ہندوستان کا نوجوان: بیروزگاری سے پریشان

ہندوستان کا نوجوان: بیروزگاری سے پریشان

ہندوستان کا نوجوان:
بیروزگاری سے پریشان

ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان

وطن عزیز کے سب سے بڑے مسائل میں سے ایک بیروزگاری ہے۔ نوجوانوں میں بے روزگاری کی شرح بڑھ کر 15 فیصد تک پہنچ گئی ہے اور 52 فیصد افراد اسے ملک کا سب سے بڑا چیلنج قرار دیتے ہیں۔ حکومتِ ہند کی وزارتِ شماریات نےپچھلے دنوں اپنی جانب سے جاری کردہ لیبر فورس سروے (PLFS) میں ہندوستان کے اندر نوجوانوں کی بے روزگاری کے حوالے سے تشویشناک تصویر پیش کی ۔ اس سرکاری جائزے کو جارج سورو س سے جوڑ کر یکلخت مسترد کرنا ممکن نہیں ہے۔ سر سنگھ چالک اس سے متعلق یہ نہیں کہہ سکتے چونکہ ہندوستان تیزی کے ساتھ وشو گرو بن رہا ہےاس لیے اس سے حسد میں گرفتار لوگ ملک کو بدنام کرنے کی سازش چل کررہےہیں۔ اس بابت راہل گاندھی کو پاکستان کی بولی بولنے والا کہہ بدنام بھی نہیں کیا جاسکتا۔ یہ مودی سرکار کا اپنا اعترافِ جرم ہے۔ ایسی صورتحال میں محنت کشوں کا استحصال بہت آسان ہوجاتا ہے ۔ اس جبر کے خلاف احتجاج بھی فطری عمل ہے لیکن اگر سرکار اس کی جانب ہمدردانہ توجہ دینے کے بجائے اسے کچلنے پر تُل جائے اور اس کی حمایت کرنے والوں کو قوم دشمن سمجھ کر ان پر این ایس اے جیسے قوانین کے تحت مقدمات درج کرلے تو یہ ظلم کی انتہا ہے۔ دہلی این سی آر کے نوئیڈا میں جو یوپی کے اندر آتا ہے یوگی سرکار نے اسی جرم کاا رتکاب کیا اور اس لیے اسے عدالت میں رسوا ہونا پڑا۔
کانگریس کے صدر ملک ارجن کھرگے نے جولائی26ء کے ’پیریاڈک لیبر فورس سروے ‘ (پی ایل ایف ایس) کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ نوجوانوں میں بے روزگاری کی شرح6.15؍فیصد ہے، جبکہ نوجوان خواتین میں یہ شرح اس سے بھی زیادہ 5.19؍فیصد تک پہنچ گئی ہے۔کانگریس صدر نے وزیر اعظم نریندر مودی سے سوال کیا کہ گریجویشن کے بعد ملازمتیں کہاں ہیں؟ رپورٹ کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ 20؍سے29؍سال کی عمر کے بیروزگار نوجوانوں میں سے 67؍فیصدگریجویٹ ہیں جبکہ 15؍ سے 25؍ سال کے بیروزگاروں میں بیرروزگارگریجویٹس کا فیصد 40؍ہے۔کھرگے نے تعلیم پر ہونےوالے خرچ کا حوالہ دیتےہوئے کہا کہ ماں باپ اپنی جمع پونجی خرچ کرتے ہیں، طلبہ تعلیمی قرض لیتے ہیں اور ڈگریاں حاصل کرتے ہیں لیکن آخر میں انہیں معلوم ہوتا ہے کہ ان کیلئے ملازمتیں ہیں ہی نہیں۔ انہوں نے مودی سرکار کو اس کا ہر سال 2؍کروڑ ملازمتوں کا وعدہ یاد دلایا اور سوال کیا کہ اس وعدے کا کیا ہوا کھرگے نے کہا کہ اس حساب سے12؍سال میں ملک میں 24؍کروڑ ملازمتیں پیدا ہوجانی چاہئیں تھیں لیکن اس کے برعکس جو سرکاری عہدے پہلے سے موجود ہیں ان میں سے لاکھوں خالی پڑے ہیں ۔
مودی دور کا المیہ یہ ہے کہ فوج تک میں اگنی ویر کے نام سے 3؍ سال کے لیے عارضی فوجی بھرتی کیے جارہے ہیں ۔ سماج کے اندر نوجوانوں کے لیے مستقل روزگار کی جگہ کنٹریکٹ اور جز وقتی ملازمتوں کا رواج عام ہوگیا ہے۔یہ استحصال کا نہایت قبیح ذریعہ ہے۔ اس میں سرکار اور نجی ادارے جملہ کام کاج اپنے چہیتے ٹھیکیدار کو دے دیتے ہیں ۔ اس طرح بڑی رقوم تو کنٹریکٹرس کی جیب میں چلی جاتی ہیں اور محنت کشوں کا خون چوسا جاتا ہے۔ انہیں نہ تو تحفظ اور نہ دیگر جائز سہولیات حاصل ہوتی ہیں ۔ ایسے میں ملک ارجن کھرگے سوال کرتے ہیں کہ جونوجوان آزادی کے بعد ملک کی طاقت تھی کیا اس کو مودی سرکار بحران میں تبدیل کررہی ہے؟ دلچسپ بات یہ ہے کہ نیتی آیوگ نے اپنی رپورٹ میں ’’خود روزگار‘‘ کے فروغ کی وکالت کی ہے۔اس کا مطلب تو یہ ہے کہ سرکار روزگار فراہم کرنے کی ذمہ داری سے پلہ جھاڑ رہی ہے۔ اس مسئلہ پر کانگریس کی رکن پارلیمان پرینکا گاندھی نےنیتی آیوگ کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’’ملک میں بیروزگاری کی شرح گزشتہ40؍برسوں کی بلند ترین سطح پر ہے۔نوجوانوں میں بہت زیادہ بے چینی، مایوسی اور اضطراب ہے۔ ہم نے اسے طلبہ کے احتجاج میں دیکھا ہے۔ یہ ناکام تعلیمی نظام اور گزشتہ12؍ برسوں میں روزگار کے مواقع پیدا نہ ہونے کا نتیجہ ہے۔‘‘
کانگریس کی جنرل سیکریٹری نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ حکومت کی مسلسل پالیسیوں نے زراعت اور مائیکرو، اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزس جیسے شعبوں کو کمزور کیا ہے، جو روزگار فراہم کرنے کے بڑے ذرائع ہیں۔ پرینکا گاندھی نے جس بے چینی کا ذکر کیا اس کی سب سے بڑی مثال نوئیڈا کے اندر سامنے آئی جہاں ہزاروں غیر منظم شعبے کے مزدوروں نے احتجاج کیا اور یوگی سرکار نے اسے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ اور پولیس افسران کی مدد سے بزورِ قوت کچل دیا۔ اس طرز عمل پر عدالت نے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ان میں سے ہر ایک کے سروس ریکارڈ میں اسے درج کرنے کا حکم دیا گیا ۔ اس معاملے میں چونکہ گیانیش کمار کی بیٹی نے مظاہرین پر این ایس اے جیسے قوانین کے تحت مقدمات درج کردئیے تھے اس لیے جج صاحبان نے یاد دلایا کہ کسی فرد پریہ خطرناک قانون مسلط کرنے کے لیے ایک طے شدہ طریقہ کار ہے۔ ابتدائی NSA رپورٹ پولیس اسٹیشن سے شروع ہوتی ہے، اور سپرنٹنڈنٹ آف پولیس یا پولیس کمشنر سے منظوری کے بعد، محکمہ پولیس کی طرف سے ایک سفارش ضلع مجسٹریٹ تک پہنچتی ہے۔ رپورٹ سے مطمئن ہونے پر، ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ اسے مزید منظوری کے لیے NSA ایڈوائزری بورڈ کے پاس بھیج دیتا ہے۔ ریاستی حکومت کا محکمہ داخلہ ایڈوائزری بورڈ کی سفارش پر فیصلہ کرتا ہے۔ جب پولیس اسٹیشن سے لے کر محکمہ داخلہ تک ہر سطح کے لوگ اس رپورٹ سے اتفاق کرتے ہیں تو این ایس اے لگا یا جاتا ہے۔
عدالت نے اپنے حکم میں یہ بھی کہا کہ ریاستی حکومت نے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کے ذریعے طالب علم کو این ایس اے کے تحت گھمنڈ کے ساتھ حراست میں لیا۔ مثل مشہور ہے جیسا مالک ویسا گھوڑا کچھ نہیں تو تھوڑا تھوڑا۔ یوگی جیسے خود سر وزیر اعلیٰ کے تحت کام کرنے والے افسران سے کیا توقع کی جاسکتی ہے ۔ ایسے بدمزاج لوگوں کو سرکاری تحفظ حاصل ہوتا ہے۔ نوئیڈا کے اندر محنت کشوں کا استحصال کیوں ہورہا تھا اور اس کے خلاف انہیں میدان میں اترنے کی ضرورت کس لیے پیش آئی؟ اس سوال کا جواب ( Ministry of Statistics and Program Implementation ) کی رپورٹ میں پوشیدہ ہے۔ اس کے مطابق جنوری تا مارچ 2026 کی سہ ماہی میں15؍ سے 29؍ برس کے نوجوانوں میں بے روزگاری کی شرح بڑھ کر 15؍ فیصد ہو گئی، جو گزشتہ چار سہ ماہی کی بلند ترین سطح ہے۔ رپورٹ کے مطابق اس سے قبل اکتوبر تا دسمبر 2025ء کی سہ ماہی میں نوجوانوں کی بے روزگاری کی شرح 14.3؍ فیصد تھی۔ نوجوان خواتین میں صورتحال مزید سنگین دیکھی گئی جہاں بے روزگاری 16.6؍ فیصد سے بڑھ کر 17.7؍ فیصد تک پہنچ گئی، جبکہ نوجوان مردوں میں یہ شرح 13.5 فیصد سے بڑھ کر 14؍ فیصد ریکارڈ کی گئی۔
پی ایل ایف ایس کے ’’کرنٹ ویکلی اسٹیٹس‘‘کی کسوٹی یہ ہے کہ اگر کسی شخص نے ہفتے کے دوران ایک گھنٹہ بھی کام نہ کیا ہو لیکن وہ کام کے لیے دستیاب یا متلاشی ہو تو اسے بے روزگار تصور کیا جاتا ہے۔ اس لیے جن بیچاروں کو فی ہفتہ ایک گھنٹے کا کام مل جائے تو ان کا شمار نہیں کیا جاتا ۔ اس معاملے کو ہفتے میں ایک دن کردیا جائے تو یہ عدد نہ جانے کہاں پہنچ جائے گا؟ لیکن اس پیمانے کے مطابق 15؍ سال یا اس سے زیادہ عمر کے افراد میں مجموعی بے روزگاری کی شرح بھی 4.8؍ فیصد سے بڑھ کر 5؍ فیصد ہو گئی۔معاشی ماہرین نے اس اضافے کی ذمہ داری بیروزگار نوجوانوں پر ڈال دی ۔ وہ کہتے ہیں کہ ان مہارتوں کی کمی روزگار کے بحران کی ایک بنیادی وجہ ہے۔ سوال یہ ہے اپنے نوجوانوں میں مہارت پیدا کرنے کی ترغیب دینا کس کا کام ہے۔ وہ سرکار جو کانوڈیوں پر پھول برسا کر انہیں سڑکوں پر موج مستی میں مبتلا کردیتی ہے اور ان کے ووٹ سے اقتدار میں رہنے کا خواب دیکھتی ہے کیا اس کی کوئی ذمہ داری نہیں ہے۔ ان کو مختلف تہواروں میں مدہوش رکھنا، منشیات کا عادی بنانا جس حکومت کی اولین ترجیح ہو اس ملک کے نوجوان میں مہارت کہاں سے آئے گی؟
فی الحال امیر کبیر اور سرکار دربار کے لوگ اپنے بچوں کو بیرونِ ملک تعلیم کے لیے بھیج دیتے ہیں اور غریبوں کو غیر پیداواری کاموں میں مصروف کردیا گیا۔ 92؍ ہزار سے زیادہ اسکولوں کو بند کیا جاچکا ہے۔ جو سرکاری اسکول چل رہے ہیں ان میں سہولیات کا فقدان ہے۔ اس کے جین الفا کو میدان میں آنے پر مجبور ہونا پڑ رہا ہے۔ ایسے میں مصنوعی ذہانت، خاص طور پر جین اے آئی، اور عالمی جغرافیائی کشیدگی کی آڑ میں نئی ملازمتوں کے فقدان کا بہانہ بنانا شرمناک ہے۔ موجودہ حکومت کے پاس کمبھ میلے پر خرچ کرنے کے لیے ہزاروں کروڈ ہیں کیونکہ اس میں جی بھر کے بدعنوانی ہوتی ہے مگر نوجوانوں کی مہارت بڑھانے کے نہ سرمایہ ہے اور نہ دلچسپی ہی ہے۔ ان کی ساری تگ و دو اقتدار میں آنے اور اس سے چپکے رہنے تک محدود ہے مگر اس کی قیمت ملک کے نوجوان چکا رہے ہیں۔یہ لوگ اپنی ناکامی کو چھپانے کے لیے ظلم و جبر کا گھناونا کھیل رہے ہیں پہلے اس کا شکار صرف مسلما ن ہوتے تھے اب ہر کوئی اس چکی میں پسنے لگا ہے۔

By Maqsood

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے