الیکشن کمیشن کٹہرے میں، استعفیٰ یا جنتر منتر 2؟

الیکشن کمیشن کٹہرے میں، استعفیٰ یا جنتر منتر 2؟

الیکشن کمیشن کٹہرے میں، استعفیٰ یا جنتر منتر 2؟

✍️ افتخاراحمدقادری

الیکشن کمیشن آف انڈیا کے گرد گزشتہ چند ماہ سے جو سیاسی، آئینی اور انتظامی سوالات منڈلا رہے تھے ان میں اب انڈین ایکسپریس کی یکے بعد دیگرے سامنے آنے والی تحقیقی رپورٹس نے ایک نئی شدت پیدا کر دی۔ معاملہ اب حزبِ اختلاف کے سیاسی اعتراضات، پارلیمانی بیانات یا SIR یعنی اسپیشل انٹینسیو ریویژن کی مخالفت تک محدود نہیں رہا بلکہ خود الیکشن کمیشن کے اندرونی فیصلوں، باہمی اختلافات، انتخابی فہرستوں کے انتظام، سافٹ ویئر کے مرکزی کنٹرول اور دو الیکشن کمشنروں کی جانب سے ریکارڈ پر لائے گئے اعتراضات تک جا پہنچا ہے۔ انڈین ایکسپریس کی 23 ستمبر کی تحقیق کے مطابق الیکشن کمشنر سکھبیر سنگھ سندھو اور وویک جوشی نے گزشتہ دس ماہ میں کم از کم 14 مرتبہ ایسے فیصلوں اور اقدامات پر تحریری اعتراضات درج کیے جن کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ وہ ان کی مکمل اطلاع یا منظوری کے بغیر کیے گئے۔ یہ معاملہ اس لیے بھی غیر معمولی اہمیت اختیار کر گیا کہ الیکشن کمیشن کوئی معمولی سرکاری محکمہ نہیں بلکہ ملک کے انتخابی نظام کا آئینی نگہبان ادارہ ہے۔ عوام اپنے ووٹ کے ذریعے اقتدار کے ایوانوں کی تشکیل کرتے ہیں اور الیکشن کمیشن اس پورے عمل کی نگرانی کرتا ہے۔ اگر اسی ادارے کے اندر انتخابی فہرستوں، نئے ووٹروں کے اندراج، ووٹروں کے نام حذف کرنے، ناموں کی بحالی اور انتخابی ڈیٹا کے مرکزی کنٹرول جیسے بنیادی معاملات پر اختلافات تحریری صورت میں سامنے آئیں تو فطری طور پر سوال اٹھیں گے، وضاحتیں طلب کی جائیں گی اور جواب دہی کا تقاضا کیا جائے گا۔ تاہم یہ بھی ملحوظ رہنا چاہیے کہ الیکشن کمیشن نے ان اعتراضات کے وجود یا ان کی تعداد کو مسترد نہیں کیا بلکہ اس کا کہنا ہے کہ مختلف آرا اور داخلی مشاہدات ادارہ جاتی غور وفکر کا معمول کا حصہ ہیں اور گزشتہ دس ماہ کے اہم فیصلے تینوں ارکان کی متفقہ منظوری سے ہوئے۔ اگر سب کچھ معمول کے مطابق تھا تو پھر ان تحریری اعتراضات کی نوعیت کیا تھی؟ اگر دو ارکان نے بار بار اپنے تحفظات ریکارڈ پر لائے تو ان تحفظات کی نوعیت، ان پر ہونے والی کارروائی اور حتمی فیصلوں کا ریکارڈ عوام کے سامنے کیوں نہ آئے؟ یہی وہ مقام ہے جہاں محض سیاسی بیان بازی کے بجائے شفافیت کا سوال جنم لیتا ہے۔ اختلافِ رائے کسی بھی جمہوری ادارے کے لیے بذاتِ خود جرم نہیں، بلکہ اختلافِ رائے ادارہ جاتی صحت کی علامت بھی ہو سکتا ہے لیکن اختلاف اگر مسلسل ہو، تحریری شکل میں ہو، انتخابی فہرستوں اور ووٹر کے حق سے متعلق ہو اور پھر اسی دوران زمینی سطح پر ایسے واقعات سامنے آئیں جن میں اہل ووٹروں کے نام حتمی فہرست میں شامل نہ ہو سکیں تو معاملے کی مکمل وضاحت بہرحال ضروری ہو جاتی ہے۔ انڈین ایکسپریس کی دوسری تحقیق نے اسی سوال کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ گوا میں فروری کے دوران ریاستی چیف الیکٹورل افسر کے دفتر نے سات دن میں آٹھ مرتبہ الیکشن کمیشن کو ای میل بھیجے۔ ان مراسلات کے ساتھ 97 ایسے ووٹروں کی فہرست بھی منسلک تھی جنہیں مقامی انتخابی حکام نے سماعت اور جانچ کے بعد اہل قرار دیا تھا اور جن کے نام حتمی انتخابی فہرست میں شامل کیے جانے کی درخواست کی گئی تھی۔ رپورٹ کے مطابق 21 فروری کو حتمی فہرست شائع ہونے کے باوجود یہ 97 نام 20 ستمبر تک فہرست میں شامل نہیں ہوئے تھے۔ یہاں اصل سوال 97 کا عدد نہیں بلکہ اصول کا ہے۔ جمہوریت میں ایک ووٹر کا حق بھی محض عدد نہیں ہوتا۔ اگر ایک شہری قانونی تقاضے پورے کرنے کے بعد انتخابی افسر کے سامنے اہل قرار پاتا ہے، مگر مرکزی سافٹ ویئر یا انتظامی نظام اس فیصلے کو حتمی فہرست میں درج ہونے سے روک دیتا ہے تو پھر یہ سوال اٹھنا لازمی ہے کہ فیصلہ کرنے کا اصل اختیار کس کے پاس ہے؟ زمینی سطح پر موجود انتخابی افسر کے پاس یا دہلی میں بیٹھے مرکزی نظام کے پاس؟ اگر مقامی قانونی اتھارٹی اور مرکزی تکنیکی نظام کے درمیان تضاد پیدا ہو جائے تو کس کی بالادستی ہوگی؟ اور اگر سافٹ ویئر کسی اہل ووٹر کا نام شامل کرنے سے قاصر ہو تو اس کی اصلاح کی ذمہ داری کس پر عائد ہوگی؟ یہی وہ سوال ہے جس نے الیکشن کمیشن کی مرکزیت پر بحث کو جنم دیا ہے۔ انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق دونوں الیکشن کمشنروں نے انتخابی ڈیٹا اور سافٹ ویئر تک رسائی کے بتدریج مرکزی ارتکاز پر بھی اعتراضات اٹھائے اور اس امر پر تشویش ظاہر کی کہ ریاستی سطح کے انتخابی افسران کے اختیارات تکنیکی نظام کے باعث محدود ہو سکتے ہیں۔ گوا کا واقعہ اسی تشویش کا عملی نمونہ قرار دیا گیا اگرچہ اس معاملے کی مکمل انتظامی و قانونی ذمہ داری کا حتمی تعین الگ تحقیق اور متعلقہ اداروں کی وضاحت کا متقاضی ہے۔
ادھر SIR کے خلاف حزبِ اختلاف پہلے ہی شدید اعتراضات کا اظہار کرتی رہی ہے۔ اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے اسے ووٹروں کے نام حذف کرنے کا ذریعہ قرار دینے جیسے الزامات بھی عائد کیے گئے ہیں، جبکہ الیکشن کمیشن ان اعتراضات کو مسترد کرتے ہوئے اپنے انتخابی فہرست کے عمل کا دفاع کرتا رہا ہے۔ اس پورے تنازعے میں ایک بنیادی حقیقت بہرحال نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ انتخابی فہرست محض کاغذی دستاویز نہیں، بلکہ شہری کی جمہوری شرکت کا دروازہ ہے۔ جس شہری کا نام فہرست میں نہیں، اس کے پاس خواہ کتنے ہی سیاسی خیالات اور آئینی حقوق کیوں نہ ہوں، انتخابی عمل میں اس کی شرکت عملی طور پر رک سکتی ہے۔ اسی لیے انتخابی فہرست کی تیاری میں ہر انتظامی غلطی محض دفتری کوتاہی نہیں رہتی بلکہ اس کے اثرات براہِ راست جمہوری حق تک پہنچتے ہیں۔
اب منظرنامہ مزید تبدیل ہو چکا ہے۔ کوکروچ جنتا پارٹی یعنی CJP کے سربراہ ابھجیت دیپکے نے 24 ستمبر کو نئی دہلی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے چیف الیکشن کمشنر گیا نیش کمار سے 48 گھنٹوں کے اندر استعفیٰ دینے کا مطالبہ کیا اور بصورتِ دیگر ملک گیر احتجاج اور ’’جنتر منتر 2.0‘‘ شروع کرنے کی وارننگ دی۔ پارٹی نے آنے والے اسمبلی انتخابات کو عارضی طور پر روکنے اور SIR کو سابقہ حیثیت پر واپس لے جانے کا مطالبہ بھی کیا۔ دیپکے کی جانب سے جو الزامات عائد کیے گئے ان میں یہ دعویٰ بھی شامل تھا کہ انتخابی نظام میں عوام کے ووٹ کے حق پر سوال پیدا ہو رہا ہے اور حکومت کے انتخاب کے بجائے یہ طے ہونے کا خدشہ پیدا ہو رہا ہے کہ کون ووٹ دے سکے گا اور کون نہیں۔ یہ الزامات CJP کے سیاسی مؤقف ہیں، انہیں ثابت شدہ حقائق کے طور پر پیش کرنا درست نہیں ہوگا لیکن ان کا سیاسی وزن اس لیے بڑھ گیا ہے کہ عین اسی وقت الیکشن کمیشن کے اندرونی معاملات سے متعلق تحقیقی رپورٹیں منظرعام پر آئی ہیں۔ یوں ایک طرف سیاسی جماعتیں سوال اٹھا رہی ہیں اور دوسری طرف ادارے کے اندر سے سامنے آنے والی دستاویزات ان سوالات کو ایک نئے تناظر میں رکھ رہی ہیں۔ اسی دوران ترنمول کانگریس کی رکن پارلیمنٹ مہوا موئترا نے بھی 24 ستمبر کو دہلی کے پارلیمنٹ اسٹریٹ پولیس اسٹیشن میں چیف الیکشن کمشنر گیا نیش کمار کے خلاف شکایت درج کرائی۔ ان کی شکایت میں انتخابی فہرستوں اور SIR کے انتظام سے متعلق سنگین الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ یہ الزامات بھی فی الحال شکایت کنندہ کا مؤقف ہیں اور ان کی قانونی حیثیت کا تعین متعلقہ تفتیش یا عدالتی کارروائی کے ذریعے ہی ہو سکتا ہے۔
دوسری طرف کانگریس اور دیگر اپوزیشن جماعتوں نے بھی انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے بعد چیف الیکشن کمشنر کے خلاف اپنے حملے تیز کر دیے ہیں۔ بعض اپوزیشن رہنماؤں نے استعفیٰ، بعض نے برطرفی اور بعض نے مواخذے کی کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ 24 ستمبر کو ایسی اطلاعات بھی سامنے آئیں کہ اپوزیشن جماعتیں گیا نیش کمار کے خلاف مواخذے کی تحریک لانے کی تیاری کر رہی ہیں۔ یہاں ایک نہایت اہم پہلو یہ ہے کہ سیاسی الزامات اور دستاویزی اعتراضات کو ایک ہی ترازو میں نہیں تولا جا سکتا۔ سیاسی جماعتیں اپنے مفادات اور سیاسی مؤقف کے مطابق زبان استعمال کرتی ہیں مگر کسی آئینی ادارے کے اندر درج تحریری اعتراضات ایک الگ نوعیت کی چیز ہیں۔ اسی لیے اصل توجہ اس امر پر ہونی چاہیے کہ سکھبیر سنگھ سندھو اور وویک جوشی نے کن مخصوص معاملات پر اعتراض کیا، ان اعتراضات کے جواب میں کیا کارروائی ہوئی، کون سے فیصلے حتمی طور پر نافذ ہوئے اور ان کے نتیجے میں شہریوں کے حقوق پر کیا اثر پڑا۔ انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق ان اعتراضات میں نئے ووٹروں کے لیے Form-6 میں تبدیلی، انتخابی فہرستوں کے ڈیٹا تک رسائی، ووٹروں کے نام حذف اور بحال کرنے کا طریقۂ کار، مغربی بنگال میں بعض اپیلوں کا معاملہ اور انتخابی سافٹ ویئر کے مرکزی کنٹرول جیسے موضوعات شامل تھے۔ Form-6 کا معاملہ بھی کم اہم نہیں۔ نئے ووٹر کے اندراج کے لیے استعمال ہونے والے اس فارم میں SIR سے متعلق ایک نیا سوال شامل کیے جانے پر دونوں الیکشن کمشنروں نے اعتراض کیا۔ انڈین ایکسپریس کے مطابق وویک جوشی نے فائل پر یہ مؤقف درج کیا کہ قواعد میں حکومتی ترمیم کے بغیر فارم کو اس انداز میں تبدیل نہیں کیا جا سکتا، جبکہ سکھبیر سنگھ سندھو نے بعد میں اسے ’’غیر مجاز‘‘ اور ’’غیر قانونی‘‘ قرار دیتے ہوئے فوری طور پر ہٹانے کا مطالبہ کیا۔ اگر کسی قانونی فارم میں ایسی تبدیلی کی جائے جس کے نتیجے میں پہلی مرتبہ ووٹر بننے والا شہری اضافی شرائط یا پیچیدہ سوالات کے حصار میں آجائے تو اس کے قانونی جواز اور انتظامی ضرورت کی وضاحت ناگزیر ہے۔ یہ سوال کسی ایک جماعت کا نہیں بلکہ ہر شہری کا ہے کہ ووٹر بننے کے آئینی عمل میں جو بھی تبدیلی کی جائے، وہ واضح قانونی بنیاد، یکساں طریقہ کار اور شفاف انتظامی نگرانی کے ساتھ کی جائے۔ پھر ایک اور مسئلہ مغربی بنگال میں سامنے آیا جہاں انتخابی فہرست سے متعلق اپیلوں کے طریقہ کار پر بھی اعتراضات کی اطلاع سامنے آئی۔ انڈین ایکسپریس کے مطابق سکھبیر سنگھ سندھو نے یہ سوال اٹھایا کہ بعض اپیلیں الیکشن کمیشن کی جانب سے کس اختیار کے تحت اور کس کے ذریعے دائر کی گئیں۔ یہ تمام واقعات مل کر ایک ایسے ادارہ جاتی سوال کو جنم دیتے ہیں جسے محض ’’اپوزیشن کا شور‘‘ کہہ کر ختم نہیں کیا جا سکتا۔ اسی طرح اسے محض ’’الیکشن کمیشن میں بغاوت‘‘ قرار دینا بھی شاید مسئلے کی پوری تصویر نہیں۔ خود الیکشن کمیشن کا مؤقف ہے کہ اندرونی اختلافات فیصلہ سازی کے معمول کا حصہ ہیں اور تمام حتمی فیصلے متفقہ طور پر کیے گئے۔ 24 ستمبر کو سامنے آنے والی رپورٹ کے مطابق کمیشن نے 14 داخلی اعتراضات کے وجود کو رد نہیں کیا بلکہ یہ مؤقف اختیار کیا کہ انفرادی داخلی نوٹسوں کو پورے ادارہ جاتی فیصلوں کے تناظر سے الگ کر کے دیکھنا تصویر کا صرف ایک حصہ پیش کرتا ہے۔ یہ وضاحت اپنی جگہ اہم ہے اور اسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ مگر اسی کے ساتھ یہ سوال بھی اپنی جگہ برقرار ہے کہ اگر اختلافات معمول کا حصہ ہیں تو ان اختلافات سے متعلق دستاویزات، فیصلوں کی حتمی بنیاد اور عوامی مفاد پر ان کے اثرات کو زیادہ شفاف انداز میں سامنے لانے میں کیا قباحت ہے؟ ادارہ جتنا زیادہ طاقتور اور آئینی اعتبار سے حساس ہو، اس سے جواب دہی کا معیار بھی اتنا ہی بلند ہونا چاہیے۔
یہاں حکومت کا کردار بھی بحث سے باہر نہیں رہ سکتا اگرچہ کسی مخصوص غیر قانونی کارروائی کو حکومت کی ہدایت قرار دینے کے لیے محض سیاسی الزامات کافی نہیں۔ بعض اپوزیشن رہنماؤں نے چیف الیکشن کمشنر کے تقرر اور ان کے فیصلوں کو مرکزی حکومت سے جوڑ کر سوالات اٹھائے ہیں، جبکہ حکومت اور بی جے پی کی جانب سے الیکشن کمیشن کا دفاع کیا گیا ہے۔ بی جے پی کے ترجمان سمبت پاترا نے داخلی اختلافات کو جمہوری ادارہ جاتی عمل کا حصہ قرار دیتے ہوئے اپوزیشن کے الزامات کو مسترد کیا، جبکہ الیکشن کمیشن نے بھی اپنے تمام اہم فیصلوں کو متفقہ قرار دیا۔ لہٰذا یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ الیکشن کمیشن کے کسی فیصلے کے پیچھے لازماً حکومت کی ہدایت تھی یا کسی خاص سیاسی جماعت کو فایدہ پہنچانے کی نیت موجود تھی۔ ایسے دعووں کے لیے ٹھوس دستاویز، قانونی ثبوت یا باقاعدہ عدالتی و تحقیقاتی نتیجہ درکار ہوگا۔ مگر یہ سوال ضرور جائز ہے کہ اگر مستقبل میں کسی فیصلہ سازی کو قانونی طور پر چیلنج کیا جاتا ہے اور عدالت یا مجاز ادارہ اسے غیر قانونی قرار دیتا ہے تو پھر ذمہ داری کا تعین کیسے ہوگا؟ یہی وہ سوال ہے جو آج کے سیاسی ہنگامے کو محض ایک عارضی تنازع سے بڑھا کر آئینی بحث میں تبدیل کر سکتا ہے۔ گوا کے 97 ووٹروں کا معاملہ اس بحث کو مزید انسانی اور عملی شکل دیتا ہے۔ انڈین ایکسپریس کے مطابق مقامی انتخابی حکام نے ان ووٹروں کو اہل قرار دیا تھا مگر حتمی فہرست میں ان کے نام شامل نہ ہو سکے۔ اگر یہ صورت حال واقعی مرکزی سافٹ ویئر کی تکنیکی یا انتظامی رکاوٹ سے پیدا ہوئی تو پھر سوال یہ ہے کہ آئینی حق کو کسی تکنیکی نظام کا تابع کیوں ہونا چاہیے؟ سافٹ ویئر انسان کے لیے بنایا جاتا ہے، انسان سافٹ ویئر کے لیے نہیں۔ انتخابی نظام میں ٹیکنالوجی سہولت کا ذریعہ ہو سکتی ہے حتمی اختیار کا ایسا حصار نہیں جس کے سامنے قانونی طور پر مجاز افسر کا فیصلہ بھی بے اثر ہو جائے۔ یہ بھی قابلِ ذکر ہے کہ الیکشن کمیشن نے 2 ستمبر کو گوا میں بوتھ لیول افسران سے خطاب کرتے ہوئے انہیں انتخابی فہرست اور جمہوری نظام کا بنیادی ستون قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ انتخابی فہرستوں کی تیاری آئین، قانون اور کمیشن کی ہدایات کے مطابق ہوتی ہے۔ اس بیان کی روشنی میں گوا کے واقعے کی مکمل وضاحت اور بھی اہم ہو جاتی ہے کیونکہ اگر زمینی سطح پر کام کرنے والے افسران کسی شہری کو اہل قرار دیتے ہیں تو مرکزی نظام میں اس فیصلے کے نفاذ کا واضح اور قابلِ احتساب راستہ بھی موجود ہونا چاہیے۔ اب اصل سوال ’’استعفیٰ یا جنتر منتر 2‘‘ سے آگے بڑھ چکا ہے۔ سوال یہ ہے کہ آئینی ادارے کی ساکھ کیسے بحال ہوگی؟ اگر چیف الیکشن کمشنر استعفیٰ دے دیتے ہیں تو کیا تمام انتظامی سوالات ختم ہو جائیں گے؟ ہرگز نہیں۔ اور اگر وہ استعفیٰ نہیں دیتے تو کیا احتجاج سے مسئلہ حل ہو جائے گا؟ یہ بھی یقینی نہیں۔ اصل مسئلہ ان دستاویزات، فیصلوں، اعتراضات، انتخابی فہرستوں اور انتظامی طریقہ کار کی غیر جانب دارانہ جانچ ہے جن پر تنازع کھڑا ہوا ہے۔
جنتر منتر پر احتجاج جمہوری حق ہے مگر احتجاج کسی معاملے کا قانونی فیصلہ نہیں ہوتا۔ اسی طرح استعفیٰ کا مطالبہ سیاسی عمل کا حصہ ہے، مگر استعفیٰ بذاتِ خود کسی الزام کو ثابت نہیں کرتا۔ اگر واقعی کہیں غیر قانونی اقدام ہوا ہے تو اس کی شناخت، ذمہ داری اور قانونی نتیجہ باقاعدہ طریقے سے سامنے آنا چاہیے۔ اگر اعتراضات محض معمول کی داخلی بحث تھے تو پھر الیکشن کمیشن کو اس کی تفصیلی وضاحت بھی اسی قوت سے کرنی چاہیے جس قوت سے وہ اپنے فیصلوں کا دفاع کرتا ہے۔ جمہوریت میں سب سے قیمتی چیز صرف حکومت بنانے کا حق نہیں بلکہ ووٹ دینے والے شہری کا اعتماد ہے۔ انتخابی فہرست میں ایک نام کا اندراج بھی اعتماد کا حصہ ہے اور ایک نام کا اخراج بھی۔ اگر شہری کو یہ یقین نہ رہے کہ اس کا نام قانونی طریقے سے فہرست میں موجود رہے گا، اس کی درخواست منصفانہ طریقے سے سنی جائے گی اور مقامی انتخابی افسر کا فیصلہ تکنیکی یا غیر واضح انتظامی رکاوٹ سے بے معنی نہیں ہوگا تو پھر مسئلہ صرف انتخابی فہرست کا نہیں رہتا، پورے جمہوری نظام کی ساکھ کا مسئلہ بن جاتا ہے۔
اس لیے آج ضرورت نہ نعروں کی کثرت کی ہے، نہ سیاسی اشتعال کی، نہ الزام تراشی کی۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ الیکشن کمیشن ان 14 اعتراضات کا تفصیلی جواب دے، Form-6 میں تبدیلی کی قانونی بنیاد واضح کرے، انتخابی ڈیٹا کے مرکزی کنٹرول سے متعلق تحفظات کا ازالہ کرے، گوا کے 97 ووٹروں کے معاملے کی مکمل انتظامی تفصیل سامنے لائے اور یہ بتائے کہ جن شہریوں کو مقامی سطح پر اہل قرار دیا گیا، ان کے نام حتمی فہرست میں کیوں شامل نہ ہو سکے۔ اسی طرح اپوزیشن جماعتوں سے بھی یہ تقاضا ہونا چاہیے کہ وہ اپنے الزامات کو سیاسی خطابت سے آگے لے جا کر قابلِ تصدیق شواہد کے ساتھ پیش کریں۔ کیونکہ اگر الزام درست ہے تو ثبوت اسے مضبوط کرے گا اور اگر الزام درست نہیں تو شفاف تحقیقات اسے بے بنیاد ثابت کر دیں گی۔ دونوں صورتوں میں جمہوریت ہی مضبوط ہوگی۔ اب معاملہ صرف گیا نیش کمار کے استعفے کا نہیں۔ معاملہ یہ ہے کہ الیکشن کمیشن اپنے بارے میں اٹھنے والے سوالات کا جواب کس انداز میں دیتا ہے۔ معاملہ یہ ہے کہ دو الیکشن کمشنروں کے تحریری اعتراضات کو محض داخلی کارروائی کہہ کر فائلوں کے قبرستان میں دفن کر دیا جاتا ہے یا ان کے ہر نکتے کی وضاحت سامنے آتی ہے۔ معاملہ یہ ہے کہ گوا کے 97 ووٹروں کے نام دو بارہ انتخابی فہرست میں شامل ہوتے ہیں یا ان کی محرومی کی مکمل ذمہ داری طے کی جاتی ہے۔ معاملہ یہ ہے کہ SIR کے بارے میں اٹھنے والے سوالات کا جواب سیاسی مناظرے سے دیا جاتا ہے یا دستاویزی شفافیت سے۔ اور شاید سب سے بڑا سوال یہی ہے کہ اگر ایک آئینی ادارہ عوام کے ووٹ کی حفاظت کا ذمہ دار ہے تو اس ادارے کے اندر سے اٹھنے والی ہر تشویش کا جواب بھی عوام کے سامنے ہونا چاہیے۔ کیونکہ انتخابات صرف حکومتیں نہیں بناتے، وہ ریاستی اداروں پر عوام کے اعتماد کی تجدید بھی کرتے ہیں۔ چنانچہ آج کی اصل سرخی محض یہ نہیں کہ ’’استعفیٰ ہوگا یا جنتر منتر 2؟‘‘ اصل سرخی تو یہ ہے کہ الیکشن کمیشن کے اندر اٹھنے والے سوالات کا جواب کون دے گا؟ اگر جواب دستاویزات، قانون اور شفاف تحقیقات کی صورت میں آتا ہے تو سیاسی طوفان کی شدت خود بخود کم ہو سکتی ہے؛ لیکن اگر سوالات مسلسل بڑھتے رہے، اعتراضات کی وضاحت نہ ہوئی، انتخابی فہرستوں سے متعلق شکایات کا ازالہ نہ ہوا اور گوا جیسے واقعات پر تسلی بخش جواب سامنے نہ آیا تو پھر تنازع کسی ایک شخصیت کی ذات سے آگے بڑھ کر پورے انتخابی نظام کی ساکھ کا سوال بن سکتا ہے اور یہی وہ مقام ہے جہاں ’’جنتر منتر 2‘‘ کا نعرہ بھی ثانوی ہوجاتا ہے اور ’’استعفیٰ‘‘ کا مطالبہ بھی۔ اصل امتحان اس آئینی ادارے کا ہے جس کے پاس عوام کے ووٹ کی حفاظت کی ذمہ داری ہے۔ اگر وہ اس امتحان میں شفافیت، قانون، جواب دہی اور غیر جانب داری کے معیار پر پورا اترتا ہے تو شور خواہ کتنا ہی بلند ہو، ادارہ مضبوط رہے گا اور اگر سوالات کا جواب نہ ملا تو پھر آج کا سیاسی ہنگامہ کل کے بڑے آئینی بحران کی تمہید بن سکتا ہے۔
*مضمون نگار معروف صحافی و تجزیہ نگار ہیں
iftikharahmadquadri@gmail.com

By Maqsood

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے