کیا بات کا بتنگڑ بنانے سے
بی جے پی کی بات بن جائے گی؟
ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان
اندور کے اندر ’چھاتروں(طلبا) کی گونج‘ پروگرام میں پلکت منی نامی کامیڈین نے راہل گاندھی کی موجودگی میں اسٹیج پر پی ایم مودی کے بیرونی دوروں کے دوران انداز اور لب لہجے کی نقل اتاری تو اس پر بی جے پی چراغ پا ہوگئی حالانکہ غیر ملکی دوروں پر دنیا بھر میں وزیر اعظم کا مذاق اڑتا رہا ہے اور اس کے لیے وہ خود ذمہ دار ہیں۔ ایسے میں خود اپنے رویہ کی اصلاح کرنے کے بجائے ناقدین کو برا بھلا کہنا اپنے آپ میں ایک بھونڈا مذاق ہے ۔ اندرونِ ملک بھی مودی جی کی نوٹنکی نئی نہیں ہے۔ ان کے راستے میں ایمبولنس کا آنا اور اس کے لیے قافلہ کا رک کر راستہ دینا یہ معمول کی بات ہوگئی۔ یہ لطیفہ بھی مشہور ہے کہ ایک مرتبہ ایمبولنس کے خراب ہوجانے وجہ سے وزیر اعظم کے قافلہ کو بہت انتظار کرنا پڑا نیز عوام کی زحمت میں اضافہ ہو گیا ۔ اس میں ندرت پیدا کرنے کے وزیر اعظم نے جلسہ کے دوران مجمع میں کھڑی ایک بزرگ خاتون کو دیکھ کر اپنی تقریر روک دی اور انتظامیہ سے کہا تھا کہ "ماں کو کرسی دو”۔ یہ واقعہ اگر حقیقت ہوتا تب بھی بی جے پی کے لیے شرمناک ہے کیونکہ اس معمولی انسانیت کے مظاہرے کی خاطر وزیر اعظم کو زحمت کرنی پڑی ورنہ سب بے حس بیٹھے رہے۔
وزیر اعظم کا اس عمر میں کسی بڑے مجمع کے اندر اس بزرگ خاتون کو دیکھ لینا بجائے خود اس بات کا اشارہ ہے کہ یہ سب پہلے سے طے شدہ تھا۔ اس پر کامیڈین نے طنز کرتے ہوئے اس کے لیے لفظ "سیٹنگ” کا استعمال کردیا تو اس میں کون سا پہاڑ ٹوٹ گیا اور اگر اس دوران اسٹیج پر موجود راہل گاندھی ہنستے ہوئے نظر آئے تو کیا آسمان گرگیا؟ جو بی جے پی والے بپھر گئے۔ اس کو تو عام بول چال کی زبان میں ’کھسیانی بلی کھمبا نوچے‘ کہتے ہیں۔ بی جے پی نے اسے پی ایم مودی سمیت ایک اور ضعیف ماں کی تکلیف اور احترام کا مذاق قرار دے دیا ۔ اصل سوال تو یہ ہے رام بھگتوں کی عظیم بھیڑ میں جہاں رہنما نرم صوفوں پر براجمان تھی ایک بوڑی عورت کھڑی ہوئی کیوں تھی؟ کسی نے اس کی تکلیف کو محسوس کیوں نہیں کیا یہاں تک کہ وزیر اعظم کو توجہ دلانی پڑی ۔ بی جے پی کے رہنماؤں سمیت مرکزی وزراء اسے انتہائی "سستی اور غیر مہذب” سیاست قرار دےر ہے ہیں جبکہ یہ الزام خود ان پر وارد ہوتا ہے۔ ان کا کہنا ہے بزرگ افراد کو سیاسی طنز و مزاح کا موضوع نہیں بنانا چاہیے۔ کیا یہ لوگ وزیر اعظم کے ذریعہ سونیا گاندھی کو جرسی گائے کہنا یا کروڈوں کی گرل فرینڈ والا مذاق بھول چکے ہیں؟
مثل مشہور ہےجن کے مکان شیشے کے ہوں وہ پردہ لگا کر کپڑے بدلتے ہیں ورنہ ننگے ہوجاتے ہیں اور یہی معاملہ بی جے پی کے ساتھ ہورہا ہے۔سوال یہ ہے بی جے پی والے اس پروگرام میں اٹھائے جانے والے طلبہ کی مشکلات ،پیپر لیک اور بے روزگاری جیسے بنیادی مسائل پر گفتگو کیوں نہیں کرتے؟ وہ ایک کامیڈی ایکٹ کو بلاوجہ کیوں طول دے ر ہے ہیں؟مرکزی وزیر تعلیم پرہلاد جوشی جن کےمحکمہ نے یہ سارا رائتہ پھیلایا ہوا نے اس واقعے پر گہرے دکھ اور برہمی کا اظہار کرتے ہوئے راہل گاندھی پر کانگریس پارٹی کو اخلاقی دیوالیہ پن کی آخری حد تک پہنچنے کا الزام لگایا۔ ان کے مطابق طلبہ کے ساتھ بات چیت کے پلیٹ فارم کو ہتھیار بنا کر پی ایم مودی جی کی مرحومہ والدہ کا مذاق اڑانا اور ان کی توہین کرنا، بنیادی انسانی ہمدردی اور سیاسی کلچر کی چونکا دینے والی کمی کو ظاہر کرتا ہے۔ مودی اور بی جے پی والے بار بار آنجہانی ہیرا بین کے پیچھے چھپنے کی کوشش کرتے ہیں۔ وہ جب حیات تھیں تو مودی جی کیمرا ٹیم کے ساتھ ان سے ملنے جاتے تھے ۔ نوٹ بندی کے دوران کو بزرگ سنی کے باوجود قطار میں کھڑا کرکے سیاسی فائدہ اٹھانے کی کوشش کی اور اب دوسروں پر الزام تراشی کی جارہی ہے۔
پرہلاد وہی زہریلا جوشی ہے جس نے بلقیس بانو کی عصمت دری کرنے والے درندوں اور ان کے خاندان کے قاتلوں کی رہائی کو جائز ٹھہرایا تھا۔ بلقیس بانو کی معصوم بچی کا اس کی آنکھوں کے سامنے سنگھیوں کے ذریعہ قتل کون سے اعلیٰ کردار کا مظاہرہ تھا اور اس کا ارتکاب کرنے والوں کی پھولوں کا ہار پہنا کر تہنیت کرنے پر تنقید کے بجائے تائید کے الفاظ اسی پرہلاد جوشی کی زبان سے ادا ہوئے تھے۔ اس لیے دوسروں پر الزام دھرنے سے قبل اپنے گریبان میں جھانک کر دیکھ لینا چاہیے۔ پرہلاد جوشی کے علاوہ دیگر بی جے پی قائدین نے بھی راہل گاندھی پر تنقید کرنے کی حماقت کی مثلاً کیرن ریجیجونے کانگریس کو "کامیڈینز اور جوکرز کی پارٹی” قرار دیا۔ کانگریس کے جلسوں میں کامیڈینز کی شرکت اگر ایسا معیوب عمل ہے تو منوج تیواری جیسے فحش گانوں پر رقص کرنے والے لوگوں کو ایوانِ پارلیمان کی رکنیت دینے والی پارٹی کو کیا بھانڈوں کی جماعت کہہ دیا جائے؟ اتراکھنڈ کے وزیر اعلیٰ پشکر سنگھ دھامی کے مطابق ماں سیاست کا موضوع نہیں ہوتی اور کسی بھی مہذب معاشرے میں ماں کی توہین قابل قبول نہیں ہے۔ ماں کو سیاست کا موضوع خود مودی جی نے بنایا اور مہذب معاشرے میں تو کسی بزرگ دلت کا خطاب اسٹیج کے شدھی کرن کا مطالبہ بھی نہیں کرتا؟ سوال یہ ہے کہ انہوں ہلدوانی میں شدھی کرن کرنے والوں کو تحفظ دے کرالٹا ان کے خلاف آواز اٹھانے والے راہل گاندھی پر مقدمہ کیوں درج کروایا؟ بقول شاعر؎
اپنے دامن کو ذرا دیکھ، ابھرتے ہوئے داغ دوسروں کے مئے و ساغر پہ نظر رکھنے والے
راہل گاندھی سے معافی کا مطالبہ کرنے والے مدھیہ پردیش کے وزیر اعلیٰ موہن یادو تو پہلے یہ تو ثابت کریں کہ اس کامیڈی سے ملک کی تمام ماؤں کی توہین کیسے ہوگئی۔ اس کے خلاف وہاں موجود کسی شریک نے اعتراض کیوں نہیں کیا جبکہ اس موقع تھا۔موہن یادو کو معلوم ہونا چاہیے کہ کرنل صوفیہ قریشی بھی ایک معزز ماں ہے جو سرحد پر ملک کا دفاع کررہی ہے۔ ان کو موہن یاد کے وزیر وجئے شاہ نے دہشت گردوں کی بہن کہا تو ہائی کورٹ نے ان پر کارروائی کا مطالبہ کیا لیکن موہن یادو نے نریندرمودی کی مدد سے اس دلیر جج کا تبادلہ کروادیا۔ اس کے بعد سپریم کورٹ کے ذریعہ وجئے شاہ کو بچانے کی کوشش کی گئی مگر وہاں سے بھی ایس آئی ٹی قائم کرکے تفتیش کرنے کا حکم دیا گیا۔ موہن یادو نے کمال بے حیائی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایک بدزبان وزیر کو بچانے کے لیے ایس آئی ٹی کے تشکیل ردک دی۔ جو لوگ مجرمین کے تحفظ کی خاطر سپریم کورٹ کو خاطر میں نہیں لاتے وہ اگر ماوں کی توہین کا جھوٹا الزام لگا کر ٹسوےبہانے لگیں تو یہ اپنے آپ میں ایک کامیڈی شو بن جاتا ہے۔
مدھیہ پر دیش کے دیواس میں ۱۱ ؍ لوگوں پر ہجومی تشدد کا الزام ثابت ہوگیا تو ضلعی جج تبسم خان نے ان ساروں کو عمر قید کی سزا سنا دی ۔ بس پھر کیا تھاموہن ہادو کے سنگھی پریوار نے قاتلوں کے حق میں آسمان سر پر اٹھا لیا اور گالی گلوچ کے بعد ایس ڈی ایم تبسم خان کے تبادلے کا مطالبہ کرنے لگے۔ اس وقت اگر موہن یادو کی زبان سے ایک لفظ بھی پھوٹا ہوتا تو آج ان کی بات سنی جاتی لیکن جو وزیر اعلیٰ خود اپنا اعتبار کھو چکا ہوا اس کی باتوں پر کون کان دھرے گا؟اس معاملے میں سب سے مضحکہ خیز بیان یوپی کے وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کا ہے ۔ انہوں نے راہل گاندھی کے پروگرام کو "جھوٹ کی گونج” قرار دے کرکہا کہ ایک مہذب انسان ہمیشہ خواتین، بزرگوں اور معذوروں کا احترام کرتا ہے اور انہیں پہلے بیٹھنے کے لیے جگہ دیتا ہے، لیکن جن لوگوں کے پاس سنسکار (ثقافتی اقدار) نہیں ہیں، وہ ایسا مذاق اڑاتے ہیں۔ خواتین کے احترام کا راگ الاپتے ہوئے یوگی نے سونیا گاندھی پر اپنے بیٹے کی مناسب تربیت نہ کرنے کا الزام لگا اپنے سے بزرگ خاتون کی توہین کردی۔
یوگی وہی وزیر اعلیٰ ہے کہ جس نے تین سال قبل یو این آئی کو ایک انٹرویو دیا ۔ انٹرویو کے خاتمے پر یوگی نے سوچا کہ کیمرہ بند ہوچکا ہے اس لیے اپنا تقدس کا چولہ اتار کر نہایت بھدی ماں کی گالی دے دی لیکن چونکہ کیمرا بند نہیں ہوا تھا اس لیے ان کے وہ مغلظات نشر ہوگئے ۔ اب وہ پارسا بن کر راہل کی تنقید کرنے لگے تو یار دوستوں نے وہ پرانی ویڈیوز کو نکل کروائرل کردیا اور یوگی کی گال پر زبردست تھپڑ پڑ گیا۔یوگی آدتیہ ناتھ کا کہنا تھا کہ جن کا مقصد صرف ملک اور ہندوستانیت کی توہین کرنا ہو، ان سے ‘وسودھیو کٹمبکم’ جیسے اعلیٰ اصولوں پر عمل کرنے کی امید نہیں کی جا سکتی۔ سہارنپور میں راتوں رات دھاندلی سے مسجد شہید کرنے والوں کی زبان پر پوری دنیا ایک خاندان کے الفاظ شوبھا نہیں دیتے۔بی جے پی جس توہین کا شور مچا رہی وہ خود راہل گاندھی نے نہیں کی بلکہ وہ صرف اسٹیج پر موجود تھے۔ اسی طرح معاملہ یوگی کے ساتھ ہوا جبکہ ایک سڑے ہوئے سنترے نے قبر سے نکال کر عورتوں کی عصمت دری کرنے کا اعلان کیا۔ سوال یہ ہے کہ یوگی نے اس کی سرزنش اور اعلان کی تردید کیوں نہیں کی؟ دوسروں پر انگلی اٹھانے والے اپنے گریبان میں جھانک کر نہ دیکھیں تب بھی دوسرے لوگ تو دیکھ کر ہنستے ہی ہیں۔ فی الحال ہندوستان میں مودی اور یوگی سے بڑا مسخرہ کون ہے؟