والدہ ماجدہ کا سفر آخرت

والدہ ماجدہ کا سفر آخرت

والدہ ماجدہ کا سفر آخرت

پیدائش 12مارچ 1950
وفات 23جولائی 2026

(پہلی قسط)

ازقلم:مفتی سیدآصف الدین ندوی قاسمی

بقا صرف ذات واحد کے لئے ہے، فنا مخلوقات کی پہچان ہے،مولی نےیہ کارخانہ ایسا بنایا کہ ہر لمحہ معصوم کلیاں کلکاریاں لیتی ہیں،اور وہیں چلتی سانسیں دیکھتے دیکھتے رک جاتی ہیں، چلتے پھر تے جسم خاموش ہوکر ساتھ چھوڑجاتے ہیں،کائنات کے خالق نے ایسا نظام بنایا کہ گردش ایام میں یہ ایک معمول سا لگتا ہے کہ کوئی نیا مہمان بن کر دنیا میں آرہا ہے اور کوئی اپنوں کو چھوڑکر ہمیشہ ہمیش کے لئے جارہا ہے،بڑی عجیب دنیا ہے،بڑا پختہ اور پائیدار نظام ہے،اس کی تقدیر و کاریگری سے یہ سب کچھ سمجھ میں آتا ہے،وہیں یہ بھی کہ رشتوں کی مہک، جذبات کی رمق اور اپنائیت کے رشتے چھوٹ تو سکتے ہیں لیکن مٹ نہیں سکتے،کچھ رشتے ٹوٹ کر بھی اٹوٹ رہتے ہیں،دور ہوکر بھی پاس ہونے کا احساس دلاتے ہیں،ایک مومن کے لئے کتنا حوصلہ افزا پیام ہے جو ڈھارس بندھاتا ہے، ٹوٹتے رشتوں کی تلخیوں کو سنبھال دیتا ہےکہ مسافر آخرت تم جس ذات کے دربار میں جارہے ہو ہم بھی تمہارے پیچھے پیچھے چلے آرہےہیں۔
انا للہ و انا الیہ راجعون ۔

والدہ ماجدہ کے انتقال کو تقریبا ایک مہینہ ہونے جارہا ہے،لیکن ابھی بھی ان کی محبت بھری آواز کانوں میں گونج رہی ہے، حافظ صاب،حافظ صاب ،رسیلے بول سرشار کررہےہیں،وہ جیسے بول رہی ہوں اور مجھے وہ سنائی بھی دے رہا ہے، ،رہ رہ کر ان کی یادیں تازہ اور ان کی باتیں زندہ ہورہی ہیں،کہتے ہیں کہ جانے والے نہیں آتے لیکن جانے والوں کی یادآتی ہے، یہ حقیقت ہےکہ جیسے جیسے دن آگے بڑھ رہے ہیں امی کی کمی کا احساس گہرا اور جدائی کا درددوہرا ہوتا جارہا ہے، وہ چیزیں اور وہ کام جو وہ کرتی تھیں ، وہ معمولات ،وہ جگہیں وہ باتیں ، وہ یادیں ایک ایک کرکے یاد دلارہے ہیں کہ زندگی میں کچھ کمی ہوگئ ہے ، شام ہوتی ہےتو لگتا ہےکہ دن بھرمیں کہیں کچھ بھول سا گیا ہوں،صبح ہوتی ہےتو ایسا محسوس ہوتا ہےکہ کچھ کام کرناباقی ہے،سارے کام نمٹانے بعد بھی کسی چیز ککے ادھوراپن کا احساس ہے،آج وہ نہیں ہیں تو ز ندگی جیسے خود کہہ رہی ہے کہ سب کچھ ہوکر بھی بہت کچھ نہیں ہے۔

قلم چلنے کو تیار نہیں، جذبات پیکربننے سے دور اور ایسالگنے لگا کہ کوئی گونگا ہے جسے بولنے نہیں آتا، کوئی ان پڑھ ہے جسے قوت گویائی نہیں ،ایک بے بس ہے جس کااپنے خیالات پر بس نہیں،ایک بے چارہ ہے جو کسی چارہ گری کی تلاش میں سرگردان ہے،خاموش قلم، دل بے حس،ایک عجیب حالت ہے ،ایک ناقابل بیان کیفیت ہے،لکھنا تو بہت کچھ ہے اس لئے کہ وہ بہت کچھ تھیں بلکہ میرے لئے سب کچھ تھیں اور ان ہی سے یہ سب کچھ ہے۔قلم برداشتہ نہیں تو دل برداشتہ تو لکھنا پڑے گا ،خون دل نہیں تو زبان محبت کو ساتھ دینا ہی پڑے گا،اور میری والدہ کی یادیں اور باتیں میرے لئے ،میرےاہل وعیال ، اور میرے بھائی بہنوں اور ان کی اولاد کی اولاد کے لئے سامان عمل ہے، سامان نصیحت ہے ۔ایک مثالی وتاریخی ماں کے عنوان سے سب کےلئے ایک مثال ہے۔

والدہ ماجدہ کا سفر آخرت۲۳ جولائی ۲۰۲۶ جمعرات کو ہوا،اور مغرب میں مسجد ابراہیمی قادر باغ میں نماز جنازہ ہوئی اس طرح جمعہ کے مبارک دن وہ اپنے آخری اور ابدی سفر پر روانہ ہوئیں ،بڑی ہمشیرہ نے نماز کو عصر کے بجائے مغرب میں رکھنے کےلئے کہا اس طرح ان کی ایک اور خواہش بھی پوری ہوئی کہ ان کا جنازہ رات میں اٹھایا جائے ، مغرب کی نماز کے بعد وہ لنگر حوض قبرستان میں سپرد لحد ہوئیں۔
اللھم اغفر لھا وارحمھا ۔
جس سفر کی وہ بڑی فکر کرتی تھیں ،اور آخری دنوں مہینوں میں جس طرح اس سفر کے بارے میں وہ باتیں کرتی تھیں اندازہ ہوتا تھا کہ وہ اس سفرکو لے کر کافی جذباتی او رفکرمند ہیں،وہ ہمارے نانا نانی او رخالہ وماموں کے سفر آخرت کے قصے سناتیں ،او راپنے بارے میں بھی کہتیں کہ معلوم نہیں کہ کیسا سفر ہوگا؟ کس حال میں ہوگا؟کب ہوگا؟یہ تو کو ئی بھی نہیں بتا سکتا ، لیکن ان کی فکر مندی اور تیاری کو دیکھ کر تسلی دینا پڑتا کہ ان شائ اللہ، اللہ کی ایک نیک بندی کوجو نماز کی بے حد پابند ہواور تلاوت قرآن کی عادی ہو اوراللہ کے ذکر میں مشغول رہنے والی ہوتو وہ اسی حالت میں ان شائ اللہ، اللہ کے بارگاہ میں پہنچے گی،اور جب بھی ان سے دعا کے لئے گذارش کی جاتی کہ امی آپ دعا کرئیے آج یہ کام ہے ،یہ مسئلہ ہے، یہ چیز ہے تو وہ پورے اہتمام سے اس چیزکی تکمیل کےلئے دعا کرتیں اور پھر اپنے بارے میں کہتیں کہ بیٹے میرے لئے بھی دعا کروکہ کلمہ کی موت آئے ، ۴جولائی ۲۰۲۶ ہفتہ کو امی پر برین اٹیک ہوا ، اور جسم کے بائیں حصے ہاتھ او رپیر پر اس کا اثر ہوا،اور زبان پر بھی اس کے اثرات محسو س ہونے لگے،پھر وہ آلیو ہاسپٹل نانل نگر میں شریک ہوئیں تو علاج ومعالجہ شروع ہوا،دودن تک گلوکوز پر تھیں ،ان دنوں میں بھی پر امید تھیں، اور وہ تھیں ہی بڑی باہمت ماں ، وہ کبھی ہار ماننے والی نہیں تھیں ہر کام میں بڑا حوصلہ تھا۔لیکن دن بہ دن صحت گرنے لگی،کمزوری بڑھنے لگی،طبیعت میں خاموشی رہنے لگی، جسم کی حرکت کم ہونے لگی،وہ کم بولنے لگیں،بائیں حصے کے مفلوج ہونے کے باوجود وہ بیٹھنے اور باتیں کرنے کی پوری کوشش کرتیں۔
میرے معمولات میں تھا کہ ان کے پاس بیٹھ کر قرآن مجید بآواز بلند تلاوت کرتا اور خاص طور پر سورہ فاتحہ ، آیت الکرسی ، سورہ بقرہ کی آخری دو آیتیں ، سورہ اخلاص ، سورہ فلق ، سورہ ناس کے ساتھ ساتھ کلمہ طیبہ اور صبح وشام کی دعائیں اور درود شریف پڑھتا، وہ میرے ساتھ ساتھ دہراتیں اور جب میں کلمہ آدھا بلند آواز سے اور آدھا پست آوازسے پڑھتا تو وہ اس کو بلند آواز سے مکمل کرتیں، وہ آخری دنوں میں آنکھیں کھول کر اپنے پڑھنے کا احساس دلاتیں، خدا گواہ ہے کہ میری امی سے جو آخری باتیں ہوئیں ان میں اللہ کا نام او راللہ کا کلام ہی تھا ، اشکوں کے سیل رواں اور جذبات کی منجدھار میں ، غم فرقت کے صدمےمیں اس واقعہ کو یاد کرکے بڑی تسلی ہوتی ہےکہ وہ جس فکر مندی اور بے چینی کا اظہار کرتی تھیں اللہ نےاپنی ایک مخلص وپاکباز بندی کی دعا کو سن لیا اور کلمہ والی موت عطا فرمائی۔واقعہ یہ ہے کہ وہ ایک حاجیہ تھیں اور ایمان کی حالت میں مومنانہ شان سے اللہ کے دربار میں حاضر ہوگئیں۔والدہ ماجدہ آج نہیں ہیں لیکن ان کا پیام یاد ہے، ان کی تعلیم کے اسباق یاد ہیں،ماں کی گودمیں جو سیکھا ہے وہ بھلایا نہیں جائے گا،ان کی زبانی نصیحتیں تو یاد ہیں وہیں ان کی عملی نصیحتیں بھی قابل عمل اور لائق نشرہیں۔

تقریبا ۸۰ برس کی بہترین اور صحت مند زندگی آپ نے گذاری،آخری لمحات تک والدہ ماجدہ کی یادداشت صحیح تھی ، وہ انتقال سے پہلے تک چاق وچوبند اور خود کار تھیں، وہ کسی کی محتاج نہیں رہیں، اپنے کام خود کرتی تھیں، اور پورے اہتمام سے کرتی تھیں،اور معمولات کی تو بے انتہا پابند تھیں ، صبح سحرگاہی اور اذکار واوراد اور تسبیحات بڑے اہتمام سے کرتی تھیں،اور تہجد کی پابندی تو میں نے اس وقت سے دیکھی ہے جب سے میں نے ہوش سنبھالا ہے، بلکہ بچپن کا ایک خیال ابھی میں ذہن میں ہےکہ والدہ ماجدہ کی تہجد گذاری اور نماز کی پابندی دیکھ کر میں سمجھتا تھا کہ شاید اللہ کے ولی ایسے ہی ہوتے ہیں۔وہ ہر ایک کے بارے میں جانتی اور معلومات حاصل کرتی تھیں،وہ آتے جاتے چہروں اور فون پر ہونے والے مکالموں سے سب کچھ جان لیتی تھیں ۔وہ سفر آخرت پر ایسے گئیں کہ کسی پر بوجھ نہیں بنیں۔وہ بلڈپریشر اور شوگر کی پچھلے ۳۰ برس سے شکار تھیں،اورانسولین لیتی تھیں لیکن اتنا پکا حافظہ تھا کہ ہر گولی کو یادرکھتی تھیں،بلکہ نیم ڈاکٹر بن گئی تھیں،رمضان ۲۰۲۶ سے پہلے دانتوں میں درد شروع ہوا تو ڈینٹسٹ سے علاج شروع ہوا، اور کچھ دانت نکالے گئے ،رمضان میں بھی علاج جاری تھا ، ڈاکٹرصاحب نے کہا کہ آپ اتنی معمر ہیں، شوگر کی مریض ہیں ،اور دانت بھی نکالے گئے ،کھانےکا بڑا مسئلہ ہوگیا آپ روزے چھوڑ دیجئے ، وہ فورا بولیں روزے میرے اللہ کے ہیں وہ کوئی ڈاکٹر بولے تو نہیں چھوڑ سکتی،جان جاسکتی ہے لیکن روزے نہیں چھوڑسکتی ۔ ان کے عزم وہمت اور حوصلہ ویقین کو دیکھ کر ڈاکٹر دنگ رہ گیا،اور کہنے لگا کہ میں شوگر پیشنٹ ہوں میں روزے نہیں رکھتا۔

ایک چیز جو والدہ محترمہ باربار کہتی تھیں کہ وہ بے خوابی اور کم خوابی کی شکار ہیں، ہردن جب بھی ان سے ملاقات ہوتی اور بات چیت ہوتی تو ان کی نیند کےبارے میں معلوم کرنے پر کہتیں کہ نیند نہیں آرہی ہےبلکہ وہ ڈاکٹر سے نیند کی دوا لکھوانے اور لاکر دینے کو کہتیں آج ان کی بے چین روح کو سکون کی نیند آہی گئی بلکہ اللہ کی ذات سے امید ہےکہ وہ آج اپنی قبر میں ایسے سورہی ہونگی جیسے کوئی دلہن سوتی ہے،او رجیسا کہ حدیث مبارک میں کہا گیا کہ نیک روح سے فرشتےکہتے ہیں ائے نفس مطمنئہ تو آج دلہن کی طرح سو جا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جاری

By Maqsood

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے