ہندوستان میں عوامی بے چینی،
حکمرانی کے چیلنجز اور جمہوریت کا مستقبل
از قلم : محمد طارق اطہر
ہر گھر، ادارہ، تنظیم اور ملک کا دار و مدار دراصل اس کے سربراہ اور منتظم کی صلاحیت، دیانت داری اور حسنِ قیادت پر ہوتا ہے۔ اگر کسی گھر، ادارے یا ملک کا ذمہ دار خود ہی بددیانتی، کوتاہ اندیشی یا نااہلی کا شکار ہو، یا وہ اپنے نظام کو عدل، حکمت اور بصیرت کے ساتھ سنبھالنے سے قاصر ہو، تو لازماً اس نظام میں بے ترتیبی، کمزوریاں اور خرابیاں جنم لیتی ہیں۔ ایسا نظام نہ صرف اپنی حقیقی منزل تک پہنچنے میں ناکام رہتا ہے بلکہ رفتہ رفتہ زوال اور انتشار کی راہ اختیار کر لیتا ہے
بدقسمتی سے آج ہمارے عزیز وطن ہندوستان کے حالات بھی کسی حد تک اسی حقیقت کی عکاسی کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ اگر یہی صورتِ حال برقرار رہی، اور اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھے ہوئے ذمہ دارانِ ملک اپنی ذمہ داریوں کو دیانت، عدل اور دور اندیشی کے ساتھ ادا کرنے کے بجائے ملک کے مفادات کو نقصان پہنچانے کا سبب بنتے رہے، تو بعید نہیں کہ اس کے نہایت سنگین نتائج برآمد ہوں۔
اندیشہ ہے کہ ہمارا یہ پیارا وطن ترقی و استحکام کی راہ سے ہٹ کر انتشار، کمزوری اور تباہی کی طرف بڑھ جائے۔لہٰذا اس ملک کے ہر باشعور اور محبِ وطن شہری پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ہندوستان کی ترقی، استحکام اور خوش حالی کے لیے اپنا مثبت کردار ادا کرے۔ تاہم ایک بنیادی سوال اپنی جگہ باقی رہتا ہے کہ جب خود حکمران ہی ملک کی تعمیر و ترقی کے بجائے اس کی بنیادوں کو کمزور کرنے میں مصروف ہوں، تو ایسی صورت میں اصلاح اور ترقی کی راہ کس طرح ہموار کی جا سکتی ہے؟ یہی وہ اہم سوال ہے جس پر سنجیدگی سے غور کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے
احتجاجات کی اصل وجوہات: عوامی بے چینی یا حکومتی طرزِ حکمرانی؟
آج اگر ہم جنتر منتر، ہریانہ، ممبئی اور ملک کی دیگر ریاستوں میں برپا ہونے والے احتجاجات پر سنجیدگی سے غور کریں اور اپنے آپ سے یہ سوال کریں کہ آخر یہ مظاہرے کیوں کیے جا رہے ہیں؟ ان کے پسِ پردہ حقیقی اسباب کیا ہیں؟ اور یہ سلسلہ آخر کب تک جاری رہے گا؟ تو اس کا جواب تلاش کرنا زیادہ دشوار نہیں
احتجاج کسی بھی معاشرے میں بلا سبب جنم نہیں لیتا۔ جب عوام کو یہ محسوس ہونے لگے کہ ان کی آواز نہیں سنی جا رہی، ان کے مسائل کا ازالہ نہیں ہو رہا اور ان کے جائز مطالبات کو نظر انداز کیا جا رہا ہے، تو وہ اپنے حق کے لیے سڑکوں پر نکلنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ آج جو نوجوان، طلبہ اور مختلف طبقاتِ فکر کے افراد ملک کے مختلف حصوں میں احتجاج کر رہے ہیں، ان کے پسِ منظر میں بھی متعدد سیاسی، سماجی اور انتظامی عوامل کارفرما ہیں۔
اس حکومت کے دورِ اقتدار 2014 )ء سے 2026ء تک) میں مختلف قومی معاملات، پالیسیوں، امتحانی بے ضابطگیوں، روزگار، زرعی قوانین، شہریت سے متعلق قانون سازی اور دیگر امور پر ملک کے مختلف حصوں میں بارہا احتجاجات دیکھنے میں آئے۔ ناقدین کا موقف ہے کہ ان برسوں میں کئی ایسے معاملات سامنے آئے جن پر حکومت کو سخت عوامی تنقید اور سوالات کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ حکومت نے متعدد مواقع پر ان الزامات کو مسترد کیا اور اپنے اقدامات کو قانون اور عوامی مفاد کے مطابق قرار دیا۔
ناقدین یہ بھی کہتے ہیں کہ طلبہ اور نوجوانوں کو جن مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، خصوصاً امتحانات میں بے ضابطگیوں، بے روزگاری اور انتظامی کوتاہیوں کے باعث، اس نے ان کے مستقبل کے حوالے سے شدید بے چینی پیدا کی۔ ان کے نزدیک یہی احساسِ محرومی آج مختلف احتجاجی تحریکوں کی ایک اہم وجہ بن چکا ہے۔
اسی طرح حکومت پر یہ اعتراض بھی کیا جاتا ہے کہ بعض مواقع پر اختلافِ رائے رکھنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائیاں کی گئیں، متعدد افراد کو گرفتار کیا گیا اور بعض ریاستوں میں غیر قانونی تعمیرات کے خلاف بلڈوزر کارروائیاں بھی شدید سیاسی و عوامی بحث کا موضوع بنیں۔ ناقدین ان اقدامات کو اظہارِ رائے پر قدغن قرار دیتے ہیں، جبکہ حکومت کا مؤقف ہے کہ تمام کارروائیاں قانون کے دائرے میں اور عدالتی و انتظامی تقاضوں کے مطابق انجام دی گئیں۔
یہی وہ سوالات ہیں جو آج ملک کے ایک بڑے طبقے کے ذہن میں گردش کر رہے ہیں کہ آیا عوام نے جس امید کے ساتھ اس حکومت کو منتخب کیا تھا، کیا وہ امیدیں پوری ہو سکیں؟ اور اگر عوام اپنے منتخب نمائندوں سے جواب طلب کرتے ہیں تو کیا ان کے سوالات کا جواب دلیل، شفافیت اور جواب دہی کے ذریعے دیا جانا چاہیے یا محض سیاسی اختلاف سمجھ کر نظر انداز کر دینا چاہیے؟ یہی سوالات آج کے احتجاجات کی معنویت کو سمجھنے کے لیے نہایت اہم ہیں۔
اس عرصے کے نمایاں احتجاجوں میں 2015 کا لینڈ ایکوزیشن بل کے خلاف احتجاج، 2016 میں روہت ویمولا واقعہ کے بعد طلبہ کی تحریک، 2017 میں تمل ناڈو کا جلّی کٹو احتجاج، 2019–2020 میں سی اے اے اور این آر سی کے خلاف ملک گیر مظاہرے، اور 2020–2021 کی تاریخی کسان تحریک شامل ہیں۔ اس کے علاوہ 2022 میں اگنی پتھ اسکیم کے خلاف نوجوانوں کے احتجاج، 2023 میں پہلوانوں کی تحریک، اور 2024 سے 2026 کے دوران لداخ کے آئینی حقوق اور امتحانی بے ضابطگیوں کے خلاف طلبہ کے احتجاج بھی اہم واقعات میں شمار کیے جاتے ہیں۔
یہ احتجاج دہلی، پنجاب، ہریانہ، اتر پردیش، مغربی بنگال، کیرالہ، تمل ناڈو، مہاراشٹر، کرناٹک، آسام، بہار اور تلنگانہ جیسی ریاستوں میں دیکھے گئے۔ ہر احتجاج کی اپنی الگ وجہ اور مطالبات تھے، تاہم ان سب نے ملک کی سیاست، عوامی مباحث اور حکومتی پالیسیوں پر نمایاں اثر ڈالا۔ بعض احتجاج مکمل طور پر پُرامن رہے، جبکہ چند مقامات پر تشدد اور قانون و انتظام کے مسائل بھی سامنے آئے۔
مجموعی طور پر 2014 سے 2026 کا دور ہندوستان میں عوامی احتجاج اور جمہوری اظہارِ رائے کے اعتبار سے ایک اہم مرحلہ رہا۔ مختلف طبقات نے اپنے حقوق اور مطالبات کے لیے آواز بلند کی، جبکہ حکومت نے بعض مواقع پر مذاکرات، قانونی اقدامات اور پالیسی میں تبدیلیوں کے ذریعے ان مسائل سے نمٹنے کی کوشش کی۔ چونکہ اس پورے عرصے کے تمام احتجاجوں کا کوئی جامع اور سرکاری ریکارڈ موجود نہیں، اس لیے صرف بڑے اور قومی سطح پر اثر انداز ہونے والے احتجاجوں کا ہی معتبر جائزہ پیش کیا جا سکتا ہے۔
دوسری جانب حکومت نے مختلف مواقع پر مذاکرات، قانونی اقدامات اور پالیسی تبدیلیوں کے ذریعے عوامی مسائل کو حل کرنے کی کوشش کی۔ کئی معاملات میں بات چیت اور اصلاحات کے ذریعے حالات کو بہتر بنانے کی کوشش کی گئی، تاہم بعض مسائل پر عوامی بحث اور اختلافِ رائے کا سلسلہ جاری رہا۔ یہ عمل جمہوری معاشرے کا ایک فطری حصہ ہے جہاں حکومت اور عوام کے درمیان مسلسل رابطہ ضروری ہوتا ہے۔
ر ہم موجودہ حالات کا مزید گہرائی سے مطالعہ کریں تو ہمیں یہ محسوس ہوتا ہے کہ ملک کے سیاسی اور سماجی ماحول میں کئی ایسی تبدیلیاں آئی ہیں جنہوں نے عوام کے درمیان فاصلے پیدا کیے ہیں۔ بعض پالیسیوں، بیانات اور رویّوں کی وجہ سے لوگوں کے ایک طبقے میں یہ احساس پیدا ہوا ہے کہ معاشرے میں تقسیم اور تعصب کو بڑھاوا دیا جا رہا ہے۔ اس صورتحال کا سب سے زیادہ نقصان ملک کے اتحاد، امن اور باہمی اعتماد کو پہنچتا ہے۔
ہندوستان ایک ایسا ملک ہے جہاں مختلف مذاہب، زبانوں، ثقافتوں اور روایات سے تعلق رکھنے والے لوگ صدیوں سے ساتھ رہتے آئے ہیں۔ اس ملک کی خوبصورتی ہی اس کی گنگا جمنی تہذیب، باہمی احترام اور مختلف طبقات کے درمیان محبت و بھائی چارے میں ہے۔ لیکن جب مذہب، ذات یا فرقے کے نام پر لوگوں کے درمیان نفرت اور بداعتمادی پیدا ہونے لگے تو یہ ملک کی مضبوطی کے لیے ایک بڑا چیلنج بن جاتا ہے۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے معاشرے میں بڑھتی ہوئی نفرت، تعصب اور تقسیم کے رجحانات کو سمجھیں اور ان کے خلاف آواز بلند کریں۔ اگر ایک شخص دوسرے شخص کو صرف اس کے مذہب یا شناخت کی بنیاد پر دیکھنے لگے تو یہ سماج کے لیے نقصان دہ ہے۔ ہر شہری کو یہ یاد رکھنا چاہیے کہ سب سے پہلے ہم ایک ہی ملک کے باشندے ہیں، اور ہماری ترقی، خوشحالی اور امن ایک دوسرے کے احترام سے وابستہ ہے۔ماضی میں ہندوستان کے لوگ اخوت، بھائی چارے اور محبت کے جذبے کے ساتھ زندگی گزارتے رہے ہیں۔ آزادی کی جدوجہد میں بھی ہمارے بزرگوں نے ایک ایسے ہندوستان کا خواب دیکھا تھا جہاں تمام شہری برابر ہوں، جہاں مذہب یا زبان کی بنیاد پر کوئی تفریق نہ ہو، اور جہاں ہر انسان کو عزت اور انصاف حاصل ہو۔
آج ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اتحاد، امن اور بھائی چارے کے اس جذبے کو دوبارہ مضبوط کریں۔ ہمیں ہر اس سوچ اور عمل کی مخالفت کرنی چاہیے جو ملک کے اتحاد کو کمزور کرتا ہے اور لوگوں کے درمیان نفرت پیدا کرتا ہے۔ اختلافات کا ہونا فطری ہے، لیکن اختلاف کو دشمنی میں بدل دینا کسی بھی معاشرے کے لیے نقصان دہ ہوتا ہے۔ایک مضبوط ہندوستان وہی ہو سکتا ہے جہاں ہندو، مسلمان، سکھ، عیسائی اور تمام طبقات کے لوگ ایک دوسرے کا احترام کریں، ایک دوسرے کے حقوق کا خیال رکھیں اور مل کر ملک کی ترقی میں اپنا کردار ادا کریں۔ محبت، امن، اتحاد اور بھائی چارہ ہی وہ راستہ ہے جو ہندوستان کو ایک بہتر اور روشن مستقبل کی طرف لے جا سکتا ہے۔