سپریم کورٹ میں حالیہ سماعت کے دوران سامنے آنے والا یہ اہم آئینی مشاہدہ کہ "کسی شخص کی شہریت کا تعین کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار نہیں بلکہ کمیشن کا کام صرف ووٹر فہرست کی تیاری اور اس کی نگرانی تک محدود ہے” بظاہر ایک عدالتی ریمارک ہے لیکن اس کی آئینی اہمیت بہت دور رس ہے۔ اس ایک جملے نے ان لاکھوں شہریوں کی بے چینی کو زبان دی ہے جو گزشتہ چند برسوں سے اپنے نام ووٹر فہرستوں سے خارج ہونے کے بعد اس خوف میں مبتلا ہیں کہ کہیں ان کی شہریت بھی مشکوک نہ قرار دے دی جائے۔ اگرچہ یہ مشاہدہ ابھی عدالتی فیصلے کا حصہ نہیں بنا مگر اس نے ایک بنیادی اصول کو پھر سے اجاگر کیا ہے کہ ہندوستانی آئین میں شہریت کا سوال کسی انتظامی فہرست سے نہیں بلکہ قانون کے واضح تقاضوں سے طے ہوتا ہے۔
عملی سطح پر گزشتہ چند برسوں میں ایسی فضا پیدا ہوگئی جس میں ووٹر فہرست سے نام خارج ہونا محض ایک انتخابی مسئلہ نہیں رہا بلکہ بعض اوقات اسے شہریت پر شبہ کی بنیاد کے طور پر بھی دیکھا جانے لگا۔ یہی وہ رجحان ہے جس نے لاکھوں عام شہریوں کو ذہنی اذیت، قانونی پیچیدگیوں اور سرکاری دفاتر کے بے شمار چکروں میں الجھا دیا۔ حالانکہ ووٹر فہرست ایک انتظامی دستاویز ہے جس میں غلطی، تاخیر یا کوتاہی کا امکان ہمیشہ موجود رہتا ہے، لیکن کسی انتظامی غلطی کو کسی شہری کی شناخت اور آئینی حیثیت کے خلاف دلیل بنانا انصاف کے بنیادی اصولوں سے ہم آہنگ نہیں ہو سکتا۔
ملک کے مختلف حصوں میں ووٹر فہرستوں کی خصوصی نظر ثانی کے دوران بڑی تعداد میں نام حذف کیے گئے۔ یقیناً ان میں ایسے افراد بھی شامل ہوں گے جو انتقال کر چکے تھے، مستقل طور پر دوسری جگہ منتقل ہو گئے تھے یا جن کا اندراج تکنیکی وجوہات کی بنا پر درست نہیں تھا۔ لیکن اس حقیقت سے بھی انکار ممکن نہیں کہ ہزاروں بلکہ لاکھوں ایسے زندہ شہری بھی اس عمل کی زد میں آئے جو برسوں سے مسلسل ووٹ ڈالتے رہے تھے مگر اچانک انہیں معلوم ہوا کہ ان کا نام فہرست سے غائب ہے۔ ایسے شہریوں کے لیے یہ محض ایک سرکاری غلطی نہیں بلکہ اپنی شناخت، اپنی آواز اور اپنے آئینی حق کے چھن جانے کا احساس ہے۔ بہار، مغربی بنگال، اتر پردیش اور دہلی سمیت مختلف ریاستوں سے مسلسل ایسی شکایات سامنے آتی رہی ہیں کہ گزشتہ انتخابات میں ووٹ ڈالنے والے شہری تازہ فہرست میں اپنا نام تلاش کرتے ہیں تو وہ موجود نہیں ہوتا۔ اس کے بعد ان کے سامنے لمبا اور پیچیدہ انتظامی عمل آ جاتا ہے جہاں ہر دفتر دوسرے دفتر بھیج دیتا ہے ہر افسر نئی دستاویز طلب کرتا ہے اور ہر مرحلے پر وقت، پیسہ اور ذہنی سکون قربان کرنا پڑتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر ایک اہل شہری نے پہلے ہی کئی انتخابات میں ووٹ دیا ہے تو اچانک اس کے حق رائے دہی پر سوال کیوں کھڑا ہو جاتا ہے؟ جب شہریوں کو یہ یقین ہو کہ ان کی آواز محفوظ ہے، ان کا ووٹ محفوظ ہے اور ان کے بنیادی حقوق محفوظ ہیں، تبھی جمہوری نظام مضبوط ہوتا ہے۔ لیکن اگر لاکھوں افراد کو ہر انتخاب سے پہلے یہ فکر لاحق ہو جائے کہ کہیں ان کا نام ووٹر فہرست سے غائب نہ ہو جائے تو یہ صورتحال نہ صرف انتخابی عمل پر سوال اٹھاتی ہے بلکہ جمہوری اداروں پر عوامی اعتماد کو بھی متاثر کرتی ہے۔
الیکشن کمیشن ایک نہایت اہم آئینی ادارہ ہے۔ اس کی غیر جانبداری، شفافیت اور پیشہ ورانہ دیانت ہی انتخابات کی ساکھ کی بنیاد ہے۔ اسی لیے اس ادارے سے یہ توقع بھی کی جاتی ہے کہ وہ ہر اہل شہری کے حق رائے دہی کا سب سے بڑا محافظ بنے۔ اگر کسی شہری کا نام غلطی سے حذف ہو جائے تو اس کی بحالی کا عمل انتہائی آسان، تیز اور شفاف ہونا چاہیے نہ کہ ایسا دشوار کہ ایک عام آدمی کئی مہینوں تک دفاتر کے چکر لگاتا رہے۔ ووٹر فہرستوں کی درستگی ضروری ہے۔ جعلی اندراجات، ایک سے زیادہ مقامات پر نام درج ہونا یا انتقال کر جانے والے افراد کے نام برقرار رہنا بھی انتخابی شفافیت کے خلاف ہے۔ لیکن اصلاح اور احتیاط کے نام پر ایسے طریقے اختیار نہیں کیے جا سکتے جن سے حقیقی اور اہل شہری ہی سب سے زیادہ متاثر ہوں۔ انتظامی کارکردگی کا معیار یہی ہے کہ غلط اندراج ختم ہوں، مگر صحیح اندراج محفوظ رہیں۔
گزشتہ برسوں میں ایک اور تشویش ناک رجحان بھی دیکھنے میں آیا کہ بعض معاملات میں ووٹر فہرست سے نام حذف ہونے کو دیگر سرکاری کارروائیوں میں بھی غیر ضروری اہمیت دی گئی۔ کہیں سرکاری سہولتوں میں دشواریاں پیدا ہوئیں، کہیں پاسپورٹ سے متعلق مسائل سامنے آئے اور کہیں عام شہریوں کو اپنی شناخت ثابت کرنے کے لیے بار بار دستاویزات پیش کرنی پڑیں۔ اگر سپریم کورٹ خود یہ کہہ رہی ہے کہ ووٹر فہرست اور شہریت دو الگ الگ قانونی معاملات ہیں تو پھر کسی شہری کو صرف ووٹر لسٹ کی بنیاد پر مشکوک سمجھنا آئینی اصولوں سے مطابقت نہیں رکھتا۔ ہندوستان کا آئین ہر شہری کو مساوی حقوق دیتا ہے۔ ان حقوق میں شناخت کا تحفظ، قانون کے سامنے مساوات اور ووٹ دینے کا حق جمہوریت کی بنیاد ہیں۔ ان میں سے کسی ایک حق پر بھی غیر ضروری انتظامی رکاوٹ کھڑی کرنا دراصل آئین کی روح کو کمزور کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سپریم کورٹ کے حالیہ مشاہدے نے اس بحث کو دو بارہ زندہ کر دیا ہے کہ آئینی اداروں کی حدود واضح رہنی چاہییں اور کوئی ادارہ دوسرے ادارے کے اختیارات میں مداخلت نہ کرے۔ عدالت میں سینئر وکیل گوپال شنکر نارائن کی جانب سے اپیلیٹ ٹربیونلوں کی سست رفتاری کا مسئلہ بھی نہایت اہم ہے۔ اگر کسی شہری کو اپنے بنیادی حق کی بحالی کے لیے برسوں انتظار کرنا پڑے تو یہ صرف انتظامی تاخیر نہیں بلکہ انصاف کی روح کے خلاف ہے۔ انصاف کی قدر اسی وقت باقی رہتی ہے جب وہ بروقت ملے۔ اگر ایک شخص پچیس برس بعد یہ ثابت کرے کہ اس کا نام غلطی سے حذف ہوا تھا تو اس عرصے میں وہ جن مشکلات، محرومیوں اور ذہنی اذیت سے گزرا اس کا ازالہ کون کرے گا؟ عدالتی نظام کی ذمہ داری صرف مقدمات نمٹانا نہیں بلکہ آئینی حقوق کا مؤثر تحفظ بھی ہے۔ اسی لیے سپریم کورٹ کے اس مشاہدے کو مستقبل میں ایک واضح اور دوٹوک قانونی اصول کی شکل دینا وقت کی اہم ضرورت محسوس ہوتی ہے، تاکہ ملک بھر کی تمام انتظامی ایجنسیاں اس کی پابند ہوں اور کسی بھی شہری کو ووٹر فہرست سے نام خارج ہونے کی بنیاد پر اپنی شہریت ثابت کرنے کی غیر ضروری آزمائش سے نہ گزرنا پڑے۔
اس وقت ملک میں سیاسی ماحول پہلے ہی خاصا حساس ہے۔ ایسے حالات میں ووٹر فہرستوں سے متعلق ہر اقدام غیر معمولی اہمیت اختیار کر جاتا ہے۔ اگر انتخابی عمل پر عوام کا اعتماد کمزور ہو جائے تو اس کے اثرات صرف ایک انتخاب تک محدود نہیں رہتے بلکہ پورے جمہوری نظام پر مرتب ہوتے ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہر فیصلہ مکمل شفافیت، قانونی احتیاط اور عوامی اعتماد کو سامنے رکھ کر کیا جائے۔ الیکشن کمیشن کو جدید ٹیکنالوجی، ڈیجیٹل تصدیق اور مقامی سطح پر مؤثر جانچ کے ایسے طریقے اختیار کرنے چاہییں جن سے حقیقی ووٹروں کے نام بلاوجہ حذف نہ ہوں۔ اسی طرح اگر کسی غلطی کی نشاندہی ہو جائے تو اس کی اصلاح چند دنوں میں ممکن ہونی چاہیے، نہ کہ مہینوں یا برسوں پر محیط قانونی عمل کے ذریعے۔ حکومت اور الیکشن کمیشن عوامی آگاہی پر خصوصی توجہ دیں۔ بہت سے شہریوں کو یہ معلوم ہی نہیں ہوتا کہ ان کا نام ووٹر فہرست سے خارج ہو چکا ہے، یہاں تک کہ انتخاب کا دن آ جاتا ہے۔ اگر بروقت اطلاع، آسان آن لائن سہولت اور مقامی سطح پر مؤثر مدد فراہم کی جائے تو ہزاروں تنازعات جنم لینے سے پہلے ہی ختم ہو سکتے ہیں۔ سپریم کورٹ کا موجودہ مشاہدہ آئینی اعتبار سے امید کی ایک کرن ضرور ہے، لیکن صرف زبانی ریمارکس ہمیشہ کافی نہیں ہوتے۔ عدالتی تاریخ میں کئی مرتبہ ایسا ہوا ہے کہ زبانی تبصرے بعد میں فیصلے کا حصہ نہیں بن سکے۔ اسی لیے ضروری ہے کہ عدالت اپنے حتمی فیصلے میں واضح طور پر یہ اصول درج کرے کہ ووٹر فہرست سے نام کا حذف ہونا کسی صورت شہریت ختم ہونے یا مشکوک ہونے کی دلیل نہیں بن سکتا۔ اس ایک اصول سے نہ صرف آئندہ کے تنازعات ختم ہوں گے بلکہ انتظامیہ، عوام اور دیگر اداروں کے لیے بھی ایک واضح قانونی رہنمائی موجود ہوگی۔ ایک مضبوط جمہوریت کی پہچان یہ نہیں کہ اس میں صرف انتخابات ہوتے رہیں، بلکہ یہ ہے کہ ہر اہل شہری کو بلا خوف و خطر اپنا حق رائے دہی استعمال کرنے کا پورا موقع ملے، اس کی شناخت محفوظ رہے، اس کے بنیادی حقوق غیر ضروری شبہات کی نذر نہ ہوں اور ریاست کے تمام ادارے اپنی آئینی حدود میں رہتے ہوئے عوام کے اعتماد کو مضبوط کریں۔ اگر ووٹر فہرست ایک انتظامی دستاویز ہے تو اسے انتظامی ہی رہنا چاہیے، اسے کسی شہری کی حب الوطنی، شہریت یا آئینی حیثیت کا پیمانہ نہیں بنایا جا سکتا۔ یہی آئین کا تقاضا ہے، یہی قانون کی بالادستی ہے اور یہی ایک ایسے ہندوستان کی بنیاد ہے جہاں ہر شہری خود کو برابر، محفوظ اور باوقار محسوس کر سکے۔
(مضمون نگار معروف صحافی و تجزیہ نگار ہیں)
iftikharahmadquadri@gmail.com