عبدالعزیز: صحافت، فکر اور سماجی شعور کا ایک معتبر نام

عبدالعزیز: صحافت، فکر اور سماجی شعور کا ایک معتبر نام

عبدالعزیز: صحافت، فکر اور سماجی شعور کا ایک معتبر نام

ازقلم:نوراللہ جاوید

معروف انگریزی ویب سائٹ ’ای نیوز روم‘ (eNewsroom) کی اس اہم علمی تقریب میں ہم جمع ہیں، جہاں مہاتما گاندھی کی صحافتی خدمات کی روشنی میں معاصر ہندستانی صحافت کو معروضیت اور اخلاقی اقدار کی راہ دکھانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اسی موقع پر ’این ڈی شرما میموریل لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ‘ کے لیے ایک ایسی شخصیت کا انتخاب کیا گیا ہے جنہوں نے اپنی زندگی کا ایک طویل حصہ قلم، فکر، سماجی شعور اور انسانی خدمت کے لیے وقف کیا۔ میں بات کر رہا ہوں اردو روزنامہ ’اقرا‘کے سابق مدیر، بزرگ صحافی، صاحبِ فکر قلم کار اور سماجی کارکن جناب عبدالعزیز صاحب کی۔
کسی صحافی کی خدمات کا جائزہ صرف اس بنیاد پر نہیں لیا جا سکتا کہ اس نے کتنی خبریں لکھیں، کتنے اداریے تحریر کیے یا کتنے برس کسی اخبار کی ادارت کی۔ اصل سوال یہ ہے کہ اس کے قلم نے اپنے عہد کے ذہن و ضمیر کو کس حد تک متاثر کیا، سماج کو سوچنے پر کتنا آمادہ کیا اور عوامی مسائل کو کتنی سنجیدگی سے موضوعِ بحث بنایا۔اسی پیمانے پر عبدالعزیز صاحب کی صحافت کو دیکھنا چاہیے۔
اردو صحافت کی تاریخ محض اخبارات، مدیران اور صحافتی اداروں کی تاریخ نہیں ہے بلکہ یہ زبان، تہذیب، سماجی اصلاح، سیاسی بیداری اور عوامی جدوجہد کی تاریخ بھی ہے۔ اردو صحافت نے مختلف ادوار میں اپنے قارئین کو حالات سے باخبر کرنے کے ساتھ ساتھ انہیں اپنے گرد و پیش کو سمجھنے اور اس پر غور کرنے کی دعوت بھی دی ہے۔
مغربی بنگال، بالخصوص کلکتہ کو اردو صحافت کی تاریخ میں ایک نمایاں مقام حاصل ہے۔ اردو کا اوّلین اخبار ’’جامِ جہاں نما‘‘ اسی شہر سے شائع ہوا۔ مولانا ابوالکلام آزاد نے بھی کلکتہ سے ’’الہلال‘‘ اور ’’البلاغ‘‘ جاری کرکے اردو صحافت کو ایک نئ فکری اور سیاسی جہت عطا کی۔ ان اخبارات کے ذریعے انہوں نے برطانوی استعمار کے خلاف آواز بلند کی اور مسلمانوں کو تحریکِ آزادی میں حصہ لینے کے لیے فکری اور نظریاتی طور پر آمادہ کیا۔ ان کی صحافت نے آزادی کے سوال کو محض سیاسی اقتدار کی تبدیلی تک محدود نہیں رکھا بلکہ اسے اصول، خودداری اور انسانی آزادی کے وسیع تر تناظر میں پیش کیا۔
اسی طرح عبدالرزاق ملیح آبادی اور ان کے صاحبزادے احمد سعید ملیح آبادی نے بھی بنگال کی اردو صحافت کی روایت کو آگے بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا۔ ان بزرگوں کی صحافتی بصیرت اور فکری خدمات نے بعد کی نسلوں کے لیے راستے ہموار کیے۔ اسی تاریخی اور فکری روایت میں عبدالعزیز صاحب کا نام بھی احترام کے ساتھ لیا جاتا ہے۔
عبدالعزیز صاحب کی صحافت کی ایک اہم خصوصیت یہ ہے کہ ان کے نزدیک صحافت محض واقعات کی اطلاع دینے کا نام نہیں بلکہ واقعات کے پس منظر کو سمجھنے، ان کے سماجی اثرات کا جائزہ لینے اور قاری کو غور و فکر کی دعوت دینے کا ذریعہ بھی ہے۔ان کی تحریروں کا دائرہ بین الاقوامی سیاست سے لے کر روزمرہ زندگی کے سماجی، مذہبی اور تہذیبی مسائل تک پھیلا ہوا ہے۔ ہجرت کا المیہ ہو، روس اور امریکہ کی عالمی کشمکش ہو یا لباس، پردے، پولیس اور فلمی دنیا سے وابستہ موضوعات، وہ ان معاملات کو محض سرسری انداز میں نہیں دیکھتے بلکہ ان کے پیچھے موجود سماجی رویوں، تہذیبی تصورات اور انسانی مسائل کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔
ان کی تحریروں میں دلیل کی اہمیت ہے، سماجی حقائق سے مکالمہ ہے اور انسانی شرف کا احساس بھی۔ وہ اختلافِ رائے کو محض رد کرنے کے بجائے اسے سمجھنے اور اس پر غور کرنے کی ضرورت محسوس کرتے ہیں۔
عبدالعزیز صاحب کی شخصیت کا ایک اہم پہلو تحریکِ اسلامی سے ان کی فکری وابستگی ہے۔ تاہم ان کی صحافت کو سمجھنے کے لیے یہ دیکھنا ضروری ہے کہ اس نظریاتی وابستگی کے باوجود ان کے ہاں مطالعے، مشاہدے، تجزیے اور مکالمے کی گنجائش موجود ہے۔وہ مسائل کا حل اپنے فکری زاویۂ نظر سے پیش کرتے ہیں، لیکن مختلف نظریات اور نقطۂ ہائے نظر کو سمجھنے کی کوشش بھی کرتے ہیں۔ یہی رویہ صحافت کو محض نظریاتی ترجمانی بننے سے بچاتا اور اسے سنجیدہ فکری مکالمے کا وسیلہ بناتا ہے۔
صحافت میں نظریہ رکھنا کوئی عیب نہیں ہے۔ اصل اہمیت اس بات کی ہے کہ نظریہ حقائق کو سمجھنے میں مدد دے، نہ کہ ان پر پردہ ڈالنے کا ذریعہ بنے۔ صحافی کی ذمہ داری یہ بھی ہے کہ وہ اپنے پسندیدہ مؤقف کے ساتھ ساتھ ان سوالات کا سامنا کرنے کا حوصلہ رکھے جو اس کے اپنے نقطۂ نظر پر اٹھتے ہیں۔ عبدالعزیز صاحب کی صحافت میں ہمیں اسی فکری توازن اور مکالمے کی اہمیت کا احساس ہوتا ہے۔
عبدالعزیز صاحب نے اردو صحافت کے ایسے دور میں کام کیا جب اس پر مختلف فکری تحریکوں کے اثرات نمایاں تھے۔ ترقی پسند فکر نے عام انسانوں، محنت کشوں اور سماجی مسائل کو ادب اور صحافت میں جگہ دینے کی روایت کو تقویت پہنچائی، لیکن وقت کے ساتھ بازار کے دباؤ، قارئین کی توجہ حاصل کرنے کی دوڑ اور جذباتی نعروں کے ذریعے مقبولیت حاصل کرنے کے رجحانات نے صحافت کے سامنے نئے چیلنج بھی کھڑے کیے۔ ایسے ماحول میں صحافت کو عوامی مسائل سے وابستہ رکھنا، مگر اسے سطحی جذباتیت سے بچانا، ایک اہم ذمہ داری بن جاتا ہے۔
عبدالعزیز صاحب کی صحافتی فکر میں یہ کوشش نمایاں دکھائی دیتی ہے کہ صحافت محض اپنی مقبولیت کے لیے نہیں، بلکہ انسانوں اور سماج کی خدمت کے لیے بھی کام کرے۔ ان کے نزدیک صحافت کا مقصد قاری کو صرف کسی واقعے پر مشتعل کرنا نہیں بلکہ اسے اس واقعے کے اسباب، نتائج اور سماجی معنویت پر غور کرنے کے قابل بنانا بھی ہے۔
علامہ اقبال نے کہا تھا:
نہیں ہے ناامید اقبال اپنی کشتِ ویراں سے – ذرا نم ہو تو یہ مٹی بہت زرخیز ہے ساقی
یہ شعر ہمیں یاد دلاتا ہے کہ فکری اور سماجی تعمیر کے امکانات کبھی ختم نہیں ہوتے۔ ضرورت ایسے قلم کاروں کی ہے جو معاشرے کی صلاحیتوں پر اعتماد رکھتے ہوں اور اپنی تحریروں سے سوچنے، سمجھنے اور اصلاح کی راہیں پیدا کریں۔
عبدالعزیز صاحب کی شخصیت کا تعارف صرف ان کی صحافت تک محدود نہیں۔ وہ صحافی ہونے کے ساتھ تحریکِ اسلامی کے کارکن اور سماجی سرگرمیوں سے وابستہ ایک فعال فرد بھی رہے ہیں۔ ان کے تجربات اور مشاہدات نے ان کے قلم کو وسعت دی، جبکہ سماج سے ان کا تعلق انہیں عام لوگوں کے مسائل اور فکری ضرورتوں سے جوڑے رکھتا ہے۔کسی بھی صحافی کے لیے یہ تعلق اہم ہوتا ہے، کیونکہ سماج سے دور رہ کر سماج کی ترجمانی کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ عوام کے درمیان رہنا، ان کے مسائل کو سمجھنا اور ان کے سوالات کو اپنی تحریر کا حصہ بنانا ہی صحافت کو زندگی سے قریب رکھتا ہے۔
آج جب صحافت کے سامنے رفتار، مقبولیت، معاشی دباؤ اور بدلتے ہوئے ذرائع ابلاغ کے متعدد چیلنجز ہیں، عبدالعزیز صاحب جیسے بزرگ صحافیوں کے تجربات سے یہ سبق لیا جا سکتا ہے کہ صحافت کی اصل قوت اس کی فکری دیانت، سماجی ذمہ داری اور قاری کے ساتھ اعتماد کے رشتے میں پوشیدہ ہے۔
آخر میں میں یہی عرض کروں گا کہ آج کا یہ اعزاز صرف ایک فرد کی طویل صحافتی زندگی کا اعتراف نہیں بلکہ اس صحافتی روایت کا احترام بھی ہے جو قلم کو سماج کی تعمیر، فکر کی بیداری اور انسانی خدمت کا ذریعہ سمجھتی ہے۔
جناب عبدالعزیز صاحب کو اس اعزاز پر دلی مبارک باد پیش کرتا ہوں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ انہیں صحت و عافیت عطا فرمائے، مزید خدمت کی توفیق دے اور ان کے تجربات نئ نسل کے صحافیوں کے لیے رہنمائی کا ذریعہ بنیں۔بہت شکریہ!

By Maqsood

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے