للن سنگھ نے کلن شرما سےپوچھا یار میری سمجھ میں نہیں آتا کہ آخر ہم لوگ اتنے بزدل کیوں ہیں؟
کلن بولا کیا بکتے ہو للن تمہارا دماغ تو ٹھیک ہے؟ آج پوری دنیا ہم سے تھر تھر کانپتی ہے اور تم ہمیں بزدل کہہ رہے ہو؟ تمہیں کیا ہوگیا ہے ؟؟
بھائی کلن میں بھی اسی خمار میں تھا کہ سب ہم سے ڈرتے ہیں لیکن کل پتہ چلا کہ ہم سے تو کوئی نہیں ڈرتا ، ہاں ہم سب سے ڈرتے ہیں ۔
کلن کی سمجھ میں نہیں آیا کہ اس کا دوست یہ بہکی بہکی باتیں کیوں کررہا ہے۔ وہ بولا یار گزشتہ پچیس سالوں سے پردھان جی اقتدار میں ہیں اور کیا چاہیے ؟
یہی تو پریشانی ہے مگر ایسے اقتدار کا کیا فائدہ جو چند کاکروچوں کو کچل نہ سکے؟ کہاں گیا کمار وشواس کا وہ ’ہِٹ ‘ جو ابھیجیت دیپکےکے لیے تیار کیا گیا تھا؟
ارے بھیا وہ تو اس نے راجیہ سبھا سیٹ کے لیے ایک ڈائیلاگ مار دیا تھا اور تم نے اسے سیریس لے لیا خیر اسے ٹکٹ ہی نہیں ملا ۔
مجھے پتہ ہے کہ وہ بھی ’ پِٹ‘ گیا ہے بیچارہ لیکن ہمارا کیا قصور ؟ آج تو تمہارے پاس آتے ہوئے میرا موڈ خراب ہوگیا قسم سے ۔
کیوں ایسا کیا ہوگیا ؟ تم نے پردھان جی کی تازہ تقریر نہیں سنی جس میں وہ شیر کی مانند چنگھاڑ رہے تھے۔
بھاڑ میں جائے ان کی چنگھاڑ مجھ کو اب ان پر بھی ترس آتا ہے ۔ یہ جین زی ان کے مکالموں پر ہنستی ہے اور طرح طرح کے میم بنا کر مذاق اڑاتی ہے۔
یار ایسا کیا ہوگیا کہ تم ہوا سے لڑنے لگے مجھے بھی تو پتہ چلے ؟
بھائی دیکھو میں آرہا تھا تو راستے میں جمن خان مل گیا۔ میری مت ماری گئی جو میں نے پوچھا لیا کہ کیوں بھیا کہاں سے آرہے ہو؟
تم نے اچھا کیا۔ ہم لوگ ایک محلے میں رہتے ہیں اس لیے ایک دوسرے کی خیر خبر لیتے رہنا چاہیے ۔ اس نے دلآزاری تونہیں کر دی جو تم اداس ہوگئے؟
بھائی اس نے تو نہیں کی مگرنادانستہ میرا دل دُکھ گیا ۔
کلن نے پوچھا یا یہ معمہ سمجھ میں نہیں آیا کہ دل دُکھایا نہیں پھر بھی دلآزاری ہوگئی ؟ ذرا تفصیل سے بتاو ۔
کیسی تفصیل ؟ میرے سوال کے جواب میں اس نے کہا ڈیٹنشن سینٹر سے آرہا ہوں۔
یہ ڈٹینشن سینٹر کہاں سے آگیا ؟ وہ تو سی اے اے ؍این آر سی کے زمانے میں بنائے جانے تھے اور صرف بورڈ لگے جسے وقت کی دیمک چاٹ گئی۔
وہی تو سن کر میں چونک گیا کیونکہ وہ تو نہ بنگلہ دیشی ہے اور نہ روہنگیا! اس کے آبا و اجداد یہیں رہتے تھے ۔
جی ہاں اسے کون اور کیوں وہاں لے گیا؟
ارے بھیا جنتر منتر پر جانے والوں کے لیے سرکار نے قریبی اسٹیڈیم کو عارضی ڈٹینشن سینٹر بنارکھا ہے ۔ وہ اسی کی بات کررہا تھا ۔
لیکن جمن وہاں کیوں پہنچ گیا؟
ارے بھائی وہ کناٹ پلیس سے سے پیدل جنتر منتر جارہا تھا تو پولیس پکڑ کر لے گئی۔
یار جمن کا دماغ تو خراب نہیں ہے۔ کناٹ پلیس سے میٹرو میں چلا جاتا۔ یہ پیدل جانے کی کیا تُک ہے؟
بھیا ہماری بزدل سرکار نے نے ۴۴؍ اسٹیشن بند کردئیے ۔ اسی لیے وہ کناٹ پیلس سے پیدل چل پڑا۔
ارے بھائی جب سرکار نہیں چاہتی تو اس کی بات مان لینی چاہیے۔زبردستی ضد کرنے کیا ضرورت ہے؟
جی ہاں یہی سوال میں نے جمن سے کیا تھا تو وہ بولا ’’ہم اندھے بھگت تھوڑی نا ہیں جو سرکار کی ساری باتیں آنکھ موند کر مان لیں ‘‘۔
اچھا سمجھ گیا۔ اس نے تمہیں اندھ بھگت کہہ دیا اس لیے تمہارا موڈ آف ہوگیا مگر اس میں کیا غلط ہے ؟کیا تمہیں مودی بھگت ہونے پر فخر نہیں ہے؟؟
بے شک ہے اس لیے مجھے اس کی یہ بات بالکل بری نہیں لگی لیکن روکنے کے باوجود جنتر منترجانے کی اس نے ہمت کیسے کی؟
اس میں ہمت کی کیا بات ہے جہاں ہزاروں لوگ جنتر منتر کے لیے نکلے تو ان میں وہ بھی نکل گیا۔
نہیں بھائی یہ اتنا آسان نہیں ہے۔ میں خود پولیس والوں کے ساتھ ان کی مسجد میں اعلان کرنے گیا تھا کہ کوئی نہ جائے لیکن اس پر کوئی اثر ہی نہیں ہوا۔
ارے لیکن تم کو کیا پڑی تھی کہ مسجد میں اعلان کروانے جاتے۔
بھیا میں نے سنا تھا کہ مسلمان مسجد سے جاری ہونے والے اعلانات پر عمل کرتے ہیں اس لیے تھانیدار کے ساتھ چلا گیا مگر اس نے میری ایک نہیں سنی ۔
بھیا وہ کیوں سنے؟ گنیش چترتھی کا جلوس لے کرجب نماز کے وقت تم مسجد کے باہر ڈی جے کے شور سے اسے ناراض کرتے ہو تووہ تمہاری کیوں سنے؟
ارے بھائی میری نہیں تو اپنےامام صاحب کی سن لیتا۔ انہوں نے بھی صبر و ضبط کی تلقین کی تھی ۔
دیکھو بھائی مسلمان کسی اندھا بھگت نہیں ہوتا ۔ وہ قرآن حدیث کی روشنی میں اپنے دماغ سے سوچتا ہے اور فیصلہ کرتا ہے۔ یہی دین اسلام کی تعلیم ہے۔
ارے لیکن ڈرتا کیوں نہیں ہے؟ اس لیے کہ تھانیدار نے دھمکی دی پھر بھی چلا گیا۔
اس کے نڈر ہونے کی کئی وجوہات میں پہلی تویہ ہےکہ ایک خدا سے ڈرنے والا کسی سے نہیں ڈرتا اورپھر اسے سنگھ کی شاکھا میں تربیت بھی نہیں ملی ۔
للن بگڑ کر بولا تم کہنا کیا چاہتے ہو؟ کیا ہمیں سنگھ کی شاکھا میں ڈرایا اور بزدل بنایا جاتا ہے؟
اور نہیں تو کیا ہمارا سارا بیانیہ ڈرنے ڈرانے کا ہے۔ اس کے بغیر مسلمانوں سے نفرت کیسے پیدا ہوگی؟ اور اسی پر تو ہماری سیاست ٹکی ہوئی ہے۔
بھیا ہم ڈرنے والے نہیں ڈرانے والے ہیں َ کیا سمجھے ؟
ہم مسلمانوں کوڈرانے کی کوشش کرتے ہیں جو صرف بیس فیصد ہیں جبکہ جن ہندووں کو ڈراتے ہیں ان کی تعداد اسیّ فیصد ہے اور ان میں ہم بھی ہیں۔
للن نے سوال کیا لیکن جمن کے علاوہ جین زی میں شامل ہندو بھی تو نہیں ڈرتے ؟ ایسا کیوں؟
جی ہاں ہمارا کھیل ختم ہوگیا اب کوئی کسی سے نہیں ڈرتا سوائے ہمارے اور ہم ! ہم تو سب سے ڈرتے ہیں ۔
جی ہاں وہ تو میں نے دیکھ لیا ۔ ہم نے کاکروچوں کو جنتر منتر پر مظاہرہ کرنے سے روکنے کے لیے ہزاروں پولیس اور نیم فوجی دستے لگا دئیے پھر بھی ۰۰۰۰
ہاں بھیا پھر بھی ان لوگوں نے ۲۲ ؍ مقامات پر احتجاج کردیا ۔ اس سے تو اچھا تھا کہ انہیں روکا نہیں جاتا اور وہ مظاہرہ جنتر منتر تک محدود رہتا ۔
جی ہاں وہ لوگ جنتر منتر پر ہمارا کیا بگاڑ لیتے ؟ لیکن کم از کم بے عزتی تو نہیں ہوتی ۔ اب تو ’مایا ملی نہ رام ‘ ہم نے اپنا زور بھی دکھا دیا اور ناکام بھی رہے۔
کلن بولا ہاں یار اب تو رہا سہا ڈر بھی نکل گیا ۔ سو سال کی محنت پر پانی پھِر گیا ۔ قسم سے ۔ لیکن یہ بتاو کہ تم کو جمن پر غصہ کیوں آیا ۔؟
بھیا میں تو سوچ رہا تھا کہ احتجاج میں شریک ہونے والوں کی پولیس خوب دھنائی کرے گی اور جو ان سے بچیں گے ان کو زعفرانی رضا کار پیٹ دیں گے ۔
تم نے صحیح سوچا تو اس میں غلط کیا ہے؟
بھائی غلط یہ کہ اس کو ایک کھرونچ بھی نہیں آئی ۔ وہ تو بھلا چنگا لوٹ آیا ۔ میرا تو جی چاہ رہا تھا کہ میں ہی اس پر ہاتھ صاف کرلوں ۔
اچھا تو کیوں نہیں کیا ۔ دہلی میں تو اپنی ٹرپل انجن سرکار ہے ۔
ارے بھیا میں اکیلا تھا اور اگر میں اس پر ہاتھ ڈالتا تو وہ مجھے نہیں چھوڑتا ۔اس لیے میں نے اسے چھوڑ دیا۔
کلن نے ہنس کر کہا سیدھے بولو نا کہ ڈر گئے۔ میں بھی تو یہی کہہ رہا تھا۔ اگر تم دس بارہ لوگوں کے ساتھ ہوتے تو اس پر پِل پڑتے ۔ کیا یہ بزدلی نہیں ہے؟
یار تم گھوم پھر کر وہیں پہنچ جاتے ہو۔ اچھا یہ بتاو کہ ہمارے لوگوں نے اس کی تُڑائی کیوں نہیں کی ؟
بھائی اگر میں سچ بتادوں تو تم ناراض ہوجاوگے اس لیے جانے دو ۔
کیوں جانے دوں میں کوئی پرایا تھوڑی نا ہوں ۔ تم مجھے اپنا راز دار بناسکتے ہو۔
وہ تو ہے۔ بھیا ہمارے لاٹھی بردار جمن جیسے مشٹنڈوں کو چھوڑ بھولی بھالی لڑکیوں کو ڈرا دھمکا رہے تھے۔ ان کے ساتھ بدسلوکی کررہے تھے ۔
یار یہ کانگریسیوں کی پھیلائی ہوئی افواہ ہے۔ ہم لوگ تو برہما چریہ (تجرد) کے ماننے والے ہیں ۔ ہمارے لوگ ایسا نہیں کرسکتے ۔
للن ویڈیو جھوٹ نہیں بولتی ۔ ہمارے دھرم یودھا( مجاہد) بھول گئے کہ ان سب کے ہاتھوں میں کیمرا ہے اوروہ لائف شوٹ کرکے پھیلا رہے ہیں۔
یا ر ہمارے لوگ اتنے بیوقوف نہیں ہوسکتے ۔میں اب بھی نہیں مان سکتا ۔
تم آنکھ بند کرکے دودھ پی سکتے ہو لیکن اس سے سچائی تو نہیں بدلتی ۔ ویسے ہوس کی بھوک انسان کو اندھا کردے تو اسے کیمرا بھی نظر نہیں آتا۔
بھیا دیکھو اب تو پردھان جی سے میرا بھروسا اٹھ گیا ہے ۔ کہاں چین کو لال آنکھ دکھا کر ڈرانے کی گیدڑ بھپکی اور کہا ں کاکروچ سے ڈر جانا۰۰۰۰
ہاں میں بھی اب بھول کر کمل پر مہر نہیں لگاوں گا ۔ بڑا مایوس کیا ہے ان کاکروچوں نے تو اپنے زعفرانی غبارے کو ہی پھوڑ دیا۔ قسم سے۔
ہاں یار مجھے تو رہ رہ کر گبر سنگھ کا مشہور ڈائیلاگ یاد آرہا ہے’جو ڈر گیا وہ مرگیا ‘۔