بی جے پی : نہ دلت ہی ملا نہ ملے برہمن

بی جے پی  : نہ دلت ہی ملا نہ ملے برہمن

بی جے پی :
نہ دلت ہی ملا نہ ملے برہمن

ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان

کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) اور طلبہ احتجاج میں حصہ لینے والی 14 سالہ لڑکی ایشو آزاد کو دھمکانے اور اس کے گھر پر پتھراؤ کیے جانے کے الزامات کو سپریم کورٹ نے سنجیدگی سے لیا ہے۔ چیف جسٹس سوریہ کانت کی سربراہی والی بنچ نے اس معاملے میں اتر پردیش اور دہلی سے اسٹیٹس رپورٹ طلب کی ہے۔طلبہ احتجاج سے متعلق معاملے کی سماعت کے دوران ایک وکیل نے عدالت میں کہا کہ حال ہی میں ایک شخص نے کچھ ویڈیوز میں دعویٰ کیا کہ اس نے سی جے پی کے احتجاج کے دوران لڑکی کے والد پر حملہ کیا تھا۔ ایف آئی آر درج ہونے کے بعد اس شخص کو گرفتار بھی کیا گیا ہے، لیکن اب لڑکی کو دھمکیاں دی جارہی ہیں۔ لڑکی کے گھر پر پتھراؤ کیے جانے کی ویڈیوز بھی موجود ہیں۔ اس لیے اگر لڑکی کو کسی طرح کا نقصان پہنچتا ہے تو بعد میں اس کی تلافی ممکن نہیں ہوگی۔ وکیل کا الزام تھا کہ پتھراؤ میں شامل افراد کے خلاف کارروائی کرنے کے بجائے بچی اور اہل خانہ کے خلاف ایک ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔چیف جسٹس سوریہ کانت نے کہا کہ بچہ تو بچہ ہی ہے اور اس کی حفاظت کے لیے ضروری اقدامات کیے جانے چاہئیں۔
چیف جسٹس کے مطابق ، ’’اگر سماج دشمن عناصر نے بچوں کے خلاف تشدد کیا ہے اور وہ اب بھی آزاد ہیں اور اسے ڈرانے دھمکانے کی کوشش کررہے ہیں تو یہ سنگین معاملہ ہے۔‘‘ اس تبصرے کے بعد سرکاری وکیل سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے مدافعت میں آکر کہا کہ انہیں سوشل میڈیا پر لڑکی کی جانب سے کی گئی پوسٹس کے ذریعے اس معاملے کی اطلاع ملی ہے۔وہ جب یہ نہیں بتا سکے کہ سرکار کیا کررہی ہے تو عدالت نے کہا کہ بچی کی جانب سے درج ایف آئی آر پر کارروائی ہونی چاہیے۔ عدالت نےنشو آزاد اور اس کے خاندان کی حفاظت یقینی بنانے کی ہدایت دی۔ سپریم کورٹ نے اتر پردیش اور دہلی حکومت سے اس معاملے پر رپورٹ پیش کرنے کو کہا ہے۔ یہ معاملہ اس لیے سنگین ہوجاتا ہے کہ مذکورہ وکیل نے یہ الزام بھی لگایا کہ جن لوگوں نے جنتر منتر پر احتجاج کے دوران حملہ کیا تھا، انہیں بعد میں 4 پولیس اہلکاروں کے ساتھ دیکھا گیاجس کا ثبوت ویڈیوز میں موجود ہیں۔ یہ ثبوت صرف سوتنتر بھاردواج ہی کے خلاف نہیں بلکہ امیت شاہ اور مودی سرکار کے ماتھے پر بھی کلنک ہے کیونکہ دہلی پولیس تو انہیں کے تحت کام کرتی ہے۔
سوتنتر بھاردواج کو اتر پردیش کے بلند شہر سے 4 ستمبر کو گرفتار کیا گیا تھا۔اس کے بعد جب اس کے سر پر سے مرکزی حکومت نے ہاتھ کیا اٹھایا کہ ساری عدالتوں نے اس کی گردن دبوچ لی۔ ابتداء میں اسے صرف ایک دن کی پولیس حراست میں بھیجا گیا تو اس نرمی پر تنقید ہوئی۔ اس کے بعد بھی پٹیالہ ہاؤس کورٹ نے بھاردواج کی حراست میں صرف دو دن کی توسیع کی اور 7 ستمبر تک عدالتی حراست میں بھیجا۔اس سے سوتنتر کا حوصلہ بڑھا اس نے دہلی ہائی کورٹ کے جسٹس نوین چاولہ کی سربراہی والی بنچ کے سامنے حراست کو چیلنج کرنے والی عرضی داخل کر وائی ۔ اس کی جانب سے پیش ہونے والے وکیل نے چیف جسٹس ڈی کے اپادھیائے کی سربراہی والی بنچ کے سامنے معاملہ پیش کرتے ہوئے کہا تھا کہ سوتنتر بھاردواج کی تین روزہ حراست غیر قانونی ہے۔ اس نے گرفتاری کو چیلنج کرتے ہوئے دائر عرضی پر اسی دن سماعت کا مطالبہ کیا تو عدالت نے اسے قبول کرلیا ۔ اس سے میڈیا میں قیاس آرائی شروع ہوگئی کہ اسے رہا کرنے کی پیش بندی شروع ہوگئی ہے مگر سنوائی کے دوران حالات بدل گئے ۔ پٹیالہ ہاؤس کورٹ نے اس معاملے میں بھاردواج کو 14 دن کی عدالتی حراست میں بھیج کر سب کو چونکا دیا ۔ ہائی کورٹ چونکہ سوتنتر کی ہیبیس کارپس کی درخواست کو مسترد کر چکی تھی اور اس پر SC/ST اور POCSO ایکٹ کے تحت مقدمات درج ہوئے تھے اس سے زعفرانی خیمہ میں مایوسی پھیل گئی۔
سواتنتر بھاردواج کو ایک ہی دن دو مختلف عدالتوں سے دو جھٹکے ملنے پر کاکروچ جنتا پارٹی کے اندر خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ سی جے پی کے قومی ترجمان سورو داس نے اپنی مسرت کا اظہار کرتے ہوئے انسٹاگرام ہینڈل پر سوتنتر کو راحت نہ ملنے پر کہا، “دہلی ہائی کورٹ نے مجرم کی درخواست کو خارج کر دیا ہے۔ مزید برآں، ٹرائل کورٹ نے اسے 14 دن کے لیے جیل بھیج دیا ہے۔ یہ کاکروچوں کے لیے ایک بڑی فتح ہے جو امن اور انصاف سے محبت کرتے ہیں۔”سورو داس نے اپنے انسٹاگرام پوسٹ میں نیشو آزاد کو بھی ٹیگ کرتے ہوئے لکھا، “ہم سب آپ کے ساتھ ہیں۔ ہم اس کیس کی نگرانی کرتے رہیں گے اور انصاف کی فراہمی کو یقینی بنائیں گے۔”واضح رہے کہ سورو داس خود نشو آزاد اور ان کے والد سنجے آزاد کے ساتھ پارلیمنٹ اسٹریٹ تھانے گئے تھے۔بھیم آرمی چیف چندر شیکھر آزاد بھی موجود تھے۔ دونوں نے مل کر نشو آزاد کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا تھا۔ سوتنتر بھاردواج پر سختی نے ہندوتونوازوں کو بے چین کردیا کیونکہ ان کے ساتھ دھوکہ دھڑی ہوئی تھی۔ اس لیے وہ لوگ میدان میں کود پڑے اور دہلی کے سنسد مارگ پولیس اسٹیشن کے سامنے ہفتے کے روز بڑی تعداد میں جمع ہوکر سوتنتر بھاردواج کے خلاف غیر جانب دارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا یعنی انہیں پولیس کی جانچ پڑتال پر یہ شک ہے کہ اس میں جانبداری برتی جاسکتی ہے ۔
ہندوتونواز تنظیموں کے کارکنوں کا یہ اندیشہ حیرت انگیز ہے اور الزام کہ سوتنتر کو برہمن ہونے کی وجہ سے نشانہ بنایا جا رہا ہے تعجب خیز ہے۔ شاہین اور نفیسہ خان پر مسلمان ہونے کی وجہ سے پولیس کا جبر و تشدد قابلِ فہم ہے مگر نام نہاد اونچی ذات والوں کا یہ کالزام مودی سرکار کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے۔ مسلمان تو ویسے بھی بی جے پی کو ووٹ نہیں دیتے اس لیے ان کی ناراضی سے کمل چھاپ لوگوں کو کوئی فرق نہیں پڑتا مگر برہمن تو کمل پر مہر لگاتے ہیں۔ سیکولر جماعتیں جس طرح سوچتی ہیں کہ مسلمان کہاں جائیں گے اسی طرح اب بی جے پی سوچنے لگی ہے کہ برہمنوں کے پاس کوئی متبادل نہیں ہے مگر یہ حقیقت ہے کہ جیسے بی جے پی نے مسلمانوں کی دل آزاری کی ویساسلوک تو کانگریس نے برہمنوں کے ساتھ کبھی نہیں کیا اور اکھلیش بھی پی ڈی اے میں پچھڑوں کے ساتھ پنڈتوں کو لبھانےلگے ہیں اس لیے وہ دوسری جانب کیوں نہیں کھسک سکتے؟ سوتنتر کی حمایت میں مظاہرہ کرنے والے ہندوتونواز کارکن دکش چودھری کا ادعویٰ ہےکہ اس نے تو ذات پر مبنی الفاظ استعمال ہی نہیں کیے۔وہ ایسے ویڈیو کا مطالبہ کرتا ہے جس میں ذات پر مبنی الفاظ کہے گئے ہوں۔ دکش نے بھیگی بلی بن کر یہ بھی کہا کہ دباؤ میں آکر پولیس نے چھوٹے سے کڑے سے لگی چوٹ کو 307 کی دفعہ بنا دیا گیا۔
سنسد مارگ تھانے کے سامنے مظاہرہ کرنے والے ایک اور ہندووتوا نواز کارکن نے میڈیا میں الزام لگایا کہ آج کل ہرکوئی SC/ST اور OBC کی تو بات کرتاہے لیکن جنرل کیٹیگری کی طرفداری کوئی نہیں کرتا۔ وہ بھی پوچھتا ہے کہ کیا سوتنتر بھاردواج کی واحد غلطی اس کا برہمن برادری سے تعلق ہے؟ اس کو گلہ ہے کہ آج کل کوئی بھی برہمن لیڈر ان کی حمایت میں آگے نہیں آ تا۔ اس طرح کی شکایت بھی مسلمانوں پر ہونے والے مظالم کے بعد ہوتی تھی کہ کوئی سیاسی رہنما اس کے خلاف احتجاج کرنے کے لیے آگے نہیں آتا۔ احتجاج میں شامل اس نوجوان نے یہ سوال بھی کیا کہ جب سورَو داس نے حکومت سے اپیل کی تھی کہ NEET مخالفت کے نام پر طلبہ اور مظاہرین کے خلاف درج تمام FIR واپس لی جائیں اور سپریم کورٹ میں عرضی بھی دائر کی گئی تھی، تو سوتنتر بھاردواج کے خلاف FIR کیوں واپس نہیں لی گئی؟ اس سوال کا جواب ہے سوتنتر احتجاج کرنے والوں میں سے نہیں بلکہ حکومت کا دلال بن کر احتجاج کرنے والوں کو ڈرا دھمکا رہا تھا ۔
سوتنتر بھاردواج کی حمایت میں ہونے والے احتجاج میں شامل ایک نوجوان یہ پوچھتا ہے اگر اس کے خلاف FIR واپس نہیں لی جا رہی ہے، تو ان لوگوں کے خلاف UAPA کیوں نہیں لگایا جا رہا، جنہوں نے حکومت اور PM مودی کو گالیاں دیں، ملک مخالف نعرے لگائے اور ایسی حرکتیں کیں جن سے ہندوؤں کے جذبات مجروح ہوئے؟ اس احمق کو نہیں معلوم کہ یو اے پی اے تو ملک سے بغاوت یا غداری پر لگتا ہے۔ جنتر منتر میں حکومت یا وزیر اعظم کے خلاف تو نعرے لگائے گئے مگر ملک کے خلاف نہیں اور مودی جی کی مذمت ملک کی مخالفت نہیں ہے۔ وہ اپنی چہیتی سرکار سے سوال کرتا ہے کہ ’’ آپ ان سب کے خلاف کارروائی کیوں نہیں کر رہے ہیں؟ ‘‘ وہ پوچھتا ہے حکومت کس بات سے ڈر رہی ہے۔ مودی سرکار کو دراصل اقتدار سے بے دخل ہونے کا خوف ستا رہا ہے اس لیے لوگ آسانی سے وزیر اعظم کو جھولا اٹھاکر بھاگنے نہیں دیں گے بلکہ تلاشی لے کر پوچھیں گے کہ اس میں کیا کیا چھپا ہوہے۔ مودی اور یوگی نے خواب میں بھی نہیں سوچا ہوگا کہ ان کے رام راجیہ میں اعلیٰ طبقات کےلوگ بھی ایسی الزام تراشی کریں گے ۔بظاہر ایسا لگتا ہے کہ یہ سرکار دلت مخالف تو پہلے ہی تھی اب برہمن مخالف بھی ہوگئی ہے۔

By Maqsood

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے