بدھ. جولائی 22nd, 2026

ظریفانہ: رام مندر پھر سے عدالت اور ایوان میں

ظریفانہ: رام مندر پھر سے عدالت اور ایوان میں

ظریفانہ:
رام مندر پھر سے عدالت اور ایوان میں

ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان

للن مشرا نے کلن سینگر سے کہا یار اپنے رام راجیہ میں یہ کیا ہورہا ہے؟
کلن بولا بھائی میں تو یہ مانتا ہوں کہ ’وہی ہوتا ہے جو منظورِ خدا ہوتا ہے‘۔
یہ کیا مسلمانوں والی بات کہہ دی لگتا ہے تم پر سنگھ کی ساری تربیت کا کوئی اثر نہیں ہوا؟
ہوا کیوں نہیں ؟ سنگھ نے مجھے اندریش کمار کے ساتھ مسلمانوں میں کام کرنے کا حکم دیا تو مجھے ان شاء اللہ اور ماشاءاللہ کے ساتھ یہ سب سیکھنا پڑا۔
اچھا سمجھ گیا لیکن مجھے یہ پریشانی ہے کہ ہمارے رام مندر میں اب وہ سارے لوگ خلل اندازی کررہے ہیں جنھوں نے اس میں کوئی حصے داری نہیں لی۔ کلن نے کہا وہ کیسے لیتے ہم نے تو اسے پرائیویٹ لمیٹیڈ بنادیا۔ شنکرآچاریہ سمیت ہنومان گڑھی تک کو قریب پھٹکنے نہیں دیا تو دوسروں کی کیابساط؟
ہاں بھیا وہ تو ہے مگر ایوان پارلیمان میں چندہ چوری کا معاملہ اٹھانے کی تُک ہے؟ تم ہی بتاو پارلیمنٹ نے مندر کی تعمیر میں کیا کیا؟
اچھا! تو کس نے کیا ؟
للن بولا ہندو عوام نے چندہ دیا اور ہم نے کھالیا ۔ یہ ہمارا آپس کا معاملہ ہے ۔ بیچ میں پارلیمنٹ کیسے آگئی ؟وہاں ہم سے حساب کیوں مانگا جارہا ہے؟؟
کلن نے کہا بھائی تم اس کو ایک مثال سے سمجھو ۔ فرض کرو تم نے میرے مال کی چوری کی تو میں کیا کروں گا ؟
دیکھو کلن۔ ہم برہمن ہیں ہم چوری نہیں کرتے اس لیے یہ مثال غلط ہے۔
رام مندر کابیشتر چندہ تو انل مشرا نامی برہمن نے ہی چوری کیا پھربھی میں مثال کو الٹ دیتا ہوں فرض کرو میں نے تمہارا مال غصب کرلیا تو تم کیا کروگے؟
اب ٹھیک ہے ۔ میں تم سے اپنا مال واپس چھین لوں گا اور کیا؟
لیکن اگر میں طاقتور ہوں ۔ مجھے اقتدار کی پناہ حاصل ہے توتم کیا کروگے ؟
میں عدالت سے رجوع کروں گا ۔
صحیح کہا۔ وہاں تمہارا اور میرا مقدمہ کون لڑے گا ؟
کیا بچوں جیسے سوالات کرتے ہو؟ تمہارے اور میرے وکیل لڑیں گے ۔
وہی تو !چندہ چوروں کی وکالت کمل چھاپ ارکان پارلیمان اور جس عوام کا چندہ چوری ہوا ہے اس کی طرٖف حزب اختلاف وکیل بن کر کھڑا ہوا ہے۔
للن نے کہا چلو مان لیا لیکن پھر عدالت کو پھٹے میں ٹانگ ڈالنے کی کیا ضرورت ہے؟
ارے بھائی عدالت کے غلط فیصلے کی وجہ سے ہی تو بابری مسجد کی زمین ہمارے قبضے میں آئی۔ تم اس کو برابھلا نہیں کہہ سکتے ۔
میں مانتا ہوں کہ ۶؍سال قبل اس نے ہمیں بابری مسجد کی زمین ہتھیانے میں مدد کی تھی لیکن اس کا یہ مطلب تھوڑی نا ہے کہ اب زندگی بھر کا دخل ؟
کلن نے سوال کیا اچھا یہ بتاو کہ اس بار کیا کوئی مسلمان اس معاملے کو لے کر عدالت گیا ہے ؟
گیا تو نہیں ہے لیکن بعید نہیں کہ وہ بھی درمیان میں کود پڑے یار یہ خظرناک لوگ ہیں ۔
جی ہاں مجھے بھی یہی اندیشہ ہے۔ دیکھو ہم نے سارے فیصلے ان کے خلاف کرواے پھر بھی آخر یہ مایوس کیوں نہیں ہوتے؟
ارے بھیا ان کے حق میں بھی فیصلہ ہوتا ہے رام مندرمعاملے میں توان کے تینوں موقف کی تائیدکی گئی لیکن نتیجہ خلاف نکالاگیا ۔
بھائی اس سے کیافرق پڑتا ہے۔ زمین ہمیں مل گئی اور ہم نے مندر بنادیا ۔
جی ہاں مگر اس فیصلے نے ہماری پیشانی پر غاصبانہ قبضے کا ایک کلنک لگادیا۔
ہاں یاریہ تو ہے اگر یہی فیصلہ کرنا تھا طو ل طویل پروچن دینے کی کیا ضرورت تھی ؟ سیدھا لکھ دیتے کہ نیچے مندر تھا اس لیے وہ جنم استھان ہے۔
دیکھو بھائی انسانی ضمیر بھی تو کچھ ہوتا ہے آخر کتنا گلا گھونٹیں گے ۔ اسی لیے کسی جج نے اس پر دستخط نہیں کیے۔یہ بھی تو احساس جرم کوظاہرکرتا ہے۔
خیر گڑے مردے اکھاڑنے سے کیا فائدہ؟ یہ بتاو کہ اب عدالت کہا ں سے درمیان میں آگئی؟ اور کون بدبخت وہاں پہنچ گیا؟
بھیا سپریم کورٹ میں جملہ پانچ فریق پہنچے ہوئے ہیں وہ سب کے سب ہندو ہیں ۔ مسلمان تو دور کھڑے ہوکر اس تماشے سے تفریح لے رہے ہیں ۔
کلن نے پوچھا اچھا تو کیا وہ لوگ سناتن دھرم کو بدنام کرنے کے لیے یہ سب کررہےہیں ؟ لیکن یہ تو بتاو کہ وہ ہیں کون؟
بھیا پہلی درخواست نریندر کمار گوسوامی نے دائر کی ۔ وہ چاہتے ہیں کہ سی بی آئی چندہ چوری کی تحقیقات کرے۔
یار عجیب آدمی ہے۔ سی بی آئی بھی تو ہماری ہی ہے ۔ وہ کیا کرلے گی؟
ارے بھیا گوسوامی تو مندر کے منتظم رام جنم بھومی ٹرسٹ کا آڈٹ بھی کمپٹرولر اینڈ آڈیٹر جنرل (سی اے جی) کے ذریعہ کروانا چاہتے ہیں ۔
لیکن وہ بھی سرکار کے قبضے میں ہے اس لیے کوئی خاص فرق نہیں پڑے گا ۔ اچھا بتاو دوسری عرضی کس کی ہے؟
کانگریس کے اجے کمار رائے اور دنیش کمار یادو نے بھی ، سی بی آئی کی تحقیقات کے ساتھ عطیہ دہندگان کے مفادات میں اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔
لیکن بلاوجہ وقت اور توانائی ضائع کرنے کی کیا کوئی ضرورت بھی بتائی ہے ؟
جی ہاں ان کی دلیل ہے کہ چوری ثابت ہوئے بغیر بھی ان الزامات نے رام مندر تحریک کی حامیوں میں بڑے پیمانے پر تشویش پیدا کر دی ہے۔
کلن نے تائید کی اور کہایہ بات تو درست ہے لیکن کیا کیا جائے خیر یہ بتاو کہ تیسری درخواست کس نے کردی ؟
ارے وہ راشٹریہ جنتا دل کے ایم پی سدھاکر سنگھ کا پھیلایا ہوا رائتہ ہے۔
اچھا اسی لالو کے آدمی نے یہ کیاجس نے ہمارے اڈوانی جی کی رام رتھ روک دی تھی۔ اب وہ کیا چاہتے ہیں؟
وہ سی بی آئی کی جانچ کے علاوہ ٹرسٹ کے مالیات کا سپریم کورٹ کے زیر نگرانی فرانزک آڈٹ چاہتے ہیں ۔
یہ فرانزک جانچ کیا ہوتی ہے؟
ارے بھائی اس میں تمام مالیاتی ریکارڈ بشمول فزیکل دستاویزات، ڈیجیٹل لیجرز، یو پی آئی ٹرانزیکشن لاگ اور بینک اسٹیٹمنٹس کوجانچا جائےگا۔
یار بڑے شرم کی بات ہے کہ چارہ گھوٹالا کے ملزم بھی ہم سے سوال کررہے ہیں ۔ خیر چوتھی عرضی کس کی ہے؟
بھیا وہ تو ہمارے بہت بڑے دشمن ستیش دوبے کے ہندو دھرم پریشد کی ہے جو عطیہ کے الزامات کی سپریم کورٹ کی نگرانی میں تحقیقات چاہتا ہے۔
یار ان کو معلوم ہونا چاہیے کہ یہ اندر کی بات ہے سپریم کورٹ ہمارے ساتھ ہے مگر پھر پانچواں کون ہے؟ اوروہ کیا چاہتا ہے؟
بھائی وہ تو نرموہی اکھاڑہ جس سے ہم نے مندر چھینا۔ وہ ٹرسٹ کو عوامی تشکیل نو کا طالب ہے۔
مگر ہم لوگ پھر سے اپنے لوگوں پر مشتمل ایک نیا ٹرسٹ بنادیں گے تو کیا فرق پڑے گا؟ اس لیے کیوں نہ اسی کو رہنے دیا جائے؟
نہیں، اس کے مطابق ٹرسٹ کے موجودہ ڈھانچے میں مناسب جوابدہی کا فقدان ہے اور یہ سپریم کورٹ کے (2019) فیصلے کی روح کا عکاس نہیں ہے۔
یار مجھے تو لگتا ہے کہ اپنے گھر کے بھیدی ہی لنکا ڈھا رہے ہیں ۔
جی ہاں یہی سمجھ لوایک سینئر وکیل دیودت کامت نے تو سونے ،چاندی او ر نقدی عطیات کا صحیح حساب کتاب نہ ہونے پر تشویش کا اظہار کردیا۔
یار مجھے تو ایسے لوگ سناتن کے نام پر کلنک لگتے ہیں ۔ ان لوگوں نے ہمارے دھرم کو مسلمانوں سے زیادہ نقصان پہنچایا ہے۔
صحیح کہا اس نے مشورہ دیا کہ مندر کی تعمیر کے دوران عقیدت مندوں کو جاری کی جانے والی رسیدیں ایک ویب سائٹ پر ڈالی جائیں۔
اچھا! اس سے کیا ہوگا؟
کامت کے مطابق اس سے عطیہ دہندگان اس بات کی تصدیق کر سکیں گے کہ آیا ان کے عطیات ٹرسٹ تک پہنچے یا نہیں؟
یار یہ تو بہت خطرناک تجویز ہے ۔ یہ تو پورے سنگھ پریوار کو مشکوک بنا رہا ہے ۔
جی ہاں اسی لیے اپنے نیکر دھاری سی جے آئی نے ویب سائٹ پر انکشاف سے اتفاق نہیں کیاکیونکہ عطیات کے جھوٹے دعوے کیے جا سکتے ہیں۔
یار اپنا سی جی آئی بھی رام بھگتوں کو جھوٹا دعویٰ کرنے والا کہہ کر ان کی توہین کررہا ہے ۔ ویسےان کی رسیدوں کا مناسب ریکارڈ رکھنے کا حکم ٹھیک ہے۔
ارے بھیا ایک عرضی گزار نے تو ڈیجیٹل شواہد جیسے کلوز سرکٹ ٹیلی ویژن (سی سی ٹی وی) فوٹیج کو محفوظ رکھنے کا مطالبہ بھی کردیا ۔
اچھا تو اس پر سی جی آئی کیا بولے ؟
بھیا ان سے پہلے سالیسٹر جنرل نے عدالت کو یقین دلادیا کہ یہ پہلے ہی کیا جا رہا ہے۔انہوں نے ایک معاملے میں متعدد فریقوں کی ضرورت پر سوال کیا۔
تو کیا اپنے سی جے آئی نے فقط تائید کردی ؟
جی نہیں انہوں نے ایک آئی پی ایس افسر کے تحت ایس آئی ٹی کے تشکیل نو کا حکم دے دیا۔
اس سے کیا فرق پڑتا ہے۔ اس افسر کا انتخاب اپنے یوگی کریں گے اور وہ ان کا وفادار ہوگا۔
سپریم کورٹ نے ایودھیا میں رام مندر کے لیے عطیات کی مبینہ چوری کو سیاسی رنگ دینے کے خلاف خبردار کرتے ہوئے کہا اس پر سیاست نہ کریں ۔
یار یہ بتاو رام چندر جی خود راجہ تھے تو ان کے مندر پر راجنیتی (سیاست) نہیں تو کیا صرف بھجن ہوگا ؟ سیاست تو ہوگی ہی ہوگی؟
اور نہیں تو کیا ۔ ہم اگر رام پر سیاست نہ کرتے تو اقتدار میں نہ ہوتے۔ سی جی آئی کو کیا معلوم کہ اقتدار میں رہنے کے لیے کون سے پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں ۔
ہاں بھیا یہ تو اپنے پردھان جی اور ان کے دایاں ہاتھ یعنی چانکیہ مہاراج ہی جانتے ہیں اور انہیں کی بدولت رام راجیہ آرہا ہے۔

By Maqsood

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے