عشق ِ رسول مقبول :۔ کسی نے کیاخوب کہاہے (عین ممکن ہے AIنے کہاہوگا۔ مسکراہٹ) ’’علامہ محمد اقبال کا پورا کلام عشقِ رسولِ مقبول ﷺ کی خوشبو سے مہک رہا ہے۔ ان کے نزدیک دینِ اسلام کی روح اور امتِ مسلمہ کی بقا کا واحد سرچشمہ ذاتِ رسالت مآب ﷺ سے والہانہ محبت اور عشق ہے۔عشقِ رسول ﷺ میں علامہ اقبال کے منتخب اشعار ملاحظہ فرمائیں
اسمِ محمد ﷺ کی عظمت:۔
قُوّتِ عشق سے ہر پَست کو بالا کر دے
دہر میں اسمِ محمدؐ سے اجالا کر دے
حضور ﷺ کی نسبت سے وابستگی:۔
سالارِ کارواں ہے میرِ حجازؐ اپنا
اس نام سے ہے باقی آرامِ جاں ہمارا
کائنات کا وجود اور نامِ محمد ﷺ:۔
خیمہ افلاک کا اِستادہ اسی نام سے ہے
نبضِ ہستی تپش آمادہ اسی نام سے ہے
عشقِ مصطفی ﷺ کا مقام:۔
ہو نہ یہ پھول تو بلبل کا ترنّم بھی نہ ہو
چمنِ دہر میں کلیوں کا تبسّم بھی نہ ہو
یہ نہ ساقی ہو تو پھر مے بھی نہ ہو، خُم بھی نہ ہو
بزمِ توحید بھی دنیا میں نہ ہو، تم بھی نہ ہو
نبی کریم ﷺ کا ارفع مقام:۔
نگاہِ عشق و مستی میں وہی اول وہی آخر
وہی قرآن وہی فرقان وہی یسین وہی طٰہٰ
عشقِ رسول ﷺ سے ہی انسانیت کی تکمیل ہے:۔
تریؐ الفت کی اگر ہو نہ حرارت دل میں
آدمی کو بھی میسر نہیں انساں ہونا
اب ہم حالی ؔ کی طرف آتے ہیں ۔حالی کے نعتیہ قصیدہ کے ان اشعار میں عشق و محبت کی کیفیت کا انداز ملاحظہ ہو ؎
بنے ہیں مدحت سلطان دو جہاں کیلئے
سخن زباں کیلئے اور زباں دہاں کیلئے
وہ چاند جس سے ہوئی ظلمتِ جہاں معدُوم
رہا نہ تفرقہ روز و شب زماں کے لیے
گھر اس کا مورد قرآن و مہبط جبریل
در اس کا کعبہ مقصود انس و جاں کیلئے
کہیں مقدمہ الجیش انبیاء و رسل
کہیں وہ خاتمۃ الباب داستاں کے لیے
شفیع خلق سراسر خدا کی رحمت ہے
بشارت امت عاصی و ناتواں کیلئے
شفاعت نبوی (ﷺ) ہے وہ برق عصیاں سوز
کہ حکم خس ہے جہاں کفر دو جہاں کیلئے
بس اب نہ غول کا کھٹکا نہ راہ زن کا خطر
ہوا وہ قافلہ سالار کارواں کے لیے
حالی کی ایک نعتیہ غزل 25 اشعار پر مشتمل ہے ۔ اس کلام میں بھی حضور سرور کونین (ﷺ) کی ذات مقدسہ کی شان مبارکہ کا منفرد اور عمدہ بیان ہے ۔حالی لکھتے ہیں کہ حضور نبی کریم (ﷺ) کی پیدائش کائنات کے لیے طراوت بخش اور آپ کی بعثت مخلوق کے لیے حیات بخش ہے یعنی آپ (ﷺ) کی آمد مبارک کائنات کی سوکھی اور خشک کھیتی پر رحمت اور برکتوں کا سامان لے کر آئی اور آپ کی نبوت نے اس مخلوق کو نئی حیات بخشی(بحوالہ ’’الطاف حسین حالی کی نعتیہ شاعری کا مختصر جائزہ‘‘از:۔ مستحسن رضا جامی)
اسی مضمون میں مستحسن رضاجامی آگے لکھتے ہیں ’’ حضور نبی کریم (ﷺ) کی ولادت کا تذکرہ حالی نے بہت خوبصورت طریقے سے کیا ہے ۔حضور سرور کونین (ﷺ) کے احسانات کا ذکر ہے جو اس کائنات پہ آپ (ﷺ) نے فرمائے ۔اس کائنات پہ آپ کی آمد اور آپ کی شخصیت کا ظہور کسی نعمت عظمیٰ سے کم نہیں ہے ۔آقا کریم (ﷺ) نے انسانیت اور انسانی اقدار کو جس انداز میں متعارف فرمایا اس کی نظیر تاریخ عالم میں کہیں موجود نہیں۔ انسان کو شریعت کے سبق پڑھائے ۔ عبادات کے معمولات سے آگاہی دی۔ کائنات کے وہ سربستہ راز بھی منکشف ہوئے جو اس سے قبل عیاں نہ تھے ۔آقا کریم (ﷺ)نے روز ازل کے عہد و پیمان یاد دلائے، درس توحید پڑھایا اور اللہ کریم کی ذات پہ توکل سکھایا کیونکہ انسان کے لیے توکل اور اللہ رب العزت کی ذات پر حق الیقین بے حد ضروری ہے ‘‘موصوف نے اشعار کے ذریعہ
مسدس حالی کے ان نعتیہ اشعار کواپنی مثال آپ کہاہے ؎
یکایک ہوئی غیرتِ حق کو حرکت
بڑھا جانبِ بو قبیس ابرِ رحمت
ادا خاک ِبطحا نے کی وہ ودیعت
چلے آتے تھے جس کی دیتے شہادت
ہوئی پہلوئے آمنہ سے ہویدا
دعائے خلیل اور نویدِ مسیحا
وہ نبیوں میں رحمت لقب پانے والا
مرادیں غریبوں کی بر لانے والا
مصیبت میں غیروں کے کام آنے والا
وہ اپنے پرائے کا غم کھانے والا
فقیروں کا ملجا ضعیفوں کا ماویٰ
یتیموں کا والی غلاموں کا مولیٰ
اردو ادب کی نئی نسل میں میرؔبیدری بھی ایک ایسا نام ہے ، جس کے چرچوں سے بڑھ کر اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے محبت اس کو دیگر شعراء سے ممتاز بناتی ہے۔ میرؔبیدری نے حمدکے حوالے سے ’’مولیٰ‘‘ نامی شعری مجموعہ دیاجس کو اہل علم نے کافی سراہا۔ نعتوں کے حوالے سے میرؔبیدر ی کادامن خالی تو نہیں ہے لیکن کوئی مجموعہ ء کلام بھی نہیں ہے۔ لہٰذا میرؔبیدری کی نعتوں کے چیدہ چیدہ اشعار ملاحظہ کرتے ہیں ، اس سے پہلے ان کایہ شعر جو کافی مشہور ہوا ؎
دیکھ آئی جب سے طیبہ کے نظاروں کونظر
لوگ آئے میر ی نظروں کی زیارت کے لئے
میرؔبیدری نے نبی کریم سے عقیدت کے تقریباً تمام گوشوں پر اپنی نعوت میں روشنی ڈالی ہے۔ قیادت سے متعلق یہ نعتیہ شعر ملاحظہ فرمائیں ؎
میرؔاہل ِ سیاست ہی واقف نہیں
آقاؐ کے جیسی کوئی قیادت نہیں
معیشت سے متعلق میرؔبیدری کہتے ہیں ؎
پھولتی پھلتی لوگو معیشت رہی
سب کی خاطر وہ مدنی حکومت رہی
وہ نبی علیہ السلام کے ڈنکے کی بات بھی کرتے ہیں اور کہتے ہیں ؎
نبی جی کا ڈنکا بجا ، بج رہاہے
بجے گاسداہی ، یہ رب بولتا ہے
جنت کو پال رکھنے کی بات میرؔبیدری کرتے ہیں ؎
جب کہ سرکار دے رہے ہوں ہمیں
ہم بھی جنت کو پال لیتے ہیں
پتھروں کے حوالے سے بھی ان کے نعتیہ اشعار مل جاتے ہیں، عجیب طرح کااسرار اس طرح کے اشعار میں ہے ؎
لوروپڑے جانے کتنے پتھر نبی کے آگے
ہرایک پتھر یہاں نبی کی امان میں ہے
ترس رہے ہیں ہزار دلبر کہ ہوزیارت
انہی کا چہرا تومیرے خوابوں کی جان میں ہے
آگے ہم اردو زبان کے مختلف شعراء کے اشعار پڑھیں گے اور اس کے ذریعہ ملنے والے ایمانی لطف اور فیض سے مستفید ہونے کی سعی بھی کریں گے۔ شیخ عبدالعزیز دباغ ؔ کے یہ شعر دیکھیں ؎
بہتی رہے رگوں میں یونہی یادِ مصطفیٰؐ
میرا وجود نور کا قلزم بنا رہے
اترا ہے دل میں نقشِ کفِ پا حضور ﷺ کا
رفتار کہہ رہی ہے مسلسل نبی ﷺ نبی ﷺ
کل تک تو بارگاہِ پیمبر ﷺ میں تھا عزیز
قربان میرے کل پہ مری ساری زندگی
نبی اکرم پر زندگی قربان :۔ جناب مظفروارثی نعت اور حمد کے عمدہ شاعر ہیں ، بڑا نام کمایااور ان کانام اردو جہان میں نعتوں کے حوالے سے گونج رہاہے، کہتے ہیں ؎
آپ اورآپ کے فرمان پر
جان ودل سے ہم فد ایامصطفی
آپ کے نقش قدم پر ہم چلیں
آپ سب کے رہنما یامصطفی
بزرگ لیکن استاد شاعر امیرمینائی کہتے ہیں ؎
تم پر میں لاکھ جان سے قربان یارسول اللہ
برآئیں میرے دل کے بھی ارمان یارسول اللہ
پیر سید نصیر الدین نصیر گیلانی آقا پر قربان ہونے کی بات کرتے ہیں ؎
قربان اس آقا پر کل حشر کے دن جس نے
اس امت عاصی کو کملی میں چھپایا ہے
حضور اکرم سے وفاداری :۔ آپ ﷺ سے وفاداری سے بڑھ کر اور کیاہوسکتاہے ؟ رسالت پر ایمان یہی ہے کہ رسول سے ان کے امتی وفادار رہیں۔ علامہ اقبال کا یہ شعر وفاداری کی مثال کا سب سے بڑا شعر ہے ؎
کی محمد سے وفا تو نے تو ہم تو ہیں جِس کے لیے
یہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیرے لیے
جنت سے بڑھ کر صورت ِ رسول :۔
شعراء نے اپنے ایمان اور اپنے علم وخیال کے جہاں کو جس سمت بھی دراز کیاوہاں سے خیال کے عمدہ گوہر لائے ہیں ۔ اسی میں
خواجہ میر درد کایہ شعربھی شامل ہے جو جنت کی آرزو سے بے نیازکرتاہے ؎
تری صورت ہو جس کے پیشِ نظر
اس کو جنت کی آرزو کیوں ہو
’’حدائقِ بخشش‘‘ سے امام احمد رضا خان کا شعر ملاحظہ کیجئے جس میں نبی ﷺ کی بہت ساری خوبیوں کاتذکرہ ہے ؎
وہ صفا کا مہینہ وہ ٹھنڈی ہوا، وہ مدینے کا جادو وہ پیاری فضا
نہیں بھولتا مجھ کو نقشِ قدم، وہی بے خودی ہے وہی تذکرہ
ان ہی کا ایک اور شعر ہے ؎
اے حبیبِ خدا تجھ سا کوئی نہیں، تیرے جیسا کوئی نہیں
جو سُنا ہم نے وہ دیکھا نہیں، تیرے جیسا کوئی نہیں
ہمارے محمد :۔ مظفر ؔوارثی کے پہلے یہ دوشعر پڑھ لیجئے گا ؎
ہم ہیں تمہارے تم ہو ہمارے، محمد پیارے
تم ہو چاند اور ہم ہیں تارے، محمد پیارے
سب سے اچھا دین تمہارا، حکم خدا آئین تمہارا
تم نے ہمارے ذہن سنوارے، محمد پیارے
یادِ مدینہ :۔ یادوں نے جہاں ایک دنیا آباد کررکھی ہے وہیں اللہ اور اس کے رسول کی یاد نے ایمان کو مضبوط کیاہے ، سماج اور معاشرے کو ٹوٹنے ، لٹنے اور برباد ہونے سے بچایاہے۔ جن لوگوں نے خود کو بچایا ، معاشرے کو بچایاوہ ہمیشہ یاد ِ خدامیں مشغول ملے ۔ ان کاوظیفہ رسول کی محبت اور ان کی یاد رہی ۔ حسرت ؔموہانی کہتے ہیں ؎
پھر یادجو آئی ہے مدینے کی بلانے
کیایاد کیا پھر مجھے شاہ ِ دوسرا نے
تہذیب حافی کہتے ہیں ؎
رہے گا یاد مدینے سے واپسی کا سفر
میں نظم لکھنے لگا تھا کہ نعت ہو گئی ہے
علامہ اقبال کی نظم ’’بلال‘‘ کا یہ شعر دیکھئے ؎
مدینہ تیری نگاہوں کا نور تھا گویا
ترے لیے تو یہ صحرا ہی طور تھا گویا
مرزا سلامت علی دبیر نے اپنے ایک مرثیہ میں کہاہے ؎
میری طرف سے اہلِ مدینہ کو دو پیام
لوگو خفا نہ ہو میری رخصت ہے صبح و شام
میر انیس کہتے ہیں ؎
اے ارضِ مدینہ، تجھے فوق اب ہے فلک پر
رونق جو سما پر ہے، وہ اب ہوگی سمک پر
محمد یوسف راسخ کہتے ہیں ؎
خارِ طیبہ کو گلِ خلد سے بڑھ کر سمجھے
ہم نے ان کانٹوں میں وہ بوئے محبت دیکھی
بہزاد لکھنوی کہہ رہے ہیں ؎
نظر میں مری حسرتِ دیدِ طیبہ
مرے دل میں موجِ ولائے محمد
درّیتیم کون ہیں ؟:۔ درّفارسی زبان میں موتی یامروارید کوکہتے ہیں ۔ جب کہ یتیم عربی زبان میں اس اکیلی اور تنہا چیز کو کہتے ہیں جس کاکوئی جوڑ یا مثال نہ ہو۔ دین ِ اسلام میں درّیتیم نبی کریم ﷺ کو کہاجاتاہے ، ان کے بارے میں میرحسن کہتے ہیں ؎
نبی کون یعنی رسول ِ کریم
نبوت کے دریا کادرِ یتیم
محسن کاکوروی نعت گوئی کے حوالے سے جانے جاتے ہیں ۔ ان کایہ شعر دریتیم سے متعلق ملاحظہ فرمائیں ؎
بحرِ امکاں میں رسولِ عربی دُرِّ یتیم
رحمتِ خاصِ خداوندِ تعالیٰ بادل
اللہ سے ملانے والے :۔ نبی کریم ﷺ نے ہمیشہ خدا کے بندوں کو خدا سے ملانے کی حددرجہ سعی کی ہے اوراس میں کامیاب بھی ہوئے ہیں۔ مہدی پرتاپ گڑھی کاشعر ہے ؎
بندوں کو اللہ سے ملانے والا
گمراہی سے انسان کو بچانے والا
مصداقؔ اعظمی نظم اور غزل دونوں کے شاعر ہیں لیکن یہاں ان کی نظم سے نعت کاایک شعر پیش کیاجارہاہے ؎
امن کا سنوادے جو مژدہ رسول اللہ سے
جو چمن صحرا کو دے بنوار رسول اللہ سے
بوسیدہ چٹائی پر گزارا :۔ آج کی دنیا اورگزرے ہوئے کل کی دنیا میں بھی رہن سہن کو کافی اہمیت رہی ہے۔ اور جو بڑے ہوتے ہیں ان کارہن سہن کا ذکر رہتاہے۔ سید ظفر کاشی پوری آپ ﷺ کے رہن سہن اور آپ کے بستر سے متعلق کہتے ہیں ؎
گزاری زندگی جس نے کھجوروں کی چٹائی پر
وہ بوسیدہ رسول اللہ کا بستر یاد آتا ہے
ذکرِ رسول :۔ ذکر ِ رسول کی بات پر سب متفق نظر آتے ہیں کہ ان کے بغیر کلمہ مکمل نہیں ہوتا، ہمارا ایمان کہاں سے مکمل ہوگا۔ اقبال عظیم نے ذکر رسول اس طرح کیاہے ؎
نام آقا جہاں بھی لیا جائے گا ذکر ان کا جہاں بھی کیا جائے گا
نور ہی نور سینوں میں بھر جائے گا ساری محفل میں جلوے لپک جائیں گے
سلطان ِ مدینہ :۔ سلطان ہر دوجہاں کو سلطان ِ مدینہ بھی کہاجاتاہے ۔ اور جب یہ بات جگر ؔ کے قلم سے نکلتی ہے تو اس طرح کا نعتیہ شعر بنتاہے ؎
اک رند ہے اور مدحت سلطان مدینہ
ہاں کوئی نظر رحمت سلطان مدینہ
سلطان ِ مدینہ سے مانگنے بھی ایک موقع ہے ، اس موقع سے استفادہ کی طرف پیر سید نصیر الدین نصیر گیلانی توجہ دلاتے ہوئے کہتے ہیں ؎
اب تنگی داماں پہ نہ جا اور بھی کچھ مانگ
ہیں آج وہ مائل بہ عطا اور بھی کچھ مانگ
نعت خوانی :۔ نعت خوانی کی نعمت جس کے حصہ میں آجائے اس کی خوش نصیبی کے کیاکہنے ۔ لیکن احمد فراز ؔ تو کوئی اور بات کہتے ہیں ؎
یہاں کفش بر بھی امام ہیں
یہاں نعت خواں بھی کلیم ہے
عادل اسیر دہلوی کا نعتیہ دوہا ہے ؎
بن کر آئے آخری جگ میں آپ رسول
پیش کیے ہیں آپ نے اچھے نیک اصول
محسن کاکوروی کہتے ہیں ؎
کہیں طوبٰی کہیں کوثر کہیں فردوس بریں
کہیں بہتی ہوئی نہرِ لبن و نہرِ عسل
نبی ء رحمت :۔ نبی ء رحمت اللہ کے رسول ہیں۔ اور ان کی بابت اقبال عظیم کہتے ہیں ؎
جو عاصی کو دامن میں اپنے چھپالے جو دشمن کو بھی زخم کھا کر دعا دے
اسے اور کیا نام دے گا زمانہ وہ رحمت نہیں ہے تو پھر اور کیا ہے
الطاف حسین حالی فرماتے ہیں ؎
وہ نبیوں میں رحمت لقب پانے والا
مرادیں غریبوں کی برلانے والا
اللہ کامحبوب کون :۔ داغؔ دہلوی استاد شاعر ہیں ۔ زبان وبیان کی سرحدیں کہاجاسکتاہے کہ آپ پر ختم ہوئی ہیں۔ اگر اللہ کے رسول کو وہ ’’تو ‘‘ کہتے ہیں تو یہ بھی مخاطب کرنے کاایک انداز ہے جس پر اعتراض نہیں کرنا چاہیے۔ اگر کوئی اس مخاطبت سے گریز کرتاہے تو یہ اس کی اپنی احتیاط اور طرز ہوسکتاہے ۔ داغ ؔکہہ رہے ہیں ؎
تو جو اللہ کا محبوب ہوا خوب ہوا
یا نبی خوب ہوا خوب ہوا خوب ہوا
پیر سید نصیر الدین نصیر گیلانی بھی کہتے ہیں ؎
کونین میں یوں جلوہ نما کوئی نہیں ہے
اللہ کے بعد ان سے بڑا کوئی نہیں ہے
خاک ِ شفا اور خاک ِ مدینہ :۔
ماہر القادری خاک ِ شفا سے متعلق نعتیہ شعر میں کہتے ہیں ؎
غبارِ راہِ طیبہ سرمہ ء چشمِ بصیرت ہے
یہی وہ خاک ہے جس خاک کو خاکِ شفا کہیے
علامہ اقبال خا ک ِ مدینہ سے متعلق کہتے ہیں ؎
خیرہ نہ کر سکا مجھے جلوہء دانشِ فرنگ
سرمہ ہے میری آنکھ کا خاکِ مدینہ و نجف
عرش سے تلوارکاآنا :۔ میر انیس اپنے مرثیہ میں تلوار کی بابت فرماتے ہیں ؎
کس سے ہر جنگ میں عاجز صفِ کفار آئی؟
بدر میں کس کے لیے عرش سے تلوار آئی؟
مضمون کے آخر میں
اقبال عظیم کی وہ نعت جس نے لاکھوں دِلوں میں نبی کریم اور مدینہ منورہ سے ایمانی تعلق کی جوت جگائی اس کا یہ شعر سنتے ہی جسم پر رونگٹھے کھڑے ہوجاتے ہیں۔ ایمان بڑھ جاتاہے ، وہ شعر لکھ کر مضمون ختم کردیاجاتاہے ؎
چلا ہوں ایک مجرم کی طرح میں جانبِ طیبہ
نظر شرمندہ شرمندہ بدن لرزیدہ لرزیدہ
٭٭٭
دین ودنیا کے آقائے رحمت
محمدیوسف رحیم بیدری ، بیدر،کرناٹک
عشق ِ رسول مقبول :۔ کسی نے کیاخوب کہاہے (عین ممکن ہے AIنے کہاہوگا۔ مسکراہٹ) ’’علامہ محمد اقبال کا پورا کلام عشقِ رسولِ مقبول ﷺ کی خوشبو سے مہک رہا ہے۔ ان کے نزدیک دینِ اسلام کی روح اور امتِ مسلمہ کی بقا کا واحد سرچشمہ ذاتِ رسالت مآب ﷺ سے والہانہ محبت اور عشق ہے۔عشقِ رسول ﷺ میں علامہ اقبال کے منتخب اشعار ملاحظہ فرمائیں
اسمِ محمد ﷺ کی عظمت:۔
قُوّتِ عشق سے ہر پَست کو بالا کر دے
دہر میں اسمِ محمدؐ سے اجالا کر دے
حضور ﷺ کی نسبت سے وابستگی:۔
سالارِ کارواں ہے میرِ حجازؐ اپنا
اس نام سے ہے باقی آرامِ جاں ہمارا
کائنات کا وجود اور نامِ محمد ﷺ:۔
خیمہ افلاک کا اِستادہ اسی نام سے ہے
نبضِ ہستی تپش آمادہ اسی نام سے ہے
عشقِ مصطفی ﷺ کا مقام:۔
ہو نہ یہ پھول تو بلبل کا ترنّم بھی نہ ہو
چمنِ دہر میں کلیوں کا تبسّم بھی نہ ہو
یہ نہ ساقی ہو تو پھر مے بھی نہ ہو، خُم بھی نہ ہو
بزمِ توحید بھی دنیا میں نہ ہو، تم بھی نہ ہو
نبی کریم ﷺ کا ارفع مقام:۔
نگاہِ عشق و مستی میں وہی اول وہی آخر
وہی قرآن وہی فرقان وہی یسین وہی طٰہٰ
عشقِ رسول ﷺ سے ہی انسانیت کی تکمیل ہے:۔
تریؐ الفت کی اگر ہو نہ حرارت دل میں
آدمی کو بھی میسر نہیں انساں ہونا
اب ہم حالی ؔ کی طرف آتے ہیں ۔حالی کے نعتیہ قصیدہ کے ان اشعار میں عشق و محبت کی کیفیت کا انداز ملاحظہ ہو ؎
بنے ہیں مدحت سلطان دو جہاں کیلئے
سخن زباں کیلئے اور زباں دہاں کیلئے
وہ چاند جس سے ہوئی ظلمتِ جہاں معدُوم
رہا نہ تفرقہ روز و شب زماں کے لیے
گھر اس کا مورد قرآن و مہبط جبریل
در اس کا کعبہ مقصود انس و جاں کیلئے
کہیں مقدمہ الجیش انبیاء و رسل
کہیں وہ خاتمۃ الباب داستاں کے لیے
شفیع خلق سراسر خدا کی رحمت ہے
بشارت امت عاصی و ناتواں کیلئے
شفاعت نبوی (ﷺ) ہے وہ برق عصیاں سوز
کہ حکم خس ہے جہاں کفر دو جہاں کیلئے
بس اب نہ غول کا کھٹکا نہ راہ زن کا خطر
ہوا وہ قافلہ سالار کارواں کے لیے
حالی کی ایک نعتیہ غزل 25 اشعار پر مشتمل ہے ۔ اس کلام میں بھی حضور سرور کونین (ﷺ) کی ذات مقدسہ کی شان مبارکہ کا منفرد اور عمدہ بیان ہے ۔حالی لکھتے ہیں کہ حضور نبی کریم (ﷺ) کی پیدائش کائنات کے لیے طراوت بخش اور آپ کی بعثت مخلوق کے لیے حیات بخش ہے یعنی آپ (ﷺ) کی آمد مبارک کائنات کی سوکھی اور خشک کھیتی پر رحمت اور برکتوں کا سامان لے کر آئی اور آپ کی نبوت نے اس مخلوق کو نئی حیات بخشی(بحوالہ ’’الطاف حسین حالی کی نعتیہ شاعری کا مختصر جائزہ‘‘از:۔ مستحسن رضا جامی)
اسی مضمون میں مستحسن رضاجامی آگے لکھتے ہیں ’’ حضور نبی کریم (ﷺ) کی ولادت کا تذکرہ حالی نے بہت خوبصورت طریقے سے کیا ہے ۔حضور سرور کونین (ﷺ) کے احسانات کا ذکر ہے جو اس کائنات پہ آپ (ﷺ) نے فرمائے ۔اس کائنات پہ آپ کی آمد اور آپ کی شخصیت کا ظہور کسی نعمت عظمیٰ سے کم نہیں ہے ۔آقا کریم (ﷺ) نے انسانیت اور انسانی اقدار کو جس انداز میں متعارف فرمایا اس کی نظیر تاریخ عالم میں کہیں موجود نہیں۔ انسان کو شریعت کے سبق پڑھائے ۔ عبادات کے معمولات سے آگاہی دی۔ کائنات کے وہ سربستہ راز بھی منکشف ہوئے جو اس سے قبل عیاں نہ تھے ۔آقا کریم (ﷺ)نے روز ازل کے عہد و پیمان یاد دلائے، درس توحید پڑھایا اور اللہ کریم کی ذات پہ توکل سکھایا کیونکہ انسان کے لیے توکل اور اللہ رب العزت کی ذات پر حق الیقین بے حد ضروری ہے ‘‘موصوف نے اشعار کے ذریعہ
مسدس حالی کے ان نعتیہ اشعار کواپنی مثال آپ کہاہے ؎
یکایک ہوئی غیرتِ حق کو حرکت
بڑھا جانبِ بو قبیس ابرِ رحمت
ادا خاک ِبطحا نے کی وہ ودیعت
چلے آتے تھے جس کی دیتے شہادت
ہوئی پہلوئے آمنہ سے ہویدا
دعائے خلیل اور نویدِ مسیحا
وہ نبیوں میں رحمت لقب پانے والا
مرادیں غریبوں کی بر لانے والا
مصیبت میں غیروں کے کام آنے والا
وہ اپنے پرائے کا غم کھانے والا
فقیروں کا ملجا ضعیفوں کا ماویٰ
یتیموں کا والی غلاموں کا مولیٰ
اردو ادب کی نئی نسل میں میرؔبیدری بھی ایک ایسا نام ہے ، جس کے چرچوں سے بڑھ کر اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے محبت اس کو دیگر شعراء سے ممتاز بناتی ہے۔ میرؔبیدری نے حمدکے حوالے سے ’’مولیٰ‘‘ نامی شعری مجموعہ دیاجس کو اہل علم نے کافی سراہا۔ نعتوں کے حوالے سے میرؔبیدر ی کادامن خالی تو نہیں ہے لیکن کوئی مجموعہ ء کلام بھی نہیں ہے۔ لہٰذا میرؔبیدری کی نعتوں کے چیدہ چیدہ اشعار ملاحظہ کرتے ہیں ، اس سے پہلے ان کایہ شعر جو کافی مشہور ہوا ؎
دیکھ آئی جب سے طیبہ کے نظاروں کونظر
لوگ آئے میر ی نظروں کی زیارت کے لئے
میرؔبیدری نے نبی کریم سے عقیدت کے تقریباً تمام گوشوں پر اپنی نعوت میں روشنی ڈالی ہے۔ قیادت سے متعلق یہ نعتیہ شعر ملاحظہ فرمائیں ؎
میرؔاہل ِ سیاست ہی واقف نہیں
آقاؐ کے جیسی کوئی قیادت نہیں
معیشت سے متعلق میرؔبیدری کہتے ہیں ؎
پھولتی پھلتی لوگو معیشت رہی
سب کی خاطر وہ مدنی حکومت رہی
وہ نبی علیہ السلام کے ڈنکے کی بات بھی کرتے ہیں اور کہتے ہیں ؎
نبی جی کا ڈنکا بجا ، بج رہاہے
بجے گاسداہی ، یہ رب بولتا ہے
جنت کو پال رکھنے کی بات میرؔبیدری کرتے ہیں ؎
جب کہ سرکار دے رہے ہوں ہمیں
ہم بھی جنت کو پال لیتے ہیں
پتھروں کے حوالے سے بھی ان کے نعتیہ اشعار مل جاتے ہیں، عجیب طرح کااسرار اس طرح کے اشعار میں ہے ؎
لوروپڑے جانے کتنے پتھر نبی کے آگے
ہرایک پتھر یہاں نبی کی امان میں ہے
ترس رہے ہیں ہزار دلبر کہ ہوزیارت
انہی کا چہرا تومیرے خوابوں کی جان میں ہے
آگے ہم اردو زبان کے مختلف شعراء کے اشعار پڑھیں گے اور اس کے ذریعہ ملنے والے ایمانی لطف اور فیض سے مستفید ہونے کی سعی بھی کریں گے۔ شیخ عبدالعزیز دباغ ؔ کے یہ شعر دیکھیں ؎
بہتی رہے رگوں میں یونہی یادِ مصطفیٰؐ
میرا وجود نور کا قلزم بنا رہے
اترا ہے دل میں نقشِ کفِ پا حضور ﷺ کا
رفتار کہہ رہی ہے مسلسل نبی ﷺ نبی ﷺ
کل تک تو بارگاہِ پیمبر ﷺ میں تھا عزیز
قربان میرے کل پہ مری ساری زندگی
نبی اکرم پر زندگی قربان :۔ جناب مظفروارثی نعت اور حمد کے عمدہ شاعر ہیں ، بڑا نام کمایااور ان کانام اردو جہان میں نعتوں کے حوالے سے گونج رہاہے، کہتے ہیں ؎
آپ اورآپ کے فرمان پر
جان ودل سے ہم فد ایامصطفی
آپ کے نقش قدم پر ہم چلیں
آپ سب کے رہنما یامصطفی
بزرگ لیکن استاد شاعر امیرمینائی کہتے ہیں ؎
تم پر میں لاکھ جان سے قربان یارسول اللہ
برآئیں میرے دل کے بھی ارمان یارسول اللہ
پیر سید نصیر الدین نصیر گیلانی آقا پر قربان ہونے کی بات کرتے ہیں ؎
قربان اس آقا پر کل حشر کے دن جس نے
اس امت عاصی کو کملی میں چھپایا ہے
حضور اکرم سے وفاداری :۔ آپ ﷺ سے وفاداری سے بڑھ کر اور کیاہوسکتاہے ؟ رسالت پر ایمان یہی ہے کہ رسول سے ان کے امتی وفادار رہیں۔ علامہ اقبال کا یہ شعر وفاداری کی مثال کا سب سے بڑا شعر ہے ؎
کی محمد سے وفا تو نے تو ہم تو ہیں جِس کے لیے
یہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیرے لیے
جنت سے بڑھ کر صورت ِ رسول :۔
شعراء نے اپنے ایمان اور اپنے علم وخیال کے جہاں کو جس سمت بھی دراز کیاوہاں سے خیال کے عمدہ گوہر لائے ہیں ۔ اسی میں
خواجہ میر درد کایہ شعربھی شامل ہے جو جنت کی آرزو سے بے نیازکرتاہے ؎
تری صورت ہو جس کے پیشِ نظر
اس کو جنت کی آرزو کیوں ہو
’’حدائقِ بخشش‘‘ سے امام احمد رضا خان کا شعر ملاحظہ کیجئے جس میں نبی ﷺ کی بہت ساری خوبیوں کاتذکرہ ہے ؎
وہ صفا کا مہینہ وہ ٹھنڈی ہوا، وہ مدینے کا جادو وہ پیاری فضا
نہیں بھولتا مجھ کو نقشِ قدم، وہی بے خودی ہے وہی تذکرہ
ان ہی کا ایک اور شعر ہے ؎
اے حبیبِ خدا تجھ سا کوئی نہیں، تیرے جیسا کوئی نہیں
جو سُنا ہم نے وہ دیکھا نہیں، تیرے جیسا کوئی نہیں
ہمارے محمد :۔ مظفر ؔوارثی کے پہلے یہ دوشعر پڑھ لیجئے گا ؎
ہم ہیں تمہارے تم ہو ہمارے، محمد پیارے
تم ہو چاند اور ہم ہیں تارے، محمد پیارے
سب سے اچھا دین تمہارا، حکم خدا آئین تمہارا
تم نے ہمارے ذہن سنوارے، محمد پیارے
یادِ مدینہ :۔ یادوں نے جہاں ایک دنیا آباد کررکھی ہے وہیں اللہ اور اس کے رسول کی یاد نے ایمان کو مضبوط کیاہے ، سماج اور معاشرے کو ٹوٹنے ، لٹنے اور برباد ہونے سے بچایاہے۔ جن لوگوں نے خود کو بچایا ، معاشرے کو بچایاوہ ہمیشہ یاد ِ خدامیں مشغول ملے ۔ ان کاوظیفہ رسول کی محبت اور ان کی یاد رہی ۔ حسرت ؔموہانی کہتے ہیں ؎
پھر یادجو آئی ہے مدینے کی بلانے
کیایاد کیا پھر مجھے شاہ ِ دوسرا نے
تہذیب حافی کہتے ہیں ؎
رہے گا یاد مدینے سے واپسی کا سفر
میں نظم لکھنے لگا تھا کہ نعت ہو گئی ہے
علامہ اقبال کی نظم ’’بلال‘‘ کا یہ شعر دیکھئے ؎
مدینہ تیری نگاہوں کا نور تھا گویا
ترے لیے تو یہ صحرا ہی طور تھا گویا
مرزا سلامت علی دبیر نے اپنے ایک مرثیہ میں کہاہے ؎
میری طرف سے اہلِ مدینہ کو دو پیام
لوگو خفا نہ ہو میری رخصت ہے صبح و شام
میر انیس کہتے ہیں ؎
اے ارضِ مدینہ، تجھے فوق اب ہے فلک پر
رونق جو سما پر ہے، وہ اب ہوگی سمک پر
محمد یوسف راسخ کہتے ہیں ؎
خارِ طیبہ کو گلِ خلد سے بڑھ کر سمجھے
ہم نے ان کانٹوں میں وہ بوئے محبت دیکھی
بہزاد لکھنوی کہہ رہے ہیں ؎
نظر میں مری حسرتِ دیدِ طیبہ
مرے دل میں موجِ ولائے محمد
درّیتیم کون ہیں ؟:۔ درّفارسی زبان میں موتی یامروارید کوکہتے ہیں ۔ جب کہ یتیم عربی زبان میں اس اکیلی اور تنہا چیز کو کہتے ہیں جس کاکوئی جوڑ یا مثال نہ ہو۔ دین ِ اسلام میں درّیتیم نبی کریم ﷺ کو کہاجاتاہے ، ان کے بارے میں میرحسن کہتے ہیں ؎
نبی کون یعنی رسول ِ کریم
نبوت کے دریا کادرِ یتیم
محسن کاکوروی نعت گوئی کے حوالے سے جانے جاتے ہیں ۔ ان کایہ شعر دریتیم سے متعلق ملاحظہ فرمائیں ؎
بحرِ امکاں میں رسولِ عربی دُرِّ یتیم
رحمتِ خاصِ خداوندِ تعالیٰ بادل
اللہ سے ملانے والے :۔ نبی کریم ﷺ نے ہمیشہ خدا کے بندوں کو خدا سے ملانے کی حددرجہ سعی کی ہے اوراس میں کامیاب بھی ہوئے ہیں۔ مہدی پرتاپ گڑھی کاشعر ہے ؎
بندوں کو اللہ سے ملانے والا
گمراہی سے انسان کو بچانے والا
مصداقؔ اعظمی نظم اور غزل دونوں کے شاعر ہیں لیکن یہاں ان کی نظم سے نعت کاایک شعر پیش کیاجارہاہے ؎
امن کا سنوادے جو مژدہ رسول اللہ سے
جو چمن صحرا کو دے بنوار رسول اللہ سے
بوسیدہ چٹائی پر گزارا :۔ آج کی دنیا اورگزرے ہوئے کل کی دنیا میں بھی رہن سہن کو کافی اہمیت رہی ہے۔ اور جو بڑے ہوتے ہیں ان کارہن سہن کا ذکر رہتاہے۔ سید ظفر کاشی پوری آپ ﷺ کے رہن سہن اور آپ کے بستر سے متعلق کہتے ہیں ؎
گزاری زندگی جس نے کھجوروں کی چٹائی پر
وہ بوسیدہ رسول اللہ کا بستر یاد آتا ہے
ذکرِ رسول :۔ ذکر ِ رسول کی بات پر سب متفق نظر آتے ہیں کہ ان کے بغیر کلمہ مکمل نہیں ہوتا، ہمارا ایمان کہاں سے مکمل ہوگا۔ اقبال عظیم نے ذکر رسول اس طرح کیاہے ؎
نام آقا جہاں بھی لیا جائے گا ذکر ان کا جہاں بھی کیا جائے گا
نور ہی نور سینوں میں بھر جائے گا ساری محفل میں جلوے لپک جائیں گے
سلطان ِ مدینہ :۔ سلطان ہر دوجہاں کو سلطان ِ مدینہ بھی کہاجاتاہے ۔ اور جب یہ بات جگر ؔ کے قلم سے نکلتی ہے تو اس طرح کا نعتیہ شعر بنتاہے ؎
اک رند ہے اور مدحت سلطان مدینہ
ہاں کوئی نظر رحمت سلطان مدینہ
سلطان ِ مدینہ سے مانگنے بھی ایک موقع ہے ، اس موقع سے استفادہ کی طرف پیر سید نصیر الدین نصیر گیلانی توجہ دلاتے ہوئے کہتے ہیں ؎
اب تنگی داماں پہ نہ جا اور بھی کچھ مانگ
ہیں آج وہ مائل بہ عطا اور بھی کچھ مانگ
نعت خوانی :۔ نعت خوانی کی نعمت جس کے حصہ میں آجائے اس کی خوش نصیبی کے کیاکہنے ۔ لیکن احمد فراز ؔ تو کوئی اور بات کہتے ہیں ؎
یہاں کفش بر بھی امام ہیں
یہاں نعت خواں بھی کلیم ہے
عادل اسیر دہلوی کا نعتیہ دوہا ہے ؎
بن کر آئے آخری جگ میں آپ رسول
پیش کیے ہیں آپ نے اچھے نیک اصول
محسن کاکوروی کہتے ہیں ؎
کہیں طوبٰی کہیں کوثر کہیں فردوس بریں
کہیں بہتی ہوئی نہرِ لبن و نہرِ عسل
نبی ء رحمت :۔ نبی ء رحمت اللہ کے رسول ہیں۔ اور ان کی بابت اقبال عظیم کہتے ہیں ؎
جو عاصی کو دامن میں اپنے چھپالے جو دشمن کو بھی زخم کھا کر دعا دے
اسے اور کیا نام دے گا زمانہ وہ رحمت نہیں ہے تو پھر اور کیا ہے
الطاف حسین حالی فرماتے ہیں ؎
وہ نبیوں میں رحمت لقب پانے والا
مرادیں غریبوں کی برلانے والا
اللہ کامحبوب کون :۔ داغؔ دہلوی استاد شاعر ہیں ۔ زبان وبیان کی سرحدیں کہاجاسکتاہے کہ آپ پر ختم ہوئی ہیں۔ اگر اللہ کے رسول کو وہ ’’تو ‘‘ کہتے ہیں تو یہ بھی مخاطب کرنے کاایک انداز ہے جس پر اعتراض نہیں کرنا چاہیے۔ اگر کوئی اس مخاطبت سے گریز کرتاہے تو یہ اس کی اپنی احتیاط اور طرز ہوسکتاہے ۔ داغ ؔکہہ رہے ہیں ؎
تو جو اللہ کا محبوب ہوا خوب ہوا
یا نبی خوب ہوا خوب ہوا خوب ہوا
پیر سید نصیر الدین نصیر گیلانی بھی کہتے ہیں ؎
کونین میں یوں جلوہ نما کوئی نہیں ہے
اللہ کے بعد ان سے بڑا کوئی نہیں ہے
خاک ِ شفا اور خاک ِ مدینہ :۔
ماہر القادری خاک ِ شفا سے متعلق نعتیہ شعر میں کہتے ہیں ؎
غبارِ راہِ طیبہ سرمہ ء چشمِ بصیرت ہے
یہی وہ خاک ہے جس خاک کو خاکِ شفا کہیے
علامہ اقبال خا ک ِ مدینہ سے متعلق کہتے ہیں ؎
خیرہ نہ کر سکا مجھے جلوہء دانشِ فرنگ
سرمہ ہے میری آنکھ کا خاکِ مدینہ و نجف
عرش سے تلوارکاآنا :۔ میر انیس اپنے مرثیہ میں تلوار کی بابت فرماتے ہیں ؎
کس سے ہر جنگ میں عاجز صفِ کفار آئی؟
بدر میں کس کے لیے عرش سے تلوار آئی؟
مضمون کے آخر میں
اقبال عظیم کی وہ نعت جس نے لاکھوں دِلوں میں نبی کریم اور مدینہ منورہ سے ایمانی تعلق کی جوت جگائی اس کا یہ شعر سنتے ہی جسم پر رونگٹھے کھڑے ہوجاتے ہیں۔ ایمان بڑھ جاتاہے ، وہ شعر لکھ کر مضمون ختم کردیاجاتاہے ؎
چلا ہوں ایک مجرم کی طرح میں جانبِ طیبہ
نظر شرمندہ شرمندہ بدن لرزیدہ لرزیدہ