’فیس بک‘ پوسٹ پر میں آج (23جولائی 2026ء) ایک غمناک خبر مشہور و ممتاز صحافی سہیل انجم صاحب نے دی ہے۔ پہلے آپ اسے ملاحظہ فرمائیں پھر میں اپنی بات پیش کرتا ہوں۔
بزرگ ممبر اسمبلی عالم بدیع اعظمی کا انتقال (سہیل انجم)
از: عبد العزیز
’’نظام آباد اعظم گڑھ سے سماجوادی پارٹی کے رکن اسمبلی جناب عالم بدیع اعظمی کا 22 جولائی کی شب میں گیارہ بجے اعظم گڑھ میں انتقال ہو گیا، انا للہ و انا الیہ راجعون۔ اللہ تعالیٰ ان کی لغزشوں سے درگزر کرے، ان کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام پر فائز کرے اور ان کے پسماندگان کو صبر جمیل کی توفیق بخشے، آمین۔ ہم ان کے اہل خانہ کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔
ان کی نماز جنازہ 23 جولائی کی شام 6 بجے اعظم گڑھ میں ادا کی جائے گی۔ وہ 90 سال کے تھے۔ ان کے چھ بیٹے ہیں۔ ایک بیٹی تھی جس کا پہلے ہی انتقال ہو چکا ہے۔ان کے فرزند دانش عالم نے راقم الحروف کو بتایا کہ وہ دس پندرہ روز قبل میدانتا اسپتال لکھنؤ سے اعظم گڑھ اپنے گھر منتقل ہو گئے تھے۔ ان کو عارضۂ قلب تھا۔ حالیہ مہینوں میں کئی بار ان کی طبیعت ناساز ہوئی اور انھیں اسپتال میں داخل کرایا گیا تھا۔ عالم بدیع اعظمی اترپردیش اسمبلی کے سب سے بزرگ رکن تھے۔ جب وہ مارچ میں 90 سال کے ہوئے تو اسمبلی میں ایک قرارداد منظور کرکے ان کو مبارکباد پیش کی گئی تھی۔ یوپی اسمبلی کی تاریخ میں ایسا یہ پہلا واقعہ تھا۔ وہ 1996ء سے نظام آباد سے رکن اسمبلی منتخب ہوتے رہے ہیں۔ وہ تیرہویں، چودہویں، سولہویں، سترہویں اور اٹھارہویں اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ انھوں نے 2022ء کے اسمبلی انتخابات میں اپنے قریب ترین حریف بی جے پی امیدوار منوج کمار کو 34 ہزار ووٹوں سے شکست دی تھی۔ وہ ایک ایماندار اور مذہبی سیاست داں تھے۔ کتابوں کے مطالعے کے شوقین تھے اور ہندوستان میں مسلم تاریخ پر ان کی گہری نظر تھی۔ ان کا انتقال ملت اسلامیہ کا خسارہ ہے۔ یہ یوپی اسمبلی اور سماجوادی پارٹی کے لیے بھی کسی خسارے سے کم نہیں۔ ‘‘
آج (23جولائی) صبح صبح سہیل انجم صاحب کے پوسٹ سے محترم عالم بدیع اعظمی کے انتقال کی خبر پڑھ کر نہایت افسوس ہوا۔ عالم بدیع صاحب مومنانہ صفات کے حامل تھے۔ مرد مومن اور مرد مجاہد تھے۔ 6، 7بار کے وہ ایم ایل اے رہ چکے تھے۔ ان کا گھر بھی عام آدمی کی طرح تھا اور وہ بھی عام آدمی کی طرح زندگی گزارتے تھے۔ ان کو دیکھ کر کوئی بھی نہیں کہہ سکتا کہ وہ کوئی سیاسی لیڈر یا ایم ایل اے ہیں۔ ملائم سنگھ یادو اپنی حکومت میں انھیں وزیر کا عہدہ سونپنا چاہتے تھے لیکن انھوں نے انکار کردیا تھا۔ اکثر و بیشتر خاکسار کے پاس ان کا فون آتا تھا۔ مرحوم مسلمانوں کی حالت زار کے لئے بہت ہی فکرمند اور پریشان رہتے تھے۔ سوال پر سوال کئے جاتے تھے کہ ہندستانی مسلمانوں کی حالت کیسے بدلے گی جبکہ وہ خود اپنی حالت بدلنے کے لئے تیار نہیں ہیں؟ SIR کے پروسیس سے بھی پریشان تھے۔ خاص طور پر وہ مسلمانوں کے لئے جو غربت اور افلاس کی زندگی گزار رہے ہیں جو روٹی روٹی کے محتاج ہیں۔ جن کے پاس کسی قسم کی سند یا کاغذات نہیں ہیں۔ وہ گھنٹوں باتیں کرنا چاہتے تھے۔ موضوع ان کا ہندستان اور عالم اسلام کا مسلمان ہوتا تھا۔ عالم بدیع مرحوم نہ صرف خاکسار سے حالات پر گفتگو کرتے بلکہ سہیل انجم، معصوم مراد آبادی اور ملک کے دیگر مسلم صحافیوں سے گفتگو کرتے تھے اور سب سے کچھ نہ کچھ سننا اور سنانا چاہتے تھے۔ ان کے صاحبزادے مستجاب عالم سے آج فون پر میں نے گفتگو کی تو انھوں نے بتایا کہ ’’گزشتہ رات تقریباً گیارہ بجے انھوں نے آخری سانس لی، انا للہ و انا الیہ راجعون۔ ایک ایسا ہمدردِ ملت اور غمخوارِ ملت ہم سب سے جدا ہوگیا۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اللہ ان کی مغفرت فرمائے اور جنت میں اعلیٰ مقام عطا کرے اوران کے اہل خاندان اور چاہنے والوں کو صبر جمیل عطا کرے۔