گوہاٹی سے اندور تک نوجوان ڈرتا نہیں سوال کرتاہے؟

گوہاٹی سے اندور تک نوجوان ڈرتا نہیں سوال کرتاہے؟

گوہاٹی سے اندور تک نوجوان ڈرتا نہیں سوال کرتاہے؟

ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان

 

کاکروچ جنتا پارٹی کے شریک کنوینر اور ترجمان آشوتوش رانکا کو آسام کر سرپھرے وایر اعلیٰ ہیمنتا بسوا سرما کی پولیس نے گوہاٹی میں ان کے ساتھیوں سمیت حراست میں لے کر بتا دیا کہ وہ کس قدر خوفزدہ ہیں ۔ اس طرح حراست میں لینے کے چند گھنٹوں بعد ہی انہیں احساس ہوگیا کہ وہ آگ سے کھیلنے جارہے ہیں ۔ اس لیے رہا بھی کر دیا گیا ممکن ہے دہلی سے امیت شاہ نے منع کردیا ہو کیونکہ وہ بھی دودھ کے جلے ہیں۔ آشوتوش رانکا کوئی دہشت پھیلانے کے لیے نہیں گئے تھے ۔ وہ تو سی جے پی کے ذریعہ والینٹیئرز کی ایک میٹنگ میں شرکت کے لیے گوہاٹی پہنچے تھے۔ وہاں انہوں نے آسام کے سرکاری اسکولوں کی حالتِ زار، انتخابی فہرستوں کی نظرثانی (SIR) اور کازی رنگا کے مسائل پر ریاستی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ بس پھر کیا تھا اس ہیمنتا کی انا کو ٹھیس پہنچ گئی اور میٹنگ شروع ہونے سے پہلے ہی پولیس نے انہیں ایک نجی رہائش گاہ سے حراست میں لے لیا۔ اس طرحکی غنڈہ گردی آسام میں عام سی بات ہے لیکن جب یہ مسلمانوں کے خلاف ہوتی ہے تو اسے بنگلہ دیشیوں کے نام پر کارروائی کہہ کر جائز ٹھہرا دیا جاتا ہے۔ اس بار ہیمنتا بسوا کے لیے وہ گھناونا کھیل کرنا ممکن نہیں تھا مگر دہلی سے لے کر گوہاٹی تک کاکروچ کے خلاف زیادتی راحت اندوری کا یہ شعر یاد دلاتی ہے؎
لگے گی آگ تو آئیں گے گھر سبھی زد میں
یہاں پر صرف ہمارا مکان تھوڑی ہے

آشوتوش رانکا نے سوشل میڈیا (X) پر جاری اپنے بیان میں اس کارروائی کو "غیر قانونی حراست” قرار دیا اورکاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت ڈپکے سمیت اپوزیشن رہنماؤں (بشمول کانگریس کے گورو گوگوئی) نے اس پولیس کارروائی کی سخت مذمت کی تھی اور اسے نوجوانوں کی آواز دبانے کی کوشش قرار دیا ۔ نئی نسل کے نوجوان نہ تو مارپیٹ اور گرفتاری سے ڈرتے ہیں اور نہ وزیر اعظم مودی کے پروچن سننا چاہتے ہیں۔ وہ بات چیت بحث و مباحثہ کرنا چاہتے ہیں۔ بی جے پی کو یہ فن راہل گاندھی سے سیکھنا چاہیے۔راہل گاندھی کی اس فن میں مہارت کے سبب ’چھاتروں(طلبا) کی گونج‘ ملک کے طلبا اور نوجوانوں کے دل کی دھڑکن بن گئی ہے ۔ راہل گاندھی یہ پیغام لے کر جہاں بھی جاتے ہیں عوام کا ایک زبردست سیلاب امڈ پڑتا ہے۔ راجستھان کے کوٹہ سے شروع ہوکر دہرادون، پریاگ راج اور پونے سے ہوتا ہوا یہ سلسلہ جب پچھلے ہفتہ اندور پہنچا تو بی جے پی کے ہوش اڑ گئے۔ ریاستی حکومت اور انتظامیہ نے اپنی روایت کے مطابق اس کی راہوں میں مشکلات پیدا کیں۔ لاکھ نا نکر کے بعد ایک میدان دیا تو دس لاکھ روپئے کرایہ لے کر بھی پچیس شرائط لگادی گئیں۔ اس بیجا مخالفت نے رکاوٹ پیدا کرنے کے بجائے پروگرام کی مقبولیت میں بے شمار اضافہ کردیا ۔ کانگریس پارٹی اگر بی جے پی کی مانند اشتہار بازی پر ایک کروڈ بھی خرچ کردیتی تب بھی پروگرام اس قدر مقبول نہ ہوپاتا ۔یہ دس لاکھ روپئے کی رقم اگر بی جے پی کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے کرایہ کے لوگوں کو لانے پر خرچ کی جاتی تب بھی اتنے لوگ نہیں آتے ۔

اندور میں ’ چھاتروں کی گونج‘ پروگرام کے پانچویں ایڈیشن میں یہ انتظام کرنا پڑا کہ صرف طلبہ اور جین زی نوجوانوں کو میدان میں داخلہ دیا جائے اور باقی سارے لوگ باہر پردے پر جلسۂ عام کی کارروائی سے استفادہ کریں۔ اس کے باوجود تقریب گاہ کھچا کھچ بھر گئی ۔ اس موقع پر راہل گاندھی نے برسراقتدار طبقہ پر سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے اسے ایک مافیا سے تشبیہ دی ۔ بی جے پی نے پروگرام کے بعد اپنی اوٹ پٹانگ مخالفت سے اس الزام کو درست ثابت کردیا۔ حزب اقتدار کو جب راہل گاندھی اور وہاں موجود لوگوں کی جانب سے اٹھائے گئے سنجیدہ سوالات کا کوئی جواب نہیں سوجھا تو وہ کامیڈی شو کی آڑ میں مخالفت کرنے لگا اور اس طرح خود اپنے جال میں پھنستا چلا گیا۔ اندور کے اندر جلسہ گاہ میں صرف پچاس ہزار لوگوں کی گنجائش تھی مگر دس لاکھ خواہش مندوں نے اپنا نام آن لائن رجسٹر کرواکر بی جے پی کے گال پر ایسا کرارہ تھپڑّ رسید کیا کہ اس کی گونج بھوپال سے دہلی تک سنائی دی۔ اس صورتحال پر سید صادق حسین کا وہ شعر صادق آتا ہے؎
تندیٔ بادِ مخالف سے نہ گھبرا اے عقاب
یہ تو چلتی ہے تجھے اونچا اڑانے کے لیے

19؍ستمبر 2026 کو منعقدہونے والے ’چھاتروں کی گونج‘ کے دوران اسٹینڈ اپ کامیڈین پلکت منی کی جانب سے وزیر اعظم نریندر مودی کی نقل اتارنے اور اسٹیج پر راہل گاندھی کے ہنسنے پر گودی میڈیا کی مدد سے ایک بڑا سیاسی تنازع کھڑا کرنے کی کوشش کی گئی۔ راہل گاندھی کی احمقانہ مخالفت کرکے بی جے پی والے خود اپنے پیر پر کلہاڑی چلا رہے ہیں۔مودی سرکار اور اس کےحواریوں کو ان سوالات کا جواب دینا چاہیے جو ’چھاتروں کی گونج‘ پروگرام کے دوران طلبہ اور نوجوانوں نے اٹھائے۔ 19 ستمبر کو مدھیہ پردیش کے اندور میں گاؤں سے تعلیم حاصل کرنے کے لیے شہر آنے والی طالبہ نے کہا کہ ہاسٹل نہیں ہے، اس لیے پی جی میں رہنا پڑتا ہے۔ صرف محفوظ جگہ پر رہنے کے لیے لاکھوں روپے خرچ ہو جاتے ہیں۔ ہر ماہ کرایے کی فکر اور بے گھر ہونے کا خوف میں تعلیم حاصل کرنی پڑتی ہے۔ کئی لڑکیاں اسی وجہ سے تعلیم چھوڑ دیتی ہیں کیونکہ رہنے کی جگہ نہیں ہے۔ رہائشی الاؤنس مہنگائی کے ساتھ نہیں بڑھتا اور اوپر سے بدعنوانی کی نذر ہو جاتا ہے۔

راہل گاندھی نے وزیر اعظم مودی سے پوچھا کیا اس بچی کے سوال کا کوئی جواب ہے؟ وہ طالبہ کا سوال کرتی ہے ’’سرکار کے پاس دیا جلانے کے لیے پیسہ ہے، ہمارے ہاسٹل کے لیے کیوں نہیں؟‘‘ مودی سرکار کے پاس اس تلخ سوال کا جواب نہیں ہے اس لیےاوٹ پٹانگ باتیں کی جارہی ہیں ۔ راہل گاندھی نے الزام لگایا کہ ’’ملک پر ایک سسٹم نے تہہ در تہہ قبضہ کر رکھا ہے۔ یہ سسٹم آخر ہے کیا؟راہل کے مطابق آر ایس ایس اور ’ہم دو، ہمارے دو‘ کی قیادت میں گنے چنے لوگوں نے مل کر ہندوستان کے ہر ادارے پر اپنا کنٹرول قائم کر لیا ہے۔ حکومت ہو، کاروبار ہو، تعلیم ہو، صحت ہو، کھیل ہو، میڈیا ہو، عدلیہ ہو، الیکشن کمیشن ہو یا بیوروکریسی، اس سسٹم میں ہنر نہیں بلکہ پیسہ اور سفارش اہمیت رکھتی ہے۔یہی ملک کے بیشتر مسائل کی جڑ ہے۔ چھاتروں کی گونج کے ذریعہ راہل گاندھی اس قبضے کے خلاف، بدعنوانی کے خلاف اور ناانصافی کے خلاف طلبہ کی آواز اٹھا کر اس سسٹم کو چیلنج کرتے ہیں تو مودی سے لے کر یوگی تک سب کو مرچی لگتی ہے۔ وہ اس نظام استحصال سے بنیادی قسم کے سوال پوچھتے ہیں اور جوابدہی کا مطالبہ کرتے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا ہے کہ یہ سسٹم طالب علم نہیں بلکہ اندھ بھکت چاہتا ہے اس لیے طلبہ کو ہراساں کرکے اندھ بھکتی کو فروغ دیتا ہے، تاکہ کوئی سوال نہ اٹھائے اور من مانی چلتی رہے لیکن یہ معاملہ بہت دنوں تک نہیں چلے گا ۔

راہل گاندھی کے مطابق آج کے طلبہ سوال کرتے ہیں، وہ متجسس ہوتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ اس نظام کو طلبہ سے خطرہ محسوس ہوتا ہے۔ ا راہل گاندھی نے بیدار طالب علم اور اندھ بھگت کے درمیان فرق کرتے ہوئے بتایا کہ مؤخرالذکر نفرت سے بات کرتا ہے اور جھوٹ ونفرت پھیلاتا ہے، جبکہ طالب علم ایماندار ہوتا ہے ۔وہ کسی بات کو صرف اس لیے تسلیم نہیں کرتا کہ اسے ایسا بتایا گیا ہے، بلکہ وہ اس کی وجہ جاننا چاہتا ہےلیکن موجودہ نظام ایسے لوگوں کو آگے بڑھاتا ہے جو سوال پوچھنے کے بجائے ہر بات کو آنکھ موند مان لیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آج کا طالب علم سوال کرتا ہے کہ دو لوگوں نے پورے نظام پر کیسے قبضہ کرلیا؟اسکول اور کالجوں کی حالت ایسی کیوں ہے؟ امتحانات کے پرچے لیک کیوں ہو رہے ہیں اور نوجوانوں کو روزگار کیوں نہیں مل رہا۔

’چھاتروں کی گونج کے حالیہ پروگرام کے دوران مدھیہ پردیش کے دیواس سے آنے والے ایک طالب علم نے راہل گاندھی سے کہا کہ ایم پی پی ایس سی میں بے ضابطگیوں کو اجاگر کرنے کے بعد ان کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی اور انہیں جیل بھیج دیا گیا تھا۔اس طرح مسائل کو حل کرنے کے بجائے انہیں اٹھانے والوں کی آواز کو دبایا جاتا ہے۔راہل گاندھی سے بھی یہی پریشانی ہے کہ وہ حکومت سے تلخ سوال کرتے ہیں ۔ راہل گاندھی نے دعویٰ کیا کہ طلبہ ہندوستان کا مستقبل ہیں اور ان کے بغیر کوئی بھی ملک مضبوط نہیں بن سکتا۔ اس حوالے سے ’چھاتروں کی گونج ‘ نہ ’جھوٹ کی گونج ‘ ہے اور سیاسی چال بلکہ یہ ایک سماجی بیداری کی تحریک ہے۔اس لیے مخالفت کی پروا کیے بغیر یہ مہم جاری رکھنی چاہیے۔ بقول شاعر؎
تو سمجھتا ہے حوادث ہیں ستانے کے لیے
یہ ہوا کرتے ہیں ظاہر آزمانے کے لیے

By Maqsood

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے