بی جے پی کے خوابوں پر مانسون اجلاس میں پانی پھرگیا
ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان
بی جے پی کو پچھلے پارلیمانی اجلاس میں حدبندی کی آئینی ترمیم پر منہ کی کھانی پڑی ۔ اس کے بعد شاہ جی مشن 360 میں جٹ گئے تاکہ کسی طرح اپنے دامن سے وہ داغ دھل سکیں ۔ اس کے لیے ترنمول اور شیوسینا کو توڑا۔ ڈی ایم کے کو ساتھ لینے کی کوشش لیکن کاکروچ جنتا پارٹی کے جلوس اور ایودھیا کی چندہ چوری نے سارے خوابوں پر پانی پھیر دیا ۔ اس کا ثبوت یہ ہے کہ پارلیمنٹ کا مانسون اجلاس شروع ہونے سے ایک روز قبل جب ایوانِ زیریں کے صدر اوم برلا کی صدارت میں بزنس ایڈوائزری کمیٹی کی میٹنگ منعقد ہوئی تو اس میں مانسون اجلاس کے دوران پیش کیے جانے والے بلوں پر لوک سبھا میں بحث کے لیے وقت مختص کیا گیا۔ اس موقع پر یہ انکشاف ہوا کہ جملہ 6 بل پیش کیے جائیں گے۔ان میں غیر ملکی عطیات (ضابطہ) ترمیمی بل 2026، ایف سی آر اے ترمیمی بل، انکم ٹیکس (ترمیمی) بل 2026، سپریم کورٹ (ججوں کی تعداد) ترمیمی بل 2026، پیدائش اور اموات کا اندراج (ترمیمی) بل 2026، قومی اعزاز کی توہین کی روک تھام (ترمیمی) بل 2026 اور مائیکرو، چھوٹی اور درمیانے درجے کی صنعتوں کی ترقی (ترمیمی) بل 2026 کا شمار ہوگا ۔ اس میں خواتین کا ریزرویشن یا حد بندی کی آئینی ترمیم کی غیر موجودگی ثابت کرتی ہے دوتہائی کی منزل ابھی دور ہے۔
ایوان پارلیمان کے اجلاس کی دھماکے دار شروعات کاکروچ پارٹی کے زیر اہتمام ’ایوانِ پارلیمان چلو‘ جلوس سے ہوئی ۔ ایوانِ بالا میں کانگریس کے صدر ملکارجن کھڑگے نے جنتر منتر پر لاٹھی چارج کا معاملہ زور و شور سے اٹھایا۔ انھوں نے کہا کہ یہ طلبا کے مستقبل کا معاملہ ہے۔ ہزاروں بچےپرلاٹھی چارج ہو گیا ہے۔ حکومت طلبا کو مار رہی ہے۔ کھڑگے نے الزام لگایا کہ حکومت انہیں دبانے کی کوشش کر رہی ہے۔ ان کے بیان پر ایوان میں ہنگامہ ہوگیا اس لیے ایوان کی کارروائی کو 12 بجے تک کے لیے ملتوی کرنا پڑا اور پھر دن بھع وہی ہوتا رہا۔ ایک ایسے وقت می جبکہ ں ملک کے لاکھوں نوجوان اپنے مسائل کو لے کر سڑکوں پر اتر ے ہوے ہوں وزیر داخلہ کا ’وندے ماترم‘ کا بل پیش کرنا تعجب خیز تھا یعنی وہی ہندو مسلم کارڈ کھیلنے کی مذموم کوشش ۔ ایوانِ پارلیمان تک جانے پر مُصر نوجوان اب سی جے پی کے رہنماوں کی بات بھی نہیں سن رہے ہیں ۔ ان پر بار بار کیا جانے والا لاٹھی چارج ناکام ہوگیا ہے۔ نوجوانوں کے دل سے سرکار کا ڈر نکل چکا ہے۔ ایسے میں سرکار کی بھلائی اسی میں ہے کہ دھرمیندر پردھان کا استعفیٰ لے کر نوجوانوں کو ٹھنڈا کرے۔ مودی سرکار کو اس کی یہ ہٹ دھرمی مہنگی پڑ سکتی ہے کیونکہ اب چند رہنماوں کو قابو میں کرنے سے کام نہیں چلے گا۔
ایوانِ بالا سے ہٹ کر ایوانِ زیریں میں وزیر اعظم بڑے طمطراق سے تشریف لائے مگر جب حزب اختلاف کے رہنماوں نے رام مندر میں چندہ چوری کے مسئلہ پر اپنی آواز بلند کی اور حکومت سے جوابدہی طے کرنےکا مطالبہ کیا تو نریندر مودی وہاں سے کنی کاٹ کے چل دئیے۔ لوک سبھا میں جیسے ہی سوالات کے وقفہ کی کارروائی شروع ہوئی کچھ اپوزیشن رہنما ویل میں آ گئے اور چندہ چوری معاملہ پر بحث کا مطالبہ کرنے لگے۔ نعرے بازی اور تختیاں لہرائے جانے کی وجہ سے ایوان زیریں میں حالات کشیدہ ہوگئے۔ صدر اجلاس اوم برلا نے حزب اختلاف کے ہنگامہ پر اعتراض کرکے انہیں ایوان کی روایت پر عمل کرنے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ تختیاں لہرانا ایوان کی روایت نہیں ہے۔ اس کے ساتھ وقفہ سوالات چلنے دینے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ سبھی اراکین کو بولنے کا مناسب موقع فراہم کیا جائے گالیکنا اپوزیشن اراکین پر کوئی اثر نہیں ہوا اور ہنگامہ جاری رہا۔ اس سے برہم ہوکر اوم برلا نے اجلاس کی کارروائی دوپہر 12 بجے تک کے لیے ملتوی کرنے کا اعلان کر دیا۔ اس طرح پورے دن میں صرف بارہ منٹ کام ہوسکا ۔
اس موقع کی تصاویر میں وزیر اعظم کا ’ہنستا ہوا ویرانی چہرا‘ دیکھ کر حیرت کے ساتھ غصہ بھی آتا ہے۔ ایوان کے باہر ایک لاکھ سے زیادہ نوجوان ملنے کے لیے آنا چاہتے ہیں ۔ پولیس ان کو لاٹھیوں کے زور سے روک رہی ہے۔ بار بار لاٹھی چارج ہورہا ہے مگر سرکار یا سربراہ کے کان پر جوں نہیں رینگتی۔ رام مندر کا متنازع فیصلہ وہ کرواتے ہیں ۔ سنگ بنیاد رکھنے کی خاطر وہ جاتے ہیں۔ اس کے بعد ہندو مذہبی رہنماوں کے منع کرنے پر بھی انتخابی فائدہ اٹھانے کے لیے ’پران پرتشٹھان‘ کرنےکی جرأت فرماتے ہیں۔ ایودھیا میں شکست کے باوجود پرچم کشائی کے لیے دوڑے دوڑے چلے جاتے ہیں یعنی اس سے سیاسی فائدہ اٹھانے کا کوئی ایک موقع بھی نہیں گنواتے لیکن جب وہاں چندہ چوری کرتے ہوئے ان کے اپنے نامزد کردہ شری رام جنم بھومی تیرتھ کشیتر ٹرسٹ کے لوگ رنگے ہاتھوں پکڑے جاتے ہیں تو انہیں سانپ سونگھ جاتا ہے۔ وقف بل پر لمبی چوڑی ہانکنے والے وزیر داخلہ کے ہونٹوں پر قفل لگ جاتا ہے جیسے ان دونوں کا رام مندر سے کوئی واسطہ ہی نہ ہو۔ ایسے میں یہ معاملہ ایوانِ پارلیمان میں کیوں نہ اٹھایا جائے ؟ سرکار کی سمجھ میں پیار کی زبان نہ آتی ہو تو تختیاں اٹھا کر ہنگامہ کیوں نہ کیا جائے ؟
حکومت کو چاہیے تھا کہ وہ اس کو ایجنڈا میں شامل کرکے باقائدہ بحث کے لیے وقت مختص کرواتی لیکن چونکہ اس کا اپنا دامن داغدار ہے اس لیے وہ کنی کاٹ رہی ہےلیکن رام مندر اب پیچھا نہیں چھوڑے گا۔لوگ کہنے لگے ہیں ’جورام کو لائے ہیں‘ اب ’رام ان کو لے کر جائیں گے‘۔ انہیں جھولا اٹھا کر بن باس پر جانا ہی پڑے گا۔ ووٹ کے چوروں پر چندہ چوری کا الزام ایک ایسے وقت میں لگا جب پارلیمنٹ کی جانب جانے والا نوجوانوں کا احتجاجی جلوس اپنی جگہ جما ہوا ہے۔ اس معاملے میں نفرت اور خوف کی بنیاد پر اقتدار میں آنے والی بی جے پی بری طرح پھنس گئی ہے۔ ان دونوں کا دور سے بھی مسلمانوں اورہ پاکستان سے کوئی واسطہ نہیں بنتا ۔رام مندر میں مسلمان کہیں نہیں ہے الٹا پنکی شرما جیسے لوگوں کے کہنے پرکہ ہندووں کا پیسہ خود ہندو کھاگئے تو اس کے جواب میں رام مندر ٹرسٹ کے خزانچی گووند دیو گری نے اعلان کیا کہ مسلمانوں نے بھی رام مندر میں چندہ دیا۔ ویسے تو یہ ناممکن ہے لیکن اس کے ذریعہ خود خازن نے ہندو مسلم کارڈ کو کمزور کیا ۔ کاکروچ جنتا پارٹی کے احتجاج میں شامل نوجوانوں کوتو ہندو مسلم سے کوئی مطلب نہیں ہے۔
سونم وانگ چک کے ساتھ بھوک ہڑتال پر بیٹھنے والے تین طلبامیں سے ایک مسلمان ہے ۔ اس طرح فرقہ وارانہ کارڈ پوری طرح ناکام ہوگیا ۔ اس حکومت کا دوسرا سب سے بڑا ہتھیار خوف و ہراس ہے لیکن نوجوانوں نے ثابت کردیا کہ وہ سرکار سے نہیں ڈرتے ۔ مودی سرکار نے جب دیکھا کہ مظاہرین کے دل سے اس کا ڈر نکل گیا تو وہ خود ڈر گئی اور اب یہ ایک خوفزدہ حکومت ہے جو ٹرمپ،چین اور راہل گاندھی کے بعد عوام سے بھی ڈرنے لگی ہے۔ اقتدار کے نشے میں دھُت یہ سرکار پچھلے ایک ماہ سے جنتر منتر کے احتجاج پر بالکل بے حس بنی ہوئی تھی لیکن جب اچانک لاکھوں جوان دہلی کی سڑکوں پر پہنچ گئے تو اس کو ہوش آیا ۔ ایوانِ بالا میں بی جے پی کے رہنما نے سی جے پی نمائندوں کو بات چیت کے لیے بلایا مگر کوئی حل نکالے بغیر لوٹا دیا۔ نوجوانوں کو مارپیٹ کر بھگانے کی کوشش کی گئی لیکن وہ منتشر نہیں ہوئے تو انہیں ایوان پارلیمان کے بالکل قریب پولیس تھانے تک آنے دینے کے لیے مجبور ہونا پڑا ۔
اس دوران بھرم پھیلانے کے لیے وزیر داخلہ امیت شاہ نے وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان سے ملاقات نہیں کی ۔ کاش کے وہ سابق نائب صدر مملکت جگدیپ دھنکر کی طرح ان سے استعفیٰ لے کر نوجوانوں کو خوش کردیتے لیکن مغرور لوگوں میں ایسا ظرف کہاں سے آئے گا؟ بی جے پی کو لگتا ہے کہ نوجوانوں کا مطالبہ قبول کرلینے سے ان کی ناک کٹ جائے گی جبکہ حقیقت یہ ہے کہ وہ موجود ہی نہیں ہے۔ یہ لوگ اپنی جس عزت کو بچانے کی کوشش کررہے ہیں وہ کبھی کی خاک مل چکی ہے۔ ان کی خاکی نیکر آگے پیچھے اور دائیں بائیں سے پھٹ چکی ہے۔ کیمرا جب سامنے آتا ہے تو یہ اسے آگے سے چھپاتے ہیں اور پیچھے جاتا ہے تو عقب میں ہاتھ لے جاتے ہیں۔ ایوان پارلیمان کے پہلے ہی دن اس حکومت کو اندر اور باہر ایسی زبردست ذلت و رسوائی کا سامنا کرنا پڑا جس کا انہوں نے تصور بھی نہیں کیا تھا۔ مودی سرکار نے وانگ چُک کو اغوا کرکے لاکھوں نوجوانوں احتجاج میں شامل کیا اور ان پر لاٹھیاں برسا کر اپنا مستقبل تاریک کرلیا ۔ ویسے آج تو پہلا ہی دن ہے یہ اجلاس جیسے جیسے آگے بڑھے گا ان کی حالت قابلِ دید ہوتی چلی جائےگی کیونکہ سپریم کورٹ نے رام مندر پرجعلی کے بجائے اصلی ایس آئی ٹی بنانے کا حکم دے دیا ہے۔ مودی سرکار کی حالتِ زار پر فی الحال یہ شعر صادق آتا ہے؎
ابتدائے عشق ہے روتا ہے کیا
آگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا ؟