عورت کا وقار، قانون کی تعبیر اور انصاف کا امتحان. پٹنہ ہائی کورٹ کے فیصلے نے کئی بنیادی سوالات کھڑے کر دیے

عورت کا وقار، قانون کی تعبیر اور انصاف کا امتحان. پٹنہ ہائی کورٹ کے فیصلے نے کئی بنیادی سوالات کھڑے کر دیے

عورت کا وقار، قانون کی تعبیر اور انصاف کا امتحان.
پٹنہ ہائی کورٹ کے فیصلے نے کئی بنیادی سوالات کھڑے کر دیے

از: عبدالحلیم منصور

؀ وجود زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ
اسی کے ساز سے ہے زندگی کا سوز دروں

کسی بھی مہذب معاشرے کی اصل پہچان اس کے بلند و بالا دعووں، مضبوط اداروں یا معاشی ترقی سے نہیں بلکہ اس امر سے ہوتی ہے کہ وہاں عورت کی عزت، وقار، آزادی اور جسمانی خودمختاری کو کس حد تک تحفظ حاصل ہے۔ ایک عورت صرف خاندان کی بنیاد نہیں بلکہ معاشرے کے اخلاقی شعور، تہذیبی شناخت اور آئینی اقدار کا مظہر بھی ہے۔ اسی لیے خواتین کے خلاف جنسی جرائم سے متعلق ہر عدالتی فیصلہ صرف ایک مقدمے کا فیصلہ نہیں ہوتا بلکہ وہ قانون، انصاف اور سماجی شعور کے باہمی تعلق پر بھی اثر انداز ہوتا ہے۔
9 جولائی 2026 کو پٹنہ ہائی کورٹ کے جسٹس پورنیندو سنگھ کے ایک فیصلے نے ملک بھر میں ایک اہم قانونی اور سماجی بحث کو جنم دیا۔ مقدمے کے مطابق ایک نوجوان خاتون کو فوٹو اسٹوڈیو کے اندر تنہا لے جا کر اس کے جسم کے حساس حصوں پر زبردستی دست درازی کی گئی، اس کا لباس اتارنے کی کوشش کی گئی، تاہم خاتون کی مزاحمت اور اس کے والد کی بروقت مداخلت کے باعث واقعہ آگے نہ بڑھ سکا۔ ٹرائل کورٹ نے ان حالات کو مجموعی طور پر دیکھتے ہوئے ملزم کو اقدامِ زیادتی کا مرتکب قرار دیا، لیکن پٹنہ ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ اگرچہ ملزم کا طرزِ عمل سنگین اور قابلِ سزا ہے، تاہم استغاثہ یہ ثابت نہیں کر سکا کہ وہ قانون کی نظر میں اقدامِ زیادتی کے مرحلے تک پہنچ چکا تھا۔ چنانچہ عدالت نے اقدامِ زیادتی سے متعلق سزا ختم کرتے ہوئے معاملے کو تعزیرات کی دفعہ 354 کے دائرے میں قرار دیا۔
اس فیصلے پر رائے قائم کرنے سے پہلے ایک اصولی بات ذہن میں رہنی چاہیے۔ عدلیہ کا احترام اور عدالتی فیصلوں کا قانونی و آئینی تجزیہ ایک دوسرے کی ضد نہیں۔ آئینی جمہوریت میں عدالتیں قانون کی تشریح کرتی ہیں، جبکہ ان تشریحات پر دلیل، نظائر اور آئینی اصولوں کی روشنی میں بحث کرنا بھی انصاف کے ارتقا کا حصہ ہوتا ہے۔ اس لیے اس فیصلے سے اختلاف یا اتفاق، دونوں ہی شائستگی، قانون اور ذمہ داری کے دائرے میں ہونے چاہییں۔
اصل سوال یہ ہے کہ اقدامِ زیادتی (عصمت دری کی کوشش) کی قانونی حد کہاں سے شروع ہوتی ہے؟ اگر کسی عورت کو تنہائی میں لے جا کر اس کے جسم پر زبردستی دست درازی کی جائے، اس کا لباس اتارنے کی کوشش کی جائے اور جرم صرف اس کی مزاحمت یا کسی تیسرے شخص کی مداخلت کے باعث مکمل نہ ہو سکے، تو کیا ایسے پورے واقعے کو ایک مربوط مجرمانہ عمل سمجھا جائے یا ہر حرکت کو الگ الگ دیکھ کر اس کی قانونی حیثیت متعین کی جائے؟ یہی وہ بنیادی سوال ہے جس نے اس فیصلے کو غیر معمولی اہمیت دے دی ہے۔
سپریم کورٹ نے مختلف مقدمات میں واضح کیا ہے کہ "تیاری” (Preparation) اور "اقدام” (Attempt) کے درمیان فرق ہر مقدمے کے مخصوص حالات سے طے ہوتا ہے۔ عدالت کو صرف یہ نہیں دیکھنا ہوتا کہ آخری مرحلہ طے ہوا یا نہیں، بلکہ یہ بھی جانچنا ہوتا ہے کہ ملزم کی نیت، اس کے مسلسل اقدامات اور جرم کے نامکمل رہ جانے کی وجوہات کیا تھیں۔ اگر جرم ملزم کے ارادے سے نہیں بلکہ متاثرہ خاتون کی مزاحمت یا بیرونی مداخلت کی وجہ سے رکا ہو تو یہ حقیقت بھی قانونی تجزیے کا حصہ بنتی ہے۔
اسی تناظر میں پٹنہ ہائی کورٹ کے فیصلے پر دو مختلف قانونی آراء سامنے آئی ہیں۔ ایک رائے یہ ہے کہ اقدامِ زیادتی جیسے سنگین جرم میں سزا دینے کے لیے شک سے بالاتر اور نہایت مضبوط ثبوت ضروری ہیں، اس لیے عدالت نے فوجداری قانون کے بنیادی اصولوں پر عمل کیا۔ دوسری رائے یہ ہے کہ ایسے مقدمات میں صرف انفرادی حرکات نہیں بلکہ واقعات کے مکمل تسلسل، ملزم کے ارادے اور جرم کی سمت میں اس کی عملی پیش رفت کو بھی برابر اہمیت دی جانی چاہیے۔ یہی اختلاف اس مقدمے کو ایک اہم قانونی مباحثے میں تبدیل کرتا ہے، جس کا اثر مستقبل کی عدالتی تشریحات پر بھی پڑ سکتا ہے۔
یہ بحث صرف تعزیرات کی چند دفعات تک محدود نہیں۔ ہندوستانی آئین کا آرٹیکل 14 مساوات، آرٹیکل 15 صنفی امتیاز کے خاتمے اور آرٹیکل 21 باوقار زندگی کی ضمانت دیتا ہے۔ سپریم کورٹ نے متعدد فیصلوں میں واضح کردیا ہے کہ عورت کی رضامندی، جسمانی خودمختاری اور انسانی وقار، آئین کے بنیادی تصورات میں شامل ہیں۔ اسی لیے جنسی جرائم سے متعلق ہر عدالتی تعبیر میں قانون کی سختی کے ساتھ آئین کی روح اور انسانی وقار کو بھی یکساں اہمیت دینا ناگزیر ہے۔
قانون کا بنیادی اصول یہ ہے کہ کسی شخص کو محض قیاس، جذبات یا عوامی دباؤ کی بنیاد پر مجرم قرار نہیں دیا جا سکتا۔ اسی طرح یہ بھی اتنا ہی اہم اصول ہے کہ جنسی جرائم کی تشریح اس انداز میں نہ ہو جس سے عورت کے وقار، جسمانی خودمختاری اور احساسِ تحفظ کے بارے میں کوئی غلط پیغام جائے۔ انصاف کا حقیقی تقاضا یہی ہے کہ ان دونوں اصولوں کے درمیان ایسا متوازن راستہ اختیار کیا جائے جس میں نہ کسی بے گناہ کے حقوق مجروح ہوں اور نہ کسی متاثرہ خاتون کے ساتھ انصاف کے تقاضے کمزور پڑ جائیں۔
یہ مقدمہ محض ایک عدالتی تنازع نہیں بلکہ ایک بڑے سماجی سوال کی بھی نشاندہی کرتا ہے۔ کیا ہمارا قانونی اور سماجی شعور عورت کے جسم کو اس کی اپنی خودمختار شخصیت کا حصہ سمجھتا ہے، یا اب بھی بعض رویّوں میں اسے مرد کی خواہشات کے تابع ایک وجود کے طور پر دیکھا جاتا ہے؟ یہ سوال اس لیے اہم ہے کہ جنسی جرائم کا اثر صرف جسم تک محدود نہیں رہتا بلکہ وہ عورت کی عزتِ نفس، نفسیاتی سکون، سماجی اعتماد اور شخصی آزادی کو بھی گہرائی سے متاثر کرتا ہے۔ دنیا بھر میں جدید قانونی فکر اسی بنیاد پر انسانی وقار کو فوجداری قانون کا مرکزی اصول قرار دیتی ہے۔
ہندوستان میں خواتین کے حقوق سے متعلق قانون بھی مسلسل ارتقا کے عمل سے گزرا ہے۔ 1972 کے متھورا مقدمے سے لے کر 2012 کے نربھیا سانحے اور اس کے بعد جسٹس جے۔ ایس۔ ورما کمیٹی کی سفارشات اور 2013 کی قانونی اصلاحات تک، ہر مرحلے نے قانون کو زیادہ حساس، واضح اور مؤثر بنانے کی کوشش کی۔ اس تاریخی پس منظر کو سامنے رکھا جائے تو پٹنہ ہائی کورٹ کا حالیہ فیصلہ بھی اسی ارتقائی قانونی سفر کی ایک کڑی دکھائی دیتا ہے، جس پر سنجیدہ قانونی مکالمہ فطری اور ضروری ہے۔
اس مقدمے کا سب سے اہم سبق یہ ہے کہ اقدامِ زیادتی جیسے جرائم کا تعین کرتے وقت کسی ایک فعل کو الگ تھلگ دیکھنے کے بجائے پورے واقعے کے تسلسل، ملزم کے طرزِ عمل، اس کی نیت اور جرم کے نامکمل رہ جانے کی اصل وجہ کو مجموعی طور پر جانچا جانا چاہیے۔ اگر جرم صرف متاثرہ خاتون کی مزاحمت یا کسی تیسرے شخص کی بروقت مداخلت کے باعث مکمل نہ ہو سکا ہو تو اس پہلو کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ البتہ اس کے ساتھ یہ اصول بھی ہر حال میں برقرار رہنا چاہیے کہ کسی شخص کو سنگین فوجداری جرم میں سزا صرف مضبوط، قابلِ اعتماد اور شک سے بالاتر شواہد کی بنیاد پر ہی دی جا سکتی ہے۔ یہی انصاف کا بنیادی تقاضا ہے۔

اس فیصلے سے اتفاق ہو یا اختلاف، ایک حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ عورت کی عزت، رضامندی اور جسمانی خودمختاری محض تعزیرات کی چند دفعات کا موضوع نہیں بلکہ آئین کی روح، انسانی حقوق کی بنیاد اور ایک مہذب معاشرے کی اخلاقی ذمہ داری ہے۔ عدالتوں کا فرض صرف قانون کی تشریح کرنا نہیں بلکہ ایسے قانونی اصول وضع کرنا بھی ہے جو انصاف پر اعتماد کو مضبوط کریں اور یہ پیغام دیں کہ ہر عورت کی حرمت ریاست کی ذمہ داری ہے۔
آج ضرورت اس امر کی ہے کہ اس فیصلے کو محض تائید یا مخالفت کے زاویے سے نہ دیکھا جائے بلکہ اسے اس سوال پر سنجیدہ غور و فکر کا موقع سمجھا جائے کہ جنسی جرائم سے متعلق ہمارے قانونی معیار عصرِ حاضر کے تقاضوں، آئینی اقدار اور عورت کے وقار کے تصور سے کس حد تک ہم آہنگ ہیں۔ اگر اس بحث کے نتیجے میں سپریم کورٹ مزید واضح رہنما اصول فراہم کرتی ہے یا قانون ساز ادارے ضروری قانونی وضاحتیں کرتے ہیں تو اس سے نہ صرف عدالتی یکسانیت مضبوط ہوگی بلکہ متاثرہ خواتین اور ملزمان، دونوں کے آئینی حقوق کے تحفظ میں بھی مدد ملے گی۔
آخرکار انصاف صرف قانون کی دفعات کا نام نہیں بلکہ انسانی وقار کے تحفظ کا دوسرا نام ہے۔ ایک منصفانہ ریاست وہی ہے جہاں قانون کی سختی، عدالتی غیر جانب داری اور عورت کی عزت و حرمت ایک دوسرے کے مدمقابل نہیں بلکہ ایک دوسرے کے محافظ ہوں۔ عورت کا وقار کسی رعایت کا محتاج نہیں؛ وہ آئین کی روح، انسانی تہذیب کی اساس اور ایک مہذب معاشرے کی پہچان ہے۔ یہی وہ اصول ہے جسے ہر عدالتی تعبیر، ہر قانونی اصلاح اور ہر سماجی رویّے میں نمایاں ہونا چاہیے۔
haleemmansoor@gmail.com

By Maqsood

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے