پارلیمنٹ کا مانسون اجلاس:
عوامی مسائل زیرِ بحث آئیں گے یا سیاست پھر غالب رہے گی؟
ازقلم: افتخاراحمدقادری
۲۰/ جولائی ۲۰۲۶ء سے پارلیمنٹ کا مانسون اجلاس اس بار ایسے وقت میں شروع ہو رہا ہے جب ملک سیاسی کشیدگی، معاشی دباؤ، تعلیمی بے چینی، بے روزگاری، مہنگائی، انتخابی تنازعات اور وفاقی نظام سے متعلق کئی اہم سوالات کے درمیان کھڑا ہے۔ پارلیمنٹ جمہوریت کا سب سے بڑا ادارہ ہے جہاں عوام کے مسائل، حکومت کی کارکردگی اور آئندہ پالیسیوں پر سنجیدہ بحث ہونی چاہیے لیکن گزشتہ چند برسوں کا تجربہ یہ بتاتا ہے کہ اکثر اجلاس سیاسی محاذ آرائی، شور شرابے اور ایک دوسرے پر الزامات کی نذر ہو جاتے ہیں۔ اس مرتبہ بھی عوام کی نظریں اس بات پر مرکوز ہیں کہ آیا یہ اجلاس واقعی ملک کے بنیادی مسائل کا حل تلاش کرے گا یا پھر سیاسی طاقت آزمائی ہی پورے ماحول پر حاوی رہے گی۔
مانسون اجلاس کے آغاز سے پہلے ہی سیاسی درجہ حرارت غیر معمولی حد تک بڑھ چکا ہے۔حکومت نے حسب روایت کل جماعتی اجلاس طلب کیا تاکہ پارلیمنٹ کے ایجنڈے پر سیاسی جماعتوں سے مشاورت کی جا سکے لیکن یہ اجلاس اتفاق رائے پیدا کرنے کے بجائے نئے تنازعات کا سبب بن گیا۔ اپوزیشن جماعتوں نے حکومت پر سخت اعتراض کیا کہ ترنمول کانگریس سے تعلق رکھنے والے باغی اراکین پارلیمان کو بھی اجلاس میں مدعو کیا گیا حالانکہ ان کی آئینی اور پارلیمانی حیثیت ابھی تک واضح نہیں ہے اور ان کے انضمام سے متعلق معاملہ زیر التوا ہے۔ ایسے میں اپوزیشن کا موقف یہ تھا کہ جب تک متعلقہ آئینی اور قانونی کارروائی مکمل نہ ہو جائے انہیں کسی مستقل سیاسی جماعت یا پارلیمانی گروپ کی حیثیت سے تسلیم نہیں کیا جا سکتا۔ ترنمول کانگریس کی رکن پارلیمان مہوا موئترا نے بھی یہی سوال اٹھایا کہ آخر ایک ایسے گروپ کو کس بنیاد پر مدعو کیا گیا جسے ابھی تک باقاعدہ شناخت حاصل نہیں ہوئی۔ یہ اعتراض صرف ایک سیاسی جماعت کا نہیں بلکہ پارلیمانی روایت اور آئینی اصولوں سے متعلق بھی ہے۔ یہ تنازعہ اس بات کی علامت ہے کہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان اعتماد کا بحران مزید گہرا ہو چکا ہے۔ جمہوری نظام میں اختلاف رائے کوئی غیر معمولی بات نہیں لیکن جب اختلاف اس حد تک پہنچ جائے کہ پارلیمنٹ کے آغاز سے پہلے ہی سیاسی فضا کشیدہ ہو جائے تو اس کے اثرات اجلاس کی کارروائی پر بھی مرتب ہوتے ہیں۔ پارلیمنٹ کی کامیابی اسی وقت ممکن ہوتی ہے جب حکومت اور اپوزیشن کم از کم ان بنیادی اصولوں پر متفق ہوں جن سے ایوان کی کارروائی متاثر نہ ہو مگر موجودہ حالات اس کے برعکس دکھائی دے رہے ہیں۔
حکومت کی ترجیحات پر بھی اس مرتبہ کئی سوالات اٹھ رہے ہیں۔ اپوزیشن کا کہنا ہے کہ حکومت نے اپنے ایجنڈے میں ایسے معاملات کو اہمیت دی ہے جن سے اس کی سیاسی حکمت عملی کو فایدہ پہنچ سکتا ہے جبکہ عوام کے حقیقی مسائل کو پس پشت ڈال دیا گیا ہے۔ مہنگائی مسلسل عام آدمی کی زندگی کو متاثر کر رہی ہے، بے روزگاری نوجوانوں کے مستقبل پر سوالیہ نشان بنی ہوئی ہے، کسان مختلف معاشی مشکلات سے دو چار ہیں، تعلیم اور امتحانی نظام پر مسلسل سوالات اٹھ رہے ہیں لیکن ان مسائل پر حکومت کی جانب سے کوئی واضح اور جامع حکمت عملی سامنے نہیں آ رہی۔ یہی وجہ ہے کہ اپوزیشن اس اجلاس کو عوامی مسائل کے حوالے سے حکومت کا احتساب کرنے کا ایک اہم موقع قرار دے رہی ہے۔
اس وقت سب سے زیادہ توجہ جنتر منتر پر جاری اس احتجاج نے حاصل کی ہے جو گزشتہ ایک ماہ سے مسلسل جاری ہے۔ مختلف طلبہ تنظیمیں اور نوجوان تعلیمی اصلاحات، امتحانی نظام میں شفافیت اور مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ گزشتہ چند برسوں میں مختلف قومی سطح کے امتحانات میں بے ضابطگیوں، پرچہ لیک ہونے اور انتظامی کمزوریوں کے متعدد واقعات سامنے آئے ہیں، جنہوں نے لاکھوں نوجوانوں کے مستقبل کو متاثر کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ طلبہ میں شدید بے چینی پائی جاتی ہے اور وہ حکومت سے مؤثر اصلاحات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ اسی احتجاج کے دوران لداخ کے معروف ماہر تعلیم، سماجی اور ماحولیاتی کارکن سونم وانگ چک نے بھوک ہڑتال شروع کی جو مسلسل بیس دن تک جاری رہی۔ ان کی بھوک ہڑتال نے نہ صرف طلبہ کی تحریک کو نئی قوت بخشی بلکہ پورے ملک کی توجہ بھی اپنی جانب مبذول کر لی۔ وانگ چک کا مؤقف تھا کہ حکومت کو نوجوانوں کے مطالبات سننے چاہئیں اور تعلیم جیسے بنیادی شعبے میں اصلاحات کے لیے فوری اقدامات کرنے چاہئیں۔ ان کی مسلسل بھوک ہڑتال کے باوجود حکومت کی جانب سے کوئی مؤثر مذاکراتی کوشش سامنے نہیں آئی جس پر مختلف حلقوں نے تشویش کا اظہار کیا۔ جب احتجاج کرنے والوں نے 20 جولائی کو پارلیمنٹ مارچ کا اعلان کیا تو اس سے قبل ہی انتظامیہ نے سونم وانگ چک کو اسپتال منتقل کر دیا۔ اگرچہ حکومت کی جانب سے اس اقدام کو طبی ضرورت قرار دیا گیا، لیکن احتجاج کرنے والوں نے اسے سیاسی دباؤ سے تعبیر کیا۔ وانگ چک نے اسپتال میں بھی خوراک لینے سے انکار کر دیا جس کے بعد معاملہ مزید حساس بن گیا۔ اپوزیشن کا کہنا ہے کہ اگر حکومت ابتدا ہی میں مذاکرات کا راستہ اختیار کرتی تو صورتحال اس نہج تک نہ پہنچتی۔ جمہوری نظام میں احتجاج کو دبانے کے بجائے اس کے اسباب کو سمجھنا زیادہ ضروری ہوتا ہے، کیونکہ کسی بھی احتجاج کے پیچھے عوامی بے چینی اور عدم اطمینان موجود ہوتا ہے۔ حکومت کے ناقدین یہ تاثر بھی پیش کر رہے ہیں کہ موجودہ انتظامیہ اختلافی آوازوں کو برداشت کرنے کے بجائے انہیں محدود کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ مختلف سماجی تحریکوں، احتجاجی مظاہروں اور عوامی مطالبات کے حوالے سے حالیہ برسوں میں متعدد ایسے واقعات سامنے آئے ہیں جنہوں نے اس بحث کو مزید تقویت دی ہے کہ کیا حکومت تنقید کو جمہوری عمل کا حصہ سمجھتی ہے یا اسے سیاسی مخالفت تصور کرتی ہے۔ اگر پارلیمنٹ جیسے ادارے میں بھی اختلاف رائے کو سنجیدگی سے نہ لیا جائے تو جمہوری نظام کی روح متاثر ہوتی ہے۔
اپوزیشن نے واضح کر دیا ہے کہ وہ اس اجلاس میں حکومت کو مختلف اہم مسائل پر گھیرے گی۔ اس کے ایجنڈے میں آئینی اداروں کی خود مختاری، وفاقی ڈھانچے کا تحفظ، انتخابی شفافیت، حلقہ بندی، ووٹر فہرستوں سے متعلق تنازعات، مہنگائی، بے روزگاری، کسانوں کے مسائل، داخلی سلامتی، اقلیتوں کے حقوق، تعلیمی بحران اور مختلف ریاستوں میں پیدا ہونے والے انتظامی مسائل شامل ہیں۔ اپوزیشن کا دعویٰ ہے کہ یہ تمام موضوعات براہ راست عوام کی زندگی سے تعلق رکھتے ہیں، اس لیے ان پر تفصیلی بحث ہونی چاہیے۔ حکومت دوسری جانب اپنی قانون سازی اور انتظامی منصوبوں کو آگے بڑھانے کی کوشش کرے گی۔ اس کے لیے ضروری ہوگا کہ وہ اپوزیشن کے اعتراضات کا مؤثر جواب دے اور ایوان کے اندر ایسا ماحول پیدا کرے جہاں بحث اور مکالمے کی روایت مضبوط ہو۔ اگر حکومت صرف اپنی عددی برتری پر انحصار کرتے ہوئے بل منظور کرانے کی کوشش کرے گی تو اپوزیشن کی مزاحمت مزید شدت اختیار کر سکتی ہے، جس کے نتیجے میں اجلاس کی کارروائی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ گزشتہ چند برسوں میں پارلیمانی روایت پر بھی مختلف حلقوں نے سوالات اٹھائے ہیں۔ متعدد اہم بل محدود وقت میں منظور کیے گئے، کئی مواقع پر تفصیلی بحث نہیں ہو سکی جبکہ اپوزیشن نے احتجاج، واک آؤٹ اور ایوان کی کارروائی میں رکاوٹ کو اپنے سیاسی احتجاج کا ذریعہ بنایا۔ حکومت کا مؤقف رہا کہ اپوزیشن تعمیری کردار ادا کرنے کے بجائے صرف ہنگامہ آرائی کرتی ہے، جبکہ اپوزیشن کا کہنا ہے کہ اسے مؤثر بحث کا موقع ہی نہیں دیا جاتا۔ ان دونوں مؤقفوں کے درمیان سب سے زیادہ نقصان پارلیمانی وقار اور عوامی اعتماد کو پہنچا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ پارلیمنٹ صرف حکومت یا اپوزیشن کی نہیں بلکہ پورے ملک کی نمائندہ ہے۔ عوام اپنے منتخب نمائندوں کو اس لیے ایوان میں بھیجتے ہیں کہ وہ ان کے مسائل کی آواز بنیں، نہ کہ صرف سیاسی نعروں اور احتجاج تک محدود رہیں۔ اگر پارلیمنٹ میں مہنگائی، بے روزگاری، تعلیم، صحت، زراعت، معیشت، داخلی سلامتی اور سماجی انصاف جیسے بنیادی موضوعات پر سنجیدہ گفتگو نہ ہو تو جمہوری عمل اپنی اصل روح کھو دیتا ہے۔
ملک کی معیشت اس وقت متعدد چیلنجوں سے گزر رہی ہے۔ مہنگائی نے متوسط اور غریب طبقے کی مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے۔ روزگار کے مواقع میں مطلوبہ رفتار سے اضافہ نہیں ہو رہا۔ چھوٹے کاروبار مختلف مسائل سے دو چار ہیں۔ کسان اپنی پیداوار کی مناسب قیمت، لاگت میں اضافے اور موسمی غیر یقینی صورتحال سے پریشان ہیں۔ نوجوان اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے باوجود مناسب ملازمتوں کے منتظر ہیں۔ ایسے میں پارلیمنٹ کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ ان تمام مسائل پر سنجیدہ بحث کرے اور حکومت سے قابل عمل حل طلب کرے۔ تعلیمی نظام بھی اس وقت اصلاحات کا متقاضی ہے۔ مسلسل امتحانی بے ضابطگیوں نے نوجوانوں کا اعتماد متزلزل کیا ہے۔ لاکھوں طلبہ اپنی محنت کے باوجود غیر یقینی صورتحال کا شکار ہیں۔ اگر حکومت اس اجلاس میں تعلیمی اصلاحات کے حوالے سے واضح پالیسی پیش کرتی ہے تو یقیناً یہ ایک مثبت قدم ہوگا لیکن اگر اس مسئلے کو بھی سیاسی کشمکش کی نذر کر دیا گیا تو نوجوانوں میں مایوسی مزید بڑھے گی۔ وفاقی ڈھانچے سے متعلق سوالات بھی اس اجلاس میں نمایاں رہنے کا امکان ہے۔ مختلف ریاستیں مرکز اور ریاستی اختیارات کے توازن، مالی وسائل کی تقسیم اور انتظامی معاملات پر اپنے تحفظات کا اظہار کرتی رہی ہیں۔ آئین نے وفاقی نظام کو مضبوط بنانے کے لیے مرکز اور ریاستوں کے درمیان اختیارات کی واضح تقسیم کی ہے، اس لیے ضروری ہے کہ ان معاملات پر بھی سنجیدگی سے غور کیا جائے۔ انتخابی شفافیت بھی ایک اہم مسئلہ بن چکی ہے۔ ووٹر فہرستوں، حلقہ بندی، انتخابی اصلاحات اور انتخابی عمل پر عوام کا اعتماد برقرار رکھنا جمہوریت کی بنیادی ضرورت ہے۔ اگر اس حوالے سے پیدا ہونے والے سوالات کا بروقت اور شفاف جواب نہ دیا جائے تو جمہوری نظام پر عوام کا اعتماد متاثر ہو سکتا ہے۔
اس مانسون اجلاس کی ایک اور اہم خصوصیت یہ ہے کہ حکومت کو صرف ایوان کے اندر ہی نہیں بلکہ ایوان کے باہر بھی شدید عوامی دباؤ کا سامنا ہے۔ مختلف سماجی تنظیمیں، طلبہ، کسان اور دیگر طبقات اپنے اپنے مطالبات کے ساتھ حکومت کی توجہ حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اگر حکومت ان آوازوں کو سننے کے بجائے صرف انتظامی اقدامات تک محدود رہی تو سیاسی کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے۔ یہ اجلاس حکومت اور اپوزیشن دونوں کے لیے ایک بڑا امتحان ہے۔ حکومت کے لیے امتحان یہ ہے کہ وہ اپنی اکثریت کو جمہوری ذمہ داری کے ساتھ استعمال کرے، اختلافی آوازوں کو سنے، عوامی مسائل پر واضح مؤقف اختیار کرے اور پارلیمنٹ کے وقار کو برقرار رکھے۔ اپوزیشن کے لیے امتحان یہ ہے کہ وہ صرف احتجاج تک محدود نہ رہے بلکہ متبادل پالیسی، مضبوط دلائل اور تعمیری تجاویز بھی پیش کرے۔ جمہوری نظام میں مؤثر اپوزیشن حکومت کی کمزوری نہیں بلکہ نظام کی مضبوطی کی علامت ہوتی ہے۔
آخرکار اس اجلاس کی کامیابی کا پیمانہ یہ نہیں ہوگا کہ حکومت نے کتنے بل منظور کرائے یا اپوزیشن نے کتنے احتجاج کیے، بلکہ اصل معیار یہ ہوگا کہ کیا عوام کے مسائل پر سنجیدہ گفتگو ہوئی، کیا نوجوانوں، کسانوں، مزدوروں، خواتین، اقلیتوں اور متوسط طبقے کے مسائل کو اہمیت دی گئی، کیا حکومت نے جواب دہی کا مظاہرہ کیا اور کیا اپوزیشن نے تعمیری کردار ادا کیا۔ اگر یہ تمام عناصر موجود رہے تو مانسون اجلاس واقعی قومی مفاد میں ثابت ہوگا لیکن اگر سیاست ہی ہر بحث پر غالب رہی، پارلیمنٹ کا وقت شور و غوغا میں ضائع ہوا اور عوامی مسائل پس منظر میں چلے گئے تو ایک بار پھر عوام کی امیدیں مایوسی میں بدل جائیں گی۔ یہی وہ خدشہ ہے جسے دور کرنا حکومت اور اپوزیشن دونوں کی مشترکہ آئینی اور جمہوری ذمہ داری ہے۔
iftikharahmadquadri@gmail.com