موسیٰ ندی : ماضی، حال اور مستقبل (تاریخی، جغرافیائی، ماحولیاتی اور سماجی جائزہ)

موسیٰ ندی : ماضی، حال اور مستقبل  (تاریخی، جغرافیائی، ماحولیاتی اور سماجی جائزہ)

موسیٰ ندی : ماضی، حال اور مستقبل
(تاریخی، جغرافیائی، ماحولیاتی اور سماجی جائزہ)

از قلم: محمد شکیب حیدرآباد

( دار القرآن اکیڈمی نانل نگر)

پانی کی ضرورت

دنیا کی تمام مخلوقات کا وجود پانی پر منحصر ہے۔ نباتات و حیوانات کی زندگی پانی سے قائم ہے، اور زمین کی رونق و سرسبزی بھی پانی ہی کی مرہونِ منت ہے۔ انسانوں اور جانوروں کی بقا بھی پانی ہی سے وابستہ ہے، نیز شہر، بستیاں، ملک اور معاشرے بھی پانی ہی سے آباد و شاداب ہوتے ہیں۔

اسی لیے جہاں پانی نہیں، وہاں نہ زندگی ہے، نہ ترقی کا تصور، نہ زمین کی سرسبزی، نہ پرندوں کی چہچہاہٹ،اور نہ ہی حیات کے آثار ہے ۔ اور ایسی جگہ رہائش اختیار کرنا گویا موت کو گلے لگانے کے مترادف ہے۔
اسی وجہ سے تاریخ میں بڑی بڑی آبادیاں دریاؤں اور ندیوں کے کنارے ہی قائم ہوئیں۔ نہ صرف انسان بلکہ حیوانات اور حشرات بھی انہی مقامات کو اپنا مسکن بناتے ہیں جہاں پانی میسر ہو یا اس کی فراوانی کا مناسب انتظام موجود ہو۔
ندی اور دریا
عام طور پر اردو زبان میں بڑی آبی گزرگاہ کو دریا اور نسبتاً چھوٹی آبی گزرگاہ کو ندی کہا جاتا ہے، اگرچہ یہ تقسیم کسی متعین چوڑائی پر مبنی نہیں ہوتی۔ روزمرہ استعمال میں کئی بڑے دریاؤں کو بھی ندی کہا جاتا ہے، اس لیے دونوں الفاظ بسا اوقات ایک دوسرے کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔

موسیٰ ندی کا جغرافیائی جائزہ
موسیٰ ندی کا جغرافیائی جائزہ لیا جائے تو اس کا ابتدائی بہاؤ نسبتاً تنگ ہوتا ہے، لیکن آگے بڑھتے ہوئے اس کی چوڑائی کئی مقامات پر تقریباً 200 سے 300 فٹ تک پہنچ جاتی ہے۔
اسی بنا پر جغرافیائی اعتبار سے اسے ایک دریا بھی کہا جا سکتا ہے، لیکن چونکہ عام بول چال میں بڑے دریاؤں کے لیے بھی ندی کے لفظ کا استعمال ہوتا ہے، اس لیے دریائے موسیٰ کو بھی موسی ندی کہا جانے لگا، جس طرح دریائے کرشنا کو بھی عام طور پر کرشنا ندی کہہ دیا جاتا ہے۔

موسیٰ ندی کی ابتدا و انتہا
موسیٰ ندی کا آغاز شہرِ حیدرآباد سے تقریباً 70 کلومیٹر دور اننتگری ہلز سے ہوتا ہے۔
اور اننتگری ہلز نہایت خوبصورت، سرسبز و شاداب پہاڑی علاقہ ہے، جو تقریباً 4000 ایکڑ جنگلات پر مشتمل ہے۔ یہ مقام وقارآباد سے تقریباً 5 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ یہاں کی خوشگوار آب و ہوا کے بارے میں مشہور ہے کہ:
"وقارآباد کی ہوا، سو بیماروں کی دوا۔”
تلنگانہ کے سابق وزیرِ اعلیٰ کے۔ چندر شیکھر راؤ نے بھی اس علاقے کو "تلنگانہ کا اوٹی” قرار دیا تھا۔
اس مقام کی خوشگوار آب و ہوا کی وجہ سے یہاں علاج کی غرض سے بھی خصوصی انتظامات کیے گئے تھے۔ چنانچہ 1946ء میں نظامِ حیدرآباد میر عثمان علی خان نے یہاں تپِ دق (TB) کے مریضوں کے علاج کے لیے ایک بڑا سینیٹوریم تعمیر کروایا، جو تقریباً 160 ایکڑ رقبے پر پھیلا ہوا تھا اور اس میں 417 بستر موجود تھے۔ ہندوستان کے مختلف حصوں سے مریض یہاں کی صحت بخش فضا سے فائدہ اٹھانے کے لیے آیا کرتے تھے۔
بعد میں طبّی میدان میں نئی ایجادات اور جدید ادویات کی دستیابی کے باعث اس سینیٹوریم کی اہمیت کم ہوتی گئی، چنانچہ تقریباً 1960ء کے بعد اس کا استعمال بتدریج محدود ہو گیا۔
اور اننتگری ہلز کے پہاڑوں سے نکلنے والا موسی ندی کا پانی تقریباً 240 کلومیٹر کا سفر طے کرنے کے بعد دریائے کرشنا میں جا ملتا ہے۔
موسیٰ ندی کی تاریخ
موسیٰ ندی اللہ تعالیٰ کی قدرت کا ایک عظیم شاہکار ہے۔ اس کا وجود صدیوں پرانا ہے، اور قدیم زمانے ہی سے اس کے پانی سے قلعۂ گولکنڈہ اور اس کے اطراف کی بستیوں کی ضروریات پوری کی جاتی رہی ہیں۔
بعد ازاں قطب شاہی سلطنت کے پانچویں فرمانروا سلطان محمد قلی قطب شاہ نے 1591ء میں موسیٰ ندی کے کنارے ایک نئے شہر کی بنیاد رکھی، اور حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی نسبت سے اس کا نام حیدرآباد رکھا۔ روایت ہے کہ شہر کی بنیاد رکھتے وقت انہوں نے دعا کی:
"اے اللہ! اس شہر کو اسی طرح آباد رکھ جس طرح دریا مچھلیوں سے آباد ہوتا ہے۔”
اللہ تعالیٰ نے ان کی دعا قبول فرمائی، اور چارمینار کے دامن میں بسایا گیا یہ شہر وقت گزرنے کے ساتھ ترقی کرتا گیا اور برصغیر کے اہم ترین تاریخی شہروں میں شمار ہونے لگا۔

موسیٰ ندی اور جدید تعمیرات
وقت گزرنے کے ساتھ ایک طرف موسیٰ ندی کی خوبصورتی میں اضافہ ہوتا گیا، اس کا پانی صاف و شفاف تھا، اور اس کے اطراف سرسبز و شاداب ماحول لوگوں کے لیے باعثِ راحت و فرحت تھا۔
اسی وجہ سے آصف جاہی دورِ حکومت میں موسیٰ ندی کے اطراف متعدد تاریخی عمارتیں تعمیر کی گئیں، جن میں ہائی کورٹ، سالار جنگ میوزیم، دیوان دوڑی، مختلف دواخانے اور کتب خانے قابلِ ذکر ہیں۔
دوسری جانب تاریخ کے صفحات میں موسیٰ ندی کی بعض خوفناک طغیانیاں بھی محفوظ ہیں، جنہوں نے حیدرآباد کی تاریخ پر گہرے نقوش چھوڑے۔

موسیٰ ندی اور طغیانیاں

موسیٰ ندی جہاں اپنی خوبصورتی، زرخیزی اور حیات بخش پانی کی وجہ سے مشہور رہی، وہیں اس کی تاریخ میں کئی ہولناک طغیانیاں بھی ثبت ہیں، جنہوں نے حیدرآباد کی تاریخ کا رخ بدل دیا۔

1631ء: پہلی بڑی طغیانی

تاریخی روایات کے مطابق 1631ء میں موسیٰ ندی میں پہلی بڑی طغیانی آئی۔ یہ سیلاب اس قدر شدید تھا کہ ندی کے اطراف واقع متعدد محلات، عمارتیں اور سرکاری دفاتر پانی کی نذر ہوگئے۔ بہت سے مکانات منہدم ہوئے اور جانی نقصان بھی ہوا، اگرچہ اس کی صحیح تعداد کا کوئی مستند ریکارڈ دستیاب نہیں ہے۔

کہا جاتا ہے کہ اس وقت پانی کا بہاؤ اس قدر بلند تھا کہ پرانے پل کے اوپر سے پانی گزرنے لگا، اور زیرِ تعمیر پل کا ایک حصہ بھی سیلاب میں بہہ گیا۔ اس دور کے لوگوں نے اس سیلاب کو اپنی زندگی کا سب سے بڑا سیلاب قرار دیا تھا۔

1831ء: دوسری طغیانی

پہلی بڑی طغیانی کے تقریباً دو سو سال بعد 1831ء میں موسیٰ ندی میں دوبارہ شدید سیلاب آیا۔ اس وقت تک حیدرآباد کی آبادی پہلے کی نسبت کافی بڑھ چکی تھی اور شہر کی حدود بھی وسیع ہو گئی تھیں۔

اس زمانے میں چادر گھاٹ پل زیرِ تعمیر تھا، لیکن سیلاب کی شدت کے باعث اسے بھی شدید نقصان پہنچا۔ اس طغیانی میں عمارتوں کے ساتھ ساتھ انسانی جانوں کا نقصان بھی زیادہ ہوا۔

1903ء: تیسری طغیانی

1903ء میں موسیٰ ندی میں ایک اور طاقت ور سیلاب آیا۔ اس سے متعدد مکانات منہدم ہوئے اور شہر کو خاصا نقصان پہنچا۔ بعض روایات میں اس سیلاب کو بھی شدید قرار دیا گیا ہے، تاہم 1908ء کا سیلاب اس سے کہیں زیادہ تباہ کن ثابت ہوا۔

اس کے بعد حکومت نے موسیٰ ندی کے قریب نئی تعمیرات کے سلسلے میں مزید احتیاط برتنے کی ضرورت محسوس کی۔

1908ء: موسیٰ ندی کا تباہ کن سیلاب

تاریخی ریکارڈ کے مطابق 28 ستمبر 1908ء کو حیدرآباد اور موسیٰ ندی کے بالائی علاقوں میں مسلسل اور موسلا دھار بارش شروع ہوئی۔ وقت گزرنے کے ساتھ بارش کی شدت میں اضافہ ہوتا گیا اور موسیٰ ندی میں پانی کی سطح تیزی سے بلند ہونے لگی۔

28 ستمبر، شام

شام تک نشیبی علاقوں میں پانی داخل ہونا شروع ہوگیا، لیکن اکثر لوگوں کو اس بات کا اندازہ نہیں تھا کہ چند گھنٹوں بعد شہر ایک عظیم سانحے سے دوچار ہونے والا ہے۔

رات 9 بجے کے بعد

رات تقریباً 9 بجے کے بعد پانی غیر معمولی رفتار سے بڑھنے لگا اور موسیٰ ندی خطرناک حد تک بھر گئی۔

28 اور 29 ستمبر کی درمیانی رات

رات 11 بجے سے آدھی رات کے بعد موسیٰ ندی طغیانی پر پہنچ گئی۔ تیز ریلے نے دریا کے کنارے آباد محلوں کو اپنی لپیٹ میں لینا شروع کر دیا۔

ہزاروں مکانات منہدم ہوگئے۔ لوگ اپنی جانیں بچانے کے لیے گھروں کی چھتوں، درختوں اور اونچی عمارتوں کا سہارا لینے لگے، لیکن پانی کا بہاؤ اس قدر تیز تھا کہ بہت سے لوگ اس میں بہہ گئے۔

29 ستمبر، رات 1 بجے سے 3 بجے تک

یہ وہ وقت تھا جب سیلاب اپنے انتہائی عروج پر پہنچ چکا تھا۔

متعدد پل پانی میں ڈوب گئے یا شدید متاثر ہوئے۔

درخت، مویشی، گاڑیاں اور مکانات پانی کے ریلے میں بہنے لگے۔

شہر کے مختلف حصوں کا ایک دوسرے سے رابطہ مکمل طور پر منقطع ہوگیا۔

29 ستمبر، فجر سے صبح تک

صبح ہونے تک ہزاروں افراد ہلاک یا لاپتا ہو چکے تھے۔ جو لوگ زندہ بچ گئے، انہوں نے مساجد، محلوں، سرکاری عمارتوں اور دیگر اونچی جگہوں پر پناہ لی۔

ہر طرف تباہ شدہ مکانات، ملبہ، لاشیں اور آہ و بکا کا منظر تھا۔

29 ستمبر، دن کے وقت

دن چڑھنے کے ساتھ بارش کی شدت کم ہونے لگی اور پانی آہستہ آہستہ اترنا شروع ہوا۔

فوراً بعد نظامِ حیدرآباد نواب میر محبوب علی خان نے امدادی کارروائیوں کا حکم دیا۔ فوج، پولیس اور رضاکار متاثرہ علاقوں میں پہنچے۔ بے گھر افراد کے لیے خوراک، کپڑے، عارضی رہائش اور طبی سہولیات کا انتظام کیا گیا۔

اس ہولناک سیلاب میں:

19 ہزار سے زائد مکانات منہدم ہوگئے۔

15 ہزار سے زیادہ افراد جاں بحق ہوئے۔

80 ہزار سے زائد افراد بے گھر ہوگئے۔

یہ سانحہ حیدرآباد کی تاریخ کی سب سے بڑی قدرتی آفات میں شمار کیا جاتا ہے۔

ملاحظہ: پانی کے اونچائی کی مقدار کی یاددہانی کے لیے شہر حیدرآباد کے مختلف مقامات پر HFL 28/8/1908 لکھا گیا ہے۔
جس کی تفصیل یہ ہیکہ HFL کا مطلب ہائی فلوئڈ لیول کے ہے اور یہ طغیانی 28 ستمبر 1908 میں آئی تھی ۔

امجد حیدرآبادی کی درد بھری داستان

1908ء کے اس قیامت خیز سانحے نے صرف شہر ہی کو نہیں، بلکہ اہلِ قلم اور شعراء کو بھی گہرے رنج و غم میں مبتلا کر دیا۔ مشہور شاعر امجد حیدرآبادی نے اس سانحے پر "قیامتِ صغریٰ” کے عنوان سے ایک مؤثر نظم لکھی، جس کا ایک حصہ ملاحظہ ہو:

وہ رات کا سناٹا، وہ گھنگھور گھٹائیں
بارش کی لگاتار جھڑی، سرد ہوائیں

گرتے ہوئے مکانوں کی وہ چیخوں کی صدائیں
وہ مانگنا ہر ایک کا رو رو کے دعائیں

پانی کا وہ زور اور دریا کی روانی
پتھر کا کلیجہ ہو، پگھل جائے وہ پانی

اس سیلاب میں ان کی والدہ، اہلیہ اور بیٹی بھی پانی میں بہہ گئیں۔ اس دل خراش سانحے پر انہوں نے درد بھرے اشعار کہے:

مادر کہیں، میں کہیں، بادیدۂ پرنم
بیوی کہیں اور بیٹی کہیں توڑتی تھی دم

عالم میں نظر آتا تھا تاریکی کا عالم
کیوں رات نہ ہو، ڈوب گیا نیّرِ اعظم

سب آنکھوں کے سب نہاں ہوگئے پیارے
وہ غم تھا کہ دن کو نظر آنے لگے تارے

موسیٰ ندی طغیانی کے بعد

اس عظیم تباہی کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے نظامِ حیدرآباد میر محبوب علی خان نے متاثرین کی امداد کے لیے اپنے محلات کے دروازے کھول دیے۔ ان کے حکم پر الگ باورچی مقرر کیے گئے تاکہ متاثرین کے لیے کھانے کا انتظام کیا جا سکے۔

اس کے علاوہ بے گھر افراد کی رہائش، زخمیوں کے علاج اور دیگر بنیادی ضروریات پوری کرنے کے لیے خصوصی انتظامات کیے گئے، جس سے ہزاروں متاثرین کو فوری سہارا ملا۔

موسیٰ ندی اور میر عثمان علی خان

1908ء کے ہولناک سیلاب کے بعد یہ احساس شدت سے پیدا ہوا کہ اگر مستقبل میں اس نوعیت کی آفات سے شہر کو محفوظ رکھنا ہے تو مستقل بنیادوں پر منصوبہ بندی ناگزیر ہے۔

چنانچہ 1911ء میں نظامِ حیدرآباد میر عثمان علی خان نے موسیٰ ندی کے اطراف حفاظتی پشتے (Embankments) تعمیر کرائے تاکہ سیلابی پانی آبادی میں داخل نہ ہو سکے۔ اسی طرح متعدد سڑکوں کو کشادہ کیا گیا، سیلاب سے متاثرہ پلوں کی ازسرِنو تعمیر کی گئی، اور 1912ء میں شہر کی منصوبہ بند ترقی اور جدید تعمیرات کے لیے سٹی امپروومنٹ بورڈ (City Improvement Board) قائم کیا گیا، جس نے حیدرآباد کی جدید تعمیر و ترقی میں اہم کردار ادا کیا۔

عثمان ساگر (گنڈی پیٹ)

1908ء کے تباہ کن سیلاب کے بعد مشہور ماہرِ انجینئرنگ سر ایم۔ وشویشوریا نے حیدرآباد کو آئندہ سیلابوں سے محفوظ رکھنے کے لیے موسیٰ ندی پر بڑے آبی ذخائر تعمیر کرنے کی تجویز پیش کی۔

اسی تجویز کی روشنی میں 1912ء میں میر عثمان علی خان کے دورِ حکومت میں عثمان ساگر کی تعمیر کا آغاز ہوا، جس کی تکمیل 1920ء میں ہوئی۔ چونکہ اس کی تعمیر میر عثمان علی خان کے دور میں ہوئی، اس لیے اس کا نام عثمان ساگر رکھا گیا۔

یہ ڈیم گنڈی پیٹ کے مقام پر تعمیر کیا گیا، اسی لیے عوام میں یہ آج بھی گنڈی پیٹ کے نام سے مشہور ہے۔ یہ حیدرآباد سے تقریباً 20 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔

عثمان ساگر میں موسیٰ ندی اور اس سے ملنے والی قدرتی آبی گزرگاہوں کا پانی جمع ہوتا ہے۔ اس ڈیم میں 15 دروازے (Flood Gates) ہیں، جنہیں ضرورت کے وقت پانی کے اخراج کے لیے کھولا جاتا ہے۔

حمایت ساگر

موسیٰ ندی کے ساتھ ساتھ اس کی معاون ندی عیسیٰ ندی پر بھی ایک بڑے آبی ذخیرے کی ضرورت محسوس کی گئی۔ چنانچہ 1915ء میں حمایت ساگر کی تعمیر کا آغاز ہوا، جس کی تکمیل 1927ء میں ہوئی۔

یہ ڈیم 17 دروازوں پر مشتمل ہے اور حیدرآباد سے تقریباً 20 کلومیٹر کے فاصلے پر راجندر نگر میں واقع ہے۔

حمایت ساگر میں عیسیٰ ندی کا پانی جمع ہوتا ہے، جبکہ عیسیٰ ندی بھی اننتگری ہلز ہی کے علاقے سے نکلتی ہے۔

جب عثمان ساگر اور حمایت ساگر کے دروازے کھولے جاتے ہیں تو دونوں کا پانی لنگر ہاؤز (باپو گھاٹ) کے مقام پر آپس میں ملتا ہے، اور وہاں سے موسیٰ ندی کے ذریعے شہرِ حیدرآباد کی جانب بہنے لگتا ہے۔

موسیٰ ندی کی موجودہ صورتِ حال

ایک زمانہ تھا کہ موسیٰ ندی کا پانی نہایت صاف و شفاف ہوا کرتا تھا۔ دور سے اس کی تہہ تک نظر آتی تھی، اور اس کے کناروں کی سرسبزی اہلِ شہر کے لیے باعثِ راحت و فرحت تھی۔ لوگ اس کے خوشگوار ماحول سے لطف اندوز ہوتے تھے، جبکہ اردگرد کی فضا بھی نسبتاً پاکیزہ رہتی تھی۔

لیکن وقت گزرنے کے ساتھ حالات بدلتے گئے، اور موسیٰ ندی کی صورتِ حال بھی تبدیل ہوتی گئی۔

آج موسیٰ ندی ایک آلودہ نالے کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ شہر کی متعدد ڈرینیج لائنوں کا گندا پانی براہِ راست اس میں شامل کیا جا رہا ہے، جس کی وجہ سے پانی شدید آلودہ ہو چکا ہے۔ اس سے اٹھنے والی بدبو نہ صرف ماحول کو متاثر کرتی ہے بلکہ قریبی آبادیوں میں مختلف بیماریوں کے پھیلنے کا بھی سبب بنتی ہے۔

مزید برآں، مچھروں کی کثرت نے لوگوں کی راتوں کا سکون اور دن کا چین بھی متاثر کر دیا ہے۔ ندی کے اطراف کئی مقامات پر غیر قانونی تعمیرات بھی وجود میں آ چکی ہیں، جن کی وجہ سے ندی کا قدرتی بہاؤ متاثر ہوا ہے۔

گزشتہ برسوں میں اگرچہ صفائی کی مختلف کوششیں کی گئیں، لیکن موجودہ حالات کے پیشِ نظر ان کوششوں میں مزید وسعت اور تسلسل کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے۔

موسیٰ ندی کی صفائی کے اسباب

موسیٰ ندی کی بحالی اور صفائی کے لیے درج ذیل اقدامات مؤثر ثابت ہو سکتے ہیں:

1) موسیٰ ندی کے قریب موجود تمام ڈرینیج لائنوں اور فیکٹریوں کے کیمیائی فضلے کے لیے علیحدہ پائپ لائنیں قائم کی جائیں، اور ان کی سخت نگرانی کا انتظام کیا جائے تاکہ آلودہ پانی براہِ راست ندی میں داخل نہ ہو۔

2) ندی میں شامل ہونے والے گندے نالوں کی روک تھام کے لیے ندی کے کنارے بڑی سیوریج لائنیں بچھائی جائیں، اور ان کا پانی STP (Sewage Treatment Plant) میں صاف کرنے کے بعد ہی ندی میں چھوڑا جائے۔

3) ندی کے کناروں پر پلاسٹک اور دیگر کچرا پھینکنے کی روک تھام کی جائے، اور جن مقامات سے کچرا ندی میں گرنے کا امکان ہو وہاں مضبوط جالیاں نصب کی جائیں۔

4) ندی کے کناروں پر قائم غیر قانونی تعمیرات کے بارے میں ایسا مناسب اور منصفانہ طریقۂ کار اختیار کیا جائے جس سے ایک طرف ندی کی بحالی بھی ممکن ہو اور دوسری طرف متاثرہ افراد کو غیر ضروری مشکلات کا سامنا بھی نہ کرنا پڑے۔

5) موسیٰ ندی کے اطراف پارک، باغات، تفریحی مقامات اور سبزہ زار قائم کیے جائیں تاکہ ماحول خوشگوار ہو اور شہریوں کو صحت مند تفریح کے مواقع حاصل ہوں۔

6) صفائی کے لیے مستقل عملہ مقرر کیا جائے، اور مختلف علاقوں کے اعتبار سے ان کی ذمہ داریاں اور نگرانی کا مؤثر نظام قائم کیا جائے۔

موسیٰ ندی کی بحالی کا موجودہ منصوبہ

موسیٰ ندی کی بڑھتی ہوئی آلودگی، غیر قانونی تجاوزات اور سیلابی خطرات کے پیشِ نظر حکومتِ تلنگانہ نے وزیرِ اعلیٰ اے۔ ریونت ریڈی کی ہدایت پر موسیٰ ندی کی بحالی کا ایک جامع منصوبہ تیار کیا ہے۔

اس منصوبے کے تحت موسیٰ ندی کے تقریباً 55 کلومیٹر طویل حصے کو پانچ زونوں میں تقسیم کیا گیا ہے، تاکہ مرحلہ وار صفائی، ترقیاتی کام اور ماحولیاتی بحالی کو مؤثر انداز میں انجام دیا جا سکے۔

زون نمبر 1: حمایت ساگر تا باپو گھاٹ (تقریباً 21 کلومیٹر)

اس زون میں ندی کی صفائی، گہرائی اور چوڑائی میں اضافہ، جدید STP کی تعمیر، انٹرسیپٹر سیوریج لائنیں، تین نئے بیراج، نئے پل، ریور فرنٹ، واکنگ ٹریک، سائیکل ٹریک، پارک اور سیلاب سے بچاؤ کے مختلف انتظامات کیے جائیں گے۔

زون نمبر 2: باپو گھاٹ تا پرانا پل (تقریباً 6 کلومیٹر)

اس حصے میں تاریخی پلوں اور ثقافتی ورثے کے تحفظ کے ساتھ ریور فرنٹ، پارک، سیاحتی مقامات اور عوامی سہولیات کی تعمیر کی جائے گی۔

زون نمبر 3: پرانا پل تا ایم جی بی ایس (تقریباً 4 کلومیٹر)

اس زون میں نالوں کے گندے پانی کو STP تک منتقل کرنے، ندی کی صفائی، واکنگ ٹریک، پارک اور سیلاب سے تحفظ کے انتظامات پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔

زون نمبر 4: ایم جی بی ایس تا اپّل (تقریباً 8 کلومیٹر)

اس حصے میں نئے پل، ریور فرنٹ سڑکیں، سبزہ زار، پارک، سائیکل ٹریک اور ندی کے کناروں کو مضبوط بنانے کے منصوبے شامل ہیں۔

زون نمبر 5: اپّل تا ناگول اور ایسٹرن آؤٹر رنگ روڈ (ORR) (تقریباً 16 کلومیٹر)

اس مرحلے میں گرین زون کی تعمیر، قدرتی آبی حیات کی بحالی، ایکو ٹورزم، شہری بنیادی ڈھانچے کی ترقی اور مستقبل کی توسیعی منصوبہ بندی شامل ہے۔

ملاحظہ: اس وقت شہر حیدرآباد کے حدود میں موسیٰ ندی پر 17 پل موجود ہیں، جبکہ حکومت کے مجوزہ موسیٰ ریور فرنٹ منصوبے کے تحت مزید 29 نئے پل تعمیر کیے جانے کی تجویز ہے۔

حکومت سے عوام کی شکایات

اگرچہ حکومت نے موسیٰ ندی کی بحالی کے لیے بڑے پیمانے پر کارروائی کا آغاز کیا ہے، تاہم اس منصوبے کے حوالے سے متاثرہ افراد، سماجی تنظیموں اور بعض سیاسی جماعتوں کی جانب سے متعدد اعتراضات بھی سامنے آئے ہیں، جن میں سے چند درج ذیل ہیں:

1۔ متبادل رہائش کا مسئلہ

متاثرہ افراد کا کہنا ہے کہ ابتدا میں حکومت نے متبادل رہائش کے بارے میں کوئی واضح منصوبہ پیش نہیں کیا۔ بعد میں یہ وضاحت کی گئی کہ ضرورت پڑنے پر متاثرین کو شہر سے باہر بھی مکانات فراہم کیے جا سکتے ہیں۔

متاثرین کے مطابق اگر کسی شخص کا روزگار، بچوں کی تعلیم اور دیگر ضروریات شہر سے وابستہ ہوں تو اسے شہر سے دور منتقل کرنا اس کے لیے شدید مشکلات کا باعث بن سکتا ہے۔ ان کا مطالبہ ہے کہ انہدامی کارروائی سے قبل مناسب رہاہش کا انتظام کیا جانا چاہیے۔

2۔ حکومتی اندازِ بیان

بعض شہریوں کا کہنا ہے کہ حکومتی کارروائی کے ساتھ اختیار کیا گیا اندازِ بیان بھی نہایت سخت تھا۔

مثلاً وزیرِ اعلیٰ ریونت ریڈی نے ایک موقع پر کہا:

"میں بے رحمی (Ruthlessly) سے کارروائی کروں گا۔”

ایک اور موقع پر انہوں نے کہا:

"جس کی بھی پشت پناہی ہو، مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا۔”

اسی طرح ایک بیان میں انہوں نے کہا:

"میں نے توڑ پھوڑ بھرپور طریقے سے کی۔”

مزید برآں، ہٹلر سے متعلق ان کے ایک بیان پر بھی سیاسی اور عوامی سطح پر خاصا تنازع پیدا ہوا۔

متاثرہ افراد اور اپوزیشن جماعتوں کا کہنا ہے کہ اس قسم کے بیانات سے عوام کے جذبات مجروح ہوئے،

3۔ رجسٹری اور بنیادی سہولیات کا سوال

بعض متاثرہ افراد کا کہنا ہے کہ اگر یہ زمینیں واقعی غیر قانونی تھیں تو کئی دہائیوں تک ان کی رجسٹری کیوں ہوتی رہی؟ وہاں سڑکیں کیوں بنائی گئیں؟ بجلی، پانی اور دیگر بنیادی سہولیات کیوں فراہم کی گئیں؟

ان کے مطابق اگر سرکاری اداروں نے برسوں تک ان علاقوں کو مختلف سہولیات فراہم کیں تو اب تمام ذمہ داری صرف عام شہریوں پر ڈالنا مناسب معلوم نہیں ہوتا۔

4۔ عدالتی احکامات سے متعلق اعتراضات

بعض متاثرہ افراد نے دعویٰ کیا کہ انہیں عدالت سے حکمِ امتناعی (Stay Order) حاصل تھا، اس کے باوجود انہدامی کارروائی کی گئی۔

بعض معاملات میں عدالت نے بھی متعلقہ کارروائیوں پر سوالات اٹھائے،

5۔ جانبداری کے الزامات

بعض حلقوں نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ بعض بااثر افراد کی املاک کو انہدامی کارروائی سے مستثنیٰ رکھا گیا، جبکہ غریب افراد کے مکانات پر فوری کارروائی کی گئی۔

ان الزامات میں وزیرِ اعلیٰ کے ایک قریبی رشتہ دار کے مکان کا بھی ذکر کیا گیا،

6۔ سیاسی جانبداری

عوام کا کہنا ہیکہ بعض سیاسی شخصیات کی املاک کو مختلف وجوہات کی بنا پر برقرار رکھا گیا، جبکہ عام شہریوں کے خلاف نسبتاً سخت کارروائی کی گئی۔

7)موسیٰ ندی کی بحالی یا فنڈز کا حصول؟

مزید عوام کا یہ بھی کہنا ہے کہ موسی ندی کو ترقی دینا یہ بہانا تھا در اصل فنڈ حاصل کرنے کا اور اب جبکہ ہزار کروڈ کا فنڈ حاصل ہوچکا تو موسی ندی کے منصوبوں اور چند گھروں کی انہدامی کارروائی کے علاؤہ موسی ندی کی صفائی کا کوئی کام نہیں کیا گیا۔

ان کارروائیوں کے اثرات
ان کارروائیوں کے نتیجے میں ایک طرف موسیٰ ندی کی بحالی کے منصوبے کو تیزی ملی، جبکہ دوسری طرف متاثرہ علاقوں میں بے چینی بھی پیدا ہوئی۔

رئیل اسٹیٹ کے ماہرین کے مطابق ان کارروائیوں کے بعد نہ ندی کے اطراف واقع علاقوں میں بلکہ تمام ہی جائیداد کی خرید و فروخت میں کمی آچکی۔ اسی طرح اس مسئلے کو اپوزیشن جماعتوں نے سیاسی طور پر بھی اٹھایا، خصوصاً جوبلی ہلز کے ضمنی انتخاب کے دوران۔ اگرچہ انتخابی نتیجہ حکومت کے خلاف نہیں گیا، تاہم اس مسئلے پر حکومت کو خاصی تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔

ہائیڈرا پر عدالت کے سخت ریمارکس۔
حالیہ سماعتوں میں عدالت نے ہائیڈرا کے کاروائی پر برہم ہوتے ہوۓ کہا کہ : کسی بھی سرکاری ادارے کو قانون اور عدالتی احکامات سے بالاتر ہو کر کام کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی ہے۔
اور ایک مقدمے میں عدالت کے خلاف عمل کرنے پر ہائیڈرا سے وضاحت طلب کی ہے۔
اور ایک مقدمے میں کمشنر آف ہائڈرا کو معذرت پیش کرنے کو کہا۔
اور عدالت نے یہ بھی کہا کہ اگر عدالت کی بات نہ مانی گئی تو تحویل میں لینے کے سلسلے میں بھی غور کیا جا سکتا ہے۔
اور پھر بالآخر عدالت کی بار بار خلاف ورزی کرنے پر عدالت نے ہائڈرا کمشنر اے وی رنگناتھ (A.V. Ranganathکو عہدے سے معزول کردیا۔
چند تجاویز

موسیٰ ندی کی بحالی یقیناً وقت کی اہم ضرورت ہے، لیکن اس کے ساتھ عوامی اعتماد اور بنیادی انسانی حقوق کا تحفظ بھی ضروری ہے۔

ترقی یافتہ ممالک، جیسے سنگاپور، نیدرلینڈز اور جنوبی کوریا میں ندیوں کی بحالی کے منصوبوں کے دوران عموماً درج ذیل اصولوں کو ملحوظ رکھا جاتا ہے:

متاثرہ افراد سے کئی ماہ قبل مشاورت کی جاتی ہے۔

متبادل رہائش یا مناسب معاوضے کا انتظام کیا جاتا ہے۔

بچوں کی تعلیم، روزگار اور بنیادی ضروریات کو پیشِ نظر رکھا جاتا ہے۔

اگر کوئی خاندان کئی دہائیوں سے رہ رہا ہو تو اسے مناسب مہلت دی جاتی ہے۔

عدالتی حکمِ امتناعی موجود ہونے کی صورت میں عدالت کے فیصلے تک عموماً کارروائی مؤخر کی جاتی ہے، سوائے ان معاملات کے جن میں عدالت یا قانون فوری کارروائی کی اجازت دے۔

تمام متاثرین کے ساتھ یکساں اور غیر جانبدارانہ سلوک کیا جاتا ہے۔

اگر موسیٰ ندی کی بحالی کے دوران ماحولیاتی تحفظ کے ساتھ ساتھ انسانی ہمدردی، شفافیت، عدل و انصاف اور مناسب باز آبادکاری کو بھی یقینی بنایا جائے تو یہ منصوبہ نہ صرف حیدرآباد کی خوبصورتی میں اضافہ کرے گا بلکہ عوام کے اعتماد کا بھی سبب بنے گا۔

اختتامیہ

موسیٰ ندی صرف ایک آبی گزرگاہ نہیں بلکہ حیدرآباد کی تاریخ، تہذیب اور تمدن کی ایک زندہ علامت ہے۔ صدیوں سے یہ شہر کی زندگی، معیشت اور ثقافت کا حصہ رہی ہے۔ آج اس کی صفائی اور بحالی ایک ناگزیر ضرورت بن چکی ہے، لیکن اس مقصد کے حصول میں ماحولیات کے ساتھ ساتھ انسانی وقار، قانونی تقاضوں اور عوامی مفادات کو بھی پیشِ نظر رکھنا ضروری ہے۔

اگر حکومت، ماہرین، عدلیہ اور عوام باہمی تعاون کے ساتھ آگے بڑھیں تو یقیناً موسیٰ ندی دوبارہ اپنی سابقہ خوبصورتی حاصل کر سکتی ہے اور آنے والی نسلوں کے لیے ایک صاف، محفوظ اور خوبصورت آبی ورثہ ثابت ہو سکتی ہے۔

مراجع
سقوط حیدرآباد
حیدرآباد کی سیر
رود موسیٰ کی طغیانی امجد حیدرآبادی کی زبانی :- ڈاکٹر محمد ابرارالباقیY
دی ہندو (The Hindu)
دی ٹائمز آف انڈیا (The Times of India)
دکن کرانیکل (Deccan Chronicle)
تلنگانہ ٹوڈے (Telangana Today)
دی سیاست ڈیلی (Thnnnj uu gb k mmtrr
o Siasat Daily)
دی ہنس انڈیا (The Hans India)
دی نیو انڈین ایکسپریس (The New Indian Express)
سیاست نیوز
منصف نیوز۔

By Maqsood

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے