پارلیمنٹ میں امیت شاہ کی خاموشی!

پارلیمنٹ میں امیت شاہ کی خاموشی!

پارلیمنٹ میں امیت شاہ کی خاموشی!

ازقلم: افتخاراحمدقادری

پارلیمنٹ کا مانسون اجلاس اس وقت حکومت اور حزب اختلاف کے درمیان ایک سخت سیاسی و آئینی کشمکش کا میدان بنا ہوا ہے۔ اس اجلاس میں سب سے زیادہ جس شخصیت کی عدم موجودگی اور خاموشی نے توجہ حاصل کی ہے وہ مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ ہیں۔ اپوزیشن کا مسلسل اصرار ہے کہ جنتر منتر پر احتجاج کرنے والے طلبہ کے خلاف مبینہ طاقت کے استعمال، خصوصاً پیلٹ گن کے استعمال کے الزامات پر وزیر داخلہ خود ایوان میں حاضر ہوں اور ملک کے منتخب نمائندوں کو جواب دیں، لیکن کئی دن گزر جانے کے باوجود نہ وزیر داخلہ کی جانب سے کوئی مفصل وضاحت سامنے آئی ہے اور نہ ہی انہوں نے پارلیمنٹ میں اس معاملے پر براہ راست گفتگو کی ہے۔ یہی خاموشی اب ایک سیاسی بحث سے آگے بڑھ کر پارلیمانی جواب دہی اور حکومتی ذمہ داری کے سوال میں تبدیل ہوتی جا رہی ہے۔
ہندوستانی پارلیمانی نظام میں ہر وزیر اپنے محکمے سے متعلق معاملات پر ایوان کے سامنے جواب دہ ہوتا ہے۔ وزارت داخلہ ملک کی داخلی سلامتی، امن و قانون اور پولیس سے متعلق امور کی ذمہ دار وزارت ہے اس لیے اگر ملک کے دارالحکومت میں احتجاج کرنے والے طلبہ کے خلاف طاقت کے استعمال کے الزامات سامنے آئیں تو فطری طور پر نظریں وزیر داخلہ ہی کی جانب اٹھیں گی۔ اپوزیشن کا مطالبہ بھی اسی اصول پر مبنی ہے کہ حکومت کا سب سے ذمہ دار شخص ایوان میں آ کر صورت حال کی وضاحت کرے، سوالات کے جواب دے اور اگر کسی سطح پر غلطی ہوئی ہے تو اس کی تحقیقات اور اصلاح کا یقین دلائے۔
راجیہ سبھا میں کانگریس صدر ملکارجن کھرگے نے اینٹی پیپر لیک بل پر بحث کے دوران وزیر داخلہ امت شاہ سے متعدد سوالات کیے اور سخت لہجے میں کہا کہ اگر وہ ایوان میں آ کر جواب دینے کے لیے تیار نہیں ہیں تو انہیں اپنے منصب پر نظر ثانی کرنی چاہیے۔ ان کا یہ بیان محض سیاسی نعرہ نہیں بلکہ اس اصول کی یاد دہانی تھا کہ پارلیمنٹ میں خاموشی اختیار کرنا کسی بھی وزیر کے لیے موزوں طرز عمل نہیں سمجھا جاتا۔ اسی دوران شیوسینا (ادھو دھڑا) کے رکن سنجے راوت نے بھی طنزیہ انداز اختیار کرتے ہوئے کہا کہ اب تو ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے "لاپتہ وزیر داخلہ” پر فلم بننی چاہیے۔ یہ جملہ اگرچہ سیاسی طنز تھا لیکن اس نے حکومت کے لیے ایک غیر ضروری تاثر ضرور پیدا کیا کہ وہ ایک اہم معاملے پر وضاحت دینے سے گریزاں ہے۔
پارلیمنٹ کے احاطے میں بھی اپوزیشن نے مسلسل احتجاج جاری رکھا۔ مختلف جماعتوں کے ارکان نے ہاتھوں میں پلے کارڈ اٹھا کر سوال کیا کہ وزیر داخلہ پارلیمنٹ سے غائب کیوں ہیں اور طلبہ کے خلاف مبینہ طاقت کے استعمال پر حکومت جواب کیوں نہیں دے رہی۔ اسی احتجاج میں رام مندر کے لیے جمع کیے گئے عطیات سے متعلق مبینہ بے ضابطگیوں کا معاملہ بھی اٹھایا گیا اور حکومت کے خلاف سخت نعرے بازی ہوئی۔ اگرچہ حکومت ان الزامات کو سیاسی قرار دے سکتی ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ پارلیمنٹ میں پیدا ہونے والا سیاسی ماحول کسی بھی حکومت کے لیے آسان نہیں ہوتا، خصوصاً اس وقت جب مسلسل کئی دن تک ایک ہی سوال مختلف انداز میں دہرایا جاتا رہے۔
جنتر منتر پر جاری طلبہ تحریک نے حکومت کے لیے غیر متوقع مشکلات پیدا کر دی ہیں۔ ابتدا میں یہ احتجاج صرف امتحانی بے ضابطگیوں اور نیٹ پیپر لیک کے خلاف تھا لیکن وقت گزرنے کے ساتھ اس نے انتظامی جواب دہی، پولیس کارروائی اور حکومتی طرز عمل جیسے وسیع موضوعات کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ سیاسی اعتبار سے دیکھا جائے تو حکومت نے ابتدا میں اس احتجاج کو محدود مسئلہ سمجھا، مگر جیسے جیسے مختلف سیاسی جماعتیں طلبہ کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے میدان میں آئیں، معاملہ قومی سیاست کا اہم موضوع بنتا گیا۔
سیاسی مبصرین کی ایک بڑی تعداد کا خیال ہے کہ اگر حکومت نے ابتدائی مرحلے میں طلبہ نمائندوں کے ساتھ سنجیدہ مذاکرات کیے ہوتے، ان کے خدشات دور کیے ہوتے اور امتحانی نظام میں شفافیت کے حوالے سے واضح یقین دہانی کرائی ہوتی تو شاید صورت حال اس نہج تک نہ پہنچتی۔ جمہوری حکومتوں کی طاقت صرف انتظامی فیصلوں میں نہیں بلکہ اختلاف رائے کو سننے اور مناسب وقت پر مکالمہ کرنے میں بھی ہوتی ہے۔ جب مکالمے کے دروازے بند ہونے لگتے ہیں تو احتجاج مزید شدت اختیار کر لیتا ہے اور پھر ہر نیا واقعہ پہلے سے زیادہ سیاسی رنگ اختیار کر لیتا ہے۔ اس پورے معاملے میں سب سے زیادہ بحث اس وقت پیدا ہوئی جب حکومت کی جانب سے یہ کہا گیا کہ احتجاج کے دوران گولیاں نہیں چلائی گئیں بلکہ صرف آنسو گیس کا استعمال کیا گیا۔ وزیر مملکت ڈاکٹر جتیندر سنگھ کے اس بیان کے فوراً بعد اپوزیشن نے سوال اٹھایا کہ اگر کسی قسم کی فائرنگ نہیں ہوئی تو پھر متعدد طلبہ کے جسموں پر مبینہ طور پر پیلٹ گن کے نشانات کیسے دیکھے گئے؟ اسی بنیاد پر کانگریس نے ان کے خلاف مراعات شکنی کا نوٹس بھی پیش کیا اور الزام لگایا کہ ایوان کو مکمل حقائق سے آگاہ نہیں کیا گیا۔ یہ معاملہ صرف ایک بیان کی درستگی یا غلطی تک محدود نہیں رہتا بلکہ پارلیمانی روایت سے بھی جڑ جاتا ہے۔ پارلیمنٹ میں کسی وزیر کا بیان سرکاری مؤقف سمجھا جاتا ہے، اس لیے اگر اس پر سنجیدہ اعتراضات سامنے آئیں تو ان کا جواب بھی اسی سنجیدگی کے ساتھ دیا جانا چاہیے۔ اگر حکومت کے پاس ایسے شواہد موجود ہیں جو ان الزامات کی نفی کرتے ہیں تو انہیں ایوان کے سامنے رکھا جانا چاہیے، اور اگر کسی کارروائی میں بے ضابطگی ہوئی ہے تو اس کی غیر جانب دارانہ تحقیقات کا اعلان بھی حکومت کے وقار میں اضافہ ہی کرے گا۔
پارلیمانی جمہوریت کی بنیاد ہی سوال اور جواب کے رشتے پر قائم ہے۔ اپوزیشن کا کردار صرف تنقید کرنا نہیں بلکہ حکومت سے جواب طلب کرنا بھی ہے، جبکہ حکومت کا فرض صرف قانون سازی نہیں بلکہ اپنی ہر انتظامی کارروائی کا جواز پیش کرنا بھی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کی مضبوط جمہوریتوں میں پارلیمنٹ کو احتساب کا سب سے مؤثر ادارہ تصور کیا جاتا ہے۔ اگر سوالات کے جواب دینے کے بجائے خاموشی اختیار کی جائے یا مسلسل غیر حاضری کو حکمت عملی بنایا جائے تو یہ صورت حال حکومت کے لیے سیاسی طور پر زیادہ نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔ ہندوستان کی نوجوان نسل اس وقت روزگار، امتحانات اور تعلیمی نظام کے حوالے سے پہلے ہی شدید بے چینی کا شکار ہے۔ مختلف امتحانات میں بے ضابطگیوں کے الزامات، پیپر لیک کے واقعات اور بھرتیوں میں تاخیر نے نوجوانوں کے اعتماد کو متاثر کیا ہے۔ ایسے ماحول میں اگر احتجاج کرنے والے طلبہ کے خلاف طاقت کے استعمال کی خبریں سامنے آئیں تو عوامی حساسیت مزید بڑھ جاتی ہے۔ حکومت کی ذمہ داری صرف امن برقرار رکھنا نہیں بلکہ نوجوانوں کے اعتماد کو بھی بحال رکھنا ہے۔ حکومت کے بعض حامی حلقے یہ دلیل دیتے ہیں کہ اپوزیشن اس معاملے کو غیر ضروری طور پر سیاسی رنگ دے رہی ہے اور پارلیمنٹ کی کارروائی متاثر کرنا اس کی حکمت عملی ہے۔ یہ رائے اپنی جگہ موجود ہو سکتی ہے، لیکن اس کے باوجود حکومت پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ایوان میں مکمل وضاحت پیش کرے۔ مضبوط حکومتیں سوالات سے نہیں گھبراتیں بلکہ اپنے دلائل، اعداد و شمار اور حقائق کے ذریعے اپنا مؤقف واضح کرتی ہیں۔ یہی انداز جمہوری نظام کو مضبوط بناتا ہے۔
امت شاہ کو عام طور پر ایک سرگرم، مؤثر اور فوری ردعمل دینے والے سیاست دان کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ ماضی میں مختلف قومی معاملات پر وہ متعدد بار خود پارلیمنٹ میں کھڑے ہو کر اپوزیشن کے اعتراضات کا جواب دے چکے ہیں۔ اسی لیے اس بار ان کی خاموشی نے سیاسی حلقوں میں مزید سوالات پیدا کیے ہیں۔ اگر وہ ایوان میں آ کر اپنا مؤقف واضح کرتے، متعلقہ واقعات کی تفصیل بیان کرتے اور حکومت کے اقدامات کی وضاحت کرتے تو شاید اپوزیشن کی تنقید کی شدت بھی کسی حد تک کم ہو جاتی۔ جمہوریت میں خاموشی کبھی بھی مستقل حکمت عملی نہیں بن سکتی۔ وقتی طور پر کسی معاملے پر ردعمل مؤخر کیا جا سکتا ہے، لیکن جب سوالات مسلسل بڑھتے جائیں، پارلیمنٹ کا وقت احتجاج کی نذر ہونے لگے اور عوام کے ذہنوں میں شکوک پیدا ہونے لگیں تو خاموشی خود ایک سیاسی پیغام بن جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس وقت اپوزیشن وزیر داخلہ کی عدم موجودگی کو اپنے سیاسی بیانیے کا اہم حصہ بنا چکی ہے۔ یاد رکھیں کہ پارلیمنٹ صرف حکومت کی اکثریت کا نام نہیں بلکہ پوری قوم کی نمائندگی کا ادارہ ہے۔ وہاں اٹھنے والے سوالات کو محض اپوزیشن کا شور قرار دے کر نظر انداز کرنا مسئلے کا حل نہیں ہو سکتا۔ اگر حکومت کے پاس مضبوط دلائل ہیں تو انہیں ایوان میں پیش کرنا چاہیے کیونکہ جمہوری نظام میں دلیل ہمیشہ خاموشی سے زیادہ مؤثر ہوتی ہے۔ موجودہ صورتحال میں حکومت کے لیے بہترین راستہ یہی معلوم ہوتا ہے کہ وہ پارلیمنٹ میں کھل کر اپنا مؤقف پیش کرے، احتجاج سے متعلق تمام حقائق واضح کرے، اگر ضرورت ہو تو آزادانہ تحقیقات کرائے اور اس بات کا یقین دلائے کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے آئین اور قانون کی حدود میں رہ کر ہی کارروائی کرتے ہیں۔ اس سے نہ صرف اپوزیشن کے اعتراضات کا جواب ملے گا بلکہ عوامی اعتماد بھی مضبوط ہوگا۔ حکومتیں صرف اپنی کامیابیوں سے نہیں بلکہ بحرانوں سے نمٹنے کے انداز سے بھی پہچانی جاتی ہیں۔ اختلاف رائے، احتجاج اور سخت سوالات ہر جمہوری نظام کا لازمی حصہ ہیں۔ ان کا جواب طاقت سے زیادہ دلیل، شفافیت اور جواب دہی کے ذریعے دیا جاتا ہے۔ یہی وہ اصول ہے جس نے دنیا کی بڑی جمہوریتوں کو مضبوط بنایا ہے اور یہی اصول ہندوستانی پارلیمانی نظام کی بھی بنیاد ہے۔ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ سیاسی اختلاف کو جمہوری روایت کے دائرے میں رکھتے ہوئے پارلیمنٹ کو اس کا اصل کردار ادا کرنے دیا جائے۔ اگر عوام کے منتخب نمائندے کسی واقعے پر وضاحت چاہتے ہیں تو حکومت کو اس سے گریز نہیں کرنا چاہیے۔ خاموشی وقتی طور پر سیاسی دباؤ کم کر سکتی ہے، لیکن جمہوری نظام میں سوالات کا مستقل جواب صرف جواب دہی ہی ہو سکتی ہے۔ پارلیمنٹ کے ایوان میں اٹھنے والی آوازیں دراصل عوام کی آواز ہوتی ہیں، اور عوام کی آواز کو سننا اور اس کا جواب دینا ہر منتخب حکومت کی آئینی، اخلاقی اور جمہوری ذمہ داری ہے۔
(مضمون نگار معروف صحافی و تجزیہ نگار ہیں)
iftikharahmadquadri@gmail.com

By Maqsood

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے