فرد ، جماعت اور قوم : سنگھ کادعویٰ اور اس کی حقیقت
ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کمال کے صاف گو انسان ہیں ۔ وہ اپنے من کی بات بیان کرتے ہوئے دوست اور دشمن کی کسی تفریق و امتیاز کے قائل نہیں ہیں۔ پچھلے دنوں انہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی کو پھر ایک بار اپنا بہترین دوست بتایا لیکن اس کے ساتھ یہ بھی کہا کہ کئی سالوں تک ہندوستان نے امریکہ سے خوب تجارتی فائدہ اٹھایا ہے۔ہندوستان نے امریکہ پربھاری ٹیرف لگائے اور بدلے میں کچھ نہیں دیا۔ ان کے مطابق پہلے امریکہ پر ہندوستان یکطرفہ طورپر200 فیصد تک ٹیرف لگا دیتا تھا لیکن اب صورتحال بدل چکی ہے۔ انہوں واضح الفاظ میں اعتراف کیا کہ اب ہندوستان سے امریکہ بہت پیسہ کما رہاہے۔ گویا اپنی منافع خوری کی خاطر امریکہ پہلے ہی یکطرفہ تجارتی پالیسیوں کے تحت ہندوستان پر بھاری ٹیرف لگا چکاہے۔آسان الفاظ میں ان کے بیان کا خلاصہ یہ ہے کہ پہلے ہندوستان چالاکی سے امریکہ کو لوٹتا تھا اور اب امریکہ انتقاماً ہندوستان کو لوٹ کر حساب کتاب برابر کر رہا ہے۔ اس طرح کا بدلہ دوست سے لیا جاتا ہے یا دشمن سے یہ تو ٹرمپ ہی بتا سکتے ہیں لیکن قربان جائیے وزیر اعظم مودی پر کہ ان کی زبان سے اس کے خلاف ایک حرف نہیں آتا ۔
امریکی صدر کےاس ہندوستان مخالف بیانات نے نئی دہلی اور واشنگٹن کے درمیان اچھے تعلقات کے تمام دعووں کی قلعی بھی کھول دی ہے۔ ماہرین کے مطابق امریکی صدر کابیان صاف اشارہ ہے کہ مودی حکومت ایسا یکطرفہ معاہدہ کرنے جا رہی ہے جس سے بھارتی عوام کی معاشی کمرٹوٹ جائے گی۔ سنگھ پریوار کے مطابق حزب اختلاف کی جماعتیں قومی مفاد کو پس پشت ڈال کر صرف چند افراد یا خاندانوں کے لیے کام کرتی ہیں ۔ وہاں ساری اہمیت فرد کو حاصل ہے۔ اسی کا بھلا کیا جاتا ہے اور اس کے لیے جی بھر کے بدعنوانی کی جاتی ہے۔ پارٹی کی اہمیت ثانوی درجہ میں ہے اس لیے وہ لوگ پارٹی بدلتے رہتے ہیں ۔ یہ اور بات ہے کہ سب سے زیادہ بدعنوان رہنما پارٹی بدل کر بی جے پی میں آتے ہیں۔ زعفرانی ٹولہ انہیں اپنی واشنگ مشین میں گنگا جل سے دھو دھُلا کر پوتر(پاک صاف ) کرنے کےبعدوزیر اعلیٰ تک بنا دیتا ہے۔بھارتیہ جنتا پارٹی کی سرکار نے عوام کی فلاح و بہبود کے لیے تو کوئی خاص قانون نہیں بنایا مگر اپنی پارٹی کی آمدنی بڑھانے کی خاطر مالی سال 2016–17 میں دیکھنے میں آیا میں فنانس ایکٹ 2017 کے ذریعے الیکٹورل بانڈز متعارف کرایا۔ بجٹ کی تقریر میں اعلان کرنے کے بعد اسی سال اس کا عملی فریم ورک اور گمنام سیاسی عطیات کی اجازت دینے والی متعلقہ ترامیم متعارف کروا کے 2018 میں یہ اسکیم مکمل طور پر نافذ کردی گئی۔
الیکٹورل بانڈر کا فائدہ نفاذ سے پہلے ہی نظر آنے لگا کیونکہ 2016–17 میں پہلی بار پارٹی کی آمدنی 1,000 کروڑ روپے سے تجاوز کر کے 1,034 کروڑ روپے پر پہنچ گئی اور 2015–16 کے 570 کروڑ روپے کی بہ نسبت میں تقریباً دوگنا تھی۔ اس کے بعد بی جے پی کے وارے نیارے ہوتے چلےگئے۔ پارٹی نے 2017–18 میں 1,027 کروڑ روپے، 2018–19 میں 2,410 کروڑ روپے اور 2019–20 میں 3,623 کروڑ روپے وصول کیے۔2020–21 میں جوکمی آئی تھی یعنی وہ 752 کروڑ روپے پر آگئی تھی تو اس کا کفارہ 2021–22 میں یہ تقریباً تین گنا اضافے کے ساتھ پورا کیاگیایعنی بی جے پی کے خزانے میں 1,917 کروڑ روپے آ گئے ۔اس کے بعد 2022–23 میں بھی یہ سلسلہ پارٹی 2,360 کروڑ روپے کی صورت میں جاری رہا اور اب بھی بامِ عروج پر ہے۔ اب آئیے مودی سرکار کے منظور نظر امبانی و اڈانی کے دولت میں اضافہ کی جانب دیکھیں جن کے سبب موجودہ سرکار کو ’ہم دو ہمارے دو‘ کے خطاب سے نوازہ گیا کیونکہ 2014–2024 کے دوران امبانی اور اڈانی کی دولت میں اضافہ ناقابلِ یقین ہے ۔
2014 میں امبانی کی دولت 18.6 ارب ڈالر تھی جو 2024 میں بڑھ کر 119.5 ارب ڈالر ہوگئی یعنی کل اضافہ +100.9 ارب ڈالر ہوا ۔ فیصدی کے لحاظ سے یہ 542.47 % اضافہ ہے جبکہ ملک کی اوسط سالانہ شرح نمو(جی ڈی پی) 20.44% ہے۔ امبانی کی دولت 10 سال میں تقریباً 20% سالانہ کی شرح سے بڑھی جبکہ ملک کے غریب تو دور متوسط طبقہ بھی محتاج سے محتاج تر ہوتا چلا گیا۔ گوتم اڈانی کی ترقی کے آگے تو امبانی بھی پانی بھرتے ہیں ۔ اڈانی کی دولت تقریباً 32% سالانہ کی شرح سے بڑھی، جو امبانی سے کہیں زیادہ ہے۔ امبانی کی دولت میں اگر 27.5 ارب ڈالر کا اضافہ ہوایعنی وہ تقریباً 542% تو اڈانی کی دولت تقریباً 1534% بڑھی ۔ ااڈانی کی خالص دولت 2014 میں صرف 7.1 ارب ڈالر تھی جو 2024 میں بڑھ کر 116 ارب ڈالر پر پہنچ گئی ۔ یہ 108.9ارب ڈالر کا اضافہ ہے۔ کیا یہ چمتکار سرکاری آشیرواد کے بغیر ممکن ہے؟ جبکہ اوسط سالانہ شرح نمو 32.23% ہو۔ 2024 میں اڈانی کی دولت میں 48 ارب ڈالر کا اضافہ ہوا جودنیا میں سب سے زیادہ اضافہ ہے۔ اس لیے کہنا پڑے گا کہ مودی جی خود تو وشو گرو نہیں بن سکے مگر اپنے ہم زاد اڈانی کو بنادیا۔ اب تو ملک میں یہ خیال عام ہے کہ مودی اور اڈانی ایک ہی سکےّ کے دو پہلو ہیں۔
قوم اور جماعت کےساتھ افراد کے موازنے کا ایک اور پہلو بھی ہے۔ ملک میں اڈانی اور امبانی کے علاوہ ٹاٹا کی دولت بھی بڑھ رہی ہے مگر آخرالذکر کی ترقی مودی سرکار کی مانند نہیں مخصوص ہے۔ گزشتہ 10 سال کے اندر مارکیٹ کیپ میں 14.63 لاکھ کروڑ کا اضافہ ہوا۔ اس میں ٹاٹا کی ترقی 3.1 گنا ہوئی ۔ ریلائنس نے 6.9 گنا مارکیٹ کیپ میں اضافہ کیا جبکہ اڈانی نے اس سے بھی تقریباً ڈبل یعنی جملہ 12.1 گنا اضافہ کیا ۔ یہ اچھی بات ہے لیکن دیکھنے والی بات یہ ہے کہ کس نے ملک کی بیروزگاری کو دور کرنے میں کتنا بڑا کردار ادا کیا؟ روزگار / ملازمتوں کی تخلیق کے حوالے سے دیکھیں تو 2025میں ٹاٹا گروپ نے 11.5 لاکھ افراد کو نوکری دی۔ اس کے برعکس ریلائنس صرف 4.03 لاکھ افراد کو برسرِ روزگار کرسکا ۔ مودی کے سب سے قریبی گوتم اڈانی کا حال سب سے برا ہے۔ ٹاٹا سے چار گنا زیادہ کیپ کے مالک اڈانی گروپ نے تقریباً چار گنا کم یعنی صرف 48,000؍ افراد کو روزگار فراہم کیا۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ ملک میں بیروزگاری کیوں بڑھتی ہے اور چین کے مقابلے خسارے میں اضافہ کیوں ہوتا ہے ؟
بی جے پی اور اس کو عطیہ دینے والے سرمایہ دار تو مودی جی کے آشیرواد سے خوب پھلتے پھولتے رہے لیکن عام لوگ غربت کے گھٹا ٹوپ اندھیرں میں ڈوبتے رہے۔ اس کی ایک مثال تو یہ ہے کہ سال 2022 کے گلوبل ہنگر انڈیکس میں ہندوستان کا 121 ممالک کی فہرست 107 واں نمبر تھا۔ 2025 کی بھکمری فہرست دیکھیں تو ہندوستان 102 ویں مقام پر ہے جبکہ بنگلہ دیش 85 ویں پر ہے۔ ہندوستان کا اسکور بنگلہ دیش سے ڈیڑھ گنا زیادہ ہے پھر بھی وزیر داخلہ کہتے ہیں کہ وہاں سے بھوکے ننگے لوگ ہندوستان آرہے ہیں ۔ فی الحال یہ شور مچایا جارہا ہے کہ ہندوستان کی سرحد سے بہت سارے بنگلہ دیشی واپس جارہے ہیں لیکن سچائی یہ بھی ہوسکتی ہے یہاں بھوکا مرنے کے بجائے خوشحالی کے لیے ہندوستانی سرحد پار کررہے ہوں کیونکہ اڈانی سیٹھ جھارکھنڈ میں بجلی بنا کر بنگلہ دیش کو تو بھیجتے ہیں مگر یوگی اور مودی کے اترپردیش کو نہیں دیتے جس کے سبب وہاں گھنٹوں بجلی غائب ر ہتی ۔
حکمرانوں کی ترجیحات اگر الٹ پلٹ جائیں ۔ ان کا مطمح ِ نظراگر عوامی فلاح بہبود کے بجائے پارٹی اور چندہ دینے والوں کی خوشحالی ہوجائے تو اس کا نتیجہ مہنگائی ، بیروزگاری اور بھکمری کے سوا اور کیا ہوسکتا ہے؟ فی الحال مودی کے کرم فرما مکیش امبانی ہندوستان کے بجائے امریکہ میں ریفائنری لگانے کا منصوبہ بنارہے ہیں ۔ اس سے امریکہ کی سرمایہ کاری ہندوستان میں نہیں ہوگی بلکہ یہاں کا ز مبادلہ وہاں چلا جائے گا اور ہندوستانی تو بیروزگار ہی رہیں گے ہاں امریکیوں کو نوکری ضرور ملے گی ۔ اسی طرح گوتم اڈانی بھی ایک ہزار کروڈ روپیہ کی امریکہ میں سرمایہ کاری کرکے وہاں کے پندرہ ہزار لوگوں کی ملازمت کا بندو بست کریں گے اور ہمارا پڑھا لکھا بیروزگار نوجوان ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھا رہے گا۔ آر ایس ایس اپنے آپ کو اور ساری دنیا اسے ایک قوم پرست نظریہ کی حامل جماعت کہتی ہے۔ اسی کے بطن سے نکلنے والی سیاسی جماعت بی جے پی گزشتہ بارہ سالوں سے مرکز میں برسرِ اقتدار ہے۔ ان دونوں کا دعویٰ ہے کہ سنگھ پریوار کے نزدیک سب سے زیادہ اہمیت قوم وملک کی ہے اور اس کے بعد جماعت یا پارٹی کا نمبر آتا ہے ۔ فرد کی اہمیت ان دونوں سے کم ہے ۔ مرکز میں طویل عرصہ حکومت کے بعد اعدادو شمار کی روشنی میں یہ جائزہ بتاتا ہے کہ اس دوران قومی ترقی کتنی ہوئی ؟ پارٹی کس قدر خوشحال ہوئی ؟؟ اور افراد کتنے مالا مال ہوئے؟؟؟ یہاں تو پہلے قوم پھر پارٹی اور آخر میں فرد کا نعرہ سر کے بل کھڑا نظرآتا ہے۔