نامساعد حالات کو تبدیل کرنے میں محبت ونرمی اور تحمل وبردباری سے کام لینا بہت ضروری
مسجد قبا میں مولانا حافظ طاہر قاسمی کا خطاب
شاد نگر،7اگسٹ(پریس نوٹ ) مولانا حافظ طاہر قاسمی بانی و ناظم دارالعلوم سبیل الہدی و مدرسہ نسواں جامعۃ الہدی نے مسجد قبا میں نماز جمعہ سے پہلے اپنے خطاب میں اسلام کی اہم اخلاقی تعلیم نرمی، مہربانی اور حلم و بردباری پر زور دیتے ہوئے کہا : معاملات میں سختی اور ترش روئی کے بجائے نرمی اور پیار و محبت کا رویہ اختیار کرنا ہی اسلامی معاشرت کی روح ہے۔حلم و بردباری کا اصل امتحان اشتعال انگیز اور پرتشدد حالات میں ہوتا ہے۔ انتقام کی قدرت رکھنے کے باوجود غصّہ پر قابو رکھنا اور صبر سے کام لینا سنتِ نبویؐ اور اعلیٰ اخلاق کا بنیادی حصہ ہے۔اسی سے نامساعد حالات اور ناخوش گوار واقعات اور تعلقات میں کمی اور تبدیلی آتی ہے،قرآن مجید میں فرمایا گیا: بھلائی اور برائی برابر نہیں ہوسکتی ،اس لئے برائی کا ایسے طریقہ سے جواب دیجئے جو بہت اچھا ہو ، تو یکایک جس شخص کے اور تمہارے درمیان دشمنی تھی ، وہ ایسا ہوجائے گا جیسے کوئی جگری دوست ، برائی کا جواب برائی سے دینے کی بجائے بہتر سے بہتر سلوک سے دیا جائے ؛ کانٹے بچھانے والوں پر پھول برسایا جائے اور گالی دینے والوں کو دُعا دی جائے ، بظاہر اس طریقہ میں انسان شکست سے دوچار ہوتا ہوا نظر آتا ہے ؛
لیکن انجام کے اعتبار سے اسی میں اس کی کامیابی ہے کہ اس کے ذریعہ انسان دوسرے فریق کے دلوں کو فتح کرلیتا ہے اور دشمن دوست بن جاتا ہے ، اسی ہتھیار کے ذریعہ عہد نبوی میں حضرت خالد بن ولید رض ، حضرت عمرو بن العاص رض، حضرت ابوسفیان رض وغیرہ کو اسلام کے دامن میں لایا گیا اور پھر تو ہمیشہ کے لئے انھوں نے اپنے گلے میں پیغمبر اسلام ﷺ کی غلامی کا طوق ڈال لیا — بُرائی کا جواب بھلائی سے دینے کا طریقہ کیا ہو ؟ یہ تو حالات کے لحاظ سے ہے ؛ لیکن اس کی ایک مثال وہ واقعہ ہے جو حضرت ابوبکر رضی اللّٰہ عنہ سے متعلق نقل کیا جاتا ہے ، کہ ایک صاحب نے آپ کو بُرا بھلا کہا تو آپ نے فرمایا : اگر تم سچے ہوتو اللہ مجھے معاف کردیں ، اور اگر تم جھوٹے ہو تو اللہ تمہیں معاف کردیں ،نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا:جو شخص نرمی سے محروم کر دیا گیا وہ ہر قسم کی بھلائی سے محروم کردیا گیا، مولانا نے سلسلہ خطاب جاری رکھتے ہوئے کہا: ڈینمارک کے ایک شہر میں جب مسلمانوں نے نئی مسجد تعمیر کی، تو مقامی بلدیہ کے ‘ایگزیکٹو میئر’ کی 66 سالہ بیوی شدید اور پراسرار بیماری کا شکار ہو گئیں۔ طبی ماہرین بیماری کی تشخیص سے قاصر رہے، جس پر میئر نے محض اپنے وہم اور غلط فہمی کی بنیاد پر مسجد کو ماحولیاتی آلودگی اور بیماری کا سبب قرار دے کر اسے بند کرنے کا سرکاری نوٹس جاری کر دیا۔
شدید اشتعال انگیزی اور رمضان المبارک جیسے حساس وقت کے باوجود، مسجد کے ذمہ داران نے مسلمانوں کو صحن میں اکٹھا کیا اور جذباتی احتجاج کے بجائے قانونی و اخلاقی راستہ اختیار کرنے کی تلقین کی۔ اور کہا : ہم بفضلِ تعالیٰ ہم محسنِ انسانیت حضرت محمد صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے امتی ہیں، ہم فساد اور جھگڑا کرنے والے نہیں بلکہ اخلاقِ محمدیؐ کے پیروکار ہیں۔ مسلمانوں نے میئر کے سخت رویہ کے جواب میں بددعا یا نفرت کا راستہ نہیں اپنایا۔ پہلے رمضان المبارک کی افطاری کے وقت جب مسجد کے متولی میئر بلدیہ کے پاس پہنچے، تو انہوں نے کہا کہ مسلمان آپ کی بیوی کی صحت یابی کے لیے دعائیں کر رہے ہیں۔ اس حسنِ اخلاق اور اخلاقی قوت کے نتیجہ میں میئر اور ان کی زوجہ کے دل بدل گئے۔ میئر کو اپنی غلطی کا احساس ہوا، انہوں نے اعتراف کیا کہ ان کا شک اور وہم بالکل بے بنیاد تھا۔ میئر نے فوراً مسجد بند کرنے کا حکم واپس لیا، خود مسجد کی چابیاں متولی کے حوالے کیں اور رمضان المبارک میں مسجد کے اطراف صفائی، ستھرائی اور روشنی کا بہترین انتظام کروایا۔
اس واقعہ کے بعد مقامی مسلمانوں اور غیر مسلموں کے درمیان تعلقات کی ایک نئی راہ ہموار ہوئی، مسلمانوں نے مقامی غیر مسلم شہریوں اور انگریزوں کو رمضان کی افطار میں مدعو کیا، جہاں انہوں نے ایک ساتھ بیٹھ کر کھانا کھایا اور اسلامی اخلاق کا قریب سے مشاہدہ کیا۔مسلمان نوجوانوں نے محلہ کے غریبوں اور ضرورت مندوں کے لیے راشن پیکٹس کی تیاری اور تقسیم کا کام شروع کیا۔ میئر بلدیہ اور دیگر مقامی انگریز خود ان رفاہی کاموں میں شریک ہوئے اور مسلمانوں کے اخلاق، انسانی ہمدردی اور سماجی خدمات سے شدید متاثر ہو کر اسلام کے پرامن پیغام کو قبول و سراہنے لگے۔مولانا قاسمی نے تمام مسلمانوں، بالخصوص نوجوانوں پر زور دیا ہے کہ وہ کسی بھی ناگوار، نامساعد یا پرتشدد صورتحال میں جذباتی اور اشتعال انگیز ہونے کے بجائے صبر، حکمت، عفو و درگزر اور اعلیٰ اخلاق کو اپنا ئیں۔ کیوں کہ اسلامی تعلیمات میں پیار ومحبت، امن شانتی اور انسان دوستی کو خاص اہمیت دی گئی، نامساعد حالات میں بھی دنیا کے سامنے اسلام کی حقیقی اور روشن تصویر پیش کرنے کا بہترین ذریعہ ہمارا کردار اور ہمارے عمدہ اخلاق ہی ہیں ۔