’نورِ خدا ہے کفر کی حرکت پہ خندہ زن ،
پھونکوں سے یہ چراغ بجھایا نہ جائے گا‘
ازقلم:عبدالعزیز
تسلیمہ نسرین کو مغربی بنگال کے لوگ بھول چکے تھے لیکن بی جے پی کی حکومت نے فرقہ پرستوں کو خوش کرنے اور مسلمانوں کو اذیت پہنچانے کے لئے 20 سال بعد بنگال کی سر زمین پر بلاکر اس کی بکواس سننے اور بیان بازی کرنے کا موقع فراہم کیا۔ تسلیمہ نسرین کو ابھی بھی ہندستان کی شہریت سے نوازا نہیں گیا ہے بلکہ عارضی طور پر پرمٹ دے کر پناہ دی گئی ہے۔ کسی بھی ملک میں غیر شہری کو سیاسی یا سماجی سرگرمیوں میں حصہ لینے کی اجازت نہیں ہوتی۔ مغربی بنگال میں ’ملی اتحاد پریشد‘ کی طرف سے تسلیم نسرین کے خلاف جب احتجاج اور مظاہرے جاری تھے تو مغربی بنگال کے سابق وزیر اعلیٰ اور مشہور قانون داں سدھارت شنکر رائے نہ صرف پریشد کی آواز میں آواز ملا رہے تھے بلکہ انھوں نے انگریزی زبان میں ایک مضمون بھی لکھا تھا جسے انگریزی روزنامہ ’دی اسٹیٹس مین ‘ نے شائع کیا تھا۔ خاکسار نے اس کا اردو ترجمہ کیا تھا جسے اردو روزنامہ ’آزاد ہند‘ نے شائع کیا تھا۔ سابق وزیر اعلیٰ مغربی بنگال نے تسلیمہ نسرین کی کتابوں کی نہ صرف مخالفت کی تھی بلکہ بایاں محاذ نے جو تسلیمہ نسرین کو پناہ دی تھی اس کی بھی سخت مخالفت کی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسی متنازعہ مصنفہ کو ہندستان یا کسی ریاست میں رہنے کا حق نہیں ہے۔ انھوں نے اپنے مضمون میں دستورِ ہند کے دفعات کے حوالے سے لکھا تھا کہ ’’کسی بھی غیر شہری (Non Citizen) کو سیاسی یا غیر سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لینے کا بھی حق نہیں ہوتا‘‘۔ بھاجپائی حکومت کے لئے تسلیمہ نسرین منظورِ نظر اس لئے ہیں کہ وہ اسلام کی مخالفت کرتی ہے اور اسلام کی مقدس ترین شخصیتوں کی توہین تحریری اور غیر تحریری طور پر کرتی رہتی ہے جو انتہائی قابل مذمت ہے۔ مغربی بنگال میں آکر اس نے جو بیانات مساجد اور مدارس کے خلاف دیئے ہیں اس کا ایک ہی مطلب ہے کہ فرقہ پرست خوش ہوں ۔ ان کی پذیرائی اور حوصلہ افزائی میں کوئی کسر باقی نہ رکھیں۔ اس کے لئے عیش و عشرت کے سامان فراہم کرتے رہیں۔
تسلیمہ نسرین کو بنگلہ دیش کی حکومت نے گرفتار کرنا چاہا جس کی وجہ سے اس کو ملک چھوڑنا پڑا۔ کئی ملکوں میں وہ پناہ لینے کی خواہش مند ہوئی۔ سوئزر لینڈ نے اس کو شہریت سے بھی نوازا لیکن زیادہ دنوں تک وہ وہاں نہیں رہ سکی۔ اس کو ہندستان ہی پسند تھا اس لئے ہندستان ہی کو اپنا ٹھکانہ بنانا پسند کیا۔ مغربی بنگال میں جو معیاری ادیب اور مصنف ہیں وہ تسلیم نسرین کو غیر معیاری ادیبہ سمجھتے ہیں اور ان کی کتابوں کو بھی غیر معیاری بتاتے ہیں۔ اس کے باوجود اسے اور اس کی کتابوں کو فرقہ پرست پسند کرتے ہیں۔ تسلیمہ نسرین کی کتابیں ہی غیر معیاری نہیں ہیں بلکہ اخلاقی لحاظ سے وہ ایک ایسی خاتون ہے جو بدنام زمانہ ہے۔ تین مردوں سے پے در پے شادیاں کیں لیکن کسی کے ساتھ بھی ایک دو سال سے زیادہ رہ نہیں سکی۔ تین شوہروں کے بعد ایک اور مرد سے دوستانہ تعلق قائم کیا جسے آج کل انگریزی میں Liv in relationship کہتے ہیں۔ چار مردوں کے ساتھ رہنے کے باوجود اولاد سے محروم رہی۔ سابق صدر جمہوریۂ ہند پرنب مکھرجی نے اس وقت جب وہ وزیر خارجہ تھے تو ملی اتحاد پریشد کے ایک وفد سے دورانِ گفتگو کہا تھا کہ ’’تسلیمہ کی کتابیں اس قدر بے حیائی اور بدگوئی پر مبنی ہیں کہ اسے اپنی بیٹی سے چھپا کر پڑھنا پڑتا ہے‘‘۔
نومبر 2007ء میں جب اسے کلکتہ سے جانا پڑا تو اس سے ایک ہفتہ پہلے ایک صحافی عزیز الرحمن جو ٹی وی نیوز چینل ’الجزیرہ‘ کے لئے کام کرتے ہیں انھوں نے ہمیں بتایا کہ اس کی رہائش گاہ لاؤڈن اسٹریٹ میں اس سے جاکر ملاقات کی تھی اور اس کو توبہ کرنے کے لئے راضی کرلیا تھا یہ کہہ کر کہ ’’اگرتم توبہ کرلوگی تو تمہیں اللہ معاف کر دے گا اور مسلمان بھی معاف کردیں گے اور ایک پُرسکون گزار سکوگی‘‘۔ عزیز الرحمن صاحب کے مطابق وہ راضی ہوگئی تھی اور اس نے دوسرے دن ان کو اپنی رہائش گاہ پر بلایا تھا۔ عزیز الرحمن صاحب نے ملاقات کی مگر اس کے کہاکہ ’’اس کے دوست اور چاہنے والے منع کر رہے ہیں، اس لئے وہ اپنا وعدہ پورا کرنے سے قاصر ہے‘‘۔ عام طور پر جب کوئی عورت یا مرد عیش و عشرت کی زندگی گزارنے لگتا ہے اور اسلام دشمن طاقتیں اس کے لئے عیش و عشرت کا سامان فراہم کرتی ہیں اس وقت کسی بھی عورت یا مرد کے لئے اس دلدل سے نکلنا مشکل ہوتا ہے جسے No point of no return (جہاں سے واپسی کا ہونا ممکن نہیں) کہتے ہیں۔ تسلیمہ نسرین جس جال میں پھنس چکی ہے اور جن لوگوں کے ذریعے چاہے فرد ہو جماعت ہو اسے پناہ ملی ہے اور عیش و عشرت کی زندگی گزار رہی ہے اسے چھوڑ کر ایک نئی زندگی گزارنا مشکل ہے۔
جو لوگ تسلیم نسرین یا سلمان رشدی جیسے لوگوں کے ذریعے اسلام یا اسلامی شخصیتوں کو بدنام کرنا چاہتے ہیں ان کو معلوم ہونا چاہئے کہ دنیا کی تمام اسلام دشمن طاقتیں اسلام کے خلاف ہر طرح سے نبرد آزما ہیں ان سب کے باوجود اسلام دنیا میں سب سے زیادہ تیزی کے ساتھ پھیلنے والا مذہب ہے۔ امریکہ، فرانس اور یورپی ممالک نے روز و شب مرد و خواتین اسلام قبول کر رہے ہیں۔ مذکورہ ممالک میں جب پانچ افراد اسلام قبول کرتے ہیں تو اس میں تین خواتین ہوتی ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ مردوں کے مقابلے میں خواتین اسلام کو زیادہ پسند کرتی ہیں اور قبول کرتی ہیں۔ نومسلم خواتین احکامِ خداوندی کے مطابق زندگی گزارتی ہیں۔
انسانی تاریخ گواہ ہے کہ حق و باطل کی جنگ روزِ اوّل سے جاری ہے۔ انسان کی فکری، روحانی اور تہذیبی تاریخ اس تصادم سے عبارت ہے۔ ایک طرف وہ قوتیں ہیں جو جرم، جبر، خود غرضی اور گمراہی کی نمائندہ ہیں۔ دوسری طرف وہ روشنی ہے جو سچائی، ہدایت اور عدل پر مبنی ہے۔ معرکۂ حق و باطل صرف ماضی تک محدود نہیں ہے بلکہ آج بھی جاری ہے۔ ہر دور میں حق کو دبانے والی قوتیں موجود رہی ہیں لیکن اسلام کی روشنی پھیلتی رہی۔ در اصل یہ کشمکش حق کی سربلندی اور باطل کی پسپائی کا فطری عمل ہے۔ علامہ اقبالؒ نے سچ کہا ہے کہ ؎’ستیزہ کار رہا ہے ازل سے تا امروز – چراغِ مصطفویؐ سے شرارِ بولہبی‘۔
آج سے تقریباً ساڑھے چودہ سو سال پہلے جب اسلام کو دبانے، روکنے اور صفحۂ ہستی سے مٹانے کی کوشش کی جارہی تھی تو اللہ تعالیٰ نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دیتے ہوئے کہا کہ ’’یہ لوگ چاہتے ہیں کہ اللہ کی روشنی کو اپنی پھونکوں سے بجھا دیں مگر اللہ اپنی روشنی کو مکمل کئے بغیر ماننے والا نہیں ہے خواہ کفر کرنے والوں کو یہ کتنی ہی ناگوار ہو‘‘(سورہ توبہ، آیت:32)۔ اللہ کے دین حق کی اپنی منہ زبانی باتوں کی سند پر مخالفت کرنا ایسا ہی ہے کہ کوئی سورج کو مٹی کا دیا سمجھ کر اس کو اپنے منہ کی پھونکوں سے بجھانا چاہے ۔ ایسے لوگ تو یہ کوشش کر رہے ہیں کہ لیکن اللہ تعالیٰ نے یہ فیصلہ فرمالیا ہے کہ وہ اپنے نور کو کامل کرکے رہے گا اور وہ اُفق سے خورشیدِ جہاں تاب بن کر چمکے گا۔ اور اللہ کا یہ فیصلہ دشمنانِ حق کی تمام مخالفتوں کے علی الرغم پورا ہوکر رہے گا۔ دنیا کو معلوم ہونا چاہئے اور خاص طور پر دشمنانِ حق کو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کسی دیے کے مانند نہیں ہے۔ وہ تو ایک آفتاب ہے جسے پھونکوں سے بجھایا نہیں جاسکتا۔ اس سے پہلے مختلف نبوتوں کے چراغ جلتے رہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے ذریعے انسانوں کو ہدایت سے نوازا۔ ان میں سے ہر ایک چراغِ ہدایت کی طر ح اپنے اپنے وقت تک جلتا رہا اور اپنی عمر گزار کر اپنی صف لپیٹتا رہا لیکن اب ہدایت کا وہ چراغ آیا ہے جسے بجھانا تو دور کی بات ہے اس کی لَو بھی کبھی مدھم نہیں ہوگی۔ وہ صبح کے ستارے کی طرح مختصر عمر لے کر نہیں آیا ہے بلکہ آفتاب کی طرح تمام انسانوں کے لئے روشنی کا مینار بن کر آیا ہے۔
سیکڑوں اور ہزاروں لوگ رشدی اور تسلیمہ کی طرح دشمنانِ حق کے ہاتھوں میں کھیلتے رہے ۔ آج دنیا میں لوگ ان کے نام تک کو نہیں جانتے۔ ایک وقت آئے گا کہ دشمنانِ حق جن کو اہمیت دے رہے ہیں اور جن کو اچھلنے کودنے کا موقع فراہم کر رہے ہیں ان کا کوئی نام لیوا بھی نہیں رہ جائے گا۔ لیکن آفتابِ رسالتؐ کی روشنی کبھی کم نہیں ہوگی بلکہ دنیا کے گوشے گوشے میں پھیلتی چلی جائے گی۔ انگریزوں نے اپنے زمانے میں اپنے ایک کلرک کو انگریزی نبی بنایا تھا ۔ اس کے ذریعے اسلام اور نبوتِ محمدیؐ کی روشنی کو مات دینا چاہتا تھا ۔ اس نے انگریزوں کی حمایت میں بہت سی کتابیں لکھی تھیں ۔ اپنی ایک کتاب میں لکھا ہے کہ ’’اس نے برطانوی حکومت کی حمایت میں اتنے کتابچے اور پمفلٹ لکھے ہیں کہ پچاس الماریوں میں بھی نہیں بھرے جاسکتے‘‘۔ اس نے یہ بھی لکھا تھا کہ ’’جہاد بالسیف کا نہیں بلکہ جہاد بالقلم کا زمانہ ہے‘‘۔ وہ شاعر بھی تھا۔ اس کے ایک شعر کا ایک مصرع ہے ’’آئیں گے مسیح کریں گے جنگوں کا التوا‘‘۔ وہ اپنے آپ کو مسیح موعود بھی کہتا تھا۔ نبوت کے غلط دعویداروں کی بہت بڑی تعداد ہے۔ آج ان کا نام و نشان بھی نہیں ہے۔ انگریزوں کی وجہ سے انگریزی نبی کی اُمت کا دیا ٹمٹما رہا ہے، ایک دن یہ بھی بجھ کر خاک میں مل جائے گا۔
E-mail:azizabdul03@gmail.com
Mob:9831439068