Breaking
جمعہ. جولائی 31st, 2026

درباری ملا نہیں، سید المحدثین ہیں

درباری ملا نہیں، سید المحدثین ہیں

درباری ملا نہیں، سید المحدثین ہیں
( حضرت سیدنا ابوہریرہؓ اعظم المحدثین اور زبردست فقیہ)

از قلم: مفتی محمد عبدالحمید شاکر قاسمی
جامعہ عربیہ توپران ضلع میدک

حضرت سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ کے جلیل القدر صحابی، حافظِ حدیث، فقیہ اور مجتہد تھے۔ آپ کا مشہور نام عبدالرحمن بن صخر دوسی ہے، اگرچہ اہلِ سیر نے آپ کے نام کے بارے میں متعدد اقوال نقل کیے ہیں۔ آپ قبیلۂ دوس سے تعلق رکھتے تھے اور 7 ہجری، عامِ خیبر میں مدینہ منورہ حاضر ہوئے، اسلام قبول کیا اور رسول اللہ ﷺ کی صحبت اختیار فرمائی۔ آپ کی والدہ کا نام میمونہ بنت صبیح منقول ہے۔ امام ذہبی رحمہ اللہ نے آپ کو ’’الإمام، الفقيه، المجتهد، الحافظ، صاحب رسول الله ﷺ، سيد الحفاظ الأثبات‘‘ جیسے عظیم الفاظ سے یاد کیا ہے۔ (سیر أعلام النبلاء، ج 2، ص 578،)

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی کثرتِ روایت کسی دربار کی عطا یا کسی سیاسی تعلق کا نتیجہ نہیں بلکہ رسول اللہ ﷺ کی صحبت سے غیر معمولی شغف اور علمِ نبوی کے لیے تفرغ کا فطری نتیجہ تھی۔ صحیح بخاری میں خود حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ مہاجرین تجارت میں مشغول رہتے تھے اور انصار اپنے اموال کی دیکھ بھال کرتے تھے، جبکہ وہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ رہتے اور آپ ﷺ کی مجلس سے محروم نہ ہوتے تھے۔ اسی مسلسل صحبت نے انہیں کثرتِ حدیث کا وہ مقام عطا کیا جس کی وجہ سے وہ امت کے عظیم ترین رواۃ میں شمار ہوئے۔ (صحیح البخاری، کتاب العلم، باب حفظ العلم، حدیث 118-120)

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ پر قدیم و جدید زمانے میں مختلف اعتراضات کیے گئے؛ کبھی کثرتِ روایت کو موضوع بنایا گیا، کبھی حفظ و روایت پر شبہات قائم کیے گئے اور کبھی سیاسی تعبیرات کے ذریعے ان کی دیانت کو مشکوک بنانے کی کوشش ہوئی۔ مستشرق اِگناز گولڈزیہر نے حدیث کے ذخیرے پر استشراقی زاویے سے اعتراضات اٹھائے، محمود ابو ریہ نے أضواء على السنة المحمدية میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ پر متعدد اعتراضات کیے، جبکہ محمد ابو زہرہ نے الحديث والمحدثون میں حدیث و محدثین کے دفاع میں اصولی گفتگو کی۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے حالات اور مقام کے لیے امام ذہبی کی سیر أعلام النبلاء اور حافظ ابن حجر کی الإصابة في تمييز الصحابة اہم مصادر ہیں۔ (سیر أعلام النبلاء، ج 2، ص 578-586؛ الإصابة في تمييز الصحابة، ج 7، ص 348 وما بعدها)

لیکن اس مضمون میں ان تمام اعتراضات کا احاطہ مقصود نہیں؛ ہمارا موضوع صرف ایک اعتراض ہے: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو ’’درباری ملا‘‘ یا ’’سرکاری مولوی‘‘ کہنا اور یہ دعویٰ کرنا کہ انہوں نے حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے خوف سے رسول اللہ ﷺ کی بعض احادیث بیان نہیں کیں۔ اس اعتراض کی بنیاد عموماً حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی اس مشہور حدیث پر رکھی جاتی ہے: «حَفِظْتُ مِنْ رَسُولِ اللهِ ﷺ وِعَاءَيْنِ، فَأَمَّا أَحَدُهُمَا فَبَثَثْتُهُ، وَأَمَّا الْآخَرُ فَلَوْ بَثَثْتُهُ قُطِعَ هَذَا الْبُلْعُومُ»۔ یعنی میں نے رسول اللہ ﷺ سے علم کے دو ذخیرے محفوظ کیے، ایک کو میں نے لوگوں میں پھیلا دیا اور دوسرے کو اگر پھیلاتا تو میرا حلقوم کاٹ دیا جاتا۔ (صحیح البخاری، کتاب العلم، حدیث 120)

اس حدیث کے الفاظ میں غور کیجیے: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کا نام لیا، نہ یہ فرمایا کہ مجھے ’’خوفِ معاویہ‘‘ تھا، نہ یہ فرمایا کہ دوسرے وعاء میں شرعی احکام اور حلال و حرام کی احادیث تھیں۔ لہٰذا یہ کہنا کہ ’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے خوف سے احادیث چھپائیں‘‘ خود روایت کے الفاظ سے ثابت نہیں۔ پہلے ایک سیاسی مفروضہ قائم کرنا، پھر اس مفروضے کو روایت کے اندر داخل کرکے اسی کو روایت کا مفہوم قرار دینا علمی تحقیق نہیں بلکہ تحمیلِ معنی ہے۔

حافظ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ نے فتح الباری میں اس حدیث کی شرح کے ضمن میں دوسرے وعاء کو فتن، ملاحم اور حکامِ سوء سے متعلق ان اخبار پر محمول کرنے کی گنجائش بیان کی ہے جنہیں صراحتاً عام کرنے سے فتنہ یا جان کے خطرے کا اندیشہ ہوسکتا تھا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ محدثین کے ہاں ’’دوسرا وعاء‘‘ لازماً شرعی احکام کے مخفی ذخیرے کا نام نہیں تھا۔ لہٰذا حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے اس قول کو دین کے احکام چھپانے کی خیانت قرار دینا محدثین کی تشریحات سے مطابقت نہیں رکھتا۔ (فتح الباری، ج 1، ص 216-217، دارالمعرفۃ)

یہاں ایک بنیادی فرق ملحوظ رہنا چاہیے: فتنہ انگیز سیاسی پیش گوئیوں کی بعض تفصیلات کو مصلحتاً عام نہ کرنا اور دین کے شرعی احکام کو حکمران کے خوف سے چھپا دینا دو بالکل مختلف چیزیں ہیں۔ پہلی صورت میں حکمت، مصلحت اور دفعِ فتنہ ہوسکتا ہے، جبکہ دوسری صورت میں دین کی امانت میں خیانت لازم آتی ہے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی پوری زندگی، ان کی کثرتِ روایت اور ان کا عملی طرزِ عمل اس دوسرے مفہوم کی تردید کرتا ہے۔

لہٰذا ’’درباری ملا‘‘ کا لقب خود حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی سیرت کے خلاف ہے۔ جو شخص رسول اللہ ﷺ کی صحبت کو لازم پکڑے، آپ ﷺ کی احادیث کو یاد کرے، امت تک پہنچائے اور اپنی زندگی کا بڑا حصہ تحصیلِ علم میں صرف کرے، اس کی اس وابستگی کو سیاسی دربار کی ملازمت سے تعبیر کرنا علمی اصطلاحات کا غلط استعمال ہے۔ امام ذہبی رحمہ اللہ نے انہیں ’’سید الحفاظ الأثبات‘‘ قرار دیا؛ ایسی شخصیت کے علمی مقام کو ایک سیاسی طعن سے ساقط نہیں کیا جاسکتا۔ (سیر أعلام النبلاء، ج 2، ص 578)
یہاں سے اعتراض کا اصل محل سامنے آتا ہے: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ پر جرح اگر علمی ہے تو علمی دلیل سے کی جائے، ان کی عدالت، حفظ، ضبط اور مرویات پر اصولِ حدیث کے مطابق گفتگو کی جائے؛ لیکن ’’درباری‘‘ اور ’’سرکاری مولوی‘‘ جیسے القاب علمی نقد نہیں بلکہ تحقیر آمیز سیاسی تعبیرات ہیں۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی عظیم حدیثی شخصیت کا فیصلہ القاب سے نہیں بلکہ ائمۂ حدیث کے فیصلوں، ان کی مرویات اور تاریخی شواہد سے ہوگا۔
خلفائے راشدین کا زمانہ اور ’’خوفِ معاویہ‘‘ کے نظریہ کی کمزوری
اب اعتراض کے دوسرے حصے کو دیکھیے۔ اگر یہ کہا جائے کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے دوسرے وعاء کی احادیث ’’حکومت کے خوف‘‘ سے بیان نہیں کیں اور اس حکومت سے مراد خاص طور پر حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی حکومت ہے، تو ایک بنیادی تاریخی سوال سامنے آتا ہے: حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے پہلے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے تقریباً تیس برس کا زمانہ کن حکمرانوں کے تحت گزارا؟ رسول اللہ ﷺ کے وصال کے بعد حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا زمانہ آیا، پھر حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ، پھر حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ اور پھر حضرت علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہ۔ یہ چاروں خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم کے ادوار تھے۔ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی خلافت اس کے بعد آئی۔ تو اگر حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کسی حکمران کے خوف سے ’’وعاء‘‘ کی روایات چھپاتے تھے تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں کیوں نہ بیان کیں؟ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں کیوں نہ بیان کیں؟ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے زمانے میں کیوں نہ بیان کیں؟ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے زمانے میں کیوں نہ بیان کیں؟ محض حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کو اس وعاء کا سبب قرار دینا تاریخی تسلسل سے ثابت نہیں ہوتا۔

بلکہ اگر کوئی شخص یہ کہے کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ’’حکمرانوں کے خوف‘‘ سے حق بات روک لی تھی تو پھر اس کے لیے یہ بھی واضح کرنا ہوگا کہ کیا وہ خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم کے زمانے میں بھی یہی طرز اختیار کرتے تھے؟ اگر جواب نفی میں ہے تو حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے لیے اس مخصوص خوف کی علت کہاں سے آئی؟ اور اگر جواب اثبات میں ہے تو پھر حضرت ابوبکر، حضرت عمر، حضرت عثمان اور حضرت علی رضی اللہ عنہم کے ادوار میں بھی ایسا کوئی واضح تاریخی ثبوت پیش کرنا ہوگا۔ اس کے بغیر ’’خوفِ معاویہ‘‘ کو حدیث کے مفہوم کا لازمی حصہ بنا دینا ایک غیر ثابت شدہ دعویٰ ہے۔

یہاں ایک نہایت اہم حقیقت یہ بھی ہے کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے خود حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے دور میں بھی ایسی احادیث بیان کیں جن میں اقتدار اور حکمرانوں سے متعلق سخت نبوی تنبیہات موجود تھیں۔ صحیح بخاری میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: «هَلَكَةُ أُمَّتِي عَلَى يَدَيْ غِلْمَةٍ مِنْ قُرَيْشٍ»۔ مروان نے اس پر کلام کیا تو حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: «لَوْ شِئْتُ أَنْ أَقُولَ بَنِي فُلَانٍ وَبَنِي فُلَانٍ لَفَعَلْتُ»؛ اگر میں چاہوں تو فلاں اور فلاں خاندان کا نام بھی لے سکتا ہوں۔ (صحیح البخاری، کتاب الفتن، حدیث 7058؛ صحیح مسلم، کتاب الفتن، حدیث 2917)۔ یہ روایت اس الزام کے لیے نہایت اہم جواب ہے کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اقتدار کے خوف سے سیاسی نوعیت کی احادیث بالکل بیان نہیں کرتے تھے۔

اس روایت میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبوی پیش گوئی کو چھپایا نہیں؛ بلکہ بیان کیا، البتہ ناموں کی صراحت سے احتراز کیا۔ یہی فرق ’’حدیث چھپانے‘‘ اور ’’فتنہ سے بچنے کے لیے کنایہ اختیار کرنے‘‘ کے درمیان ہے۔ اگر کسی خاص شخص کا نام لینے سے فساد پیدا ہونے کا اندیشہ ہو تو نام کے بجائے اشارہ کرنا روایت کی خیانت نہیں، بلکہ حکمت ہے۔ خود حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا یہ فرمان کہ ’’اگر میں چاہوں تو فلاں فلاں خاندان کا نام لے سکتا ہوں‘‘ اس بات کی شہادت ہے کہ وہ حقیقت سے بے خبر نہیں تھے، بلکہ صراحت کے نتائج سے واقف تھے۔
اس سے ’’درباری ملا‘‘ کا الزام مزید کمزور ہوجاتا ہے۔ جو شخص حکمرانوں کی خوشنودی کے لیے حدیثیں چھپاتا ہو وہ مروان کے سامنے قریش کے نوجوانوں کے بارے میں ایسی نبوی پیش گوئی کیوں بیان کرے گا؟ اور اگر اس کا مقصد اقتدار کی مدح و خوشنودی ہوتا تو یہ کیوں کہتا کہ میں چاہوں تو فلاں فلاں خاندان کے نام بھی لے سکتا ہوں؟ یہ الفاظ درباری خوشامد نہیں بلکہ حدیثِ رسول ﷺ کی امانت داری اور فتنہ سے احتیاط کا مجموعہ ہیں۔

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے مروان کے ساتھ دوسرے واقعات بھی اسی حقیقت کی تائید کرتے ہیں۔ صحیح مسلم میں مروان کے گھر میں تصاویر کا واقعہ منقول ہے کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے وہاں رسول اللہ ﷺ کی وعید بیان کی: «وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنْ ذَهَبَ يَخْلُقُ خَلْقًا كَخَلْقِي»۔ (صحیح مسلم، کتاب اللباس والزینۃ، حدیث 2111؛ صحیح البخاری، حدیث 7559)۔ یہ واقعہ اس الزام کے مقابلے میں ایک عملی جواب ہے کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ حکمران کے گھر یا اقتدار کے ماحول میں شرعی احکام بیان کرنے سے گھبراتے تھے۔

مروان کے سامنے یہ حدیث بیان کرنا معمولی بات نہیں تھی؛ کیونکہ اگر مقصد صرف حکمران کی خوشنودی ہوتا تو حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے لیے خاموش رہنا زیادہ آسان تھا۔ لیکن انہوں نے رسول اللہ ﷺ کی وعید کو موقع کے مطابق بیان کیا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کے نزدیک اصل وفاداری رسول اللہ ﷺ کی سنت کے ساتھ تھی، نہ کسی سیاسی اقتدار کے ساتھ۔ یہی وجہ ہے کہ انہیں ’’سرکاری مولوی‘‘ کہنا ان کے عملی کردار کے ساتھ میل نہیں کھاتا۔

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی پوری حدیثی زندگی اس الزام کے خلاف گواہی دیتی ہے۔ اگر انہوں نے واقعی حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے خوف سے احادیث چھپائی ہوتیں تو اس دعوے کے لیے کسی واضح تاریخی روایت، کسی صریح قول اور کسی معتبر محدث کی تصریح کی ضرورت تھی۔ محض ’’وعاءين‘‘ کے لفظ سے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کا نام نکال لینا اور پھر اسی مفروضے کی بنیاد پر حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی دیانت کو مشکوک بنانا اصولِ تحقیق کے خلاف ہے۔

یہاں یہ بات بھی واضح ہونی چاہیے کہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں اہلِ سنت کا موقف کسی جذباتی تعصب پر قائم نہیں۔ تاریخی واقعات پر اہلِ علم نے تفصیلی گفتگو کی ہے، لیکن کسی صحابی کی تنقیص کے لیے دوسرے صحابی کی روایت کو بطور آلہ استعمال کرنا درست نہیں۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بھی صحابی ہیں اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ بھی صحابی؛ دونوں کی شخصیت کو سیاسی تعبیرات کے ذریعے باہم متصادم کرکے پھر ایک کی عدالت دوسرے کی تنقیص کے لیے استعمال کرنا اہلِ سنت کے منہج سے ہم آہنگ نہیں۔

یہی وہ مقام ہے جہاں علمی نقد اور سیاسی تعبیر کے درمیان فرق واضح ہوجاتا ہے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیثی شخصیت پر اصولی نقد ایک الگ موضوع ہے، مگر انہیں ’’درباری ملا‘‘ اور ’’سرکاری مولوی‘‘ کہنا، پھر اسی لقب کو بنیاد بناکر ان کی روایت و دیانت کو مشکوک کرنا ایک ایسا طریقہ ہے جس کے لیے مضبوط تاریخی و حدیثی شہادت درکار ہے۔ اہلِ علم کا مقام الفاظ کی شدت سے نہیں بلکہ دلیل کی قوت سے بلند ہوتا ہے۔
اب سوال براہِ راست سامنے آتا ہے کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ پر ’’درباری ملا‘‘ اور ’’سرکاری مولوی‘‘ کی تعبیر کیوں اختیار کی گئی؟ اگر مقصود واقعی حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیثی شخصیت کا علمی نقد ہے تو ان کے حفظ، ضبط، عدالت، فقہ اور مرویات پر اصولِ حدیث کے مطابق گفتگو کیجیے؛ لیکن جب حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی جرح کے لیے بار بار حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے ’’خوف‘‘ کو مرکزی عنوان بنایا جائے تو یہ سوال پیدا ہونا فطری ہے کہ اعتراض کا اصل رخ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی طرف ہے یا اس کے ذریعے حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی شخصیت کو مجروح کرنا مقصود ہے؟ راقم الحروف کے نزدیک حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا ذکر یہاں بظاہر محلِ اعتراض ہے، مگر اس کے پسِ پشت حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں ایک مخصوص منفی ذہنی رجحان زیادہ نمایاں دکھائی دیتا ہے۔

مزید افسوس ناک امر یہ ہے کہ اس طرزِ استدلال میں بعض مقامات پر ان رجحانات کی جھلک محسوس ہوتی ہے جو اہلِ سنت کے معروف منہج سے قریب نہیں اور جن میں حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں بغض و تنقیص کا عنصر نمایاں رہا ہے۔ کسی شخص کے بارے میں یہ فیصلہ ایک الگ علمی مسئلہ ہے کہ وہ کن فکری اثرات سے متاثر ہے، لیکن اتنا ضرور کہا جاسکتا ہے کہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے خلاف ایسی تعبیرات جو تاریخی شواہد سے زیادہ سیاسی تاثر پر قائم ہوں، اہلِ سنت کے لیے قابلِ قبول نہیں۔ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کے بارے میں ہماری گفتگو کا معیار شخصیات کی پسند و ناپسند نہیں بلکہ قرآن، حدیث، اصولِ روایت اور ائمۂ اہلِ سنت کی تصریحات ہیں۔

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو ’’درباری ملا‘‘ کہنا دراصل ایک جلیل القدر صحابی کی پوری علمی زندگی کو ایک سیاسی لقب میں محصور کردینا ہے۔ وہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ رہے، آپ ﷺ سے علم حاصل کیا، اسے محفوظ کیا، امت تک پہنچایا اور اسی کثرتِ روایت کی وجہ سے ائمۂ حدیث کے ہاں بلند مقام حاصل کیا۔ امام ذہبی رحمہ اللہ کا انہیں ’’سید الحفاظ الأثبات‘‘ کہنا اس حقیقت کی واضح شہادت ہے۔ (سیر أعلام النبلاء، ج 2، ص 578)۔ ایسے صحابی کے بارے میں فیصلہ ایک مبہم سیاسی تعبیر سے نہیں بلکہ ائمۂ حدیث کے مجموعی منہج سے کیا جائے گا۔

یہ بھی عجیب امر ہے کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی کثرتِ حدیث کو کبھی ان کی صحبتِ نبوی سے الگ کرکے دیکھا جاتا ہے، حالانکہ خود انہوں نے اس کی بنیادی وجہ بیان کردی تھی۔ وہ رسول اللہ ﷺ کی مجلس میں مسلسل حاضر رہتے، جبکہ دوسرے صحابہ رضی اللہ عنہم اپنے کاروباری اور معاشی مشاغل میں مصروف رہتے تھے۔ اس لیے ان کی کثرتِ روایت کو کسی دربار سے جوڑنا اس واضح تاریخی سبب کو نظرانداز کرنا ہے جو خود صحابی نے بیان کیا۔ (صحیح البخاری، کتاب العلم، حدیث 118-120)

اور ’’وعاءين‘‘ والی روایت کے بارے میں بھی فیصلہ انتہائی احتیاط سے ہونا چاہیے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے دوسرے وعاء کو نہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے منسوب کیا، نہ شرعی احکام کے مخفی ذخیرے کے طور پر متعین کیا۔ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے بھی اس کے ضمن میں فتن، ملاحم اور حکامِ سوء سے متعلق اخبار کا احتمال بیان کیا ہے۔ (فتح الباری، ج 1، ص 216-217)۔ اس لیے اس روایت سے براہِ راست ’’خوفِ معاویہ‘‘ اور پھر اس خوف سے ’’احادیثِ دین چھپانے‘‘ کا نتیجہ نکالنا دو ایسے مقدمات کو جوڑنا ہے جن کی صراحت اصل روایت میں موجود نہیں۔
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا عملی کردار بھی اسی دعوے کو رد کرتا ہے۔ مروان کے سامنے قریش کے نوجوانوں کے بارے میں رسول اللہ ﷺ کی پیش گوئی بیان کرنا اور یہ کہنا کہ اگر چاہوں تو فلاں فلاں خاندان کا نام بھی لے سکتا ہوں، اس بات کی دلیل ہے کہ انہوں نے نبوی خبر کو دبایا نہیں تھا؛ البتہ صراحتِ اسماء سے فتنہ کے اندیشے کے باعث کنایہ اختیار کیا۔ (صحیح البخاری، کتاب الفتن، حدیث 7058؛ صحیح مسلم، کتاب الفتن، حدیث 2917)۔ مروان کے گھر میں تصاویر پر رسول اللہ ﷺ کی وعید بیان کرنا بھی اسی طرزِ عمل کی دوسری مثال ہے۔ (صحیح مسلم، حدیث 2111؛ صحیح البخاری، حدیث 7559)
اس لیے ’’خوفِ معاویہ‘‘ کو حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیثی زندگی کی بنیادی تشریح بنانا تاریخی شواہد کے ساتھ انصاف نہیں۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے دور میں بھی احادیث بیان کیں، مروان کے سامنے بھی نبوی تنبیہات سنائیں اور شرعی منکرات پر حدیث بیان کرنے سے گریز نہیں کیا۔ اگر ان کا اصل مقصد اقتدار کی خوشنودی ہوتا تو ان کے یہ طرزِ عمل ناقابلِ فہم ہوجاتے۔
یہاں سلمان ندوی صاحب سے ہمارا علمی مطالبہ نہایت سادہ ہے: اگر حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو ’’درباری‘‘ کہنا ہے تو اس کے لیے دلیل پیش کیجیے؛ اگر ’’سرکاری مولوی‘‘ کہنا ہے تو اس کے لیے تاریخی شہادت پیش کیجیے؛ اگر حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے خوف سے احادیث چھپانے کا الزام ہے تو خود حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا صریح قول پیش کیجیے کہ انہوں نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے خوف سے ایسا کیا۔ محض ’’وعاءين‘‘ والی حدیث پیش کرنا کافی نہیں، کیونکہ اس میں نہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کا نام ہے، نہ اس وعاء کی وہ تشریح موجود ہے جو آپ کے دعوے کے لیے ضروری ہے۔

اور اگر واقعی حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے دین کا کوئی حصہ محض سیاسی خوف سے چھپایا تھا تو اس ’’چھپائے ہوئے حصے‘‘ کی تعیین بھی ضروری ہے۔ کون سی احادیث تھیں؟ کس سند سے معلوم ہوا؟ کس زمانے میں چھپائی گئیں؟ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے کس ذریعے سے انہیں بیان کرنے سے روکا؟ اور کس محدث نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے اس عمل کو اسی مفہوم میں بیان کیا؟ جب ان بنیادی سوالات کا جواب موجود نہیں تو الزام کا علمی وزن باقی نہیں رہتا۔

اہلِ سنت والجماعت کے نزدیک صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم دین کے اولین امین اور شریعت کے ناقل ہیں۔ ان کے درمیان پیش آنے والے تاریخی واقعات پر علمی گفتگو اپنی جگہ، مگر کسی صحابی کی عدالت کو دوسرے صحابی کے خلاف سیاسی مقدمہ بنانے کے لیے استعمال کرنا نہ منصفانہ ہے نہ علمی۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے مقام کو حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے خلاف اور حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے مقام کو حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے خلاف استعمال نہیں کیا جاسکتا۔ دونوں صحابۂ رسول ﷺ ہیں اور دونوں کے احترام کا تقاضا یہی ہے کہ ان کے بارے میں زبان و قلم کو علم و ادب کے دائرے میں رکھا جائے۔

بعض حضرات یہ کہتے ہیں کہ سلمان ندوی صاحب اپنے سابقہ موقف سے رجوع کرچکے ہیں۔ اگر واقعی ایسا ہے تو رجوع کا تقاضا یہ ہے کہ سابقہ موقف کی واضح تردید بھی سامنے آئے اور متعلقہ مواد بھی ہٹایا جائے، تاکہ عام قارئین کے لیے سابقہ اور موجودہ موقف کے درمیان کوئی ابہام باقی نہ رہے۔ کسی شخصیت سے محبت، اس کے علم و صلاحیت سے استفادہ اور اس کی علمی خدمات کا اعتراف اپنی جگہ درست ہوسکتا ہے، لیکن یہ محبت صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کی محبت سے بالاتر نہیں ہوسکتی۔ صحابہ رضی اللہ عنہم کی عدالت کی گواہی رسول اللہ ﷺ کی صحبت اور آپ ﷺ کی شہادت سے ثابت ہے؛ کسی معاصر شخصیت کے لیے یہ مقام و مرتبہ حاصل نہیں۔

آخر میں یہ بات پوری وضاحت سے عرض ہے کہ اہلِ سنت صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کے مقام کے دفاع کے لیے نہ گالی کے محتاج ہیں نہ تہمت کے؛ ہمارے پاس قرآن، حدیث، اصولِ روایت، ائمۂ رجال اور معتبر تاریخی مصادر موجود ہیں۔ جو اعتراض آئے گا، اس کا جواب علمی دلیل سے دیا جائے گا؛ جو شبہ اٹھایا جائے گا، اسے تحقیق کے میزان پر پرکھا جائے گا؛ اور جو صحابیِ رسول ﷺ کی حرمت کو نشانہ بنائے گا، اس کے سامنے ادب کے دائرے میں رہتے ہوئے حق بات ضرور کہی جائے گی۔ ہمیں کسی شخصیت کی علمی قابلیت سے محبت ہوسکتی ہے، مگر ایسی محبت جو صحابہ کی حرمت سے متصادم ہوجائے، ہمارے نزدیک قابلِ قبول نہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں محبتِ صحابہ رضی اللہ عنہم میں استقامت، حق کو حق سمجھنے، باطل کو باطل سمجھنے اور دین کے اولین امینوں کا حق ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

خلاصہ
حاصلِ کلام یہ ہے کہ حضرت سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو ’’درباری ملا‘‘، ’’سرکاری مولوی‘‘ کہنا اور ان کی بعض مرویات کو حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے خوف سے جوڑنا کوئی معمولی علمی تعبیر نہیں؛ یہ ایک ایسا الزام ہے جس کے لیے نہ صریح حدیثی دلیل موجود ہے، نہ معتبر تاریخی شہادت۔ ’’وعاءین‘‘ والی حدیث میں حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کا نام تک نہیں، بلکہ ائمۂ حدیث نے اس کے دوسرے وعاء کو فتن، ملاحم اور حکامِ سوء سے متعلق روایات کے دائرے میں بیان کیا ہے۔ مزید یہ کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے خود حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے دور میں حکمرانوں سے متعلق نبوی پیش گوئیاں بیان کیں، مروان کے سامنے بنو امیہ کے بعض نوجوانوں کے بارے میں حدیث سنائی اور اس کے گھر میں منکر دیکھ کر رسول اللہ ﷺ کی وعید بیان فرمائی؛ لہٰذا ’’خوفِ معاویہ‘‘ کا مفروضہ خود حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے عملی کردار سے ٹکرا جاتا ہے۔

راقم الحروف کے لیے اصل قابلِ غور نکتہ یہی ہے کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا نام بظاہر اعتراض کا مرکز بنایا گیا، مگر حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو بار بار اس اعتراض کے ساتھ جوڑنا اس بات کا قوی قرینہ محسوس ہوتا ہے کہ اصل ہدف حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیثی شخصیت سے زیادہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی شخصیت کو مجروح کرنا ہے۔ یعنی حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ یہاں ذریعۂ اعتراض ہیں اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ اصل نشانہ ۔ان کے دور حکومت کو ظالمانہ جابرانہ دور ثابت کرنا مقصود نظر آرہا ہے ۔ یہ محض ایک اتفاق نہیں کہ اعتراض کی پوری عمارت ’’خوفِ معاویہ‘‘ کے ایک ایسے مفروضے پر کھڑی کی جاتی ہے جس کی صراحت خود روایت میں موجود نہیں۔

اور یہاں ایک نہایت سنجیدہ فکری پہلو بھی نظرانداز نہیں کیا جاسکتا: حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں مسلسل تنقیص، بغض آمیز تعبیرات اور ان کی شخصیت کو مجروح کرنے کے لیے صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کی روایات کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کے انداز میں ہمیں رافضی فکر کی طرف رجحان کی ایک واضح جھلک محسوس ہوتی ہے۔ ہم کسی شخص پر بلا دلیل ’’رافضی‘‘ کا حکم نہیں لگاتے، لیکن افکار و تعبیرات کا موازنہ کرنا ہمارا حق ہے؛ اور جب کسی منہج میں حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے دشمنی، ان کی تنقیص اور ان کے خلاف مسلسل بدگمانی نمایاں ہوجائے تو اہلِ سنت کے لیے اس فکری سمت کو نظرانداز کرنا بھی درست نہیں۔ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی ذات کو مجروح کرنے کے لیے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ جیسے جلیل القدر صحابی کو ’’درباری‘‘ بنا دینا علمی نقد نہیں بلکہ ایک انتہائی خطرناک فکری راستہ ہے۔

سلمان ندوی صاحب سے اختلاف کا مطلب یہ نہیں کہ ان کی ہر علمی خدمت کا انکار کیا جائے؛ لیکن علمی قابلیت کسی شخص کو صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کے بارے میں بے احتیاطی کا اختیار بھی نہیں دیتی۔ اہلِ سنت کے نزدیک شخصیتیں دلیل سے بڑی نہیں ہوتیں، اور کسی صاحبِ علم کی محبت ہمیں اس مقام تک نہیں لے جاسکتی جہاں صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کی عدالت و حرمت پر حرف آنے لگے۔ صحابہ رضی اللہ عنہم وہ مقدس جماعت ہیں جن کے ذریعے قرآن و سنت ہم تک پہنچے؛ اس لیے ان کی تنقیص کو محض ’’آزاد علمی نقد‘‘ کہہ کر نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔

ہم اہلِ سنت نہ گالی کا جواب گالی سے دیں گے، نہ تہمت کا جواب تہمت سے؛ لیکن صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کے خلاف اٹھنے والے ہر شبہے کا جواب قرآن، حدیث، اصولِ روایت، علمِ رجال اور معتبر تاریخی مصادر سے ضرور دیں گے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی عظمت کا دفاع بھی ہوگا اور حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی حرمت کا دفاع بھی؛ کیونکہ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم ہمارے لیے سیاسی گروہوں کے مہرے نہیں، دین کے اولین امین ہیں۔ کسی معاصر شخصیت سے محبت ہوسکتی ہے، اس کے علم و صلاحیت سے استفادہ کیا جاسکتا ہے، مگر یہ محبت صحابہ رضی اللہ عنہم کی محبت اور حرمت سے آگے نہیں بڑھ سکتی۔ اگر کسی کے علمی مقام کی حفاظت صحابہ کی تنقیص کے سہارے کرنی پڑے تو اہلِ سنت ایسی ’’وجاہت‘‘ کو قبول نہیں کریں گے؛ صحابہ رضی اللہ عنہم کی عزت ہمارے لیے مقدم ہے، اور ان کے دفاع میں علمی میدان سے پیچھے ہٹنا ہمارے لیے ممکن نہیں۔

By Maqsood

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے