فی الحال پورے ملک میں چیف الیکشن کمشنرگیانیش کمار پر ووٹ چوری سے لے کر ملک کی غداری تک کے الزامات لگ رہے ہیں ۔ ان کی گرفتاری کا مطالبہ زور شور کے ساتھ کیا جارہا ہےمگر دماغی پیدل مرکزی حکومت ا ن کے خلاف مظاہرہ کرنے والوں کو حراست میں لے رہی ہے۔ جنتر منتر کو احتجاج و مظاہرے کے لیے مختص کیا گیا ہے مگر جیسے ہی دہلی کے شہریوں کی ایک تنظیم نے وہاں گیانیش کمار کی گرفتاری کے لیے احتجاج کرنے کا اعلان کیا حکومت نے دفع 144؍ نافذ کرکے چار سے زیادہ لوگوں کے جمع ہونے پر پابندی لگا دی ۔ اس سے ثابت ہوگیا کہ گیانیش کمار مودی سرکار کا ایک مہرہ ہے اور اس کو بچانے کی خاطر حکومت نے جنتر منتر کو چہار جانب سے گھیر کر بند کردیا اور وہاں پہنچنے والوں کو گرفتار کرلیا۔ سوال یہ ہے ابھیجیت دیپکے کو ہوائی اڈے پر جاکر اجازت دینے والے آخر ابھی سے کیوں ڈر گئے جبکہ وہ احتجاج تو ایک ہفتہ بعد ہونا ہے؟ 25 ستمبر 2026 کوتو کانگریس، اور دیگر اپوزیشن جماعتوں سمیت آل انڈیا اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن نے انتخابی فہرستوں میں مبینہ دھاندلی کے خلاف جنتر منتر پر جس احتجاجی مظاہرے کا اعلان کیا اسے جابراقتدار نے بزورِ قوت کچل دیا۔
گیانیش کمار کے خلاف احتجاج کو کچلنے کے لیے دہلی پولیس نے اس کے لیے اجازت کے نہ ہونے کا بہانہ بنایا لیکن وہاں اجازت کی ضرورت کیا ہےاوروہ کیوں نہیں دی گئی؟ ویسے بھی یہ احتجاج حکومت یا بی جے پی کے خلاف نہیں تھا مگر چونکہ موجودہ سر کار پارٹی کے بجائے حکومتی اداروں کی کی مدد سے بنتی ہے اور چلتی ہے اس لیے اپنی ناجائز اولاد کا تحفظ بھی ضروری ہے۔ حکو مت اگر ان کی سرپرستی سے ہاتھ کھینچ لے تو آئندہ سرکاری افسران سے غیر آئینی کام کروانا مشکل ہوجائے گا۔ گیانیش کمار کی ڈی ایم بیٹی میدھا روپم کی دھاندلی پر ۵؍ لاکھ جرمانہ کے خلاف حکومت اسی لیے پیروی کررہی ہے۔ جنتر منتر پر حراست میں لیے جانے والوں میں یوگیندر یادو، دیپانکر بھٹاچاریہ، نیہا بورا، اور انجلی بھردواج کے علاوہ معروف یوٹیوبر محمد عرفان بھی شامل تھے ۔ وہاں موجود بے شمار صحافیوں کو چھوڑ کر محمد عرفان کو گرفتار کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ سرکار ان سے بہت زیادہ خوفزدہ ہے۔ مسلمانوں پر قومی مسائل سے الگ تھلگ رہنےکا الزام لگانے والوں کے لیے محمد عرفان کی گرفتاری پر توجہ دینی چاہیے۔
چیف الیکشن کمشنر کادو کمشنروں کی مرضی کے خلاف ووٹر لسٹوں کی خصوصی نظرثانی یعنی(SIR) کرکے تقریباً 13 کروڑ رائے دہندگان کے نام حذف کردینااس احتجاج کی بنیادی وجہ ہے۔ ان کے اعتراضات کو بالائے طاق رکھ کر اپنی من مانی کرتے ہوئے گیانیش کمار نے اپنے آقاوں کی خوشنودی کے لیے یہ دھاندلی کی ۔ انڈین ایکسپریس کے اس انکشاف نے اپوزیشن کو گیانیش کمار پر چڑھ دوڑنے کا موقع دیا۔ راہل گاندھی تو اس حرکت کو قوم دشمنی قرار دےکر انہیں سرکاری گواہ بن کر اصلی مجرمین کو بے نقاب کرنے کی دعوت دے دی۔ حزب اختلاف کا الزام ہے کہ انہوں نے غیر قانونی طور پر ووٹر لسٹ سے نام نکالنے کے بعد جان بوجھ کر غیر منصفانہ انتخابات کروائے۔ یہی وجہ ہے راہل گاندھی سمیت اروند کیجریوال نے بھی وگیانیش کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا ہے۔یہ ایک حقیقت ہے کہ قانون کے مطابق چیف الیکشن کمشنر کو ان کے سرکاری فرائض کی انجام دہی کے دوران آسانی سے گرفتار نہیں کیا جا سکتا لیکن اگر کوئی غداری یا جاسوسی جیسے جرم کا ارتکاب کردیں تو کیا اسے بخش دیا جائے گا؟ ویسے یہ معاملہ اب سپریم کورٹ میں پہنچ چکا ہے جہاں ایک ایڈوکیٹ نے عرضی دائر کرکے گیانیش کمار پر عام ملزم کی طرح مقدمہ چلانے اور تحقیقات کرنے کا مطالبہ کیا ہے ۔
ووٹر لسٹ کی خصوصی گہری نظرثانی یعنی ’ایس آئی آر‘ کے خلاف مظاہرے دہلی تک محدود نہیں تھے بلکہ ملک بھر میںاس کی گونج سنائی دی۔ دہلی، چنڈی گڑھ، جموں و کشمیر، لکھنؤ، کولکاتا ، بھوپال اور دہرادون سمیت کئی مقامات پر کانگریس رہنماوں اور کارکنان نے سڑکوں پر اترکر صدائے احتجاج بلند کرتے ہوئے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کا مطالبہ کیا۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ دہلی کے اندر الیکشن کمیشن کے دفتر پر سیکورٹی بڑھا کر اضافی پولیس فورس تعینات کردی گئی۔ جموں و کشمیر کی اسمبلی کا اجلاس میں بھی کانگریس کے اراکین اسمبلی نظام الدین بھٹ، عرفان حفیظ لون اور افتخار احمد نے احتجاج کرتے ہوئے ’ووٹ بچاؤ، جمہوریت بچاؤ‘ اور ’منصفانہ انتخابات کے بغیر جمہوریت نہیں‘ جیسے نعروں کی تختی اور بینر دکھائے۔پنجاب اور اتر پردیش کی راجدھانی کا احتجاج انتخابی ماحول کے سبب اہم ہے۔ ویسے مغربی بنگال کی راجدھانی کولکاتا اور اتراکھنڈ کی راجدھانی دہرادون بھی احتجاج سے محفوظ نہیں رہا ۔ کانگریس کے احتجاج کا یہ پہلا مرحلہ تھا جو 25 ستمبر کو ریاستی الیکشن کمیشن کے دفاتر تک مارچ نکالنے کا تھا ۔ اس کادوسرا مرحلہ 28 ستمبر کو تمام ضلع کلکٹریٹ تک کے مارچ کا ہے ۔
راہل گاندھی عرصۂ دراز سے ووٹ چوری کا الزام لگا رہے ہیں مگر کانگریس نے کوئی عوامی تحریک نہیں چلائی کیونکہ بی جے پی اس کو کھسیانی بلی کا کھمبا نوچنا بتا کر مسترد کردیتی تھی لیکن جب ایس آئی آر کے معاملے میں الیکشن کمیشن کے اندر مبینہ اختلافات سے متعلق ایک رپورٹ ’دی انڈین ایکسپریس‘ میں شائع ہوگئی تو ان الزامات میں جان پڑ گئی۔ اس رپورٹ میں یہ چونکانے والا انکشاف ہوا کہ الیکشن کمشنرز سکھبیر سنگھ سندھو اور وویک جوشی نے گزشتہ 10 ماہ کے دوران ایس آئی آر سے متعلق بعض فیصلوں اور احکامات پر کم از کم 14 مرتبہ اعتراض درج کرایا تھا۔ رپورٹ کے مطابق ان اعتراضات میں قانونی ووٹر رجسٹریشن فارم 6 میں تبدیلی، ووٹر لسٹ میں نام شامل کرنے اور ہٹانے کے عمل اور ووٹر لسٹ کے ڈاٹابیس پر مرکزی سطح سے کنٹرول جیسے معاملات شامل تھے۔ اب تو الزام لگ رہا ہے کہ گیانیش کمار نے اپنے دونوں ساتھیوں کے حقوق و اختیارات سرکار کے آئی ٹی سیل کو بیچ دئیے تھے ۔ ایسے میں یہ کہا جاتا ہے کہ ان کو عام معافی حاصل ہے لیکن سوال یہ ہے کہ وہ اگر کوئی قتل کردے تو کیا اسے سزا نہیں ملے گی ؟ گیانیش کمار نے اس ملک کے انتخابی نظام کا گلا گھونٹ دیا ہے جبکہ اس کی ذمہ داری اسے بچانے یا زندگی دینے کی تھی ایسے میں کوئی عام معافی کیسے کام آسکتی ہے؟
دنیا میں ہر جرم کی بابت یہ دیکھا جاتا ہے کہ اس سے کس کا فائدہ ہوا؟ تو اس سوال کا جواب یہ ہے گیانیش کا اس گھپلے بازی سے کوئی مالی فائدہ چاہے ہوا ہو مگر سیاسی فائدہ نہیں ہوا، اس لیے یہ سیاسی کھیل گیانیش کے جن آقاوں کو فائدہ پہنچانے کے لیے کھیلا گیا ان پر قانون کا شکنجہ کسا جانا چاہیے ۔ اس کی تیاری بھی چل رہی ہے۔ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف جمعہ کو سپریم کورٹ میں مفاد عامہ کی ایک عرضی (پی آئی ایل) دائر کی گئی۔ اس میں ایس آئی آر سے متعلق یک طرفہ طور پرکیے گئے فیصلوں، ووٹر لسٹ سے نام حذف کیے جانے کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ اس عرضی میں میڈیا رپورٹس کا حوالہ دے کر یہ الزام عائد کیا گیا ہے کہ ایس آئی آر سے متعلق بعض اہم فیصلے دیگر دو الیکشن کمشنروں کی رضامندی کے بغیر لیے گئے۔ درخواست گزار نے مطالبہ کیا ہے کہ ایسے تمام فیصلوں، ہدایات اور سافٹ ویئر میں کی گئی تبدیلیوں کو غیر قانونی قرار دیا جائے، جو الیکشن کمیشن کے اکثریتی فیصلے کے بغیر کیے گئے۔اس عرضی میں کہا گیا ہے کہ الیکشن کمشنروں سکھبیر سنگھ سندھو اور وویک جوشی نے گزشتہ 10 ماہ کے دوران ایس آئی آر سے متعلق فیصلوں پر جو 14 تحریری اعتراضات کیے ان میں ووٹر لسٹ کے ناموں کا حذف و اضافہ اور نئے ووٹروں کی رجسٹریشن، ووٹر ڈیٹا تک رسائی اور انتخابی سافٹ ویئر سے متعلق معاملات شامل ہیں ۔
گیانیش کے خلاف مفادِ عامہ کی شکایت کے درخواست گزار نے ایس آئی آر کے دوران تقریباً 13 کروڑ ووٹروں کے نام ووٹر لسٹ سے حذف کیے جانے کی تحقیقات کے لیے خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی) یا عدالتی انکوائری کمیشن تشکیل دینے کا مطالبہ کیا ہے۔ ساتھ ہی اصل قانونی فارم-6 کو بحال کرنے اور اہل بالغ شہریوں کو مقررہ قانونی شرائط کے مطابق ووٹر کے طور پر رجسٹر کرنے کی اجازت دینے کی مانگ بھی کی ہے۔پی آئی ایل میں چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے علاوہ سینئر ڈپٹی الیکشن کمشنر منیش گرگ اور الیکشن کمیشن کی انفارمیشن ٹیکنالوجی کی سربراہ سیما کھنہ کے خلاف بھی فرائض کی خلاف ورزی کے معاملے میں قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ درخواست گزار نے عوامی نمائندگی ایکٹ کے تحت شکایت درج کرکے مقدمہ چلانے کی ہدایت دینے کی درخواست کی ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ سنگین الزامات کی بابت الیکشن کمیشن نے ڈھٹائی سے جھوٹ بولتے ہوئےدعویٰ کردیا کہ ایس آئی آر سمیت کمیشن کے سارے فیصلے متفقہ طور پر دونوں دیگر الیکشن کمشنروں کی منظوری کے ساتھ لیے گئے۔ یہ دعویٰ اگر درست ہیں تو ان تحریری اعتراضات کی ضرورت کیوں پیش آئی جن کا انکشاف موقر انگریزی اخبار نے کیا؟ سچ تو یہ ہے کہ جھوٹ کے پاوں نہیں ہوتے اور وہ بہت جلد اوندھے منہ گر جاتا ہے۔ گیانیش کمار اور ان کے آقاوں کا بھی یہی حشر ہوگا ۔