ازقلم: انوار الحق قاسمی
(ترجمان و سکریٹری جمعیت علماء روتہٹ نیپال)
ریاکاری اور دکھلاوا قبولیت عمل کے اعتبار سےکفر و شرک سے گہری مشابہت رکھتے ہیں۔ جس طرح کفر و شرک کے ساتھ انجام دی جانے والی کوئی عبادت، طاعت یا نیک عمل اللہ تعالیٰ کے ہاں شرفِ قبولیت نہیں پاتا، اسی طرح اگر کوئی صاحبِ ایمان محض ریاکاری اور لوگوں میں مقبولیت حاصل کرنے کے لیے کوئی نیک عمل یا عبادت انجام دے، تو اللہ تعالیٰ اس کے اس عمل کو بھی ہرگز قبول نہیں فرماتا؛ کیوں کہ ربِّ کائنات صرف اسی عمل کو شرفِ قبولیت عطا فرماتا ہے جو خالصتاً اسی کی رضا کے لیے کیا گیا ہو۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک وہ عمل کوئی وقعت نہیں رکھتا جو اخلاص سے خالی ہو۔ قیامت کے دن- ہر اس عبادت اور نیک عمل کے سلسلے میں جس میں دکھاوے کا پہلو ہوگا-اللہ تعالیٰ فرمائیں گے: أنا أغنى الشركاء: میں بھاگی داروں میں سب سے زیادہ بےنیاز ہوں،یعنی میری عبادت بھاگی داری میں کی گئی ہے،میرے علاوہ اس میں شریک کیا ہے: مجھے اس کی ضرورت نہیں ہے،نہ میرے پاس اس کا صلہ ہے۔ لے جاؤ اس کو شریک کے پاس اور لے لو اس سے بدلہ ! لہذا دین کی روح اخلاص ہے اور ہر عبادت و طاعت کی قبولیت کا مدار اسی پر ہے۔
قرآن حکیم میں اللہ تعالیٰ کا بلند ارشاد ہے:إِنَّا أَنزَلْنَا إِلَيْكَ الْكِتَابَ بِالْحَقِّ فَاعْبُدِ اللَّهَ مُخْلِصًا لَّهُ الدِّينَ.[ الزمر: 2]
ترجمہ :ہم نے یہ کتاب آپ کی طرف حق کے ساتھ نازل کی ہے،اسی لیے آپ اللہ کے لیے عبادت کو خالص کرتے ہوئے اسی کی عبادت کیجیے ۔
اس آیت کریمہ میں رسول اللہ- صلی اللہ علیہ وسلم- کو خطاب کرکے حکم دیا گیا ہے کہ اللہ کی عبادت و طاعت کو خالص اسی کے لیے کریں،جس میں کسی غیراللہ کے شرک یا ریاء و نمود کا شائبہ نہ ہو۔ یقیناً اخلاص دین صرف اللہ ہی کے لیے سزاوار ہے،اس کے سوا اور کوئی مستحق نہیں ۔ حضرت ابو ہریرہ- رضی اللہ عنہ- سے روایت ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ- صلی اللہ علیہ وسلم -سے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! میں بعض اوقات کوئی صدقہ و خیرات کرتا ہوں یا کسی پر احسان کرتا ہوں ،جس میں میری نیت اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی کی بھی ہوتی اور یہ بھی کہ لوگ میری تعریف و ثنا کریں گے،رسول اللہ-صلی اللہ علیہ وسلم -نے فرمایا قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں محمد کی جان ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی ایسی چیز کو قبول نہیں فرماتے،جس میں کسی غیر کو شریک کیا گیا ہو اور پھر آپ نے تلاوت فرمائی:أَلَا لِلَّهِ الدِّينُ الْخَالِصُ. آگاہ رہو کہ عبادت خالص اللہ ہی کے لیے ہے۔(قرطبی)
دین کو اللہ کےلیے خالص کرکے اس کی بندگی کرنے کا مطلب یہ ہے کہ ” آدمی اللہ تعالیٰ کی بندگی کے ساتھ کسی دوسرے کی بندگی شامل نہ کرے، بل کہ اسی کی پرستش،اسی کی ہدایت اور اسی کے احکام و اوامر کی اطاعت کرے۔”
*عمل میں کثرت نہیں،حسن مطلوب ہے*
خدائے پاک کے یہاں عمل میں کثرت نہیں؛ بل کہ حسن مطلوب ہے۔ ارشادِ ربانی ہے: الَّذِي خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَيَاةَ لِيَبْلُوَكُمْ أَيُّكُمْ أَحْسَنُ عَمَلًا ۚ وَهُوَ الْعَزِيزُ الْغَفُورُ.(سورة ملك:آیة2)
ترجمہ: جس نے موت اور حیات کو پیدا کیا تاکہ تمہاری آزمائش کرے کہ تم میں کون شخص عمل میں زیادہ اچھا ہے اور وہ زبردست بخشنے والا ہے۔
یہاں یہ بات قابلِ نظر ہے کہ انسان اس آزمائش میں جو اس کی موت و حیات سے وابستہ ہے حق تعالیٰ نے یہ فرمایا کہ ہم یہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ تم میں سے کس کا عمل اچھا ہے،یہ نہیں فرمایا کہ کس کا عمل زیادہ ہے،اس سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک کسی عمل میں مقدار کا زیادہ ہونا قابلِ توجہ نہیں؛بل کہ عمل کا اچھا اور صحیح و مقبول ہونا معتبر ہے۔اسی لیے قیامت میں انسان کے اعمال کو گنا نہیں،بل کہ تولا جائے گا،جس میں بعض ایک ہی عمل کا وزن ہزاروں اعمال سے بڑھ جائے گا۔
” حسن عمل” کیاہے؟ حضرت ابنِ عمر- رض- فرمایا کہ نبی کریم -صلی اللہ علیہ وسلم- یہ آیت تلاوت فرمائی یہاں تک کہ ” احسن عملا” تک پہنچے تو فرمایا کہ :” احسن عملا وہ شخص ہے جو اللہ کی حرام کی ہوئی چیزوں سے سب سے زیادہ پرہیز کرنے والا ہو اور اللہ کی اطاعت میں ہر وقت مستعد رہتا ہو۔” (قرطبی)
*کمال اخلاص کا اثر *
صحابہ کرام- رضوان اللہ علیہم اجمعین- جو مسلمانوں کی صف اول میں ہیں ان کے اعمال و ریاضات کی تعداد کچھ زیادہ نظر نہیں آئے گی؛ مگر اس کے باوجود اس کا ایک ادنی عمل باقی امت کے بڑے بڑے اعمال سے فائق ہونے کی وجہ ان کا کمال ایمان اور کمال اخلاص ہی تو ہے۔(معارف القرآن)
*مومن کی ہر عبادت خالص اللہ کے لیے ہونی چاہیے*
ہر مومن ہر وقت یہ بات مد نظر رکھے کہ اس کی ہر عبادت خالص اللہ ہی کے لیے ہے،جو سارے جہاں کا مالک حقیقی ہے۔ ارشادِ خداوندی ہے: قُلْ إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ.[ الأنعام: 162]
ترجمہ: آپ فرما دیجئے کہ (اس دین کا حاصل یہ ہے کہ) بالیقین میری نماز اور میری ساری عبادات اور میرا جینا اور مرنا،یہ سب خالص اللہ ہی کےلیے ہے جو مالک ہے سارے جہاں کا۔
انسان اپنی زندگی کے ہر حال میں اور ہر کام میں اس کو پیشِ نظر رکھے کہ میرا اور تمام جہان کا ایک رب ہے۔میں اس کا بندہ اور ہر وقت اس کی نظر میں ہوں۔میرا قلب،دماغ،آنکھ،کان،زبان،اور ہاتھ پیر،قلم اور قدم اس کی مرضی کے خلاف نہ اٹھنا چاہیے۔
یہ وہ مراقبہ ہے کہ اگر انسان اس کو اپنے دل و دماغ میں مستحضر کرلے تو صحیح معنی میں انسان اور کامل انسان بن جائے اور گناہ و معصیت اور جرائم کا اس کے آس پاس بھی گذر نہ ہو۔(معارف القرآن)
اور مسلمان وہ ہے جو اللہ سے لو لگائے،نماز ہو یا زکات،مرنا ہو یا جینا: سب ایک اللہ کے لیے ہو،اس میں کوئی دوسرا شریک نہ ہو اور ہر مسلمان کی یہ خواہش ہو کہ وہی اول نمبر کا فرماں بردار بنے۔(ہدایت القرآن)
*عمل کی قبولیت کے لیے اخلاص ضروری ہے*
یقیناً اللہ تعالیٰ صرف اسی عمل کو قبول فرماتا ہے، جسے پورے طور پر اللہ کے لیے اور اس کی خوش نودی کے حصول کی خاطر کیا جائے اور اس میں کسی کو شریک نہ ٹھہرایا جائے۔ حدیث شریف کی عبارت ہے:
عَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ رضي الله عنه قَالَ:
جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: أَرَأَيْتَ رَجُلًا غَزَا يَلْتَمِسُ الْأَجْرَ وَالذِّكْرَ، مَا لَهُ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا شَيْءَ لَهُ» فَأَعَادَهَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، يَقُولُ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا شَيْءَ لَهُ» ثُمَّ قَالَ: «إِنَّ اللَّهَ لَا يَقْبَلُ مِنَ الْعَمَلِ إِلَّا مَا كَانَ لَهُ خَالِصًا، وَابْتُغِيَ بِهِ وَجْهُهُ»(صحيح/رواه النسائي/سنن النسائي – 3140)
ترجمہ:حضرت ابو امامہ باہلی- رضی اللہ عنہ- سے روایت ہے، وہ کہتے ہيں:ایک شخص اللہ کے نبی -صلی اللہ علیہ و سلم- کے پاس آیا اور عرض کیا : ایسے شخص کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے، جو جہاد میں اجر اور شہرت کی طلب میں شریک ہوتا ہو؟ اسے کیا ملے گا؟ اللہ کے رسول- صلی اللہ علیہ و سلم- نے جواب دیا : "اسے کچھ نہيں ملے گا۔” اس نے اپنا سوال تین بار دوہرایا اور اللہ کے رسول- صلی اللہ علیہ وسلم- نے ہر بار یہی کہا کہ "اسے کچھ نہيں ملے گا۔” پھر فرمایا : "بلاشبہ اللہ اسی عمل کو قبول کرتا ہے، جو خالص اسی کے لیے اور اس کی رضامندی کے حصول میں کیا جائے۔” (سنن النسائي – 3140)
پس اللہ بس اسی عمل کو قبول کرتا ہے، جسے خالص طور پر اللہ کے لیے اور اس کے نبی- صلی اللہ علیہ و سلم- کے طریقے کے مطابق کیا جائے۔
*ریاکاری اعمال کے لیے مضر ہے*
عمل خالص اللہ کی رضا جوئی کے لیے کرنا ضروری ہےاور انسان کو ریاکاری سے خبردار رہنا چاہیے۔
حدیث مبارکہ کی عبارت ہے: عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ رضي الله عنه أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:
«إِنَّ أَخْوَفَ مَا أَخَافُ عَلَيْكُمُ الشِّرْكُ الْأَصْغَرُ» قَالُوا: وَمَا الشِّرْكُ الْأَصْغَرُ يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ: «الرِّيَاءُ، يَقُولُ اللهُ عز وجل لَهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِذَا جُزِيَ النَّاسُ بِأَعْمَالِهِمْ: اذْهَبُوا إِلَى الَّذِينَ كُنْتُمْ تُرَاؤُونَ فِي الدُّنْيَا، فَانْظُرُوا هَلْ تَجِدُونَ عِنْدَهُمْ جَزَاءً؟». (مسند أحمد – 23630)
ترجمہ: حضرت محمود بن لبید- رضی اللہ عنہ-سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول -صلی اللہ علیہ و سلم- نے فرمایا :”بلاشبہ مجھے تم پر جس چیز کا خوف سب سے زیادہ ہے، وہ شرک اصغر ہے۔” صحابہ نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول! شرک اصغر کیا ہے؟ آپ نے جواب دیا : "ریا۔ اللہ عز و جل قیامت کے دن اس طرح کے لوگوں سے کہے گا : ان لوگوں کے پاس جاؤ، جن کو دکھانے کے لیے تم دنیا میں عمل کرتے تھے۔ دیکھو، کیا تم ان کے یہاں بدلہ پاتے ہو؟”
*اللہ تعالیٰ دلی کیفیت کو دیکھتا ہے*
اللہ بندوں کے رنگ وروپ اور ان کے جسموں کو نہیں دیکھتا کہ خوب صورت ہيں یا بد صورت؟ تندرست ہیں یا بیمار؟اور ان کی دولت بھی نہیں دیکھتا کہ کم ہے یا زیادہ؟ بل کہ اللہ ان کے دلوں اور دلوں کے اندر موجود تقوی، یقین، سچائی، اخلاص یا پھر ریاکاری اور شہرت طلبی کو دیکھتا ہے۔
حدیث شریف کی عبارت ہے: عن أبي هريرة رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:
«إِنَّ اللهَ لَا يَنْظُرُ إِلَى صُوَرِكُمْ وَأَمْوَالِكُمْ، وَلَكِنْ يَنْظُرُ إِلَى قُلُوبِكُمْ وَأَعْمَالِكُمْ»(صحيح مسلم: 2564)
ترجمہ: حضرت ابو ہریرہ -رضی اللہ عنہ- سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول- صلی اللہ علیہ وسلم- نے فرمایا:”اللہ تمھارے جسموں اور تمھاری شکلوں کو نہیں دیکھتا، بلکہ وہ تمھارے دلوں اور اعمال کو دیکھتا ہے“۔
اس لیے انسان کو مال و دولت، خوب صورتی اور اس دنیا کی کسی بھی چیز کے دھوکے میں نہيں آنا چاہیے۔
*اخلاص سے متعلق اقوال اکابر*
حضرت عبداللہ بن مبارک -رحمہ اللہ- سے منقول ہے کہ :”اخلاص سے خالی عمل کرنے والے شخص سے کہہ دو کہ خواہ مخواہ اپنے آپ کو نہ تھکائے؛ کیوں کہ بغیراخلاص کے عمل کرنے والے کی مثال اُس مسافر کی سی ہے،جواپنے زادِ راہ کی جگہ مٹی سے اپنی چادر بھر رہا ہو؛کیوں کہ اس طرح وہ خود کو فضول کام میں تھکا رہا ہے،جس میں اُسے کوئی نفع نہیں ہے۔”
امام ابن کثیر دمشقی- رحمہ اللہ- فرماتے ہیں: "تم نیت کی درستی اور اس کی حقیقت اچھی طرح سیکھ لو؛کیوں کہ یہ عمل سے زیادہ طاقت ورہے اور یہ نیت بسااوقات انسان کواتنی بلندی تک پہنچا دیتی ہے جہاں تک عمل نہیں پہنچا سکتا۔”
بعض اسلاف سے منقول ہے وہ فرماتے تھے:” میرادل یوں چاہتا ہے کہ مجھے اور کوئی مصروفیت نہ ہوتو میں لوگوں کوصرف نیت کی تعلیم دینا شروع کردوں؛ کیوں کہ بہت سے لوگ اس کی حقیقت نہ جاننے کی وجہ سے اپنے بڑے بڑے عمل ضائع کربیٹھتے ہیں۔”
حضرت سفیان ثوری- رحمہ اللہ- فرماتے ہیں: "ہر وہ عمل جسے میں لوگوں کے سامنے ظاہر کردیتا ہوں، اسے اپنے اعمال میں شمار نہیں کرتا؛ کیوں کہ ہم جیسوں سے اُس عمل کو اخلاص سے ادا کرنا اور باقی رکھنا مشکل ہے، جسے لوگوں نے دیکھ لیا ہو۔”
حضرت یحییٰ بن معاذ- رحمۃ اللہ علیہ-سے سوال ہواکہ انسان کب مخلص ہوتا ہے ؟ فرمایا:’’ جب شیر خوار بچہ کی طرح اس کی عادت ہو ۔‘‘ یعنی شیرخوار بچہ کی کوئی تعریف کرے تو اسے خوشی نہیں لگتی اور مذمت کرے تو اسے بری نہیں معلوم ہوتی، جس طرح وہ اپنی مدح اور ذم سے بے پرواہ ہوتاہے اسی طرح انسان جب مدح وذم کی پرواہ نہ کرے تو مخلص کہا جاسکتاہے ۔
حجۃ الاسلام حضرت امام غزالی- رحمۃ اللہ علیہ- نے اپنی مایۂ ناز کتاب ’ احیاء العلوم‘ میں اخلاص سے متعلق بڑے اہم اور قیمتی افادات تحریر فرمائے ہیں ۔کہتے ہیں کہ حالت ِ نزع میں لوگوں نے آپ سے دریافت کیا کہ ’ کچھ نصیحت اور وصیت فرمائیں ‘ تو آپ آخر دم تک یہی فرماتے رہے کہ ’’ علیک بالاخلاص ‘‘ یعنی اپنے اوپر اخلاص کو لازم جانو۔ یہاں تک کہ آپ کا وصال ہوگیا۔
حضرت امام ربانی سیدنامجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے مکتوبات شریفہ میں جا بجا علم وعمل میں اخلاص کو ایمان کی جان اور مومنِ کامل کی پہچان بتا یا ہے ۔
امام شاہ ولی اللہ دہلویؒ ’’حُجّۃُ اللّٰہِ البالِغہ‘‘ میں فرماتے ہیں :’’جاننا چاہیے کہ نیت روح ہے اور عبادت جسم ہے۔ جسم بغیر روح کے زندہ نہیں رہتا۔ بدن سے جدا ہونے کے بعد روح زندہ رہتی ہے، لیکن زندگی کے کامل آثار بغیر بدن کے ظاہر نہیں ہوتے۔”
*اختتامیہ*
الغرض، عمل میں اخلاص کی حیثیت روح کی سی ہے۔ جس طرح جسم سے روح نکل جائے تو وہ مردہ اور بے جان ہو جاتا ہے، اسی طرح جب عمل سے اخلاص ختم ہو جائے تو وہ عمل، عمل ہونے کے باوجود اپنی حقیقی روح اور قدر و قیمت کھو بیٹھتا ہے۔ اسی لیے ہر مسلمان کو چاہیے کہ اپنے ہر چھوٹے بڑے عمل کو خالصتاً اللہ تعالیٰ کی رضا اور خوشنودی کے لیے انجام دے اور اپنے اعمال کو ریاکاری، نمود و نمائش اور شہرت طلبی سے محفوظ رکھے۔ یاد رکھنا چاہیے کہ اخلاص کے ساتھ کیا گیا معمولی عمل بھی اللہ تعالیٰ کے نزدیک پہاڑ کے برابر وزن اور عظمت رکھ سکتا ہے، جبکہ اخلاص سے خالی بڑے سے بڑا عمل بھی اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں ذرّہ برابر وقعت نہیں رکھتا۔ لہٰذا ہر عمل میں اخلاص کو ملحوظ رکھنا اور اسے زندگی کا لازمی شعار بنانا ہر مسلمان کی دینی ذمہ داری ہے۔