"کیا پولیس قانون سے بالاتر ہے؟
آئین، انصاف اور شہری حقوق کی روشنی میں ایک جائزہ”
ازقلم:عبدالعظیم رحمانی ملکاپوری
فیملی کاؤنسلر
قانون کیا کہتا ہے؟
ہندوستان ایک Rule of Law (قانون کی حکمرانی) پر قائم جمہوری ملک ہے۔ یہاں کسی بھی پولیس افسر کو یہ اختیار حاصل نہیں کہ وہ کسی شخص کو صرف شک کی بنیاد پر مارے ، تھپڑ رسید کرے، ڈنڈے برسائے یا تشدد کے ذریعے اقبالِ جرم کرائے ۔
آئین ہند کی درج ذیل دفعات ہر شہری کو تحفظ فراہم کرتی ہیں:
آرٹیکل 14: قانون کی نظر میں سب برابر ہیں۔
آرٹیکل 19: اظہار رائے اور پرامن اجتماع سمیت بنیادی آزادیوں کا تحفظ۔
آرٹیکل 20: قانون کے مطابق کارروائی اور خود اپنے خلاف گواہی دینے پر مجبور نہ کیا جانا۔
آرٹیکل 21: زندگی اور شخصی آزادی کا حق۔
آرٹیکل 22: گرفتاری کے وقت حقوق، وکیل سے ملاقات اور 24 گھنٹے میں مجسٹریٹ کے سامنے پیشی۔
سپریم کورٹ کی اہم ہدایات
سپریم کورٹ نے مختلف فیصلوں میں واضح کیا ہے کہ:
حراستی تشدد (Custodial Torture) غیر قانونی ہے۔
پولیس گرفتاری کی وجہ بتانے کی پابند ہے۔
خاندان کو اطلاع دینا ضروری ہے۔
گرفتاری کا ریکارڈ رکھا جائے۔
میڈیکل معائنہ کرایا جائے۔
ملزم کو وکیل سے ملاقات کا حق حاصل ہے۔
اگر پولیس تشدد کرے تو کہاں شکایت کریں؟
متعلقہ SP یا Commissioner of Police
Judicial Magistrate
State Human Rights Commission
National Human Rights Commission (NHRC)
State Legal Services Authority (SLSA)
District Legal Services Authority (DLSA)
ہائی کورٹ (رِٹ پٹیشن)
سپریم کورٹ (ضرورت پڑنے پر)
وکلاء (Advocates) اور Bar Council کی ذمہ داری
Bar Council اور وکلاء کا فرض ہے کہ
متاثرہ شخص کو قانونی امداد فراہم کریں۔
پولیس زیادتی کے خلاف عدالت میں مضبوط مقدمہ لڑیں۔
آئینی حقوق کے تحفظ کے لیے Public Interest Litigation (PIL) دائر کریں۔
غریب اور بے سہارا افراد کو قانونی رہنمائی دیں۔
عدالتی نظام پر عوام کا اعتماد برقرار رکھیں۔
Human Rights Activists کی ذمہ داری
انسانی حقوق کے کارکن:
پولیس تشدد کی دستاویزات جمع کریں۔
متاثرین کی قانونی اور سماجی مدد کریں۔
عوام میں قانونی شعور پیدا کریں۔
حکومت اور عدالت کی توجہ مبذول کرائیں۔
اصلاحات کے لیے پرامن مہم چلائیں۔
میڈیا کی ذمہ داری
غیر جانبدار رپورٹنگ۔
حقائق کی تحقیق۔
متاثرین کی آواز بننا۔
پولیس یا ملزم، دونوں کے بارے میں قبل از وقت فیصلہ نہ سنانا۔
انصاف کے تقاضوں کو اجاگر کرنا۔
پارلیمنٹ کی ذمہ داری
پولیس اصلاحات کے لیے مؤثر قانون سازی۔
حراستی تشدد کے خلاف سخت قوانین۔
پولیس کی تربیت، نگرانی اور احتساب کا مضبوط نظام۔
پارلیمانی کمیٹیوں کے ذریعے نگرانی۔
عدلیہ کی ذمہ داری
فوری سماعت۔
مجرم پولیس اہلکاروں کے خلاف کارروائی۔
متاثرین کو معاوضہ۔
بنیادی حقوق کا مؤثر تحفظ۔
حکومت کو اصلاحات کا پابند بنانا۔
عام شہری کی ذمہ داری
اپنے حقوق جاننا۔
قانون ہاتھ میں نہ لینا۔
ثبوت محفوظ رکھنا۔
قانونی راستہ اختیار کرنا۔
ظلم کے خلاف پرامن اور آئینی آواز اٹھانا۔
علماء، ائمہ اور مذہبی قائدین کی ذمہ داری
عدل و انصاف کی تعلیم دینا۔
ظلم کی مذمت کرنا۔
مظلوم کی بلا امتیاز حمایت کرنا۔
عوام کو آئینی اور اخلاقی شعور دینا۔
امن، قانون کی پاسداری اور سماجی ہم آہنگی کو فروغ دینا۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: "بے شک اللہ انصاف، احسان اور قرابت داروں کو دینے کا حکم دیتا ہے اور بے حیائی، برائی اور ظلم سے روکتا ہے۔”
(سورۃ النحل: 90)
اور فرمایا: "کسی قوم کی دشمنی تمہیں انصاف چھوڑ دینے پر آمادہ نہ کرے، انصاف کرو، یہی تقویٰ سے زیادہ قریب ہے۔”
(سورۃ المائدہ: 8)
جمہوریت میں پولیس عوام کی خادم ہے، حاکم نہیں؛ عدالت انصاف کی محافظ ہے، پارلیمنٹ قانون ساز ہے، میڈیا عوام کی آواز ہے، وکلاء آئین کے محافظ ہیں، انسانی حقوق کے کارکن انصاف کے نگہبان ہیں، اور علماء عدل و اخلاق کے داعی ہیں۔ جب یہ تمام ادارے اپنی آئینی اور اخلاقی ذمہ داریاں دیانت داری سے ادا کریں تو ظلم کم ہوتا ہے، انصاف مضبوط ہوتا ہے اور ریاست پر عوام کا اعتماد قائم رہتا ہ