیا۔وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے بجنور میں ایک عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے اس قتل کی شدید مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا کہ "دوستی کی آڑ میں چھرا گھونپنا قطعی طور پر ناقابل قبول ہے۔‘‘ کوئی اپنی نا اہل اولاد کوسمجھا نہیں پا رہا ہے توسمجھووہ غلطی کررہا ہے۔ یہ اس کی سب سے بڑی غلطی ہے اور اسے سزا ملے گی۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ ریاستی حکومت کی ہمدردیاں ہمیشہ عام اورقانون کی پاسداری کرنے والے شہریوں کے ساتھ ہیں۔ امن وامان میں خلل ڈالنے کی کوشش کرنے والوں کو کسی صورت بخشا نہیں جائے گا۔ ریاست کی مجموعی صورتحال پر بات کرتے ہوئے وہ بولے ملک کی حفاظت اور مذہب کے قیام کے لیے ‘سدرشن چکر’ ٹھانا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ دھرم ان کی حفاظت کرتا ہے، جودھرم کی حفاظت کرتے ہیں۔ہمیں ان لوگوں سے لڑنا چاہئے، جوملک کے خلاف بغاوت کرتے ہیں، کیونکہ انہیں صرف لڑائی سے ہی شکست دی جا سکتی ہے۔
وزیر اعلیٰ نے اپنے اشتعال انگیزخطاب سے بجنور میں خوب تالیاں پٹوائیں مگر دودن بعد غازی آباد ہی میں چراغ تیاگی قتل نےان سارے دعووں کے کھوکھلے پن کو بے نقاب کردیا ۔ غازی آباد ہی کا رہنے والا چراغ تیاگی مشہور عالمی معذور کھلاڑی تھا ۔ اس کے دوست یش کھٹک نے چراغ کے جی پے سے ادائیگی کرکے پستول خریدی اور دہلی کے جواہر لال نہرو سے انعام جیت کر لوٹنے والے تیاگی کوگولی مارکر ہلاک کردیا۔ اب یوگی کی زبان پر قفل لگاہواہے ۔ دوستی والے پروچن سمیت سدرشن چکر والی دھمکی ہوا ہوگئی کیونکہ قاتل یش کھٹک ہندو ہے ۔ یش کی گرفتاری تو ہوئی مگر نہ انکاونٹراور نہ بلڈوز۔ چراغ کےاہل خانہ سوریا والےانصاف کا مطالبہ کرتے رہ گئے مگر کسی کان پر جوں نہیں رینگی۔ کیا کسی ہندو کے ہاتھوں ہندو کاقتل ہلکا اور مسلمان کے ذریعہ بڑا جرم ہوجاتا ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ یش کھٹک کے ساتھ نرمی نے یوگی کے پاکھنڈ کی قلعی کھول دی کیونکہ وہ دونوں بھی دوست تھے ۔ وہاں کوئی ’لوجہاد‘ کا چکر بھی نہیں تھا ۔ چراغ تیاگی تو بیچارہ صرف اور صرف یش کھٹک کے بغض و حسد کا شکار ہوا تھا ۔ ویسے مہابھارت بھی چونکہ ایک خاندانی جنگ تھی اس لیے سدرشن چکر کا استعمال اپنوں ہی کے خلاف استعمال کیا گیا تھا ایسے میں یوگی کے چکر کا غائب ہوجانا بتاتا ہے کہ ان کا مذہب سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ وہ اقتدار کا مزہ لوٹنے کے لیے گیروا لباس پہن کر نفرت انگیزی کرتے رہتے ہیں ورنہ ان کو چراغ تیاگی سے ہمدردی ہونی چاہیے تھی ۔
دورالا علاقے کے گاؤں چروڑی کی رہنے والی انوشکا میرٹھ کےکنکرکھیڑا علاقے میں کرائے پر رہ کر تعلیم اور کبڈی کی مشق کر رہی تھی۔ اس نے قومی سطح کے کبڈی مقابلوں میں حصہ لے کر حال ہی میں ایک انعام بھی جیتا تھا۔ اس کی رہائش کے نزدیک ملزم شیام دھنکڑ نے فاسٹ فوڈ کی دکان کھول رکھی تھی ۔ انوشکا پر دھنکر کی کچھ رقم واجب الادا تھی۔ امسال 15؍ اپریل کی رات دونوں کے درمیان پیسوں کو لے کر جھگڑا ہوا تو ملزم نے اس کے سر پر اینٹ ماری جس سے اس کی موت ہوگئی۔ شیام نے انوشکا کی لاش کو بوری میں بھر کر روہٹہ روڈ پر نالے میں پھینکا اور خود فرار ہوگیا۔ تقریباً ڈیڑھ ماہ بعد اس نالے سےانتہائی خراب حالت میں ایک لاش برآمد ہوئی ۔ لاش کے ذریعہ مقتول کی شناخت ممکن نہیں تھی اس لیے ڈی این اے ٹیسٹ کرا کے انوشکا کی تصدیق کی گئی ۔سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس اویناش پانڈے کے مطابق تفتیش کے دوران، کال ڈیٹیل ریکارڈ اور سی سی ٹی وی فوٹیج کی بنیاد پر، پولیس کو پتہ چلا کہ انوشکا کی آخری سرگرمیاں ملزم شیام دھنکڑ کے ساتھ درج ہوئی تھیں جو دہرادون کا رہنے والا ہے اور واقعہ کے بعد چنڈی گڑھ فرار ہوگیاتھا۔ پولیس نے اسے وہاں حراست میں لے کر پوچھ گچھ کی تو اس نے اعتراف جرم کر لیا۔ اس سے معلوم ہوا کہ کل یگ کی مہابھارت میں انوشکا نامی دروپدی ہنوزظلم جبر کا شکار ہے اور سدرشن چکر نہ پہلے اس کے کام آیا اور نہ اب آتا ہے۔انوشکا کا قاتل اگر شیام کے بجائےکلام ہوتا تو یوگی کا خون جوش مارتا مگر دھنکر کے خلاف لب کشائی کرکے وہ اپنے جاٹ رائے دہندگان کو کیسے ناراض کرسکتے ہیں؟
میڈیا اسد کو لے کر نفرت پھیلا ہی رہا تھا کہ دہلی کے اندر عثمان پورہ میں ابھیشیک نامی نابالغ نوجوان کو نکی اور دو نابالغ لڑکوں نے قتل کردیا ۔ اس قتل میں قاتل اور مقتول سب کے سب ہندو تھے اس لیے قانون کی آڑ لے کر ناموں تک کی پردہ داری کی گئی ۔ ویسے آج کی صحافت میں اگر مجرم مسلمان ہو تو ہر دوسری سطر میں اس کانام اور خاندان کے احوال نمک مرچ لگا کر بیان ہوتےہیں ۔ کسی خبر میں اگر ملزم کا نام چھپا دیاگیا ہو تو لوگ سمجھ جاتے ہیں کہ وہ ہندو تو نواز ہوگا اور اسے کو بچانے کی خاطر پردہ داری کی جارہی ہے۔ ابھیشیک کے ساتھ سوریا جیسا سلوک اس لیے نہیں ہوا کیونکہ اس کے قاتل مسلمان نہیں ہیں، بعید نہیں کہ آگے چل کر مقدمہ کمزور کرکے انہیں بچانا پیش نظر ہو کیونکہ ایسے مجرم احسانمندی میں اندھے بھگت بن جاتےہیں۔ یہ مجرم پیشہ لوگ سیاسی غنڈوں کی پناہ میں پھلتے پھولتے ہیں اور انہیں سرکاری تحفظ حاصل رہتا ہے۔ ان کا نہ تو انکاونٹر ہوتا ہے اور نہ بلڈوزر ان کی جانب نظر اٹھا کر دیکھتا ہے۔ ابھیشیک کی روتی بلکتی ماں سرکار سے گہار لگاتی رہ گئی کہ سوریا کے قاتل اسد کی مانند اس کے بیٹے کو مارنے والے نکی کا بھی انکاونٹر کیا جائے مگر دہلی کی وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا یا امیت شاہ جن کی نگرانی میں دہلی پولیس کام کرتی ہے کے کان پر جوں نہیں رینگی۔
عید الاضحیٰ کے موقع پر چلاّ چلاّ کر سوریا پرتاپ چوہان کے قتل پر جان کا ہلکان کرنے والےگودی میڈیا کو دلی کے جہانگیر پور میں ارباز خان کا قتل نظر نہیں آیا۔ دہلی کے جہانگیر پوری علاقے میں بقر عید کے روز 26 سالہ محمد ارباز کو چاقو مار کر بے رحمی سے قتل کردیاگیا ۔ مقتول کے اہلِ خانہ نے واقعے کے سلسلے میں سوربھ اور چیما سمیت کچھ نابالغوں پر قتل کا الزام لگاکر انصاف کا مطالبہ کیا گیاہے۔ ارباز کے بھائی نے بتایا کہ عید کے دن ان کے بھائی اور اس کے دوست سلمان نے ایک نوجوان کو دکان سے سگریٹ لانے کے لیے کہا تھا، جس پر مبینہ طور پر تلخ کلامی ہو گئی۔ ان کا دعویٰ ہے کہ ارباز نے معاملے کو پرسکون کرنے کی کوشش کی اور نوجوان کو جانے کے لیے کہہ کر معاملہ رفع دفع کردیا۔ اہلِ خانہ کے مطابق، بعد میں مذکورہ نوجوان اپنے چند ساتھیوں کو لے کر واپس آیا۔ مقتول کے بھائی کا الزام ہے کہ ارباز نے جھگڑا ختم کرنے کے لیے معذرت بھی پیش کی، لیکن حملہ آوروں نے چاقو سے حملہ کرکے انہیں شدید زخمی کردیا۔اس طرح اسپتال پہنچنے کے تقریباً 10 سے 15 منٹ بعد محمد ارباز کی موت ہو گئی۔اہلِ خانہ نے الزام عائد کیا ہے کہ واقعے میں ملوث بعض افراد کے خلاف مکمل کارروائی نہیں کی گئی ۔ اس معاملے میں پہلے ۶ ملزمین کے نام سامنے مگر انہیں حراست میں لینے کے بعد تین کو چھوڑ دیا گیا ۔ پولیس سے استفسار کیا گیا تو اس نے بتایا کہ وہ ۳؍ اگلے دن حاضر ہوجائیں گے۔ ویسے تین ملزم جیل میں توہیں لیکن ان میں سے کسی کے خلاف بلڈوزریا نہ انکاونٹر تو دورہ میڈیا ٹرائل یا سیاست بھی نہیں ہے ۔ سوال یہ ہے کہ اسد کے ساتھ بھی ایسا سلوک کیوں نہیں کیا گیا ؟ اس لیے کہ عدل و انصاف ہندوتوانوازوں کی سرشت میں ہی نہیں ہے۔ اس لیے انہیں اقتدار سے دور رکھنا ضروری ہے۔