ایران کو ممکنہ امریکی-اسرائیلی ایٹمی حملوں کا خطرہ: کون سے شہر نشانہ بن سکتے ہیں اور کتنی جانیں جا سکتی ہیں؟
ازقلم:شیخ سلیم،ممبئی
ایران اور مشرقِ وسطیٰ میں یہ خوف بڑھتا جا رہا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل ایران کے خلاف ایک نئی خطرناک فوجی کارروائی شروع کر سکتے ہیں۔ ڈونالڈ ٹرمپ نے فوجی کارروائی کی اپنی دھمکیاں دوبارہ دہرائی ہیں، امریکی فوجی تیاریوں کی خبریں سامنے آ رہی ہیں، اور تہران نے جوابی کارروائی کا انتباہ دیا ہے۔ نیوکلیئر حملوں کی دھمکیوں نے صورت حال کو انتہائی پیچیدہ بنا دیا ہے ۔
اگر فوجی کارروائی دوبارہ شروع ہوتی ہے تو تہران اور اصفہان کو خاص خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔ تہران ایران کا سیاسی اور فوجی مرکز ہے، اس لیے وہاں سرکاری اور فوجی تنصیبات حملے کی زد میں آ سکتی ہیں۔ اصفہان بھی اتنا ہی اہم ہے، کیونکہ وہاں جوہری اور دفاعی نوعیت کی تنصیبات ہیں، جن میں پکیکس ماؤنٹین (Pickaxe Mountain) میں مبینہ زیرِ زمین تنصیب بھی شامل ہے۔ ان کے علاوہ نطنز، قم کے قریب فردو، اور کرمانشاہ و تبریز کے آس پاس کے فوجی ٹھکانے بھی خطرے میں آ سکتے ہیں۔ یہ ممکنہ حملوں کے نشانے پر آنے والے علاقے ہیں، تصدیق شدہ اہداف نہیں۔ بوشہر کی جوہری تنصیب کے بارے میں بھی سنگین حفاظتی خدشات موجود ہیں، تاہم اس بات کی کوئی تصدیق نہیں کہ اس پر حملے پر غور کیا جا رہا ہے۔
انسانی جانوں کا بہت بڑا ضیا ہو سکتا ہے، لیکن یہ کتنا بڑا ہو گا، اس کا انحصار حملے کے پیمانے، استعمال ہونے والے ہتھیاروں اور اس بات پر ہو گا کہ گنجان آباد علاقے متاثر ہوتے ہیں یا نہیں۔ الگ تھلگ فوجی تنصیبات پر محدود حملے میں نسبتاً کم لوگ جان سے جا سکتے ہیں۔ لیکن شہری ڈھانچے تک پہنچنے والی طویل بمباری مہم میں سینکڑوں یا ہزاروں لوگ بھی مارے جا سکتے ہیں۔ یہ محض مثال کے طور پر ممکنہ صورتیں ہیں، تصدیق شدہ اندازے نہیں، اور اس وقت یہ بتانے والا کوئی قابلِ اعتماد تخمینہ موجود نہیں کہ کتنے لوگ مارے جا سکتے ہیں۔
اگر ایٹمی ہتھیار استعمال کیے گئے تو خطرہ اس سے کہیں زیادہ ہو گا۔ کسی بڑے شہر پر ایٹمی دھماکے میں دسیوں ہزار لوگ مارے جا سکتے ہیں، یا شاید اس سے بھی کہیں زیادہ؛ یہ ہتھیار کی طاقت، دھماکے کی جگہ اور اس وقت کے حالات پر منحصر ہے۔ تابکاری (ریڈی ایشن) اور تابکار گرد (فال آؤٹ) دھماکے کے فوری علاقے سے بہت دور تک کی آبادی کو بھی متاثر کر سکتی ہے۔
امریکی ایٹمی حملے کے بارے میں قیاس آرائیاں اس وقت تیز ہوئیں جب تبصرہ نگار ٹکر کارلسن نے دعویٰ کیا کہ ٹرمپ پکیکس ماؤنٹین کے خلاف ایسا آپشن زیرِ غور کر رہے ہیں۔ تاہم، کسی بھی ایٹمی حملے کے منصوبے یا منظوری کی کوئی آزاد تصدیق موجود نہیں۔
آنے والے دن نہایت اہم ہوں گے۔ واشنگٹن کو طے کرنا ہے کہ اس کا فوجی دباؤ تہران کو مذاکرات کی میز پر واپس لانے کے لیے ہے یا وہ ایک اور بڑی فوجی مہم کے بارے میں سوچ رہا ہے۔ ادھر ایران نے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی نئے حملے کا جواب دیا جائے گا۔
اب تک کی یہ مہم ناکامی، بلکہ ایک فوجی غلطی دکھائی دیتی ہے۔ مہینوں کے حملوں کے باوجود امریکہ اور اسرائیل اپنے بیان کردہ مقاصد حاصل نہیں کر سکے، حکومت کی تبدیلی، جوہری مسئلے کا خاتمہ اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھلوانا۔ دوسری طرف ایران کا جواب انتہائی تباہ کن رہا۔ اسرائیل اور مشرقِ وسطیٰ میں امریکہ کے اتحادیوں کے ہاں بھاری نقصانات کی اطلاعات ہیں، جن میں تیل اور دیگر تنصیبات کو پہنچنے والا نقصان بھی شامل ہے۔
اب بہت کچھ امریکی انتخابات کے نتائج پر منحصر ہو گا، جو 3 نومبر کو ہونے والے ہیں۔
ہم غزہ اور مغربی کنارے میں نسل کشی دیکھ چکے ہیں۔ مغربی دنیا صرف تماشا دیکھتی ہے امریکا کے ساتھ یورپ کے کئی ممالک اسرائیل کو ہتھیار فراہم کرتے رہے سفارتی مدد کرتے رہے خصوصاً برطانیہ اور جرمنی۔
اگر ایران کے خلاف بھی یہ جنون جاری رہا، خدا نہ کرے، تو ہم ایک اور ایٹمی حملے کے گواہ بن سکتے ہیں، حکومت کی تبدیلی اور انسانی حقوق کے نام پر ایک اور ہولناکی اور تباہی دیکھنے والے ہیں شاید ہم بس اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں تباہی نہ ہو۔
فوجی اور جوہری تنصیبات کو نشانہ بنانے کے لیے شروع ہونے والا تنازع تیزی سے پورے خطے کی تباہی میں بدل سکتا ہے، اور عام شہریوں کو سب سے بھاری قیمت چکانی پڑے گی۔ فوراً بین الاقوامی برادری کو اپنی سفارتی کوششیں تیز کرنی چاہئیں، اس سے پہلے کہ ایران کے خلاف ہونے والی جنگ ہزاروں لاکھوں بے گناہوں کی جان لے لے۔