الیکشن کمیشن کے آن لائن فارم ۶ میں اقرار نامہ کی شمولیت
قانونی اختیار یا انتظامی پیش رفت؟ ایک تجزیہ
تحریر: محمد اعجاز الدین احمد
رابطہ:9700389755
جمہوری نظام کی بنیاد آزاد، منصفانہ اور شفاف انتخابات پر استوار ہوتی ہے، جبکہ انتخابات کی شفافیت کا انحصار بڑی حد تک فہرست ہائے رائے دہندگان کی صحت، جامعیت اور قانونی حیثیت پر ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ فہرست رائے دہندگان محض رائے دہندوںکے ناموں کا اندراج نہیں بلکہ شہریوں کے آئینی، سیاسی اور جمہوری حقوق کی عملی ضمانت سمجھی جاتی ہے۔ اگر اس بنیادی دستاویز کی تیاری، نظرِ ثانی یا اندراج کے طریقۂ کار میں کوئی تبدیلی کی جائے تو اس کے اثرات براہِ راست شہریوں کے حقِ رائے دہی اور انتخابی عمل پر مرتب ہو سکتے ہیں۔ اسی لیے انتخابی قوانین میں ہونے والی ہر ترمیم یا انتظامی پیش رفت کا تعلق جمہوری نظام کی ساکھ، عوامی اعتماد اور آئینی تقاضوں سے بھی جوڑا جاتا ہے۔
اب ای سی آئی نیٹ پورٹل کے ذریعے ووٹر کے طور پر اندراج کرانے والے درخواست دہندگان کو اپنے والدین کی گزشتہ ایس آئی آر کے دوران انتخابی حیثیت سے متعلق نئے سوالات کے جواب دینا ہوں گے جو کہ اقرار نامہ کی شکل میں شامل کئے گئے ہیں۔ الیکشن کمیشن آف انڈیا کی جانب سے ووٹر رجسٹریشن کے آن لائن فارم ۶ میںاس نئے اقرار نامہ کی شمولیت ، قانونی اور انتخابی حلقوں میں موضوع بحث بنی ہوئی ہے۔ بظاہر یہ ایک انتظامی تبدیلی معلوم ہوتی ہے، تاہم اس کے قانونی، آئینی اور انتظامی پہلو بھی قابلِ غور ہیں۔ بحث کا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ آیا اس نوعیت کی اضافی معلومات کو انتخابی قواعد میں باضابطہ ترمیم کے بغیر آن لائن پلیٹ فارم کے ذریعے شامل کیا جا سکتا ہے، یا یہ محض درخواست گزار کی شناخت اور ریکارڈ کی بہتر جانچ کے لیے ایک انتظامی سہولت ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت سامنے آئی ہے جب ملک کی مختلف ریاستوں میں فہرست ہائے رائے دہندگان کی خصوصی جامع نظرِ ثانی جاری ہے۔ اس نظرِ ثانی کا بنیادی مقصد نئے اہل رائے دہندوںکا اندراج، وفات پا جانے والے افراد یا مستقل طور پر دوسرے مقامات پر منتقل ہو جانے والے رائے دہندوںکے نام حذف کرنا، انتخابی ریکارڈ کی تصحیح اور فہرستوں کو تازہ ترین معلومات کے مطابق مرتب کرنا ہے تاکہ انتخابی عمل مزید شفاف، قابلِ اعتماد اور زمینی حقائق سے ہم آہنگ ہو سکے۔
نئے آن لائن فارم ۶میں درخواست گزار کو درج ذیل بیانات میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہے
آیادرخواست گزار کا نام گزشتہ ایس آئی آر کے دوران مرتب کی گئی فہرست رائے دہندگان میں موجود تھا۔
آیادرخواست گزار کے والد، والدہ، دادا یا دادی ،نانا یا نانی کا نام گزشتہ ایس آئی آرکی فہرست رائے دہندگان میں شامل تھا۔
نہ درخواست گزار اور نہ ہی اس کے والدین یا دادا، دادی،نانا نانی میں سے کسی کا نام گزشتہ یس آئی آرکی فہرست رائے دہندگان میں موجود تھا۔
حال ہی میں الیکشن کمیشن نے اپنے آن لائین نظام میں دستیاب فارم ۶ میں ایک نیا اقرار نامہ شامل کیا ہے۔ جیسا کہ کہاگیا، اس کے مطابق پہلی مرتبہ بطور بحیثیت رائے دہندہ (نئے ووٹر کے طور پر) اندراج کرانے والےہر درخواست گزار کو یہ بتانا ہوگا کہ آیا خود اس کا یااس کے والد، والدہ، دادا یا دادی،نانا یا نانی کا نام گزشتہ خصوصی جامع نظرِ ثانی (ایس آئی آر )کے دوران فہرست رائے دہندگان میں موجود تھا یا نہیں۔ اگر جواب اثبات میں ہو تو متعلقہ اسمبلی حلقے کا نمبر، پولنگ اسٹیشن کے حصہ نمبر، فہرست رائے دہندگان میں درج سیریل نمبر اور جہاں ممکن ہو انتخابی شناختی کارڈ کا نمبر بھی فراہم کرنا ہوگا۔
بادی النظر میں یہ ایک اضافی معلوماتی خانہ معلوم ہوتا ہے، تاہم اس کی قانونی حیثیت اس لیے زیرِ غور آئی ہے کہ یہ شرط فی الحال آن لائن فارم ۶ میں موجود ہے، جبکہ انتخابی قواعد کے تحت منظور شدہ آف لائن فارم ۶ میں اس نوعیت کا کوئی اقرار نامہ شامل نہیں۔ یوں ایک ہی قانونی مقصد کے لیے استعمال ہونے والے دونوں فارم اپنی ساخت اور مندرجات کے اعتبار سے مختلف نظر آتے ہیں، جس سے قانونی تشریح کے چند پہلو سامنے آتے ہیں۔
مزید یہ کہ اس نئی شمولیت کے سلسلے میں اب تک کوئی الگ پریس نوٹ، گزٹ نوٹیفکیشن یا انتخابی قواعد میں ترمیم کا عوامی ریکارڈ وسیع پیمانے پر سامنے نہیں آیا۔ اسی بنا پر بعض قانونی ماہرین یہ سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ آیا یہ محض انتظامی نوعیت کی ایک سہولت ہے یا اس کی قانونی حیثیت کو مزید واضح کرنے کی ضرورت ہے۔
یہاں یہ حقیقت بھی پیشِ نظر رہنی چاہیے کہ فارم ۶ محض ایک درخواست فارم نہیں بلکہ عوامی نمائندگی قانون، ۱۹۵۰ء اور رجسٹریشن آف الیکٹرز رولز، ۱۹۶۰ء کے تحت وضع کیا گیا ایک قانونی فارم ہے۔ آئینِ ہند کا دفعہ ۳۲۶ ہر ایسے بالغ شہری کو، جو متعلقہ انتخابی حلقے کا معمول کا رہائشی ہو، بطور ووٹر اندراج کا حق دیتا ہے، سوائے ان افراد کے جنہیں قانون نے واضح طور پر نااہل قرار دیا ہو۔ اس لیے اس قانونی فارم میں ہونے والی کسی بھی بنیادی تبدیلی کا تعلق شہریوں کے آئینی حقوق سے بھی جڑ جاتا ہے۔
عوامی نمائندگی قانون، ۱۹۵۰ء کی دفعہ ۲۸ کے مطابق انتخابی قواعد میں ترمیم کا اختیار مرکزی حکومت کو حاصل ہے، تاہم یہ ترمیم الیکشن کمیشن سے مشاورت، قانون سازی کے مراحل سے گذرنے کے لیے پارلیمنٹ کے سامنے پیش کیے جانے اور مجوزہ ترامیم کی منظوری، بعد ازاں قواعد میں تبدیلی اورسرکاری گزٹ میں اشاعت جیسے قانونی مراحل سے گزرنے کے بعد نافذ العمل ہوتی ہے۔ یہی طریقۂ کار انتخابی قوانین میں ہونے والی تبدیلیوں کو قانونی اور ادارہ جاتی بنیاد فراہم کرتا ہے۔
ماضی میں جب بھی انتخابی فارموں میں تبدیلی کی گئی، وہ وزارتِ قانون و انصاف کی جانب سے رجسٹریشن آف الیکٹرز (ترمیمی) رولزمیں باقاعدہ ترمیم اور گزٹ نوٹیفکیشن کے ذریعے کی گئی۔موجودہ صورتحال میں والدین یا آباء و اجداد سے متعلق اضافی ا قرارنامہ صرف ای سی آئی نیٹ کے آن لائن فارم ۶میں نظر آتی ہے، جبکہ آف لائن ڈاؤن لوڈ ہونے والا فارم۶ اب بھی پہلے والا قانونی فارمیٹ برقرار رکھے ہوئے ہے اور اس میں یہ نئی شرط شامل نہیں۔اس طرح فارم ۶کے آن لائن اور آف لائن ورژن اب ایک دوسرے سے مختلف ہو گئے ہیں، جس سے یہ قانونی سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا کسی قانونی فارم میں بنیادی تبدیلی صرف آن لائن پورٹل کے ذریعے، قواعد میں ترمیم کیے بغیر، کی جا سکتی ہے؟ چند سال پہلے الیکشن لاز (ترمیمی) ایکٹ، ۲۰۲۱ء کے بعد وزارتِ قانون و انصاف نے ۱۷ جون ۲۰۲۲ء کو رجسٹریشن آف الیکٹرز (ترمیمی) رولز، ۲۰۲۲ء جاری کیے، جو یکم اگست ۲۰۲۲ء سے نافذ ہوئے۔ان ترامیم کے نتیجے میں:
فارم ۶ صرف نئے ووٹر کی رجسٹریشن کے لیے مخصوص کر دیا گیا۔
ایک اسمبلی حلقے سے دوسرے حلقے میں رہائش کی منتقلی کے لیے درخواستیں فارم ۸میں منتقل کر دی گئیں۔
فارم ۸ کا دائرہ کار بڑھا کر اس میں اندراج کی اصلاح، حلقہ تبدیل کرنا، ایپک کارڈ کی تبدیلی اور معذوری کی معلومات درج کرنا بھی شامل کر دیا گیا۔
فارم ۸ اےاور فارم۰۰۱ختم کر دیے گئے۔
موجودہ ووٹروں کے لیے آدھار کی تفصیلات فراہم کرنے کی غرض سے فارم ۶ بی متعارف کرایا گیا۔
اہم بات یہ ہے کہ یہ تمام تبدیلیاں پہلے قواعد میں ترمیم، پھر گزٹ نوٹیفکیشن، اور بعد ازاں نئے فارم جاری کرنے کے بعد نافذ کی گئی تھیں۔
اس پس منظر میں موجودہ آن لائن فارم ۶ میں اقرار نامہ کی شمولیت کے بارے میں یہ سوال فطری طور پر سامنے آتا ہے کہ آیا اس کے لیے بھی اسی نوعیت کی قانونی کارروائی مکمل کی گئی ہے یا نہیں، کیونکہ ایسی کوئی ترمیم اب تک عوامی سطح پر دستیاب نہیں۔اسی طرح یہ سوال بھی زیرِ غور آتا ہے کہ اگر یہ صرف معلوماتی نوعیت کا خانہ ہے تو اس کی قانونی حیثیت کیا ہوگی، اور اگر اسے لازمی شرط کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے تو اس کی قانونی بنیاد کی مزید وضاحت سے تمام متعلقہ فریقوں کو رہنمائی حاصل ہو سکتی ہے۔
یہ معاملہ صرف اقرار نامہ تک محدود نہیں رہتا بلکہ خصوصی جامع نظرِ ثانی کے دوران حذف ہونے والےرائے دہندوں کے دوبارہ اندراج کے مسئلے سے بھی جڑ جاتا ہے۔ الیکشن کمیشن نے یہ ہدایت دی ہے کہ جن افراد کے نام اس نظرِ ثانی کے دوران انتخابی فہرست سے حذف ہوئے ہیں، وہ دعوؤں اور اعتراضات کے مرحلے میں فارم ۶ کے ذریعے دوبارہ اندراج کی درخواست دے سکتے ہیں۔
تاہم یکم اگست ۲۰۲۲ء سے نافذ اصلاحات کے بعد فارم ۶ صرف نئے ووٹر کے اندراج کے لیے مخصوص ہے۔ اس فارم میں موجود قانونی اقرار نامہ ہر درخواست گزار سے یہ اعلان کراتا ہے کہ اس کا نام پہلے کبھی کسی انتخابی فہرست میں درج نہیں رہا۔ چنانچہ وہ افراد جن کا نام پہلے انتخابی فہرست میں موجود تھا اور بعد میں حذف ہوا، ان کے لیے اس اقرار نامہ کی نوعیت ایک عملی اور قانونی سوال پیدا کرتی ہے۔ایسے شخص کے لیے، جس کا نام پہلے موجود تھا اور بعد میں حذف ہوا، یہ اقرار نامہ حقیقت کے مطابق نہیں ہو سکتا۔یوں فارم ۶کی قانونی قرار اور حذف شدہ ووٹر کے دوبارہ اندراج کے عمل میں بظاہر تضاد پیدا ہو جاتا ہے اسی فارم میں یہ تنبیہ بھی درج ہے کہ اگر کوئی درخواست گزار جان بوجھ کر غلط معلومات فراہم کرے یا خلافِ حقیقت بیان دے تو عوامی نمائندگی قانون، ۱۹۵۰ء کی دفعہ ۳۱ کے تحت کارروائی کی جا سکتی ہے۔ چنانچہ جہاں کسی مخصوص صورتِ حال میں قانونی اقرار نامے کے اطلاق سے متعلق سوالات پیدا ہوں، وہاں وضاحتی رہنمائی اس پورے عمل کو مزید واضح اور مؤثر بنا سکتی ہے۔
اسی طرح نئے اقرار نامہ کے عملی پہلو بھی قابلِ توجہ ہیں۔ پہلی مرتبہ ووٹر بننے والے متعدد نوجوانوں کے لیے یہ ممکن نہیں ہوتا کہ وہ اپنے والدین یا دادا، دادی، نانا نانی کے انتخابی اندراج کی تمام تفصیلات محفوظ رکھے ہوں۔ اسمبلی حلقے کا نمبر، پولنگ اسٹیشن کے حصہ نمبر، فہرست رائے دہندگان کا سیریل نمبر یا انتخابی شناختی کارڈ کا نمبر ایسی معلومات ہیں جو ہر خاندان کے پاس منظم صورت میں دستیاب نہیں ہوتیں۔
مزید برآں اگر والدین نے مختلف ادوار میں رہائش تبدیل کی ہو، کسی دوسرے حلقے میں منتقل ہو گئے ہوں، ان کا نام فہرست رائے دہندگان سے حذف ہو چکا ہو یا ان کے اندراج سے متعلق کارروائی زیرِ التوا ہو تو مطلوبہ معلومات فراہم کرنا مزید مشکل ہو سکتا ہے۔
الیکشن کمیشن نے یہ واضح نہیں کیا کہ اگر یہ معلومات فراہم نہ کی جا سکیں تو کیا درخواست متاثر ہوگی، یا یہ معلومات صرف ریکارڈ کے لیے طلب کی جا رہی ہیں۔یہ صورت مزید وضاحت کی متقاضی ہے۔
قانونی اعتبار سے یہ بات بھی اہم ہے کہ انتخابی قواعد کے تحت منظور شدہ فارم اور آن لائین نظام میں موجود فارم کے درمیان یکسانیت برقرار رہے۔ اگر ایک ہی فارم کی دو مختلف صورتیں موجود ہوں، جن میں سے ایک میں اضافی معلومات شامل ہوں اور دوسری میں نہ ہوں، تو اس کی قانونی تشریح کے بعض پہلو سامنے آ سکتے ہیں۔ اسی لیے بعض قانونی ماہرین اس تبدیلی کی قانونی بنیاد کے بارے میں مزید وضاحت کو مفید قرار دے رہے ہیں۔ یہاں یہ وضاحت بھی ضروری ہے کہ کسی بھی انتخابی ادارے کے انتظامی اختیارات اپنی جگہ مسلم ہیں۔ انتخابی عمل کو مؤثر، جدید اور سہل بنانے کے لیے ٹیکنالوجی کا استعمال وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اسی کے ساتھ جب کوئی انتظامی اقدام ایسے قانونی فارم سے متعلق ہو جو قواعد کے تحت متعین کیا گیا ہو تو اس کی قانونی بنیاد اور طریقۂ کار کی وضاحت انتخابی نظام پر اعتماد کو مزید مضبوط بنا سکتی ہے۔ جمہوری نظام میں قانون اور انتظامیہ ایک دوسرے کی تکمیل کرتے ہیں، اور دونوں کے درمیان واضح ہم آہنگی ہی مؤثر نظامِ انتخاب کی بنیاد بنتی ہے۔
اسی لیے موجودہ صورتِ حال میں بنیادی توجہ آباء واجداد کے متعلق فہرست رائے دہندگان میں درج معلومات کے حصول پر نہیں بلکہ اس طریقۂ کار کی وضاحت پر مرکوز ہے جس کے ذریعے یہ اضافی اقرار نامہ شامل کیا گیا ہے۔ اگر اس کے لیے قواعد میں ترمیم کی گئی ہے تو اس کی متعلقہ دستاویزات کی دستیابی مفید ہوگی، اور اگر یہ انتظامی نوعیت کی سہولت ہے تو اس کی قانونی حیثیت اور عملی اطلاق کی وضاحت درخواست گزاروں اور متعلقہ اداروں دونوں کے لیے رہنمائی فراہم کر سکتی ہے۔
جمہوری نظام کی مضبوطی کا تقاضا یہی ہے کہ انتخابی قوانین اور انتظامی اقدامات میں مکمل ہم آہنگی ہو، شہریوں کو کسی قسم کے غیر ضروری ابہام کا سامنا نہ کرنا پڑے اور ہر نئی انتظامی یا قانونی تبدیلی واضح بنیاد کے ساتھ نافذ کی جائے۔ انتخابی عمل میں شفافیت صرف ووٹنگ کے دن نہیں بلکہ ووٹر کے اندراج کے پہلے مرحلے سے ہی شروع ہوتی ہے۔ اگر ابتدائی مرحلے میں طریقۂ کار اور قانونی حیثیت کے بارے میں وضاحت موجود ہو تو اس سے پورے انتخابی نظام پر عوامی اعتماد مزید مستحکم ہوتا ہے۔
اسی لیے آن لائن فارم ۶ میں اقرار نامہ کی شمولیت، حذف شدہ رائے دہندگان کے دوبارہ اندراج کا طریقۂ کار، آف لائین فارم اور آن لائین فارم کے درمیان یکسانیت جیسے موضوعات پر وضاحت انتخابی انتظامیہ، شہریوں اور دیگر متعلقہ فریقوں کے لیے یکساں طور پر مفید ثابت ہو سکتی ہے۔بالآخر یہ معاملہ کسی ایک فارم یا ایک اضافی خانے تک محدود نہیں بلکہ اس بنیادی اصول سے متعلق ہے کہ جمہوری نظام میں شہری کے حقِ رائے دہی سے متعلق ہر نئی انتظامی یا قانونی پیش رفت واضح قانونی اختیار، شفاف طریقۂ کار اور یکساں نفاذ کے اصول کے مطابق متعارف کرائی جائے۔ یہی اصول قانون کی حکمرانی، ادارہ جاتی ہم آہنگی اور مضبوط جمہوری نظام کے لیے معاون ثابت ہوتے ہیں۔