دہلی،6اکٹوبر(ایجنسیز) پہلی بار ووٹر بننے کے لیے استعمال ہونے والے فام-6 (Form-6) میں کی گئی تبدیلیوں پر سپریم کورٹ نے سخت ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔عدالتی منظوری کی تردید: چیف جسٹس آف انڈیا (CJI) سوریہ کانت نے واضح طور پر کہا ہے کہ سپریم کورٹ نے فام-6 میں کسی بھی قسم کی تبدیلی کو کوئی منظوری نہیں دی ہے۔
چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف قانونی کارروائی کی استدعا کرنے والی ایک درخواست کی سماعت کے دوران، پیر کو چیف جسٹس آف انڈیا (سی جے آئی) نے واضح کیا کہ سپریم کورٹ نے ‘خصوصی تفصیلی نظرثانی’ (SIR) کے عمل کے دوران انتخابی فہرستوں میں نام شامل کرنے کے لیے استعمال ہونے والے ‘فارم 6’ کے کسی بھی ترمیم شدہ ورژن کی منظوری نہیں دی ہے۔
سی جے آئی کا یہ بیان اس لیے اہمیت کا حامل ہے کیونکہ الیکشن کمیشن آف انڈیا نے گزشتہ ہفتے دعویٰ کیا تھا کہ کچھ ریاستوں میں جاری SIR عمل کے لیے آن لائن ‘فارم 6’ کے ساتھ منسلک نئے حلف نامے (ڈیکلریشن) کو سپریم کورٹ نے منظور کر لیا ہے۔
تبدیلی کی جانچ کا حکم: چیف جسٹس نے کہا کہ الیکشن کمیشن کی جانب سے پیش کی جانے والی رپورٹ میں اس بات کا باریک بینی سے جائزہ لیا جائے گا کہ آخر یہ تبدیلی کس نے اور کس کے کہنے پر کی تھی درخواستوں پر سماعت: سپریم کورٹ میں چیف جسٹس کی سربراہی والی تین رکنی بنچ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے اختیارات اور فیصلوں کو چیلنج کرنے والی عرضیوں پر سماعت کر رہی تھی۔
عرضی گزاروں کا مؤقف: عرضی گزاروں کے وکلاء نے عدالت میں دلیل دی کہ الیکشن کمیشن نے اپنے آن لائن پورٹل پر فام-6 میں کچھ ایسی تبدیلیاں شامل کی ہیں، جنہیں کوئی قانونی منظوری حاصل نہیں تھی۔