آل انڈیا ملی کونسل کی مجلس عاملہ کا اہم اجلاس نئی دہلی میں منعقد. دستور، جمہوریت، مذہبی آزادی، وقف، یکساں سول کوڈ، مدارس، مساجد، SIR اور تعلیمی چیلنجز پر تفصیلی غور، متعدد اہم قراردادیں منظور
آل انڈیا ملی کونسل کی مجلس عاملہ کا اہم اجلاس نئی دہلی میں منعقد.
دستور، جمہوریت، مذہبی آزادی، وقف، یکساں سول کوڈ، مدارس، مساجد، SIR اور تعلیمی چیلنجز پر تفصیلی غور، متعدد اہم قراردادیں منظور
نئی دہلی، 23؍ جولائی(پریس ریلیز):آل انڈیا ملی کونسل کی مجلس عاملہ کا اہم اجلاس کارگزار صدر حضرت مولانا انیس الرحمن قاسمی کی صدارت میں انسٹی ٹیوٹ آڈیٹوریم، جامعہ نگر، نئی دہلی میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں ملک بھر سے کونسل کے ذمہ داران، مجلس عاملہ کے اراکین، مختلف ریاستوں کے نمائندگان اور شعبہ جات کے ذمہ داران نے شرکت کی۔اجلاس کا آغاز مفتی نادر القاسمی صاحب (نائب صدر، آل انڈیا ملی کونسل صوبہ دہلی) کی تلاوت کلام پاک سے ہوا۔ اس کے بعد صدر آل انڈیا ملی کونسل نئی دہلی جناب ڈاکٹر پرویز میاں نے ملک بھر سے تشریف لانے والے تمام اراکین مجلس عاملہ کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ نازک حالات میں یہ اجلاس غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ باہمی مشاورت، اتحاد اور سنجیدہ غور و فکر کے ذریعے ایسے مؤثر فیصلے سامنے آئیں گے جو ملت اور ملک دونوں کے لیے مفید ثابت ہوں گے۔ جبکہ معاون جنرل سکریٹری جناب سلیمان خان نے ابتدائی گفتگو کرتے ہوئے اجلاس کے اغراض و مقاصد پر روشنی ڈالی اور کہا کہ مجلس عاملہ کا یہ اجلاس ملک و ملت کو درپیش موجودہ حالات کا جائزہ لینے، کونسل کے مختلف شعبہ جات کی کارکردگی کا محاسبہ کرنے اور آئندہ کے لیے مؤثر لائحہؐ عمل طے کرنے کے لیے منعقد کیا گیا ہے۔ سلیمان خان نے اجلاس کی مکمل نظامت کے فرائض بھی انجام دیئے۔مولانا شاہ اجمل فاروق ندوی معاون جنرل سکریٹری آل انڈیا ملی کونسل نے مرحوم ڈاکٹر محمد منظور عالم، مولانا عبد اللہ مغیثی ؒ اور دیگر مرحومین کی خدمات کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے تجویز تعزیت پیش کی، جسے اجلاس نے متفقہ طور پر منظور کیا۔ بعد ازاں حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی، نائب صدر، آل انڈیا ملی کونسل و صدر مسلم پرسنل لاء بورڈ نے افتتاحی خطاب کرتے کہا کہ موجودہ حالات ملت سے اتحاد، بصیرت اور منظم اجتماعی جدوجہد کا تقاضا کرتے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ آئینی، قانونی اور جمہوری دائرے میں رہتے ہوئے مذہبی آزادی، اوقاف، دینی اداروں اور اقلیتی حقوق کے تحفظ کے لیے مؤثر حکمت عملی اختیار کی جائے اور ملی تنظیمیں باہمی تعاون اور اتحاد کے ساتھ اپنے فرائض انجام دیں۔
اس موقع پر کارگزار صدر مولانا انیس الرحمن قاسمی نے اپنا تفصیلی صدارتی خطاب پیش کیا، جس میں انہوں نے کہا کہ آل انڈیا ملی کونسل اس وقت اپنی دو عظیم شخصیات، حضرت ڈاکٹر محمد منظور عالم رحمہ اللہ اور حضرت مولانا عبداللہ مغیثی رحمہ اللہ کی رحلت کے بعد ایک نئے مرحلے میں داخل ہوئی ہے، تاہم افراد کے جانے سے مشن ختم نہیں ہوتے بلکہ ادارے مزید مضبوط عزم کے ساتھ اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ملک میں بڑھتی ہوئی فرقہ وارانہ کشیدگی، آئینی اداروں پر بڑھتے ہوئے سوالات، مذہبی آزادی کو درپیش چیلنجز، اوقاف، مدارس، مساجد، تعلیمی اداروں اور اقلیتی حقوق کے مسائل نہایت سنجیدہ نوعیت اختیار کر چکے ہیں۔ ان حالات میں آل انڈیا ملی کونسل کی ذمہ داری مزید بڑھ گئی ہے کہ وہ آئینی، قانونی، جمہوری اور پرامن ذرائع سے ملت اور ملک دونوں کے مفادات کا تحفظ کرے۔مولانا قاسمی نے اپنے خطاب میں واضح کیا کہ کونسل کی جدوجہد کسی مخصوص جماعت یا طبقہ کے لیے نہیں بلکہ ہر مظلوم، محروم اور انصاف کے طالب شہری کے لیے ہے۔ انہوں نے تنظیمی استحکام، قانونی بیداری، نوجوانوں کی تعلیم، معاشی خود کفالت، میڈیا کی مضبوطی، تحقیق، سیاسی شعور، عوامی رابطہ اور بین المذاہب ہم آہنگی کو مستقبل کی ترجیحات قرار دیا۔
سینئر ایڈووکیٹ اور رکن اساسی ملی کونسل جناب یوسف حا تم مچھالہ نے کہا کہ موجودہ حالات میں سرکاری و عدالتی سطح پر اگر ہمیں اپ ے مفادات کا تحفظ کرنا ہے تو اس کے لئے حقائق پر مبنی معلومات اور ڈیٹا کا جمع کرنا اور اسے منظر عام پر لانا ضروری ہے، تین طلاق کی جنگ میں ہم اس وجہ سے ہار گئے کہ اسلامی نظام اور مسلم معاشرہ میں طلاق سے قبل ہونے والے طویل مصالحتی کوششوں سے متعلق ڈیٹا عوام، سرکار اور عدلیہ کے سامنے پیش کرنے سے قاصر رہے تھے، یہی صورتحال ہر معا۔لہ کی ہے، لہذا ہمیں سب سے پہلے ڈیٹا جمع کرنے کی طرف توجہ دینا چاہئے ۔اجلاس میں یکم جنوری 2026 کو بنگلور میں منعقدہ مجلس عاملہ کی کارروائی کی توثیق کی گئی جبکہ ملی کونسل کی خازن محترمہ پروفیسر حسینہ حاشیہ صاحبہ نے یکم فروری تا 30 جون 2026 کے مالی حسابات پیش کئے جسے عاملہ میں منظور کیا گیا۔ مختلف شعبہ جات کی کارکردگی کی رپورٹیں پیش کی گئیں جن پر اراکین نے تفصیلی تبادلۂ خیال کیا اور متعدد تجاویز منظور کیں۔اجلاس میں ملک کے موجودہ سیاسی، سماجی اور ملی حالات پر تفصیلی غور و خوض کے بعد متعدد اہم قراردادیں متفقہ طور پر منظور کی گئیں۔ قراردادوں میں دستور ہند کی بالادستی، جمہوری اقدار، مذہبی آزادی، ملی اتحاد اور بنیادی حقوق کے تحفظ کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔ اجلاس نے وقف املاک، مساجد، مدارس، مکاتب اور دیگر مذہبی اداروں کے تحفظ کو ملت کا بنیادی مسئلہ قرار دیتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا کہ آئین اور عدالتی اصولوں کی مکمل پاسداری کی جائے۔مجلس عاملہ نے یکساں سول کوڈ (UCC) کے نفاذ کی کوششوں پر گہری تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان جیسے کثیر مذہبی اور کثیر ثقافتی ملک میں مذہبی شخصی قوانین کا تحفظ آئین کی بنیادی روح ہے، لہٰذا اس حساس معاملہ میں یکطرفہ قانون سازی سے گریز کرتے ہوئے وسیع قومی مشاورت اختیار کی جائے۔
اجلاس نے مختلف ریاستوں میں مدارس، مساجد اور اقلیتی اداروں کے خلاف انہدامی کارروائیوں، سروے اور انتظامی اقدامات پر بھی سخت تشویش ظاہر کی اور مطالبہ کیا کہ ہر کارروائی قانون، عدالتی نگرانی اور قدرتی انصاف کے اصولوں کے مطابق انجام دی جائے۔مجلس عاملہ نے انتخابی فہرستوں کی خصوصی نظرثانی (SIR) کے دوران ووٹروں کے نام حذف کیے جانے کی شکایات پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ ہر شہری کے حقِ رائے دہی کا تحفظ یقینی بنایا جائے اور عوام میں انتخابی بیداری مہم چلائی جائے تاکہ کوئی بھی شہری اپنے بنیادی جمہوری حق سے محروم نہ ہو۔اجلاس میں بے بنیاد شبہات کی بنیاد پر مسلم نوجوانوں کی گرفتاری، برسوں تک انڈر ٹرائل قیدیوں کی حیثیت سے جیلوں میں رہنے اور انصاف میں تاخیر پر بھی شدید تشویش ظاہر کی گئی۔ کونسل نے مطالبہ کیا کہ گرفتاری صرف مضبوط شواہد کی بنیاد پر ہو، مقدمات کی جلد سماعت یقینی بنائی جائے اور بے گناہ نوجوانوں کے مستقبل کو تباہ ہونے سے بچایا جائے۔مجلس عاملہ نے تعلیم، تکنیکی مہارت، معاشی خود کفالت، نوجوانوں کی قیادت سازی، میڈیا کی مضبوطی، قانونی بیداری، خواتین کی تعلیم و قیادت، تنظیمی استحکام، عوامی بیداری، آئینی حقوق کے فروغ، قومی یکجہتی اور بین المذاہب مکالمہ کو آئندہ دور کی بنیادی ترجیحات قرار دیا۔ت
نظیمی امور کے سلسلے میں معاون جنرل سکریٹری شیخ نظام الدین نے مختلف ریاستوں میں تنظیمی پیش رفت کی رپورٹ پیش کی۔ اجلاس میں آئندہ مجلس عمومی کے انعقاد، تنظیمی توسیع، خالی نشستوں پر نئے اراکین کے انتخاب اور دیگر انتظامی امور پر بھی اہم فیصلے کیے گئے۔اجلاس کے اختتام پر نائبین صدور حضرت مولانا عبدالعلیم قاسمی بھٹکلی اور ڈاکٹر یاسین علی عثمانی نے اپنے تاثرات پیش کیے اور اس عزم کا اظہار کیا کہ آل انڈیا ملی کونسل آئندہ بھی دستور ہند کے دائرے میں رہتے ہوئے مذہبی آزادی، آئینی حقوق، سماجی انصاف، قومی یکجہتی اور جمہوری اقدار کے تحفظ کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔آخر میں اظہارِ تشکر پیش کیا گیا اور ملک میں امن، بھائی چارہ، عدل و انصاف اور ملت و انسانیت کی فلاح کے لیے خصوصی دعا کی گئی۔ مذکورہ بالا ذمہ داروں کے علاوہ اجلاس میں شرکت کرنے والوں میں جناب قمر عالم، مولانا عبدالمالک مغیثی، مفتی رضوان قاسمی تارا پوری، مولانا آس محمد گلزار قاسمی، ڈاکٹر ظہیر احمد خان،مولانا ڈاکٹر محمد عالم قاسمی، الحاج شہود عالم، قاری محمد شفیق قاسمی، جناب سید برکت اللہ تنویر،، مفتی آصف ندوی، ڈاکٹر عبدالقدیر، ڈاکٹر وکیل احمد رضوی،جناب عاصم سیٹھ افروز، مولانا اشفاق صدیقی، حافظ رشید احمد چودھری، فیروز احمد صدیقی، محمد جنید ندوی، شمس تبریز قاسمی،جناب سید فاروق ڈائیرکٹر ہمالیہ ڈرگس، مفتی عمر عابدین مدنی، محترمہ افسر جہاں صاحبہ,جناب مصدق ایکیری،جناب محد عالم، جناب جاوید رحمانی، جناب منیر احمد، رضوانہ مشتاق، محمد احمد رشادی، فیاض احمد رشادی، محمد امداد الحق، امتیاز احمد قاسمی، محمد توقیر عالم،شعیب رضا فاطمی، جناب الیاس سیفی، جناب رئیس الدین، عبد المبین وغیرہ کے علاوہ عاملہ کے ارکان اور مدعووین خصوصی کی بڑی تعدداد شامل تھی۔