امریکہ میں بوڑھے افراد ریٹائر کیوں نہیں ہو پاتے؟ مغرب کی چکا چوند میں بوڑھے حضرات کیسے زندگی گزارتے ہیں

امریکہ میں بوڑھے افراد ریٹائر کیوں نہیں ہو پاتے؟ مغرب کی چکا چوند میں بوڑھے حضرات کیسے زندگی گزارتے ہیں

امریکہ میں بوڑھے افراد ریٹائر کیوں نہیں ہو پاتے؟ مغرب کی چکا چوند میں بوڑھے حضرات کیسے زندگی گزارتے ہیں

ازقلم:شیخ سلیم،ممبئی

امریکہ دنیا کے امیر ترین ممالک میں شمار ہوتا ہے، لیکن اس کے باوجود وہاں ایسے افراد کی تعداد قابلِ ذکر ہے جو ستر، اسی بلکہ بعض اوقات نوے سال کی عمر میں بھی کام کرتے نظر آتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ نہیں کہ امریکی قانون انہیں ریٹائر ہونے کی اجازت نہیں دیتا، بلکہ اصل مسئلہ اکثر مالی استطاعت کا ہوتا ہے۔ امریکہ میں ریٹائرمنٹ کا نظام بنیادی طور پر تین ستونوں پر قائم ہے، یعنی سوشل سیکیورٹی، ریٹائرمنٹ سیونگز یا پنشن، اور ذاتی اثاثے۔ اگر کسی شخص کے پاس ان میں سے ایک یا زیادہ ذرائع ناکافی ہوں تو ریٹائرمنٹ مشکل ہو سکتی ہے۔

کتنے امریکیوں کے پاس ریٹائرڈ لائف کے لئے مناسب بچت نہیں ہے؟

امریکی گورنمنٹ اکاؤنٹیبلٹی آفس یعنی جی اے او کے مطابق دو ہزار بائیس میں پچپن سال یا اس سے زیادہ عمر کے کارکن والے تقریباً نصف امریکی گھرانوں کے پاس کوئی ریٹائرمنٹ سیونگ نہیں تھی۔ مزید اہم بات یہ ہے کہ تقریباً بتیس فیصد گھرانوں کے پاس نہ ریٹائرمنٹ سیونگ تھی اور نہ ہی روایتی ڈیفائنڈ بینیفٹ پنشن۔ یعنی یہ تصور درست نہیں کہ ہر امریکی ملازم کے پاس ریٹائرمنٹ کے لیے لاکھوں ڈالر جمع ہوتے ہیں۔ کم آمدنی والے لوگوں کی صورتحال اس سے بھی زیادہ خراب ہے۔ بہت سے کم آمدنی والے امریکی اپنی ملازمت کے دوران فور او ون کے، آئی آر اے یا دیگر ریٹائرمنٹ اکاؤنٹس میں خاطر خواہ رقم جمع نہیں کر پاتے۔

پھر بوڑھے لوگوں کا گزارا کیسے ہوتا ہے؟
امریکہ میں سب سے اہم سہارا سوشل سیکیورٹیSocial security ہے۔ دسمبر دو ہزار پچیس میں تقریباً چون اعشاریہ چھ ملین ریٹائرڈ ورکرز سوشل سیکیورٹی سے فائدہ حاصل کر رہے تھے، اور ایک ریٹائرڈ ورکر کا اوسط ماہانہ فائدہ یا پینشن تقریباً دو ہزار اکہتر ڈالر تھا، یعنی تقریباً چوبیس ہزار آٹھ سو باون ڈالر سالانہ۔ لیکن یہ رقم ہر شخص کے لیے یکساں نہیں ہوتی۔ سوشل سیکیورٹی کا فائدہ بنیادی طور پر اس شخص کی سابقہ آمدنی اور اس کے کام کے ریکارڈ پر منحصر ہوتا ہے۔ لہٰذا کم آمدنی والے شخص کے لیے سوشل سیکیورٹی بہت کم ہو سکتی ہے۔

کیا ہر بوڑھے شخص کو سوشل سیکیورٹی ملتی ہے؟

نہیں۔ اپنی ریٹائرمنٹ سوشل سیکیورٹی حاصل کرنے کے لیے عام طور پر کم از کم چالیس40 سوشل سیکیورٹی کریڈٹس درکار ہوتے ہیں، جو تقریباً دس سال کی کورڈ ایمپلائمنٹ کے برابر ہیں۔ اسی لیے وہ شخص جو امریکہ میں صرف چند سال کام کرتا ہے، ضروری نہیں کہ اپنی ریٹائرمنٹ سوشل سیکیورٹی حاصل کرنے کا اہل ہو۔ یہ بات خاص طور پر ان تارکینِ وطن کے لیے اہم ہے جو زندگی کے نسبتاً آخری حصے میں امریکہ آتے ہیں۔

اگر کسی بزرگ کے پاس سوشل سیکیورٹی بھی نہ ہو تو؟

یہ صورتحال بہت مشکل ہو سکتی ہے۔ ایسے انتہائی کم آمدنی والے بزرگ کے لیے امریکہ میں سپلیمنٹل سیکیورٹی انکم یعنی ایس ایس آئی، میڈیکیڈ، سنیپ اور بعض اوقات سبسڈائزڈ ہاؤسنگ جیسے پروگرام موجود ہیں۔ لیکن یہ مکمل ریٹائرمنٹ پنشن نہیں ہیں بلکہ بنیادی ضروریات پوری کرنے کے لیے میینز ٹیسٹڈ سیفٹی نیٹ ہیں۔ مثلاً دو ہزار پچیس میں وفاقی ایس ایس آئی کی زیادہ سے زیادہ رقم ایک فرد کے لیے نو سو سڑسٹھ ڈالر ماہانہ تھی، یعنی گیارہ ہزار چھ سو چار ڈالر سالانہ۔ اور ایس ایس آئی کے لیے اثاثوں کی عمومی حد ایک فرد کے لیے دو ہزار ڈالر اور شادی شدہ جوڑے کے لیے تین ہزار ڈالر ہے۔ اس لیے یہ کہنا درست نہیں کہ امریکہ میں اگر کسی بزرگ کے پاس کوئی پیسہ نہیں تو حکومت اسے آرام دہ ریٹائرمنٹ فراہم کرتی ہے۔ حکومتی نظام بنیادی ضروریات میں مدد کرتا ہے، لیکن مڈل کلاس زندگی کی ضمانت نہیں دیتا۔

امریکہ میں کتنے بزرگ غربت میں ہیں؟
یو ایس سینسس بیورو کے مطابق دو ہزار اکیس میں تقریباً چار اعشاریہ سات ملین امریکی، جن کی عمر پینسٹھ سال یا اس سے زیادہ تھی، آفیشل پاورٹی لائن سے نیچے زندگی گزار رہے تھے۔ یہ تقریباً پینسٹھ برس سے زائد آبادی کا آٹھ 8 فیصد تھا۔ اور سوشل سیکیورٹی کی اہمیت اس بات سے ظاہر ہوتی ہے کہ سینسس کے مطابق دو ہزار چوبیس میں سوشل سیکیورٹی نے تقریباً اٹھائیس اعشاریہ سات ملین امریکیوں کو سپلیمنٹل پاورٹی میژر کے تحت غربت سے باہر رکھا۔ یعنی اگر سوشل سیکیورٹی نہ ہو تو بزرگوں میں غربت کہیں زیادہ ہوتی۔

پھر اسی سال کے لوگ کام کیوں کرتے ہیں؟

یہاں ایک اہم فرق سمجھنا ضروری ہے۔ ہر اسی سالہ کام کرنے والا شخص مجبور نہیں ہوتا۔ کچھ لوگ اپنی مرضی سے کام کرتے ہیں، کیونکہ انہیں کام پسند ہے، وہ سماجی رابطہ برقرار رکھنا چاہتے ہیں، انہیں اپنے پیشے سے وابستگی ہے، یا وہ مزید آمدنی چاہتے ہیں۔ لیکن کچھ لوگ واقعی مالی مجبوری کی وجہ سے کام جاری رکھتے ہیں۔ اگر کسی شخص کے پاس ریٹائرمنٹ سیونگز نہیں، پنشن نہیں، گھر اپنا نہیں، کرایہ یا مارگیج ادا کرنا ہے، میڈیکل اخراجات ہیں، اور سوشل سیکیورٹی بہت کم ہے، تو پینسٹھ یا ستر سال کی عمر میں کام چھوڑنا عملی طور پر بہت مشکل ہو سکتا ہے۔ اس لیے یہ کہنا زیادہ درست ہے کہ امریکہ میں اسی سال کے شخص کو قانوناً کام کرنے پر مجبور نہیں کیا جاتا، لیکن بعض افراد کی مالی حالت اور معاشی مجبوری انہیں کام چھوڑنے کی اجازت نہیں دیتی۔

بھارتی ایچ ون بی اور گرین کارڈ رکھنے والے افراد کی صورتحال

اب سوال یہ ہے کہ اگر ایک بھارتی شخص ایچ ون بی ویزا پر امریکہ جاتا ہے اور بعد میں گرین کارڈ حاصل کرتا ہے تو بڑھاپے میں اسے کیا ملے گا۔ یہاں نیشنلٹی سے زیادہ اہم چیز اس کا امیگریشن اسٹیٹس اور کام کا ریکارڈ ہے۔

ایچ ون بی پر کام کرنے والا بھارتی شخص

اگر ایک بھارتی انجینئر یا آئی ٹی پروفیشنل امریکہ میں قانونی طور پر کام کرتا ہے تو اس کی تنخواہ سے سوشل سیکیورٹی اور میڈیکیئر ٹیکسز کٹ سکتے ہیں۔ اگر اس نے کافی عرصہ کورڈ ایمپلائمنٹ میں کام کیا اور ضروری چالیس 40 کریڈٹس حاصل کر لیے تو وہ اپنی ریٹائرمنٹ سوشل سیکیورٹی کا اہل ہو سکتا ہے۔ یعنی انڈین اور ایچ ون بی ہونا سوشل سیکیورٹی حاصل کرنے میں بذاتِ خود رکاوٹ نہیں ہے۔ اہم چیز یہ ہے کہ اس نے کتنے کوالیفائنگ کریڈٹس حاصل کیے اور اس کی ارننگز ہسٹری کیا رہی۔
مثال کے طور پر فرض کریں ایک بھارتی شخص چالیس سال کی عمر میں امریکہ آتا ہے، ایچ ون بی پر کام شروع کرتا ہے، سالانہ ایک لاکھ پچاس ہزار ڈالر کماتا ہے، سوشل سیکیورٹی ٹیکسز ادا کرتا ہے، بعد میں گرین کارڈ حاصل کرتا ہے، اور ستر سال تک کام کرتا ہے۔ اگر اس کے پاس مطلوبہ کریڈٹس اور کوالیفائنگ ورک ہسٹری ہے تو وہ ریٹائرمنٹ سوشل سیکیورٹی کا اہل ہو سکتا ہے۔ اس کا فائدہ اس کی ارننگز ہسٹری کے مطابق ہوگا۔ لیکن اگر کوئی شخص پچپن سال کی عمر میں امریکہ آتا ہے اور صرف پانچ سے سات سال کام کرتا ہے، تو اس کے لیے صورتحال بالکل مختلف ہو سکتی ہے۔ وہ اپنے نام پر ریٹائرمنٹ سوشل سیکیورٹی کے لیے ضروری کریڈٹس مکمل نہ کر پائے۔

گرین کارڈ ملنے کے بعد کیا ہر قسم کی سرکاری امداد مل جاتی ہے؟
نہیں۔ گرین کارڈ امریکی سٹیزن شپ کے برابر نہیں ہے۔ سوشل سیکیورٹی ایک ارنڈ بینیفٹ ہے، جبکہ ایس ایس آئی ایک میینز ٹیسٹڈ ویلفیئر پروگرام ہے اور اس کے لیے اضافی اہلیت کی شرائط ہیں۔ گرین کارڈ ہولڈر کو ایس ایس آئی خود بخود نہیں ملتا۔ امیگریشن اسٹیٹس، امریکہ میں رہنے کی مدت، کوالیفائنگ کوارٹرز، آمدنی اور اثاثے وغیرہ اہم ہوتے ہیں۔ اسی طرح میڈیکیڈ، سنیپ اور ہاؤسنگ اسسٹنس کے بھی اپنے الگ اہلیت کے قواعد ہیں۔

اگر بھارتی شخص کے پاس نہ بچت ہو نہ سوشل سیکیورٹی؟

یہ سب سے مشکل صورتحال ہے۔ فرض کریں ایک بھارتی امیگرنٹ ستر سال کا ہو چکا ہے اور اس کے پاس ریٹائرمنٹ سیونگز نہیں، پنشن نہیں، سوشل سیکیورٹی کے لیے کافی ورک کریڈٹس نہیں، آمدنی نہیں، اور خاندان بھی مالی مدد نہیں کر سکتا۔ تو اسے امریکی حکومت سے خود بخود کوئی بڑی ریٹائرمنٹ پنشن نہیں ملتی۔ وہ اپنی امیگریشن اسٹیٹس اور مالی حالات کے مطابق ایس ایس آئی، میڈیکیڈ، سنیپ، سبسڈائزڈ ہاؤسنگ اور دیگر میینز ٹیسٹڈ پروگراموں کے لیے اہل ہو سکتا ہے، لیکن یہ سب الگ الگ اہلیت کے قواعد کے تابع ہیں۔ اگر وہ ان پروگراموں کے لیے بھی اہل نہ ہو تو اسے خاندان، خیراتی اداروں، کمیونٹی تنظیموں یا اپنی باقی آمدنی اور اثاثوں پر انحصار کرنا پڑ سکتا ہے۔ انتہائی خراب حالات میں بزرگ افراد ہاؤسنگ کی عدم تحفظ یا راستے پر رہنے پر مجبور ہو سکتے ہیں امریکا میں بڑی تعداد ہوم لیس ہے راستے پر رہنے پر مجبور ہے۔

اصل مسئلہ کیا ہے؟
امریکہ میں مسئلہ یہ نہیں کہ حکومت بزرگوں کو ریٹائر ہونے نہیں دیتی۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ امریکی ریٹائرمنٹ سسٹم میں سوشل سیکیورٹی بنیادی سہارا ہے، لیکن یہ ہر شخص کو اس کی سابقہ زندگی کے معیار کے مطابق مکمل آمدنی فراہم نہیں کرتی۔ ایک شخص کی صورتحال یوں سمجھی جا سکتی ہے۔ اچھی آمدنی، فور او ون کے یا آئی آر اے، اپنا گھر اور سوشل سیکیورٹی ملا کر نسبتاً آرام دہ ریٹائرمنٹ بنتی ہے۔ جبکہ کم آمدنی، کوئی سیونگز نہ ہونا، کرایہ، اور کم سوشل سیکیورٹی مل کر مشکل ریٹائرمنٹ کی صورت بنتی ہے۔ اور جہاں کوئی سیونگز نہیں، کوئی سوشل سیکیورٹی نہیں، اور خاندان کی مدد بھی نہیں، وہاں شدید مالی مشکلات اور ویلفیئر پروگراموں پر انحصار کا خطرہ پیدا ہو جاتا ہے۔
یعنی امریکہ ایک انتہائی دولت مند ملک ہے، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہر امریکی بزرگ دولت مند ہے۔ امریکہ میں ریٹائرمنٹ کا سب سے بڑا فرق ملک کی دولت اور فرد کی اپنی مالی حالت کیسی ہے اس پر منحصر ہے۔ ایک طرف کروڑوں ڈالر کے ریٹائرمنٹ اکاؤنٹس رکھنے والے لوگ ہیں، جبکہ دوسری طرف ایسے بزرگ بھی ہیں جن کے پاس چند ہزار ڈالر بھی نہیں۔ اسی لیے ستر، اسی یا اس سے زیادہ عمر کے کچھ امریکی کام کرتے نظر آتے ہیں۔ اور بھارتی ایچ ون بی یا گرین کارڈ امیگرنٹ کے لیے بھی بنیادی اصول یہی ہے کہ جو شخص امریکہ میں کافی عرصہ قانونی طور پر کام کرتا ہے اور سوشل سیکیورٹی ٹیکسز ادا کرتے ہوئے مطلوبہ کریڈٹس حاصل کر لیتا ہے، وہ ریٹائرمنٹ سوشل سیکیورٹی کا مستحق ہو سکتا ہے۔ لیکن صرف ایچ ون بی یا گرین کارڈ رکھنے سے ایک شخص کو خود بخود مکمل پنشن یا ویلفیئر بینیفٹس نہیں مل جاتے۔
لہٰذا امریکی معاشی نظام کو سمجھنے کے لیے سب سے اہم فرق یہ ہے کہ سوشل سیکیورٹی ایک ارنڈ Earned ریٹائرمنٹ بینیفٹ ہے، یعنی جوانی میں آپ کام کرتے ہیں پیسہ حکومت کو ٹیکس کی صورت میں دیتے ہیں وہی پیسوں سے امریکی حکومت عوام کی فلاح کا بھی کام کرتی ہے اور اپنی عوام کو اس وقت پیسوں سے مدد کرتی ہے جب وہ کام کے لائق نہیں رہ جاتے اُنہیں کچھ نہ کچھ پیسے ماہانہ دیے جاتے ہیں ۔ اس کے برعکس آپ بھارت کی ٹیکس کی پالیسی دیکھیے آپ زندگی بھر ٹیکس دیتے رہیں مگر اگر آپ بوڑھے ہو جائیں کام کرنے کے لائق نہیں رہیں تو سرکار آپ کو آپ کے ٹیکس سے پیسے سے کچھ بھی واپس نہیں کریگی بھارت میں سبھی حزب اختلاف کی جماعتوں کو حکومت سے اس کی مانگ کرنی چاہیے کہ جو لوگ خاص طور پر نوکری پیشہ افراد تو ایمانداری سے اپنا ٹیکس جو 20 سے 30 فیصد آپ کی آمدنی سے کاٹ لیا جاتا ہے وہ آپ کے بڑھاپے میں سرکار آپ کو پنشن یا کسی اور اسکیم کے تحت دے کیونکہ بھارت دستور ہند کے مطابق ایک فلاحی ریاست ہے ۔اُمید ہے سبھی سیاسی جماعتیں اس ڈیمانڈ پر غور کریں گی۔

امریکا میں ایس ایس آئی انتہائی کم آمدنی والے اہل افراد کے لیے میینز ٹیسٹڈ اسسٹنس ہے، میڈیکیئر اور میڈیکیڈ ہیلتھ کیئر پروگرام ہیں، اور سنیپ اور ہاؤسنگ اسسٹنس مخصوص اہلیت کے تحت بنیادی ضروریات میں مدد فراہم کرتے ہیں۔ یہ تمام پروگرام مل کر ایک سیفٹی نیٹ بناتے ہیں، لیکن ہر بزرگ کو آرام دہ ریٹائرمنٹ کی ضمانت نہیں دیتے۔

#RetirementCrisis, #SeniorPoverty, #SilverTsunami, #401kFiasco, #SocialSecurity, #AgingInAmerica, #CostOfLiving, #Unretired, #RetirementCrisis

By Maqsood

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے