سونم وانگ چک 20جولائی کو یادگار بنادیں گے

سونم وانگ چک  20جولائی کو یادگار بنادیں گے

سونم وانگ چک 20جولائی کو یادگار بنادیں گے

ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان

سونم وانگ چک کو اغوا کرکے کاکروچ جنتا پارٹی کے جلوس کو کچلنے کا خواب دیکھنے والے بھول گئے کہ کاکروچ کا دماغ سر میں نہیں بلکہ ریڑھ کی ہڈی میں ہوتا ہے۔ اس لیے وہ سر کٹنے کے باوجود اس وقت تک زندہ رہتا ہے جب تک اس کمر نہیں ٹوٹ جاتی ۔ کاکروچ پارٹی کا سر سونم وانگ چُک ضرور ہیں مگر اس کے ریڈھ کی ہڈی ملک کا پڑھا لکھا بیروزگار نوجوان ہے۔ حکومت نے اپنی حماقت سے کاکروچ پارٹی کی ریڑھ ہڈی پر لوہے کی مضبوط پرت چڑھا دی ہے۔ اب سرکار کی جھکی ہوئی کمر تو ٹوٹ سکتی ہے مگر سی جے پی کا بال بیکا نہیں ہوگا۔ کاکروچ پارٹی کا وجود کسی سوچی سمجھی منصوبہ بندی کا نتیجہ نہیں ہے ۔ یہ بی جے پی سرکار پر مشیت کی مار ہے۔سرکار کے چہیتے چیف جسٹس کا ایک ناعاقبت اندیش تبصرہ اس کا نکتۂ آغاز بنا۔ انہوں نے بغیر سوچے سمجھے بے ساختہ اپنی ذہنی غلاظت کو اگلتے ہوئے بیروزگاروں کوکروچ کہہ دیا ۔ اس زہریلی توہین نے ناراض نوجوانوں کے زخموں پر نمک چھڑک دیا ۔ اس کے خلاف امریکہ میں زیر تعلیم ابھیجیت دِپکے نے احتجاجاً کاکروچ جنتا پارٹی کا اعلان کیا تو وہ نوجوانوں کے دل کی دھڑکن بن گئی اور سو گھنٹے کے اندر اس کو فولو کرنے والوں کی تعداد نے سو سال پرانے سنگھ پریوار کو پچھاڑ دیا۔
مودی سرکار نے اس غیر معمولی مقبولیت سے ڈر کر کاکروچ جنتاپارٹی کا سوشل میڈیا سے اسے ہٹوایا تو وہ نئے نام سے نمودار ہوکر پھر چھاگئی۔مودی اور شاہ کو اسی وقت کاکروچ کی طاقت کو سمجھ کر اسے کچلنے کا خیال اپنے دل سے نکال دینا چاہیے تھا لیکن جب دماغ میں غرور ہوتو حقائق اوجھل ہوجاتےہیں ۔ اس بیچ بی جے پی کے آئی ٹی سیل نےسی جے پی کو میڈیا کا شیر کہہ کر اس کے حقیقی وجود کا انکارکردیا اور میدان میں آنے کاچیلنج کیا ۔ اس دباو میں دہلی کے جنتر منتر پر مظاہرہ کرنے کا فیصلہ ہوا۔ مودی حکومت نےخواتین پہلوانوں کا مظاہرے کو بزورِ قوت کچلنے کے باوجود ونیش پھوگٹ کو اسمبلی میں پہنچنے سے نہیں روک سکی ۔ اس بار بی جے پی سرکار نے حکمتِ عملی بدل کر کاکروچ پارٹی کو تھکاہرانے کا فیصلہ کردیا۔ ابھیجیت دِپکے کو ہوائی اڈے پر اجازت نامہ دےکر جنتر منتر پر سہولت مہیا کردی۔ملک کا حزب اختلاف بشمول کانگریس ہنوز اناّہزارے کے صدمہ سے نکل نہیں پایا ہے۔اس نے بی جے پی کو سی جے پی پر مہربان دیکھ کراسے سنگھ کی سازش سمجھ لیا۔ انہیں ابھیجیت دِپکے میں نیا کیجریوال دکھائی دینے لگا۔ لوگوں نے اس کے عام آدمی پارٹی کے ساتھ پرانے رشتے بھی تلاش کرلیے اور کچھ لوگ اس تحریک کو راہل گاندھی سے نوجوان نسل کو دور کرنے کی سازش تک کہنے لگے ۔
ایسے میں قدرت نےسی جے پی کی مدد کے لیے سونم وانگ چُک کو بھیج دیا ۔انہوں نے اس سے وابستہ ہوکر تاحیات بھوک ہڑتال شروع کردی ۔ معروف سائنسداں اور ماحولیات کے ماہر کی بی جے پی سے ان قربت اور کشمیر کی دفع 370کے خاتمے ان کا اظہار طمانیت زیر بحث آگیا لیکن ان کی گرفتاری اور جیل انہیں حکومت کے پٹھوکہنے میں مانع تھی ۔ سونم کی ضمانت کے بعد ان کا حکومت نواز موقف شکوک و شبہات پیدا کرتا تھا خیر بھوک ہڑتال کے20؍ویں دن انہوں نے مانسونی اجلاس کے پہلے ہی دن احتجاجی جلوس کا اعلان کردیا۔ اس روز ان کےدو بیانات نے تہلکہ مچادیا۔۔ پہلے میں وہ سوال کرتے ہیں کہ ملک کے لیے پیاز کی اہمیت زیادہ ہے نوجوانوں کا مستقبل ؟ اس کے بعد پیاز کے لیے ایک مرکزی اور دو صوبائی حکومتوں کے گرنے کا حوالہ دے کر اس سرکار کے گرنے پیشنگوئی کردیتے ہیں۔ اس کے علاوہ وہ کہتے ہیں اس وقت ووٹ چوری سے لے کر پیپر لیک تک سب کچھ نقلی ہے ۔ اس کے بعد وہکہتے ہیں کہ ہم وشو گرو تو بہت دور اس عالمی گاوں میں سر اٹھاکر بھی چلنے لائق نہیں ہیں، یہ حملے سیدھے سرکار کے خلاف ہیں۔
اس دوران جنتر منتر پر خاص شخصیات کا آنا جانا بڑھ گیا ۔ پہلے عام آدمی پارٹی کے سنجے سنگھ اور پھر خود اروند کیجریوال بھی آگئے۔ اس کے علاوہ شرد پوار، ڈمپل یادو اور کانگریس کے معمر ترجمان پون کھیڑا بھی اپنی یکجہتی کا اظہار کرنے کے لیے پہنچ گئے۔ اب راہل گاندھی کے دہرا دون میں طلباء اور نوجوانوں کے جم غفیر سے خطاب کے بعد ان کے اکھلیش یادو کے ساتھ سونم وانگ چک کی بھوک ہڑتال ختم کروانے کا اندازہ لگنے لگا۔ کاکروچ جنتا پارٹی کے ساتھ ملک بھر کے نوجوانوں کا قلبی لگاو بن گیا ہے اس کا شاہد ممبئی میں خود میں ہوں ۔ ایک دن کی تیاری میں ہزار سے زیادہ طلباء اور نوجوان وہاں جمع ہوگئے۔ یہ سب خوشحال گھرانوں کے پڑھے لکھے نوجوان تھے جو اس غلط فہمی کو دور کررہے تھے ملک کے تعلیم یافتہ امیر کبیر لوگوں کا میڈیا کے ذریعہ برین واش ہوچکا ہے۔ وہ سب اندھے بھگت بن چکے ہیں ۔عیش و عشرت کا دلدادہ یہ طبقہ میدانِ عمل میں کبھی نہیں اترے گا۔ تحریکات تو صرف غریب مسکین چلاتے ہیں ۔ اس مظاہرے نے ثابت کیا کہ ان نوجوانوں کے اندر بھی اپنے مستقبل کے تعلق سے عدم تحفظ پیدا ہوا ہے۔ ان کی بیدار ی دن بھر زمین پر بیٹھا کر احتجاج کرواسکتی ہے۔
ملک کا یہ نوجوان سو نم وانگ چُک کو اپنا خیرخواہ سمجھ کر ان سے محبت رکھتاہے۔ وہ محسوس کرتا کہ سونم ان کے لیے لڑ رہے ہیں ۔ اسے یہ احساس بھی ہے کہ موجودہ سرکار ان کی بابت حساس نہیں ہے۔وہ ان کو مارنا چاہتی ہے ایسے میں اگر راہل انہیں بچا لیں تو ان سے ہمدردی پیدا ہونا فطری ہے۔ اسی خوف نے مودی سرکار کو اگلے ہی دن سونم وانگ چُک کا نہایت بھونڈے انداز میں اغوا کرنے پر مجبور کیا۔ اس طرح موجودہ سرکار نے اپنی ایک حماقت سے نظام ِتعلیم کے خلاف لڑائی کو اپنا مخالف بنادیا۔ سونم وانگ چک کے بعد اپنی بھوک ہڑتال شروع کرتے ہی ابھیجیت دِپکے نے اعلان کیا اب اس آمرانہ حکومت کے خلاف جدو جہد کی جائے اورنوجوان کھلم کھلا وزیر اعظم نریندر مودی کو سفاک ڈکٹیٹر کے لقب سے نوازنے لگے ۔ سونم وانگ چک کی زوجہ گیتانجلی نے جو اغوا کی کرونولوجی بتائی وہ نہایت فلمی اور مضحکہ خیز ہے۔ ان کے مطابق شام میں سرکاری ڈاکٹر آئے۔ اس وقت سارے اہم اعضاء ٹھیک ٹھاک کام کررہے تھے پوٹاشین 4.2ھا ۔ دوسرے دن علی الصبح پولیس والے چوروں کی طرح ڈاکٹر کا بھیس بدل کر آتے ہیں اور اغوا کرکے فرار ہوجاتے ۔ گیتانجلی سے اجازت تک نہیں لی جاتی ۔ وہ ان سے سوال کرتی ہیں تو کہا جاتا ہے پوٹاشیم2.6پر آگیا جو ایک رات میں ناممکن ہے اور پھر ان لوگوں کی جانچ سے پہلے پتہ کیسے چل گیا ؟
گیتانجلی مطالبہ تحریری رپورٹ کا کرتی ہیں تو وہ نہیں دی جاتی۔ وہ کہتی ہیں نمونہ دو تاکہ دوسرے مقام سے جانچ کرائی جائے تو اس کے لیے رات کے ساڑھے دس بجا دیئے جاتے ہیں تاکہ ساری تجربہ گاہیں بند ہوجائیں ۔ نمونے کے ساتھ کہا جاتا ہے کہ اب پوٹاشیم 3.4ہوچکا ہے۔ یہ اضافہ بھی ناممکن ہے کیونکہ انہوں نے کچھ کھایا پیا نہیں۔ گیتانجلی باہر جانچ کرواتی ہیں تو وہ 3.6 آتا ہے۔ اس طرح انتظامیہ کاجھوٹ کھل جاتا ہے اور اس کے ارادے بے نقاب ہوجاتے ہیں۔حکومت کی اگر سازش نہ ہوتی تو دوسرے دن صبح نمونہ لے کر پہلے جانچ کرائی جاتی اور اس کی رپورٹ دِکھا کر ساری فریقوں کو اعتماد لے کر اسٹریچر کے ذریعہ ان کو لے جایا جاتا ۔ گیتانجلی سے کہا گیا کہ وہ فون لے کر نہیں جاسکتی ہیں۔ وہ کمرے میں جاتی ہیں تو ان کے ساتھ پولیس کانسٹبل کھڑی رہتی ہے اور باہر پولیس کا سخت پہرا ہوتا ہے۔ کیا سرکار کو خطرہ ہے کہ یہ نحیف انسان فرار ہوجائے گا؟ اور اس سے بھی بڑا سوال کہ کیا وہ قید میں ہے؟ اگر قید میں بھی ہے تو اس کو کس بات کی سزا دی جارہی ہے۔ کیا اس کے خلاف کوئی ایف آئی آر موجود ہے؟
گیتانجلی اپنے شوہر کوویدانتا اسپتال میں بھرتی کروانا چاہتی ہے تو ان سے کہا جاتا ہے کہ صدر مملکت کا اسپتال بھی وہیں ہوتا ہے مگر امیت شاہ کا علاج تو ویدانتا میں ہوچکا ہے۔ ایک آزاد انسان کس اسپتال میں بھرتی ہو اس کا فیصلہ وہ خود کرے گا یا سرکار کرے گی ؟ گیتانجلی کے مطابق انہیں ایسا محسوس ہورہا ہےگویا ان کے شوہر صفدر جنگ اسپتال میں نہیں بلکہ پھر سےجودھپور جیل میں بھیج دئیے گئے ہیں ۔ حکومت نے اس تحریک میں جان ڈال دی ہے۔ نوجوانوں کی تعداد میں زبردست اضافہ ہوا ہے۔ 20؍جولائی کو اگر جلسہ کامیاب ہوجائے تو سرکار کی ناک کٹ جائے گی اور اگر اسے کچل دیا گیا تو حکومت کے پیر ٹوٹ جائیں گے۔ اس کا خاتمہ نہایت قریب ہوجائے گا کیونکہ فی الحال طلباء و نوجوانوں کے علاوہ کسان امریکہ کے ساتھ تجارتی معاہدے سے ناراض ہیں۔ غیر منظم شعبے مزدورکم سے کم اجرت کے لیے مارے مارے پھر رہےہیں تو آخر یہ سرکار کس کس سے کب تک لڑے گی اور اس کا جنازہ کب اٹھے گا یہ تو وقت ہی بتائے گا۔

By Maqsood

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے