Breaking
جمعرات. جولائی 23rd, 2026

میدان جنگ سے کھیل کے میدان تک شکست ہی شکست

میدان جنگ سے کھیل کے میدان تک شکست ہی شکست

میدان جنگ سے کھیل کے میدان تک
شکست ہی شکست

ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان

2026 فیفا ورلڈ کپ میں لیونل میسی کے بدولت ارجنٹینا کی کامیابی کے امکانات نہایت روشن تھے ۔ اس کے باوجود اسپین کا سرزمین امریکہ پر اسرائیل نوا ز ارجنٹینا کو ہرا نا غزہ کے زخموں پر مرہم ہے۔ اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو کو یہ خوش فہمی تھی کہ رہبر معظم علی خامنہ ای کی شہادت کے بعدایران میں اقتدار بدل جائےگا فٹبال فائنل میں اسپین کو شکست ہوگی ۔ اس لیے انہوں نے فائنل مقابلے سے قبل ارجنٹینا کی حمایت کردی ۔ ماضی میں اسپین صرف 2010میں فائنل جیتا تھا اس لیے اس کی کامیابی کا امکان کم تھا۔نیتن یاہو نے اس کی شکست کا سہرہ اپنے سر باندھنے کے چکر میں فائنل میچ کے خاتمے کا انتظار کرنے کے بجائے ارجنٹینا کے صدر خاویر میلی کو ٹیلی فون پر کہہ دیا کہ : "آپ ہمارے حقیقی دوست ہیں، ہم کل کے میچ میں ارجنٹینا کی حمایت کریں گے اور آپ کی کامیابی کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کرتے ہیں۔” جواب میں کہاگیا کہ اسرائیلی وزیرِاعظم ہمیشہ ان کے ملک کے حامی رہے ہیں اور ارجنٹینا کی حمایت پر خوشی ظاہر کی گئی ۔میدانِ جنگ میں ایران کے ہاتھوں شکست کھانے کے بعد اسرائیلی وزیرِاعظم انتخابی مہم میں اپنی شبیہ سدھارنے میں مصروف ہیں تاکہ اسرائیلی عوام کو پھر سےجھانسادےسکیں ۔
اسپین کے غزہ کی جنگ اور ایران سے متعلق اسرائیل کی پالیسیوں کے خلاف سخت مؤقف کے سبب نیتن یاہو نے اسرائیل میں ارجنٹینا کے سفیر کے ساتھ ملاقات کرکے اختتام پر انہیں ارجنٹینا کی قومی ٹیم کی جرسی پیش کی۔ ماضی میں بھی نیتن یاہو ارجنٹینا کے صدر سے قریبی تعلقات اور لیونل میسی سے اپنی دلچسپی کو اپنی حمایت کی وجوہات قرار دے چکے ہیں لیکن غزہ کے مسئلے پر اسرائیلی حکام کی اسپین سے پرخاش اصلی سبب ہے۔ ورلڈ کپ سیمی فائنل کے بعد نیتن یاہو کے علاوہ اسرائیل میں قومی سلامتی کے وزیر ایتامار بن گویر، وزیرِ خزانہ بتسلئیل اسموتریچ اور وزیرِ خارجہ گدعون ساعر بھی ارجنٹینا کی کامیابی کی حمایت اور فائنل تک رسائی پر مبارک باد کا اظہار کر چکے تھے۔ ویسے تو فی الحال فرانس سمیت بیشتر یوروپی ممالک غزہ نسل کشی کے بعد اسرائیل سے نفرت کرنے لگے ہیں مگر ان میں اسپین کاشمار شدید ترین ناقدین میں ہوتا ۔ اسپین باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کے ساتھ ساتھ اسرائیلی فوجی حکام کے خلاف تحقیقات کا بھی حامی ہے۔ غزہ کی صورتحال ا سپین اور اسرائیل کے مابین سفارتی تعلقات میں کشیدگی کا باعث ہے۔ اسپین کے باضابطہ طور پر آزاد فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کے فیصلے پر اسرائیل نے سخت ردِ عمل کا اظہار کیا تھا۔
ہسپانوی وزیرِ اعظم پیدرو سانچیز کی حکومت نے غزہ میں انسانی بحران اور جانی نقصان کے پیشِ نظر اسرائیل کو اسلحے کی فراہمی پر سخت پابندی عائد کر رکھی ہے۔ اس کے علاوہ اسپین نے بین الاقوامی عدالتِ انصاف (ICJ) میں جنوبی افریقہ کی جانب سے اسرائیل پر دائر کیے گئے مبینہ نسل کشی کے مقدمے میں غیر معمولی دلچسپی لے کر جب اپنی حمایت کا اظہار کیا ےو صہیونیوں کے تن بدن میں آگ لگ گئی۔ اسپین نے ابھی حال میں غزہ جانے والے امدادی بحری قافلوں اور فلسطینی علاقوں میں اپنے امدادی کارکنوں کی حراست پر بھی اسرائیل کے خلاف تحقیقات کا آغاز کردیا ہے۔وہ چونکہ دو ریاستی حل کو اس دیرینہ تنازع کے خاتمے کا واحد راستہ مانتا ہے اوراس پر بین الاقوامی برادری کو عملی اقدامات کرنے کی ترغیب دیتا ہے اس لیے اسرائیلی حکومت اسپین کے اس سخت مؤقف کو یکطرفہ اور دہشت گردی کی حوصلہ افزائی قرار دیتی ہے۔ان وجوہات کی بناء پر پوری اسرائیلی حکومت ارجنٹینا کی حمایت میں اتر گئی مگر یہ نوٹنکی اسے فتح سے ہمکنار نہ کرسکی بلکہ شاید یہی اس کی شکست کی وجہ بن گئی۔
اسرائیل کے قریب ترین حلیف کی حیثیت سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی بھی یہی خواہش رہی ہوگی کہ امریکہ کی سرزمین پر اسپین کو فتح نصیب نہ ہو مگر ا نہوں نے صبرو ضبط کا مظاہرہ کرتے ہوئے ارجنٹینا کی پیشگی حمایت سے گریز کیا اور نیتن یاہو کی مانند ذلیل و رسوا ہونے سے بچ گئے۔ فائنل میں اسپین کی کامیابی کے بعدٹرمپ نے کہا ’’میں نے اسپین سے بات کی اور انہیں ایک شاندار ٹیم ہونے پر مبارک باد دی۔ میری ان کے ساتھ کوئی کشیدگی نہیں ہے‘‘۔ اس بیان کے اندر چور کی داڑھی کا تنکہ صاف نظر آتا ہے کیونکہ اگر کشیدگی نہ ہوتی تو صفائی دینے کی ضرورت ہی کیا تھی؟صدر ٹرمپ نے اعلیٰ ظرفی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا کہ ’’میرے خیال میں دونوں ٹیموں نے شاندار کھیل پیش کیا۔ اگرچہ میری نظر میں اسپین نے بہتر کارکردگی دکھائی، لیکن دونوں ٹیموں نے بہترین مقابلہ کیا۔ آخرکار وہ فائنل تک پہنچے اور میچ انتہائی سنسنی خیز رہا۔ ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ اسپین کا پلڑا بھاری ہے، اس کے باوجود مقابلہ بہت سخت تھا۔ یہ واقعی ایک شاندار میچ اور یادگار ایونٹ تھا۔‘‘
فیفا پروٹوکول کے مطابق، ٹرمپ اور فیفا کے صدر گیانی انفیٹینو ہسپانوی کپتان روڈی کو تمغے اور گولڈ ٹرافی پیش کرنے کے لیے میدان میں آئے۔ تاہم تقریب کے بعد بھی پوڈیم سے نکلنے کے بجائے ٹرمپ ہسپانوی کھلاڑیوں کے درمیان کھڑے رہے۔ اس حرکت نے فیفا کے صدر گیانی انفینٹینو کو شش و پنج میں مبتلا کردیا ۔ انہوں نے کئی بار اشارہ کیا، یہاں تک کہ صدر ٹرمپ کو میدان کے مرکز سے دور کھینچ کرکنارے پر لے آئے اور اس کے بعدہی بادلِ ناخواستہ امریکی صدر ایک طرف ہٹے یعنی ٹیم کے جشن کا حصہ بن کر اپنی تصویرمشتہر کرنے کی کوشش میں ناکام ہوگئے۔ ماہرین کھیل کے مطابق یہ دو متضاد فلسفوں کے درمیان عقل کی جنگ تھی۔ ایک فریق یعنی ارجنٹینا نے کھیل کو کھردرا اور منقسم بنانے کی کوشش کی۔ دوسرا یعنی اسپین فٹ بال کے اپنے منتخب اندازپر ڈٹا رہا۔اسپین نے پورے کھیل میں اپنی شناخت نہیں کھوئی ۔اسپینی ٹیم نے صبر سے گیند کو کنٹرول کیا، حریف کے ہاف میں پچ کو اونچا دبایا، اور پورے میچ میں اس شدت کو برقرار رکھا۔
ارجنٹینا سے شدید ترین خطرہ میسی کا تھا ۔ اسپین نے اس کی گیند فراہمی کو تقریباً مکمل طور پر کاٹ دیا۔ جب بھی ارجنٹائنی کپتان نے گیند حاصل کی، دو یا تین ہسپانوی کھلاڑی فوراً ہی اس کے سامنے آجاتے اور اس سے پینترےبازی کا موقع چھین لیتے ۔اعدادو شمار کے مطابق ارجنٹینا صرف 34.9 فیصدوقت گیند پر کنٹرول رکھ سکا اور پورے میچ میں اسےصرف 2 شاٹس ملے جبکہ ا سپین کے پاس 20 شاٹس تھے اور اس نے اپنے حریف کو مسلسل دفاعی پوزیشن میں دھکیل دیا۔ارجنٹینا کا سارا نحصارلیونل میسی پر تھا جبکہ اسپین کسی ایک اسٹار کھلاڑی کے بجائے ایک مستحکم نظام، صبر اور اپنے فٹ بال فلسفے پر اٹل یقین کی وجہ سے جیت گیا۔ میدانِ جنگ ہو یا کھیل کا میدان ، یہی مزاج کامیابی کی شاہِ کلید ہے۔ ارجنٹینا نے فائنل کو طاقت کی جنگ میں بدلنے کی کوشش کی مگر اسپین نے اسے فٹ بال میچ میں بدل کر فتح حاصل کرلی ۔ یہی دونوں ٹیموں کے درمیان سب سے بڑا فرق تھا جس نے اسپین کو طلائی تمغے کا حقدار بنادیا۔
فٹبال کی دنیا کے نئے ہیرو یامال نے صدر ٹرمپ سے نہایت سردمہری سے ہاتھ ملاکر اپنی ناراضی کا اظہار کیا اورشکریہ تو دور ان کی جانب دیکھا تک نہیں۔ اس طرح گویافٹبال کےیہ عالمی تمغہ فلسطین کی نذر ہوگیا۔اسپین کی فائنل جیت سے قبل فلسطین کی کھل کر حمایت کرنے والے ہسپانوی قومی ٹیم کے معروف فٹبالر بورخا ایگلیسیاس نے اسپین کے ورلڈ کپ جیتنے کی صورت میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ممکنہ مصافحے کے حوالے سے کہا تھا کہ’’ اگر تقریب انعامات کے دوران انہیں ٹرمپ سے ہاتھ ملانا پڑا تو وہ صرف یہی چاہیں گے کہ "یہ مصافحہ جلد از جلد ختم ہو جائے تاکہ میں اسے فوراً بھلا سکوں۔” انہوں نے مسکراتے ہوئے یہ بھی کہا تھاکہ "مصافحہ کرنا تو مجبوری ہے، میں جیل نہیں جانا چاہتا۔”یہ و ہی ایگلیسیاس ہیں جنھوں نے فلسطینی عوام کے ساتھ اپنی بھرپور یکجہتی کا اعادہ کرتے ہوئے غزہ میں جاری اسرائیلی کارروائیوں پر سخت تنقید کی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ غزہ میں جو کچھ ہو رہا ہے، وہ کسی بھی کھیل یا اس سے متعلق احتجاج سے کہیں زیادہ سنگین معاملہ ہے۔
بورخا ایگلیسیاس ہسپانوی فٹبال کے ان چند کھلاڑیوں میں شمار کیے جاتے ہیں جو میدان سے باہر بھی انسانی اور سماجی مسائل پر بے باکی سے اپنی رائے کا اظہار کرتے رہےہیں، جس کے باعث وہ کھیل کے ساتھ ساتھ اپنے اصولی مؤقف کی وجہ سے بھی مسلسل بحث کا موضوع بنے رہتے ہیں۔ اس لیے یہ کہنا بیجا نہ ہوگا اس عالمی فٹبال مقابلے میں ایگلیسیاس اور لامین یامل نے ٹرمپ و نیتن یاہو کو بلواسطہ شکست فاش سے دوچار کردیا ۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے چہرے پر اس تقریب میں "افسردگی” کے تاثرات ان کے سیاسی ایجنڈے کی ناکامی کا عکس تھا۔ حقیقت یہی ہے کہ ارجنٹینا کی شکست امریکہ و اسرائیل کی ہار اور اسپین کی جیت "مسلم دنیا” کی فتح بن گئی کیونکہ اس نےاصولی موقف کے تحت حالیہ عالمی بحرانوں میں مظلوموں کی خاطر آواز اٹھائی اور اپنے قریبی تعلقات کی پروا کیے بغیر اخلاقی موقف اختیار کرکےعالمِ اسلام کے دل جیت لیا۔ لامین یامل جیسے کھلاڑیوں کا سجدہ اور اسپین کی ٹیم کا مظلوموں کے ساتھ کھڑا رہنا، یہ ثابت کرتا ہے کہ فٹبال صرف گول کرنے کا نہیں، بلکہ انسانیت کا پرچم بلند کرنے کا نام بھی ہے۔

By Maqsood

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے