محمد علی جوہر یونیورسٹی تنازعہ کے تناظر میں
ہندوستان کی سیاست، بڑھتی ہوئی نفرت اور مسلم اداروں کیخلاف کاروائیاں
ازقلم:محمد عبدالحلیم اطہر سہروردی
صحافی و ادیب،،گلبرگہ
Cell: 8277465374
athar.gul@gmail.com
ہندوستان صدیوں سے مختلف مذاہب، زبانوں، تہذیبوں اور ثقافتوں کا گہوارہ رہا ہے۔ یہاں ہندو، مسلمان، سکھ، عیسائی، بدھ، جین، پارسی اور دیگر مذاہب کے ماننے والے صدیوں سے ایک دوسرے کے ساتھ رہتے آئے ہیں۔ یہی تنوع ہندوستان کی تہذیبی شناخت کی بنیاد ہے۔ آزادی کے بعد دستور سازوں نے اسی تنوع کو ہندوستان کی سب سے بڑی طاقت قرار دیتے ہوئے ایک ایسا آئین تشکیل دیا جس کی بنیاد جمہوریت، سیکولرازم، مساوات، انصاف اور مذہبی آزادی پر رکھی گئی۔ دستور ساز اسمبلی نے اس حقیقت کو تسلیم کیا کہ ایک کثیر مذہبی اور کثیر ثقافتی ملک کی بقا صرف اسی صورت میں ممکن ہے جب تمام شہریوں کو مساوی حقوق حاصل ہوں۔ اسی مقصد کے لیے آئین میں مساوات، مذہبی آزادی، اظہارِ رائے کی آزادی اور اقلیتوں کے تعلیمی حقوق کو بنیادی حقوق کا حصہ بنایا گیا۔ دستورِ ہند کے دیباچے سے لے کر بنیادی حقوق تک ہر جگہ اس حقیقت کو نمایاں کیا گیا کہ ریاست اپنے تمام شہریوں کے ساتھ مذہب، ذات، نسل یا زبان کی بنیاد پر امتیاز نہیں کرے گی۔ہندوستان دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہے، جہاں آئین تمام شہریوں کو مذہبی آزادی، مساوات اور تعلیم کے یکساں مواقع فراہم کرتا ہے۔ تاہم گزشتہ چند برسوں میں ملک کی سیاست میں مذہبی قطبیت، نفرت انگیز بیانیہ اور اقلیتی اداروں کے حوالے سے بڑھتے ہوئے تنازعات نے ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے۔ خاص طور پر مسلم مذہبی وتعلیمی ادارے، جنہوں نے قوم کی علمی و سماجی ترقی میں اہم کردار ادا کیا، اکثر سیاسی مباحث کا حصہ بنے ہیں۔محمد علی جوہر یونیورسٹی رام پور، اتر پردیش بھی انہی اداروں میں شامل ہے، جو حالیہ عرصے میں قانونی، انتظامی اور سیاسی تنازعات کے باعث مسلسل خبروں میں رہی ہے۔محمد علی جوہر یونیورسٹی کا قیام آزادی کے عظیم رہنما مولانا محمد علی جوہر کے نام سے عمل میں آیا۔محمد علی جوہر ہندوستان کی آزادی کی تحریک کے ممتاز رہنماؤں میں شامل تھے۔ وہ صحافی، دانشور، سیاسی رہنما اور تحریکِ خلافت کے اہم قائدین میں شمار کیے جاتے ہیں۔انہوں نے تعلیم، سیاسی شعور اور قومی آزادی کے لیے نمایاں کردار ادا کیا۔ ان کی شخصیت ہندوستانی تاریخ میں علمی بیداری اور سیاسی جدوجہد کی علامت سمجھی جاتی ہے۔اسی نسبت سے محمد علی جوہر یونیورسٹی کی بنیاد سماجوادی پارٹی کے رہنما اعظم خان نے رکھی تھی۔ یہ ادارہ طب، انجینئرنگ، قانون، آرٹس اور دیگر شعبوں میں تعلیم فراہم کرتا ہے۔ہزاروں طلبہ یہاں زیرِ تعلیم رہے ہیں اور اس نے مغربی اتر پردیش میں اعلیٰ تعلیم کے فروغ میں کردار ادا کیا ہے۔حالیہ دنوں میں رام پور ڈیولپمنٹ اتھارٹی نے یونیورسٹی کی متعدد عمارتوں کے خلاف انہدامی کارروائی کا حکم جاری کیا۔ حکام کا مؤقف ہے کہ بیشتر عمارتیں مطلوبہ تعمیراتی منظوری کے بغیر تعمیر کی گئیں، اس لیے کارروائی قانونی تقاضوں کے مطابق کی جا رہی ہے۔دوسری جانب سماجوادی پارٹی، جمعیۃ علماء ہند اور متعدد اپوزیشن رہنماؤں کے علاوہ مذہبی،سماجی و ملی شخصیات نے اس اقدام کو سیاسی انتقام اور تعلیمی ادارے کو نشانہ بنانے سے تعبیر کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر کوئی قانونی بے ضابطگی موجود ہے تو اس کا فیصلہ مکمل عدالتی عمل کے ذریعے ہونا چاہیے، نہ کہ ایسے اقدامات سے جن سے ہزاروں طلبہ اور ان کی تعلیم متاثر ہو۔یہ حقیقت بھی اہم ہے کہ محمد علی جوہر یونیورسٹی اور اس سے متعلق زمین کے معاملات برسوں سے عدالتوں میں زیرِ بحث رہے ہیں۔ مختلف مقدمات میں زمین کے حصول، لیز اور دیگر قانونی امور پر فیصلے سامنے آتے رہے ہیں، جبکہ سپریم کورٹ بھی بعض معاملات میں اپنا فیصلہ دے چکی ہے۔ حکومت اور متعلقہ اداروں کا مؤقف کہ کارروائی قانونی ضابطوں کی بنیاد پر کی جا رہی ہے۔اپوزیشن، سماجی تنظیموں اور بعض دانشوران وناقدین کا مؤقف کہ کارروائی کا وقت اور انداز سیاسی محرکات کی نشاندہی کرتا ہے۔ جمہوری نظام میں اس کا فیصلہ بالآخر آزاد عدلیہ اور قانونی عمل کے ذریعے ہونا چاہیے۔
دنیا کے ہر ترقی یافتہ معاشرے میں تعلیمی اداروں کو قومی سرمایہ سمجھا جاتا ہے۔ جب تعلیمی ادارے سیاسی تنازعات کا مرکز بن جاتے ہیں تو سب سے زیادہ نقصان طلبہ، تحقیق اور علمی ماحول کو پہنچتا ہے۔ہندوستان میں بھی یہی اصول لاگو ہوتا ہے۔ ہندوستانی آئین کا آرٹیکل 29 اور آرٹیکل 30 مذہبی اور لسانی اقلیتوں کو اپنی پسند کے تعلیمی ادارے قائم کرنے اور چلانے کا بنیادی حق دیتا ہے۔ اسی آئینی تحفظ کی بنیاد پر ملک میں متعدد اقلیتی تعلیمی ادارے قائم ہوئے، جنہوں نے لاکھوں طلبہ کو تعلیم فراہم کی۔آئین کا مقصد یہ ہے کہ تعلیم کو سیاسی اختلافات سے بالاتر رکھا جائے اور اقلیتی اداروں کے ساتھ قانون کے مطابق مساوی سلوک کیا جائے۔ ہندوستان میں مسلم تعلیمی اداروں نے صرف مسلمانوں ہی نہیں بلکہ تمام طبقات کے طلبہ کی تعلیم میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی، جامعہ ملیہ اسلامیہ، دارالعلوم دیوبند اور دیگر اداروں نے ملک کو سائنس دان، ڈاکٹر، انجنئیر،جج، بیوروکریٹ، ادیب اور صحافی فراہم کیے ہیں۔علی گڑھ مسلم یونیورسٹی ہندوستان کے نمایاں تعلیمی اداروں میں شمار ہوتی ہے۔ اس کی بنیاد سر سید احمد خان کی تعلیمی تحریک سے جڑی ہوئی ہے۔ 1857 کے بعد سر سید احمد خان نے محسوس کیا کہ ہندوستانی مسلمانوں کی ترقی کے لیے جدید تعلیم، سائنسی علوم اور انگریزی زبان سے واقفیت ضروری ہے۔ اسی مقصد کے تحت 1875 میں محمڈن اینگلو اورینٹل کالج قائم کیا گیا، جو بعد میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی بنا۔اس ادارے نے نہ صرف مسلمانوں بلکہ پورے ہندوستان کے لیے ماہرین تعلیم، سائنس دان، سیاست دان، جج، افسران اور ادیب پیدا کیے۔جامعہ ملیہ اسلامیہ کا قیام 1920 میں عمل میں آیا۔ اس کے قیام کا تعلق آزادی کی تحریک اور قومی تعلیمی شعور سے ہے۔جامعہ نے آزادی کی تحریک کے دوران ایک ایسے تعلیمی ادارے کا کردار ادا کیا جو ہندوستانی اقدار، قومی اتحاد اور جدید تعلیم کے امتزاج پر قائم تھا۔آج جامعہ ملیہ اسلامیہ ہندوستان کے ممتاز مرکزی جامعات میں شامل ہے اور یہاں مختلف مذاہب، علاقوں اور طبقات سے تعلق رکھنے والے طلبہ تعلیم حاصل کرتے ہیں۔دارالعلوم دیوبند: اسلامی علوم، عربی زبان اور دینی تعلیم کا بڑا مرکز۔ندوۃ العلماء لکھنؤ: قدیم و جدید علوم کے امتزاج کی آماجگاہ۔جامعہ اشرفیہ، مبارک پور اور دیگر اداروں کے دینی و علمی خدمات۔ان اداروں کے علاوہ ہزاروں چھوٹے بڑے مدارس اور تعلیمی مراکز بھی ملک میں بنیادی تعلیم، اخلاقی تربیت اور سماجی خدمت کا کام انجام دیتے ہیں۔ان اداروں کا تحفظ دراصل ہندوستان کی علمی اور ثقافتی تنوع کے تحفظ کے مترادف ہے۔یہ ادارے قومی یکجہتی، سماجی ترقی اور تعلیمی فروغ میں اہم کردار ادا کرتے رہے ہیں۔ہندوستان کی تعلیمی تاریخ میں مسلم اداروں کا کردار نہایت اہم رہا ہے۔ یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ مسلمانوں نے مختلف ادوار میں تعلیم، تحقیق، زبان و ادب، سائنس اور سماجی علوم کے فروغ کے لیے متعدد ادارے قائم کیے، جنہوں نے ہندوستان کے علمی منظرنامے کو متاثر کیا۔تعلیم کو ہمیشہ تہذیبوں کی ترقی کا بنیادی ذریعہ سمجھا گیا ہے۔ مسلم مفکرین اور تعلیمی رہنماؤں نے ہمیشہ اس بات پر زور دیا کہ جدید علوم، سائنسی ترقی اور اخلاقی تربیت کے امتزاج سے ہی ایک مضبوط معاشرہ تشکیل پا سکتا ہے۔
ہندوستان کی اصل طاقت اس کی کثرت میں وحدت، آئین کی بالادستی اور تعلیمی ترقی میں مضمر ہے۔ محمد علی جوہر یونیورسٹی کا معاملہ صرف ایک ادارے کا نہیں بلکہ اس وسیع تر سوال کا حصہ ہے کہ کیا تعلیمی اداروں کو سیاسی تنازعات سے محفوظ رکھا جا سکتا ہے؟اگر کسی ادارے میں قانونی بے ضابطگیاں ہوں تو ان کا ازالہ ضرور ہونا چاہیے، لیکن یہ عمل شفاف، غیر جانبدار اور عدالتی نگرانی میں ہونا چاہیے تاکہ انصاف بھی ہوتا ہوا نظر آئے اور ہزاروں طلبہ کا مستقبل بھی غیر ضروری طور پر متاثر نہ ہو۔ ایک جمہوری معاشرے کی کامیابی اسی میں ہے کہ قانون سب پر یکساں نافذ ہو، جبکہ تعلیم اور آئینی حقوق کو سیاسی اختلافات سے بالاتر رکھا جائے۔ایک مضبوط جمہوریت کا تقاضا یہ ہے کہ ہر ادارے کا احتساب قانون کے مطابق ہو۔کارروائی سیاسی وابستگی کے بجائے قانونی شواہد کی بنیاد پر ہو۔عدالتوں کے فیصلوں کا احترام کیا جائے۔تعلیمی اداروں کو حتی الامکان سیاسی کشمکش سے محفوظ رکھا جائے۔آئینی مساوات اور مذہبی آزادی کے اصولوں پر سختی سے عمل کیا جائے۔آزادی کے بعد کئی دہائیوں تک ہندوستانی سیاست میں ترقی، غربت، تعلیم اور معیشت بنیادی انتخابی موضوعات رہے۔ تاہم وقت کے ساتھ مذہبی شناخت اور فرقہ وارانہ مسائل بھی سیاسی مباحث کا حصہ بنتے گئے۔1980 اور 1990 کی دہائی میں رام جنم بھومی تحریک، بابری مسجد کا انہدام، اور اس کے بعد ہونے والے فسادات نے ہندوستانی سیاست پر گہرے منفی اثرات مرتب کیے۔ اس کے بعد مذہبی شناخت انتخابی سیاست میں زیادہ نمایاں ہونے لگی۔یہ بھی حقیقت ہے کہ مختلف سیاسی جماعتوں نے مختلف ادوار میں مذہبی یا سماجی شناخت کو اپنے سیاسی ایجنڈے کا حصہ بنایا۔ اس لیے اس رجحان کا تجزیہ کسی ایک جماعت تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے ہندوستانی سیاست کے وسیع تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔حالیہ برسوں میں بعض سیاسی مبصرین، انسانی حقوق کی تنظیموں اور بین الاقوامی اداروں نے ہندوستان میں مذہبی قطبیت اور نفرت انگیز تقاریر میں اضافے پر تشویش ظاہر کی ہے۔ اس سے عالمی سطح پر ہندوستان کی سیکولر شناخت پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔دوسری طرف حکومت کا مؤقف یہ رہا ہے کہ اس کی تمام کارروائیاں قانون کی حکمرانی، بدعنوانی کے خاتمے اور انتظامی شفافیت کے اصولوں پر مبنی ہیں اور کسی بھی ادارے یا فرد کے خلاف کارروائی مذہب کی بنیاد پر نہیں بلکہ قانون کی بنیاد پر کی جاتی ہے۔جمہوری معاشرے میں یہ اختلافِ رائے فطری ہے، لیکن اس کا فیصلہ سیاسی نعروں سے نہیں بلکہ عدالتوں، آزاد اداروں اور شواہد کی بنیاد پر ہونا چاہیے۔سیاسی مبصرین کے مطابق گزشتہ برسوں میں مذہبی شناخت کو انتخابی سیاست میں زیادہ نمایاں حیثیت حاصل ہوئی ہے۔ انتخابی مہمات، سوشل میڈیا، جلسوں اور بیانات میں مذہبی شناخت کو بار بار موضوع بنایا جاتا ہے، جس کے نتیجے میں مختلف طبقات کے درمیان اعتماد میں کمی محسوس کی جاتی ہے۔یہ رجحان صرف مسلم اداروں تک محدود نہیں بلکہ مختلف سماجی اور تعلیمی ادارے بھی سیاسی کشمکش کا حصہ بنتے رہے ہیں۔اگر سیاسی اختلافات کا رخ تعلیمی اداروں کی طرف ہو جائے تو اس کے کئی منفی نتائج سامنے آ سکتے ہیں:طلبہ کی تعلیم متاثر ہوتی ہے۔سرمایہ کاری اور تحقیقی سرگرمیاں کمزور ہوتی ہیں۔اقلیتوں میں عدم تحفظ کا احساس پیدا ہوتا ہے۔قومی یکجہتی متاثر ہوتی ہے۔آئینی اداروں پر عوامی اعتماد کمزور پڑ سکتا ہے۔بدقسمتی سے گزشتہ ایک دہائی میں ہندوستان کی سیاست میں مذہبی شناخت، اکثریتی قوم پرستی اور فرقہ وارانہ تقسیم کے موضوعات پہلے کی نسبت زیادہ نمایاں ہوئے ہیں۔ متعدد سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ انتخابی سیاست میں مذہبی جذبات کو پہلے سے زیادہ استعمال کیا جا رہا ہے، جبکہ حکومتی حلقوں کا مؤقف ہے کہ ان کی پالیسیاں قانون کی حکمرانی، بدعنوانی کے خاتمے اور یکساں انتظامی عملداری پر مبنی ہیں۔ یہی اختلافِ رائے ہندوستان کی موجودہ سیاسی بحث کا اہم حصہ رہے ہیں۔
محمد علی جوہر یونیورسٹی کا تنازع ہندوستانی جمہوریت کے لیے ایک اہم امتحان بنتا جا رہاہے۔ اگر واقعی تعمیرات میں قانونی خلاف ورزیاں ہیں تو قانون کے مطابق کارروائی ضروری ہے، لیکن اس کارروائی کا انداز ایسا ہونا چاہیے کہ انصاف، شفافیت اور غیر جانب داری پر اعتماد قائم رہے۔محمد علی جوہر یونیورسٹی کا معاملہ جہاں ایک طرف قانون کی عملداری کا سوال ہے اور دوسری طرف اقلیتی اداروں کے تحفظ اور سیاسی غیر جانب داری کا مسئلہ ہے ۔ہندوستان جیسے متنوع ملک میں قومی اتحاد کا انحصار باہمی احترام پر ہے۔ اگر مذہبی تقسیم بڑھتی ہے تو اس کا اثر سماجی ہم آہنگی پر پڑتا ہے۔کئی معروف دانشوروں اور سماجی ماہرین نے اس بات پر زور دیا ہے کہ جمہوریت صرف اکثریت کی حکمرانی کا نام نہیں بلکہ اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کا بھی نام ہے۔ڈاکٹر بی آر امبیڈکر نے آئینی جمہوریت کے بارے میں خبردار کیا تھا کہ اگر سیاسی جمہوریت کے ساتھ سماجی مساوات نہ ہو تو جمہوریت کمزور ہو سکتی ہے۔اسی طرح مہاتما گاندھی کا زور بھی مذہبی رواداری اور باہمی احترام پر تھا۔پنڈت جواہر لعل نہرو نے بھی متعدد مواقع پر کہا کہ ہندوستان کسی ایک مذہب کی ریاست نہیں بلکہ تمام مذاہب کے ماننے والوں کا مشترکہ وطن ہے۔ہندوستانی آئین نے اقلیتوں کے حقوق کو خصوصی تحفظ دیا ہے۔آرٹیکل 14: تمام شہری قانون کے سامنے برابر ہیں۔آرٹیکل 15: مذہب، ذات، نسل، جنس یا جائے پیدائش کی بنیاد پر امتیاز ممنوع ہے۔آرٹیکل 21A: تعلیم کا حق۔آرٹیکل 25: مذہبی آزادی۔آرٹیکل 29: ثقافتی شناخت کا تحفظ۔آرٹیکل 30: اقلیتوں کو اپنے تعلیمی ادارے قائم کرنے اور چلانے کا بنیادی حق۔یہ دفعات صرف مسلمانوں کے لیے نہیں بلکہ تمام مذہبی اور لسانی اقلیتوں کے لیے یکساں طور پر نافذ ہیں۔ہندوستان کی تاریخ گواہ ہے کہ اس ملک نے مختلف مذاہب اور ثقافتوں کو ساتھ لے کر ترقی کی ہے۔ یہاں کی اصل طاقت اس کا تنوع ہے، نہ کہ یکسانیت۔ایک مضبوط ہندوستان وہی ہوگا جہاں،انصاف سب کے لیے برابر ہو،تعلیم کو سیاست سے بلند مقام حاصل ہو،اقلیتیں خود کو محفوظ محسوس کریں،اور اکثریت اپنی ذمہ داری کو سمجھے۔کیونکہ کسی بھی قوم کی عظمت صرف اس کی اکثریت کی طاقت سے نہیں بلکہ اس بات سے پہچانی جاتی ہے کہ وہ اپنی اقلیتوں کے حقوق کا کس قدر احترام کرتی ہے۔حکومت اور سماج دونوں کو چاہیے کہ تعلیمی اداروں کو مضبوط کریں، کیونکہ تعلیم ہی ترقی، امن اور خوشحالی کا راستہ ہے۔اور اس کو تنازعات اور تعصب سے پاک رکھنا اشد ضروری ہے ۔