سیرت رسول ﷺ اور پیغام انسانیت مہم

سیرت رسول ﷺ اور پیغام انسانیت مہم

ازقلم: نقاش نائطی
+9448000010

"دیڑھ ہزار سال قبل اجڈ جاہل مشہور عرب معاشرے میں،بین المذہبی تنازعات حل کے لئے،قائم "معاہد حلف الفضول” جیسا موجودہ بین المذیبی معاشرے میں، ایسا کوئی، آپسی مسائل حل کرتا، بین المذہبی معاہدہ، کیا، ترتیب نہیں دیا جانا چاہئیے؟”
خطبہ حجۃ الوداع نبی کریم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ نے 9 ذوالحجہ 10 ہجری بمطابق 632ء کو میدانِ عرفات (جبلِ رحمت کے قریب) میں ایک لاکھ چوبیس ہزارصحابہ کرام کی موجودگی میں ارشاد فرمایا۔ یہ خطبہ انسانی حقوق، مساوات، اور اسلامی تعلیمات کا ایک عظیم اور مکمل منشور ہے۔

رسول اللہﷺ نے فرمایا:-
۱) اے لوگو! سنو، مجھے نہیں لگتا کہ اگلے سال میں تمہارے درمیان موجود رہوں گا۔ میری باتوں کو بہت غور سے سنو، اور ان باتوں کو ان لوگوں(تاقیامت تمام مسلمین وکفار و مشرکین) تک پہنچاؤ جو یہاں نہیں پہنچ سکے۔

*۲*۔ اے لوگو! جس طرح یہ آج کا دن، یہ مہینہ اور یہ جگہ عزت و حرمت والے ہیں۔ بالکل اسی طرح دوسرے مسلمانوں کی زندگی، عزت اور مال حرمت والے ہیں

*۳*۔ لوگو کے مال اور امانتیں ان کو واپس کرو-

*۴*۔ کسی کو تنگ نہ کرو، کسی کا نقصان نہ کرو تا کہ تم بھی محفوظ رہو۔

*۵*۔ یاد رکھو، تم نے اللہ سے ملنا ہے اور اللہ تم سے تمہارے اعمال کی بابت سوال کرے گا۔

*٦*۔ اللہ نے سود کو ختم کر دیا، اس لئے آج سے سارا سودی نظام ختم کرادو

*۷*۔ تم عورتوں پر حق رکھتے ہو، اور وہ تم پر حق رکھتی ہیں۔ جب وہ اپنے حقوق پورے کر رہی ہیں تم ان کی ساری ذمہ داریاں پوری کرو۔

*۸*۔ عورتوں کے بارے میں نرمی کا رویہ قائم رکھو، کیونکہ وہ تمہاری شراکت دار (پارٹنر)اور بے لوث خدمت گذار رہتی ہیں۔

*۹*۔ کبھی *زنا کے قریب بھی مت جانا۔*

*۱۰*۔ اے لوگو! میری بات غور سے سنو، صرف اللہ کی عبادت کرو، *5 فرض نمازیں* ادا کرتے رہو، رمضان کے *روزے* رکھو، اور *زکوۃ* ادا کرتے رہو۔ اگر استطاعت ہو تو *حج* کرو۔

*۱۱* ۔ ہر مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے۔ تم سب اللہ کی نظر میں برابر ہو۔ *برتری صرف تقوی* کی وجہ سے ہے۔

*۱۲*۔ یاد رکھو! تم کو ایک دن اللہ کے سامنے اپنے اعمال کی جوابدہی کے لیے حاضر ہونا ہے، *خبردار رہو! میرے بعد گمراہ نہ ہو* جانا۔

*۱۳*۔ یاد رکھنا! میرے بعد کوئی نبی نہیں آنے والا، نہ ھی کوئی نیا دین لایا جاےَ گا۔ میری باتیں اچھی طرح سے سمجھ لو۔اور اسے تاقیامت آنے والے مسلمین کفار و مشرکین تک پہنچادو

*۱۴*۔ میں تمہارے لیے 2 چیزیں چھوڑ کے جا رہا ہوں، *قرآن اور میری سنت،* اگر تم نے ان کی *پیروی کی, تو کبھی بھی گمراہ نہیں ہو گے*۔

*۱۵*۔ سنو! تم لوگ جو موجود ہو، اس بات کو اگلے لوگوں تک پہنچانا۔ اور وہ پھر اگلے لوگوں کو پہنچائیں۔ اور یہ ممکن ہے کہ بعد والے میری بات کو پہلے والوں سے زیادہ بہتر سمجھ [اور عمل کر] سکیں۔

پھر آپ نے آسمان کی طرف چہرہ اٹھایا اور کہا، اے اللہ! گواہ رہنا، میں نے تیرا پیغام تیرے لوگوں تک پہنچا دیا

اس حجة الوداع والے واقعہ پر آج 1437 سال گزرنے کے بعد بھی، پورے عالم کے ہم مسلمان، آپ ﷺ کے یوم پیدائیش ربیع الاوال کے وسط مہینے میں، مسلم معاشرے کے طلبہ و عوام میں، محافل سیرت النبی،یا تحریری مضمون نویسی یا سیرت رسول ﷺ پر تقریری مقابلوں کا انعقاد کئے، حکم رسول اللہﷺ کو،امت مسلمہ تک پہنچانے کی قولا” ہی صحیح، ناتمام کوشش کرتے ائے ہیں۔ مجلس اصلاح و تنظیم بھٹکل نے بھی، صدیوں سے اپنے معاشرے میں، بیرون بھٹکل سے علماء حضرات کو دعوت دئیے بلا کر، اپنے علاقے کے مسلم مرد ونساء عوام و طلبہ کے درمیان اقوال و اعمال رسول ﷺ دہراتے، یاد دہانی کرواتے، آئے ہیں ۔اب کچھ سالوں سے، مجلس اصلاح و تنظیم نے، وقت پیدائش رسول ﷺ اس موقع کا فائیدہ اٹھاتے ہوئے، ہم ارباب حل و عقل مسلمین کے ساتھ مختلف مکتبہ فکر کے برادران وطن سناتنی بھائیوں و سرکاری ملازمین ذمہ داروں پر مشتمل ظہرانہ تقریب منعقد کئے،ان تک رسول اللہﷺ کی عملی زندگی سیرت النبی رکھتے ہوئے، سابقہ بارہ سالہ سنگھی حکومتی، دانستہ مذہبی منافرت پھیلاتے پس منظر میں، ہم مسلمانوں اور برادران وطن سناتنی بھائیوں کے درمیان پیار و محبت،اخوتی جذبات ابھارتے ہوئے، ہزاروں سالہ مختلف المذہبی گنگا جمنی پریم و آشتی والا ماحول بھارت میں دوبارہ واپس لانے کی صدا کوشش کرتے آئے ہیں ۔
برادران وطن کے ساتھ منعقدہ آج کی مجلس سے خطاب کرنے، مینگلور سے دعوت دئیے بلائے گئے، مقامی کنڑا زبان روزنامہ وارتھا بھارتی کے مالک و ایڈیٹر ان چیف اور منجھے ہوئے کنڑا نامہ نگار و مصنف عبدالسلام پوتوگے اور آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے دائمی رکن انتظامی عالم دین،مصنف کتب دین، بانی علی پبلک اسکول، مقامی عالم دین المحترم الیاس جاکٹی صاحب نے بھی، پرمغز مختصر تر خطاب سےجہاں سامعین عظام کو محظوظ کیا، وہیں اس جلسہ سیرت کے خصوصی مہمانان،ابھی حال ہی میں بھٹکل متعین ڈی وائی ایس پی اور بھٹکل ٹاؤن میونسپل میں متعین میونسپل کمشنر نے بھی، اپنے متاثر کن تاثرات سے عوام کو دل آفرین کردیا ہے۔ ڈی وائی ایس پی نے کہا کہ ابھی ابھی انکی بھٹکل پوسٹنک شروعات ہی میں، علاقے میں ساکن مختلف المذیبی عوام میں، امن عامہ محبت اخوت قائم رکھنے والی ، انہیں تفویض ذمہ داری کو، مقامی ادارے مجلس اصلاح بھٹکل کی طرف اتنے شاندار پیمانے پر,کئے جاتے دیکھ، نہ صرف تعجب و خوشی ہوئی بالکہ بحیثیت مہمان بلائے جاتے، ایسے بین المذہبی اخوتی پروگرام کا، انہیں حصہ بنائے جانے پر، انہوں نے بھٹکل مجلس اصلاح و تنظیم کا شکریہ بھی فادا کیا۔ مہمان خصوصی عبد السلام پوتوگے نے کہا کہ بھارت جیسے مہان دیش میں ھندو مسلم سکھ عیسائی آبادیاں الگ الگ آزادانہ رہتے ہوئے بھی، سب کے الگ الگ مفادات و ترجیحات سے پرے صحت عامہ ،نقل و حرکت کرتی سڑکیں، شاہ راہیں تعمیرات، و حصول علوم مشترکہ ترجیحات بھی ہیں جسے سب مل جل کر حل کرنے کرانے ہی سے، بہتر نتائج حصول ممکن ہوتا پایا جاتا ہے۔ مولوی الیاس جاکٹی مدظلہ نے کہا کہ چونکہ آج کا اجلاس سیرت النبیﷺکی نسبت سے مختلف المذہبی لوگوں کے ساتھ منعقدہ اجلاس ہے۔اسی نسبت سے میں دین اسلام سے پہلے عرب قبائل کے اس مشرکانہ ماحول میں بھی،خاتم الانبیاء محمدﷺ کے ماقبل نبوت والے زمانے میں،جب آپ ﷺ کی عمر محض بیش سال تھی ، ان ایام بین المذہبی، آپسی تجارتی تنازعات حل کے لئے عرب کے مختلف قبائل نے تصفیہ کمیٹی کی شکل، جو
"معاہدہ حلف الفضول” کیا تھا اسکا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ تمدنی ترقی پزیر معاشرے میں بھی دیڑھ ہزار سال قبل والے "معاہدہ حلف الفضول” کی طرح مختلف المذاہب مشترکہ معاشرے میں امن و عامہ قائم رکھنے مددگار بین المذاہب "معاہدہ حلف الفضول”جیسا کوئی معاہدہ کیا جانا چاہئیے۔
کسی بھی معاشرے میں اچھے لوگوں کی کثرت باوجود چند فیصد شرپسند خباثتی ذہنیت، شیطانی صفات سے کئے گئے، کسی بھی وقتی شرارتی عمل سے، دیرپا نقصان عظیم، ہر کسی کو جوجنا و بھگتنا پڑتا ہے۔اس لئے مختلف المذہبی معاشرے کو صالح اور اچھے معاشرہ کی شکل باقی رکھنے کی تگ و دو کرتے رہنی پڑتی ہے، انہوں مزید کہا اس سمت مشہور بھارتیہ عالم دین حضرت مولانا ابو الحسن علی ندوی علیہ الرحمہ کے قائم کئے،’پیام انسانیت” ادارے کے تحت، آج سے چالیس پینتالیس سال قبل پرانے بھٹکل موتی مارکیٹ کی جگہ قائم،اس وقت کے، کھیت میدان میں، پہلے وقوع پزیر پیام انسانیت جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے، حضرت مولانااسحاق جلیس علیہ الرحمہ نے سنسکرتی ھندی زبان و لہجہ طیور، جلالانہ انداز کہا کہ، سابقہ اورنگ زیب عالمگیر علیہ الرحمہ والے زمام حکومت میں، ھندو مسلم محبت اخوت ہی سے، بھارت کو اپنے 27% جی ڈی پی کے ساتھ، معشیتی طورمضبوط تر، عالم میں "سونے کی چڑیا بھارت” مشہور کرائے جیسا، اپنےتاریخی اوصاف، ایک مرتبہ پھر،بھارت کو رہنماء عالم، وشؤ گرو
شہرت یافتہ کرسکتی ہے۔اس پہلے جلسہ پیام انسانیت میں، جنوب ھند دھرمستھلا کی مشہور سناتنی ھندو مذہبی شخصیت شری ڈاکٹر ویریندر ھیگڈے جی بھی مہمان خصوی کی حیثیت مدعو و مقرر تھے۔حضرت مولانا الیاس حفظہ اللہ نے کہا کہ ھندو مسلم دونوں فریق، اہم مذہبی شخصیات کی شمولیت کے ساتھ، ہزاروں سالہ سناتنی ھندوؤں کے ویدگرنتھوں میں پیشین گوئی کردہ، ایشور اللہ کی طرف سے، مستقبل کے دنوں، اس دنیا میں آنے والے، رشی منی شخصیت، "کلکی اوتار” و مسلمانوں کے خاتم الانبیاء حضرت محمد مصطفی ﷺ کی عملی تعلیمات موجودہ نسل انسانی تک تسلیم کرتے کراتے، ایسے بین المذہبی پیام انسانیت درس دیتے، عوام میں نفرت، ہوس پرستی اور خود مطلبی جذبات سے پرے محبت ایثار و قربانی کے جذبات ہم ھندو مسلم انسانوں میں ودیعت و پیوست کئے جاتے رہنا چاہئیے۔
آج کے اس بین المذہبی اجلاس کی سب سے اہم کڑی حالیہ دنوں بھٹکل سے قریب مرڈیشور ریلوے اسٹیشن پر، محو سفر خراماں خراماں روان دواں ریل گاڑھی پر چڑھنے کی کوشش میں گرتے اور پھسل کر ریل کے نیچے جاتے مسلم بزرگ شخص کو، وہیں مصروف معاش ایک ھندو نوجوان گنپتی نائک نے، اپنی جان کی پرواہ تک نہ کرتے ہوئے، دوڑ کر، اس مسلم شخص کو پٹری پر گرکر جان سے چلے جانے سے روکنے کی جو کامیاب کوشش کی تھی اور جس کی ویڈیو کلپ وائرل بھی ہوئی تھی، بین المذہبی عظیم الشان اس،منچ پر گنپتی نائک کومدعو کئے، اسکی شال پوشی و تہنیت کئے جانے نے، ایسے رفاعی خدمات عمل پیرا ھندو مسلم نوجوانوں کی صحیح معنوں پزیرائی کی ہے۔

آج 18،اکتوبر 2026 کوکوس جالی بیچ ریزارٹ پر مجلس اصلاح و تنظیم بھٹکل کی طرف سے برادران وطن کے ساتھ منعقد کیا گیا یہ اجلاس سیرت النبیﷺ بھی 1437 سال قبل والے حکم رسول ﷺ پر عمل پیرا، ایک اچھی کوشش ہے۔ اس طرح کے بین المذہبی ہم آہنگی امن و چین قائم کرنے کی کوشش کرتے وقت وقت کے ساتھ بھارت کے ہر ریاست،صوبے شہر گاؤں گاؤں منعقد کئے جاتے رینے چاہئیے اس سے ہم آسمانی مذہبی بھارت واسی سناتنی ھندو مسلمان عیسائی سبھوں کو ۔حبت ایثار قربانی والے جذبات میں سرشار کئے جاتے واقعتا” و عملا” سب کا ساتھ اور سب کا وکاس کے ساتھ بھارت کو وشؤگرو بنایا جاسکے وما التوفیق الا باللہ

"معاہدہ حلف الفضول”

آج سے پندرہ سو سال قبل ، دورِ جاہلیت میں، مکہ مکرمہ میں مظلوموں کی حمایت اور انصاف کے قیام کے لئے طے پانے والا ایک مشہور اور تاریخی "معاہدہ
حلف الفضول” تھا۔
عرب کے معاشرے میں لوٹ مار اور کمزوروں پر ظلم عام تھا۔ جب مکہ میں یمن سے آنے والے ایک تاجر کا حق عاص بن وائل السھمی نے دبا لیا اور اس کا مال واپس نہیں کیا، تو مظلوم تاجر نے قریش کے سرداروں سے فریاد کی۔ اس واقعے کے بعد زبیر بن عبدالمطلب کی تحریک پر مکہ کے چند معزز قبائل (بنو ہاشم، بنو مطلب، بنو اسد، بنو زہرہ اور بنو تیم) عبداللہ بن جدعان کے گھر جمع ہوئے اور یہ معاہدہ کیا۔
اس معاہدے میں شامل افراد نے حلف اٹھایا کہ:-وہ مکہ میں رہنے والے ہوں یا باہر سے آنے والے (مسافر)، ہر مظلوم کا ساتھ دیں گے اور ظالم سے اس کا حق دلائیں گے۔کمزوروں، غریبوں اور مسافروں کی مدد کی جائے گی اور شہر میں امن و امان قائم رکھا جائے گا۔
اس معاہدے کا نام "حلف الفضول” اس لئے رکھا گیا کیونکہ قدیم زمانے میں بھی ایسا ہی ایک معاہدہ قبیلہ جرہم کے تین افراد (جن کے نام فضل بن حارث، فضل بن وداعدہ اور فضل بن فضالہ تھے) نے مظلوموں کی مدد کے لئے کیا تھا، اسی مناسبت سے اس معاہدے کو بھی حلف الفضول کہا گیا۔
رسول اکرم ﷺ اس وقت کم و بیش 20 سال کے نوجوان تھے اور آپ ﷺ بھی اس معاہدے میں شریک ہوئے۔ اعلانِ نبوت کے بعد بھی آپ ﷺ اس معاہدے کی بہت تحسین فرماتے تھے اور فرماتے تھے: "میں نے عبداللہ بن جدعان کے گھر میں ایک ایسے معاہدے میں شرکت کی ہے کہ اگر مجھے اسلام میں بھی ایسے معاہدے کی دعوت دی جائے تو میں اسے ضرور قبول کروں گا”

Best Regards,

ڈاکٹر محمد فاروق شاہ بندری
المعروف نقاش نائطی/ابن بھٹکلی
Dr. Mohammed Farooque Shahbandri
Well known as Naqash Naity / Ibn e bhatkali
+966 562677707

By Maqsood

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے