حضرت مولانا محمد حمید الدین حسامی عاقل ؒ کی (عظمتِ صحابہؓ عنوان پر) گراں قدر خدمات
بقلم:مفتی حسین احمد حسامی کاماریڈی
حضراتِ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم وہ مقدس ہستیاں ہیں جنہوں نے حضور نبی اکرم ﷺ کی صحبت پائی، دین کی حفاظت کی اور اسلام کے دفاع میں بے مثال قربانیاں دیں۔ ان سے محبت اور ان کا دفاع کرنا ایمان کا حصہ اور تقاضائے شریعت ہے۔عظمتِ صحابہ رضی اللہ عنہم کے چند نمایاں پہلو: تعدیلِ الٰہی (اللہ کی جانب سے توثیق):قرآنِ مجید میں متعدد مقامات پر اللہ تعالیٰ نے صحابہ کرامؓ کی تعریف فرمائی اور ان کے ایمان کی گواہی دی۔ سورۃ الفتح (آیت نمبر 29) میں انہیں کفر پر سخت اور آپس میں رحم دل قرار دیا ، فضیلت و مقام: تمام صحابہ کرامؓ عادل اور ثقہ ہیں۔ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اگر کوئی شخص اُحد پہاڑ کے برابر سونا بھی اللہ کی راہ میں خرچ کر دے، تو وہ صحابہؓ کے ایک مُد (تقریباً ایک کلو غلے) یا اس کے آدھے کے برابر بھی ثواب نہیں پا سکتا۔نبی اکرم ﷺ کے سچے محافظ: غزوات اور کٹھن مراحل میں صحابہ کرامؓ نے حضور ﷺ کی ڈھال بن کر ہر خطرے کا سامنا کیا، دفاعِ صحابہؓ کی اہمیت: احادیث کی روشنی: نبی اکرم ﷺ نے صحابہؓ کو بُرا کہنے سے سختی سے منع فرمایا ہے اور ان کی عزت و ناموس کی حفاظت کی تاکید کی ، شریعت کے امین: صحابہ کرامؓ ہی وہ واسطہ ہیں جن کے ذریعے قرآن و سنت ہم تک پہنچے، ان پر تنقید دراصل پوری شریعت پر سوالیہ نشان لگانے کے مترادف ہے۔تحفظِ عقائد: تمام اہل السنۃ والجماعت کا یہ متفقہ عقیدہ ہے کہ تمام صحابہ کرامؓ سے محبت رکھنا اور ان کے درجات کا احترام کرنا لازم ہے۔ اس مقدس جماعت کے خلاف کسی بھی قسم کی ہرزہ سرائی سے بچنا ہر مسلمان پر فرض ہے، صحابہ کرامؓ کی عظمت و وقار کی صحیح ترجمانی ایک طویل عرصے سے حیدرآباد(دکن) میں ہوتی رہی، امیر ملت اسلامیہ حضرت علامہ حمید الدین حسامی عاقل صاحب رحمۃ اللہ علیہ بانی و مہتمم اول جامعہ اسلامیہ دارالعلوم حیدرآباد کا نام صحابہ کرام کی سیرت و کردار کو عام کرنے اور ان کے دفاع میں نمایاں ترین نظر آتا ہے۔ آپ کی خدمات کے اہم پہلو یہ ہیں:خطابات اور اجتماعات: شہر حیدرآباد کی جامع مسجد چوک اور دیگر مقامات پر آپ کے اصلاحی اور تاریخی خطبات کا بنیادی موضوع "عظمتِ صحابہؓ” ہوتا تھا۔ دفاعِ صحابہؓ: تاریخی تنازعات اور فتنوں کے دور میں آپ نے انتہائی جرأت اور علمی انداز میں صحابہ کرام کی ناموس کا دفاع کیا، جامع مسجد دارالشفا میں گستاخانِ صحابہ کو مستقل داندان شکن جواب دیتے رہے اور باطل نظریات کا منہ توڑ جواب دیتے رہے، تعلیمی و تربیتی ادارہ: آپ نے جامعہ اسلامیہ دارالعلوم حیدرآباد قائم کیا، جہاں سے ہزاروں طلباء نے صحابہؓ کی سیرت اور تعلیمات کو امت تک پہنچایا۔اصلاحِ معاشرہ: آپ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے رکنِ تاسیسی تھے اور مسلمانوں میں صحابہؓ کی زندگیوں سے عملی نمونہ اپنانے کا جذبہ بیدار کرتے رہے۔ دفاعِ صحابہؓ کی مہم: جب بھی شہر حیدرآباد یا ملک کے دیگر حصوں میں صحابہ کرامؓ کی شان میں گستاخی کی کوششیں کی گئ یا باطل فتنے اٹھے، تو آپ نے "عظمتِ صحابہؓ” کانفرنس منعقد فرمائی اپنے پُراثر خطبات کے ذریعے مسلمانوں کے عقیدے کی حفاظت کی اور امن و امان برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کیا۔
، آپؒ کی شیریں زبان باطل فرقوں کیلئے تیز تلوار کا کام کرتی تھی ،آپ ؒ نے جامع مسجد دارالشفاء کے ممبر سے فرقۂ باطلہ کا جم کر مقابلہ فرمایا تھا ،آپ ؒ ہر موقع پر اس مسجد سے کھل کر عقائد اہل سنت والجماعت کی تشریح فرمایا کرتے تھے ، آپؒ یہیں سے خلفائے راشدین اور صحابۂ کرام ؓ کے مقام ومرتبہ کو اس خوبصورت انداز سے بیان فرماتے تھے کہ جسے سن کر سامعین کے دل ان پاکیزہ نفوس کی محبت سے لبریز ہوجایا کرتے تھے ، خاص کر محرم الحرام کے عشرۂ اولیٰ میں عظمت صحابہ ؓ کے نام سے مجالس منعقد کرتے تھے اور حضرات صحابہ ٔ کرام ؓ کی خوب مدح سرائی فرماتے تھے اور دسویں محرم کوشہادتِ سیدنا حضرت حسین ؓ اور مقامِ اہل بیتِ اطہارؓ کے مقدس عنوان پر بڑا پر مغز اور تفصیلی بیان فرماتے تھے اور فرقہ ٔ باطلہ کے گمراہ کن عقائد بیان کرتے ہوئے امت مسلمہ کو اس سے دور رہنے کی تلقین فرماتے تھے، امارت ِ ملت ِ اسلامیہ کے تحت جامع مسجد چوک اور میدان خلوت میں منعقد ہونے والے (شب معراج،شب برأت ،شب قدر ،یوم عاشورہ کے) جلسوں کے ذریعہ امت ِ مسلمہ میں پائے جانے والی بدعات وخرافات اور جاہلانہ رسومات کو مٹانے کی حتی المقدور کوشش فرمایا کرتے تھے ، آپ کے مواعظ حسنہ کی خوبصورت باتیں،کانوں میں رس گھولنے والی ناصحانہ گفتگو اور دل پر نقش ہوجانے والی حکایات آج بھی لوگوں کے ذہنوں میں تازہ ہیں ۔ حضرت رحمۃ اللہ علیہ کے دفاع صحابہ و عظمت صحابہ کرام کے علمی کارناموں سے متاثر ہوکر وہ بڑی تعداد جو خود کو مسلمان کہتے رہے ! لیکن شعیہ جسے نظریات سے متاثر ہوکر اہل بیت کے علاوہ کسی کو صحابیت کا درجہ دینے سے کتراتے رہے ، وہ ! حضرت رحمۃ اللہ علیہ سے اپنے عقائد صحابہ کا نظریہ درست کرتے، آپ حضرت کی خاص بات یہ تھی کہ جب عظمت صحابہ بیان کرتے اور سلسلہ وار دروس چلتے خلفاء راشدین کا ذکر ہوتا تو حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی مکمل سیرتِ پاک و فضائل بیان کرتے کیونکہ عموماً دیکھا گیا کہ خلفائے ثلاثہ پر اکتفا کرتے ہوئے حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی سیرت سے کنارہ کش ہوتے نظر آتے ہیں لیکن حضرت حسامی عاقل صاحب رحمۃ اللہ علیہ محرم الحرام کے ان مخصوص ایام میں یا کوئی خاص موقع جہاں دفاع صحابہ کرام کا موقع ہوتا سیرتِ صحابہ کا تذکرہ ہوتا وہاں بھی حضرت علی رضی اللہ کے فضائل و مناقب کو تفصیل سے بیان فرماتے جس سے اہل سنت والجماعت کا ایک بڑا طبقہ جو شیعہ اور روافض سے متاثر ہوکر عقائد اہلسنت کو بگاڑ چکا تھا ایسی بڑی تعداد تائب ہوئی عقائد و نظریات کی درستگی پر آمادہ ہوئی بلکہ آج ہر ایک حضرت امیر ملت اسلامیہ حضرت مولانا محمد حمید الدین حسامی عاقل صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی کمی کو ہر موڑ پر محسوس کررہا ہے۔
حضرت رحمۃ اللہ علیہ کا وجود رافضیت کے سینے پر تلوار کے مانند تھا ، آپ رحمتہ اللہ علیہ کے وصال کی خبر جیسے ہی عام ہوئی اہل تشیع نے اپنے ماتم کدوں سے اپنے سر نکالے جشن کا ماحول گرم کیا آتش بازی پٹاخوں کے ذریعہ خوشیاں منانے لگے آپس میں مٹھائیاں تقسیم کرنے لگے؛ صحابہ کا پہریدار چلا گیا؛ کہ اب اس عمل سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ حضرت رحمۃ اللہ علیہ اپنی زندگی دفاع صحابہ کرام میں گزاری صحابہ کی عظمت کو بڑے پیارے لب و لہجہ میں پیش کیا کرتے تھے جو حضرت کے وجود سے اہل تشیع خوف زدہ رہا کرتے تھے، آج بھی حضرت رحمۃ اللہ علیہ کے وصال کے سولا سال بیت چکے لیکن کمی آج بھی محسوس ہوتی ہے، حضرت رحمۃ اللہ علیہ کی گراں قدر خدمات کا فیض الحمدللہ جاری ہے اور جاری رہے گا چہ جائیکہ مدارس کا قیام، واعظ و نصیحت سے عوام الناس کو راہِ راست پر لانا ہو چاہے اہل تشیع کو جھنجھوڑنا ہو یا حکومت کے ایوانوں کو ہلانا ہو جہاں حضرت رحمۃ اللہ علیہ کے فرزند حضرت مولانا جعفر پاشاہ حسام الدین صاحب مہتمم جامعہ و نبیرہ مفتی عظم الدین جنید انصاری حسامی ناظم جامعہ ہیں وہیں آپ کے وابستگان اور آپ کے قائم کردہ اداروں میں جامعہ اسلامیہ دارالعلوم حیدرآباد کے فارغ التحصیل ہر موڑ پر کمربستہ ہیں اور کام کو جاری رکھے ہوئے ہیں، اللہ ربّ العزت سے دعا ہے کہ حضرت امیر ملت اسلامیہ حضرت مولانا حمید الدین حسامی عاقل صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی خدمات کو قبول فرمائے، ہم سب کو سپاہ صحابہ کا علمبردار بنائے ، حضرت کی قبر کو نور سے منور فرمائے۔