ملک کے جمہوری نظام کے ستونوں کو مضبوط و درست کرنا ناگزیر
از۔ ذوالقرنین احمد
دہلی جنتر منتر پر نیٹ پیپر لک معاملے کو لے کر گزشتہ ایک مہینے سے کاکروچ جنتا پارٹی کا احتجاج جاری ہے، 20 مارچ کو پارلیمنٹ تک مارچ نکالنے کا اعلان کیا گیا تھا سماجی کارکن سونم وانگچوک بھوک ہڑتال پر تھے ان کی حالت نازک تھی لیکن مارچ سے دو دن پہلے حکومت کے اشارے پر دہلی پولس اور سیول ڈریس میں ملبوس غنڈوں نے صبح 7 بجے اسٹیج سے انتظامیہ کے ساتھ جبراً مار پیٹ کرتے ہوئے سونم وانگچوک کو سفید چادر میں لپیٹ کر ہسپتال بھرتی کروایا گیا جس کے بعد کل 20 جولائی کو جنتر منتر سے پارلیمنٹ تک مارچ کے لیے مختلف ریاستوں سے طلباء و طالبات کے ساتھ ساتھ بزرگ مرد و خواتین اور نابالغ بچے بھی شامل ہوئیں پر امن طریقے سے طلباء پارلیمنٹ کی طرف جانے کے لیے راستہ ہموار کرنے کی کوشش کررہے تھے ان کا صرف یہ مطالبہ تھا کہ تعلیمی نظام کو درست کیا جائیں سسٹم اپنی جواب دہی کو قبول کریں، ایجوکیشن منسٹر استعفیٰ دیں، بے قصور مرنے والے طلباء کے وارثوں کو معاوضہ دیا جائیں لیکن پولس نے زبردست طریقہ سے معصوم بچوں پر جوانوں پر لڑکیوں پر لاٹھی چارج کیا آنسو گیس کی گولے داغے گئے جس میں پولس، اسپیشل فورسز، کے علاوہ جعلی وردیوں میں ملبوس آر ایس ایس کے غنڈے بھی شامل تھے۔
خواتین کی عزتوں کو پامال کیا گیا، انسانوں کے ساتھ جانوروں سے بھی بد تر سلوک کیا گیا جنتر منتر کے اسٹیج کو توڑ دیا گیا طلباء کو پارلیمنٹ ہاؤس کی طرف جانے سے روک دیا گیا۔ پارلیمنٹ جانے والے راستوں پر ہزاروں کی تعداد میں پولس تعینات کر دی گئی اور جہاں احتجاج چل رہا تھا وہاں کی لائن کاٹ دی گئی، بارش سے بچنے کے لیے لگائے گئی پلاسٹک کو ہٹا دیا گیا، لیکن رات میں طلباء نے دوبارہ جنتر منتر پر احتجاج شروع کردیا، سینکڑوں طلباء زخمی ہوئے سروں پر چونٹیں آئی کئی طلباء مختلف جگہوں پر پریشان حال دیکھائی دیے جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر موجود ہے پولس کسی بھی جگہیں پر طلباء کو دیکھ کر لاٹھیاں برسا رہی تھی واپس لوٹنے والے طلبہ بھوکے پیاسے تھے۔ کسے کے پاس چپل نہیں تھیں تو کسی کے کپڑے پھٹے ہوئے تھے کسے پاس موبائل میں چارجنگ نہیں تھی معصوم بچیوں کو پولس نے نشانہ بنایا سوشل میڈیا کی ویڈیوز سے پتہ چلتا ہے کہ کس طرح ظلم و تشدد کیا گیا،
کسی بھی ملک میں حکومت کی غالط پالسیوں کے خلاف عوام کو جمہوری طرز پر ملک میں احتجاج کرنا کا حق حاصل ہوتا ہے لیکن یہاں حکومت نے تانا شاہی کا ثبوت دیتے ہوئے جمہوریت کا جنازہ نکال دیا۔
آج یہ طلباء سب کچھ دیکھ رہے ہیں اور محسوس بھی کر رہے ہیں انھیں اپنے مستقبل کو لے کر فکر ستا رہی ہیں، تو والدین کو اپنے بچوں کی فکر ستا رہی ہیں حکومت یہ یاد رکھیں ظلم جب بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے یہاں ایک بات قابل غور ہے کہ طلباء کے اندر کا ڈر ختم ہوچکا ہے طلباء لاٹھیاں کھاتے ہوئیں یہ کہہ رہے تھے کہ گولیاں چلاؤ، اب حکومت کا اقتدار میں رہنا بلکل بھی جائز نہیں ہے لیکن یہ حکومت تانا شاہی پر اتری ہوئی ہے یہ کسی بھی حال میں اپنی حکومت کو گرنے نہیں دینا چاہتی ایک وزیر تعلیم کے استعفیٰ ان کے لیے لاکھو بچوں کی جان اور مستقبل سے بڑھ کر ہے یہاں تک کہ یہ جھوٹے مکار سیاست دان اپنی کرسی بچانے کے لیے ملک کے مستقبل کے ساتھ کھلواڑ کر رہے ہیں۔ اصل میں انھیں ڈر اس بات کا ہے کہ اگر آج ایک وزیر کو معزول کردیا گیا تو یہ حکومت کے بیک فٹ پر آنے کے مترادف ہوگا جس کے بعد عوام کے دلوں سے یہ حکومت کے ظلم و جبر اور قانون کے غلط استعمال کرتے ہوئے پابند سلاسل کرنے کا ڈر و خوف ختم ہوجائے گا اور ایک کے بعد ایک سب کا نمبر لگے گا اور یہ چیز ہوکر رہی گی چ ہے حکومت کتنا ہی ظلم کرلے لاکھ کوششیں کرلے۔
کسی بھی ملک کے نوجوان اس ملک کی ریڈ کی ہڈی کہلاتے ہیں وہ اپنے ملک کا مستقبل طے کرتے ہیں حکومت کو یہ یاد رکھنا چاہیے کہ عوام کے دلوں کو جیتے بغیر ان پر حکومت نہیں کی جاسکتی ہیں۔ اب ان نوجوانوں کے آنکھوں سے پردہ ہٹ رہا ہے۔ بی جے پی نے فرقہ واریت اور مذہب و ذات پات کے نام پر بانٹ کر کرسی حاصل کی ہے لیکن اس نفرت کی آگ میں صرف اقلیتیں نہیں آئی ہیں بلکہ تمام ملک کی عوام اس کا خمیازہ بھگت رہی ہیں راحت اندوریؔ نے سچ کہا تھا
لگے گی آگ تو آئیں گے گھر کئی زد میں
یہاں پہ صرف ہمارا مکان تھوڑی ہے
یہ چنگاری حکومت کے کرسی کے نشے کو آگ میں دھکیلنے کے لیے کافی ہیں اور یہ سلسلہ رکنے والا نہیں ہے۔ اسے آخری انجام تک پہنچانے کا کام نوجوانوں کا ہیں۔ ملک کے نظام کو درست کرنا تعلیم یافتہ قابل نوجوانوں کی ذمہ داری ہیں۔ بہتر مستقبل کے لیے ملک کے تمام جمہوری ستونوں کا مضبوط اور درست ہونا نہایت ضروری اور ناگزیر ہے۔ ورنہ یہ نفرتیں عناصر جو فرقہ وارانہ ماحول تیار کرتے ہیں اور انتخابات میں جیت حاصل کرتے ہیں یہ عوام کے ووٹوں کو پیسوں میں خرید کر عوام کو غلامی اور ذلت کی طرف دھکیلنا چاہتے ہیں۔
ان حکمرانوں کے اپنے بچے یورپی ممالک میں اعلی تعلیم حاصل کرتے ہیں اور وہی کی رہائش اختیار کرلیتے ہیں لیکن یہاں غریب مزدوروں اور کسانوں ، اقلیتیں برادری کے بچوں کو مذہبی منافرت کی جال میں پھنسانے کا کام کیا جاتا ہے ان کے دلوں، دماغوں میں ضمیر فروش میڈیا کے ذریعے ایک دوسری کمیونٹی کے خلاف نفرت کی آگ بھڑکائی جاتی ہیں، ان غریبوں کے حقوق کو مارا جاتا ہے۔ ان غریب عوام کے بچوں کے عورتوں کے لیے دیہاتیوں، گاؤں بستیوں میں بنیادی انسانی سہولیات مہیا نہیں کی جاتی ہیں۔ ہسپتالوں، اسکولوں، سڑکوں کے نام پر کروڑوں روپے کے فنڈ حکومتی خزانے سے لے کر ہڑپ کرلیے جاتے ہیں لیکن غریب کے بچے کو وقت پر دوائی اور ایمرجنسی میڈیکل سروسز نا ملنے کی وجہ سے وہ راستے میں دم توڑ دیتا ہے۔ خواتین کے لیے خصوصی امراض کی تشخیص و علاج کے لیے خواتین ڈاکٹر ہسپتال میں موجود نہیں ہوتی ہیں لیکن مہینے کو سیلری ان کے اکاؤنٹ میں برابر جمع ہوتی رہتی ہیں۔
راستوں، ریلوے ٹریک، اسکولوں، سرکاری عمارتوں اور بریجوں کی تعمیر کے کانٹریکٹ حکومت اپنے حواریوں کو دیتی ہے! جو خراب مٹریل میں پروجیکٹ کی تعمیرات کرتے ہیں لیکن کچھ ہی عرصہ میں وہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوجاتے ہیں یا پھر کوئی بڑا حادثہ رونما ہوتا ہے جس میں عام عوام کی جانیں چلی جاتی ہیں جس کے بعد ریاستی اور مرکزی حکومتیں ان کے خاندانوں کو معاوضہ دینے کا اعلان کرتی ہیں، ایس آئی ٹی جانچ کا حکم دیتی ہیں یہ سب صرف کاغذوں پر ہوتا ہے لیکن کبھی ان مجرموں اور کانٹریکٹ مافیاؤں پر الزامات عائد نہیں کیے جاتے نا ہی سزا دی جاتی ہیں۔ ملک بھر میں سینکڑوں ہزاروں ہنستے کھیلتے گھر ایسے ہی تباہ و برباد ہوجاتے ہیں لیکن حکومت کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی ہے۔ جب تک حکومت اپنی ذمہ داریوں کو لے کر جواب دہ نہیں ہوتی ہے تب تک یہ نظام درست نہیں ہوگا اور اس کے لیے حکومت سے مطالبات کرنا احتجاج کرنا ضروری ہے۔