دہلی میں خوف کی فضا! مظاہرے سے پہلے اضطراب کیوں؟

دہلی میں خوف کی فضا!           مظاہرے سے پہلے اضطراب کیوں؟

دہلی میں خوف کی فضا!
مظاہرے سے پہلے اضطراب کیوں؟

✍️ افتخار احمد قادری

دہلی کی فضاؤں میں آج کل ایک عجیب قسم کی بے چینی و اضطراب اور اندیشوں کی گرد چھائی ہوئی ہے۔ شہر کے تعلیمی اداروں سے لے کر مذہبی مقامات تک، اسکولوں، کالجوں، یونیورسٹیوں، مختلف انسٹیٹیوٹس اور سماجی اداروں سے لے کر مندر، مسجد اور گرودوارے جیسی عبادت گاہوں تک کسی نہ کسی صورت میں یہ پیغام پہنچانے کی کوشش کی گئی ہے کہ 10 اکتوبر کو ہونے والے مظاہرے میں کسی بھی حال میں شرکت نہ کی جائے۔ بظاہر یہ ایک انتظامی ہدایت یا احتیاطی تدبیر دکھائی دیتی ہے لیکن آخر وہ کون سا خوف ہے جس نے پورے شہر کو اس قدر اپنی گرفت میں لے لیا کہ ایک احتجاج کے امکان نے دہلی کے ماحول کو اضطراب زدہ بنا دیا ہے؟ کیا مظاہرین کو شرکت سے روک دینا کافی نہیں تھا یا صورتِ حال کو اس نہج تک پہنچانا بھی ضروری سمجھا گیا کہ عام شہریوں کے ذہنوں میں بھی اندیشوں کے سائے گہرے ہو جائیں؟ جمہوریت میں احتجاج کوئی نئی چیز نہیں نہ ہی اختلافِ رائے کوئی ناقابلِ برداشت جرم ہے۔ جمہوری نظام کی اصل روح ہی یہ ہے کہ شہری اپنے مطالبات، شکایات اور تحفظات کو پُرامن طریقے سے اربابِ اقتدار تک پہنچا سکیں۔ اگر کسی معاملے پر عوام کے ایک طبقے کو اعتراض ہے اگر کسی فیصلے کے خلاف آوازیں بلند ہو رہی ہیں، کسی آئینی منصب یا سرکاری پالیسی کے تعلق سے سوالات اٹھائے جا رہے ہیں تو ان سوالات کا جواب دلیل شفافیت اور آئینی طرزِ عمل کے ذریعے دیا جانا چاہیے۔ محض خوف کی فضا پیدا کرکے، شرکت سے باز رہنے کی ہدایات دے کر یا ممکنہ احتجاج کو ایک غیر معمولی خطرے کے طور پر پیش کرکے عوامی بے چینی کو ختم نہیں کیا جا سکتا۔ اس کے برعکس بعض اوقات ایسی تدابیر خود ان سوالات کو مزید تقویت فراہم کرتی ہیں جنہیں دبانے کی کوشش کی جا رہی ہوتی ہے۔
دہلی ملک کا دارالحکومت ہے یہاں ہونے والی سیاسی سرگرمیوں کا اثر صرف شہر کی حدود تک محدود نہیں رہتا بلکہ اس کی بازگشت پورے ملک میں سنائی دیتی ہے۔ ایسے میں کسی بھی احتجاج کے تعلق سے انتظامیہ کی ذمہ داری یقیناً بڑھ جاتی ہے۔ امن و امان برقرار رکھنا، شہریوں کی جان و مال کی حفاظت کرنا اور کسی بھی ناخوش گوار صورتِ حال کو روکنا حکومت اور انتظامیہ کے بنیادی فرائض میں شامل ہے۔ لیکن ان ذمہ داریوں کی ادائیگی اور پورے ماحول کو خوف زدہ کر دینے کے درمیان ایک واضح فرق موجود ہے۔ احتیاط کا تقاضا یہ ہے کہ خطرات کا حقیقت پسندانہ جائزہ لیا جائے شہریوں کو مستند معلومات فراہم کی جائیں اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے امن قائم رکھنے کے انتظامات کیے جائیں۔ اس کے برعکس اگر لوگوں کے ذہنوں میں غیر یقینی کیفیت اس حد تک پیدا ہو جائے کہ وہ معمولاتِ زندگی کے بارے میں بھی متردد ہونے لگیں تو پھر یہ سوال اٹھنا فطری ہے کہ انتظامی حکمتِ عملی کا اصل مقصد کیا ہے اور اس کے نتائج کس سمت جا رہے ہیں؟
اسکولوں، کالجوں، یونیورسٹیوں اور مذہبی مقامات جیسے مختلف النوع اداروں تک اگر احتجاج سے دور رہنے کی ہدایات پہنچائی جا رہی ہیں تو ان ہدایات کی نوعیت ان کا قانونی جواز اور ان کے پیچھے موجود وجوہات واضح ہونی چاہئیں۔ کسی تعلیمی ادارے کو طلبہ کی سلامتی کی فکر ہو کسی مذہبی مقام کے ذمہ داران کو اپنے وابستگان کے تحفظ کا اندیشہ ہو یا انتظامیہ کسی ممکنہ ناخوش گوار واقعے سے بچنے کے لیے احتیاط برت رہی ہو تو یہ سب قابلِ فہم امور ہیں لیکن احتیاط اور خوف کے درمیان لکیر دھندلا جائے تو عام شہری کے لیے حقیقت اور افواہ میں فرق کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ پھر کسی کی ایک بات دوسری جگہ پہنچتے پہنچتے کئی گنا بڑھ جاتی ہے، ایک غیر مصدقہ اطلاع پورے محلے میں تشویش پھیلا دیتی ہے اور ایک ممکنہ واقعہ ایسا منظر پیش کرنے لگتا ہے جیسے کوئی ناقابلِ تلافی سانحہ رونما ہونے والا ہو۔ اگر مظاہرہ پُرامن ہے تو اس کے بارے میں عوام کو اس قدر متردد ہونے کی ضرورت کیوں محسوس ہو رہی ہے اور اگر انتظامیہ کو کسی حقیقی خطرے کا اندیشہ ہے تو اس کی نوعیت واضح انداز میں سامنے کیوں نہیں لائی جاتی؟ کسی بھی احتجاج کے تعلق سے خدشات کو نظر انداز کرنا دانش مندی نہیں لیکن خدشات کی بنیاد پر پورے شہر کو غیر یقینی کیفیت میں مبتلا کر دینا بھی کوئی مثالی طرزِ عمل نہیں۔ عوام کو اعتماد میں لینا، قانون کی حدود واضح کرنا اور ممکنہ خطرات کے بارے میں ذمہ دارانہ معلومات فراہم کرنا کسی بھی جمہوری انتظامیہ کی بنیادی ضرورت ہے۔ شفافیت سے اعتماد پیدا ہوتا ہے، جب کہ ابہام افواہوں کو جنم دیتا ہے۔ تاہم اس ساری صورتِ حال میں مسلمانوں کے لیے بھی ایک اہم پیغام پوشیدہ ہے۔ ہم مسلمانوں سے یہی کہیں گے کہ 10 اکتوبر کے مظاہرے میں جانا ہے یا نہیں یہ فیصلہ اپنی صوابدید حالات کے جائزے اور دستیاب مستند معلومات کی روشنی میں کیجیے۔ کسی کے جوشِ خطابت سے متاثر ہوکر کوئی قدم اٹھانا دانش مندی نہیں اور نہ ہی خوف کی بنیاد پر ہر بات کو حقیقت تسلیم کر لینا مناسب ہے۔ جذبات اپنی جگہ لیکن حالات کا ادراک، قانونی حدود کی پاس داری اور اپنی سلامتی کا خیال اپنی جگہ ایک بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ اگر کوئی شخص مظاہرے میں شرکت کا فیصلہ کرتا ہے تو اسے پُرامن رہنے قانون کی پابندی کرنے اور کسی بھی اشتعال انگیز صورتِ حال سے دور رہنے کو ترجیح دینی چاہیے۔ اگر کوئی شخص حالات کے پیشِ نظر شرکت نہ کرنے کا فیصلہ کرتا ہے تو اس کے فیصلے کا بھی احترام کیا جانا چاہیے۔ کیوں کہ جمہوریت میں اختلاف کا حق ضرور ہے لیکن اس حق کے استعمال میں ذمہ داری کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوٹنا چاہیے۔ احتجاج کا مقصد اپنے مطالبات کو مؤثر انداز میں پیش کرنا ہوتا ہے نہ کہ اپنے لیے ایسی مشکلات پیدا کر لینا جن کا ازالہ بعد میں دشوار ہو جائے۔ سیاسی جماعتوں اور احتجاج کے منتظمین پر بھی لازم ہے کہ وہ اپنے کارکنوں اور حامیوں کو واضح ہدایات دیں، پُرامن طرزِ عمل کی تلقین کریں اور کسی بھی ایسے اقدام سے گریز کریں جس سے عوامی املاک، شہریوں کی سلامتی یا معمولاتِ زندگی متاثر ہوں۔ اسی طرح انتظامیہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ قانون کو سب کے لیے یکساں طور پر نافذ کرے اور کسی بھی شخص کے ساتھ محض اس کی مذہبی شناخت یا سیاسی وابستگی کی بنیاد پر امتیازی سلوک نہ ہونے دے۔
آج دہلی کے موجودہ ماحول میں سب سے زیادہ ضرورت سنجیدگی تحمل اور حقیقت پسندی کی ہے۔ نہ ہر خدشے کو سازش قرار دینا درست ہے نہ ہر انتظامی ہدایت کو بلا تحقیق حرفِ آخر سمجھ لینا مناسب ہے۔ عوام کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ جان سکیں کہ انہیں کن وجوہات کی بنا پر کسی سرگرمی سے دور رہنے کا مشورہ دیا جا رہا ہے اور انتظامیہ کو بھی یہ حق حاصل ہے کہ وہ امن و امان کے تحفظ کے لیے معقول اقدامات کرے۔ لیکن ان دونوں کے درمیان اعتماد کا رشتہ برقرار رہنا چاہیے۔ جب اعتماد کمزور پڑتا ہے تو معمولی واقعات بھی غیر معمولی صورت اختیار کر لیتے ہیں اور جب شفافیت موجود ہو تو بڑے سے بڑا اختلاف بھی مکالمے کے ذریعے حل کرنے کی گنجائش رکھتا ہے۔ لہذا احتجاج میں جانا ہے یا نہیں یہ آپ کی صوابدید ہے مگر اپنا دھیان ضرور رکھیے، حالات کو سمجھیے، مستند اطلاعات پر بھروسا کیجیے، اشتعال انگیزی سے دور رہیے اور اپنی سلامتی کو ہر حال میں مقدم رکھیے۔ سیاسی سرگرمیوں میں شرکت کا فیصلہ کرتے وقت یہ بھی دیکھیے کہ آپ کے اقدام کا حقیقی فایدہ کیا ہوگا اور اس کے ممکنہ نتائج کیا ہو سکتے ہیں۔ کسی نعرے، جذباتی اپیل یا سنی سنائی بات پر اپنی سلامتی کو خطرے میں ڈال دینا دانش مندی نہیں۔ اسی طرح کسی مبہم اندیشے کو بنیاد بنا کر دوسروں کو خوف زدہ کرنا بھی درست طرزِ عمل نہیں۔ ورنہ کہیں ایسا نہ ہو کہ لوگ پورے جوش و خروش کے ساتھ میدان میں اترنے کا ارادہ کریں، مگر حالات کی نزاکت کو سمجھے بغیر خود ہی مشکلات کے حصار میں گرفتار ہو جائیں۔ پھر نہ احتجاج کا مقصد حاصل ہو، نہ مطالبات پر سنجیدہ گفتگو آگے بڑھے اور نہ کسی کے ہاتھ کچھ آئے۔ عوامی محاورے میں اسی کیفیت کو یوں بیان کیا جاتا ہے کہ کھایا پیا کچھ نہیں، گلاس توڑے بارہ آنے! اس لیے جذبات کے بجائے عقل، افواہوں کے بجائے تحقیق اور اشتعال کے بجائے حکمت کو ترجیح دیجیے۔ جمہوریت کا حسن بھی اسی میں ہے اور شہری ذمہ داری کا تقاضا بھی یہی ہے۔
iftikharahmadquadri@gmail.co

By Maqsood

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے