بلال بشیر بٹ: کشمیر کی اردو صحافت کا ایک متحرک، جدت پسند اور باصلاحیت مدیر

بلال بشیر بٹ: کشمیر کی اردو صحافت کا ایک متحرک، جدت پسند اور باصلاحیت مدیر

بلال بشیر بٹ: کشمیر کی اردو صحافت کا ایک متحرک، جدت پسند اور باصلاحیت مدیر
سالگرہ کے موقع پر ایک ایسے صحافی کی خدمات کا اعتراف جس نے اردو صحافت کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرانےکی کوشش کی ہے

ازقلم:جاوید جمال الدین، ممبئی

صحافت کی دنیا میں بعض شخصیات اپنی پیشہ ورانہ صلاحیت، ادارتی بصیرت اور مسلسل جدوجہد کے ذریعے الگ شناخت قائم کرتی ہیں۔ جموں و کشمیر کے صحافی، مدیر اور کالم نگار بلال بشیر بٹ بھی ایسی ہی شخصیات میں شامل ہیں، جنہوں نے اردو صحافت کے فروغ اور ذرائع ابلاغ کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے قابلِ ذکر کوششیں کی ہیں۔

ممبئی سے کشمیر تک قلم کا ایک خوبصورت رشتہ

میرا بلال بشیر بٹ سے تعارف روزنامہ سرینگر جنگ کے ذریعے ہوا۔ ممبئی میں بیٹھ کر جب میری کوئی تحریر یا مضمون کشمیر کے اس دور افتادہ اخبار میں شائع ہوتا ہے تو مجھے ایک خاص مسرت اور قلبی اطمینان حاصل ہوتا ہے۔ یہ خوشی محض اپنی تحریر کی اشاعت کی نہیں بلکہ اس احساس کی بھی ہے کہ ممبئی میں بیٹھ کر لکھے گئے خیالات وادیٔ کشمیر کے قارئین تک پہنچ رہے ہیں اور ملک کے مختلف خطوں کے درمیان قلم کا ایک خوبصورت رشتہ قائم ہو رہا ہے۔کئی موقعوں پر انہوں نے خصوصی تحریر کے لیے مزید معلومات اور تصاویر طلب کیں،جیسے ماہ رمضان میں صحافیوں کی دعوت افطار’دعوت شیراز’ جیسے مضمون کے لیے انہوں نے رابطہ کیااور تصویر مانگی تھی۔1960 کے عشرے میں روزنامہ انقلاب کے بانی عبدالحمید انصاری ماہ رمضان کی 27 ویں شب کے موقع پر صحافیوں اور عملے کو دعوت دیتے اور ایک بار روایتی افطار ہٹ کر عام کھانے سے افطاکروایاتھا۔

ایک سنئیرصحافی کی حیثیت سے میں یہ بات بخوبی محسوس کرتا ہوں کہ کسی دوسرے شہر یا خطے کے قلم کار کو اپنے اخبار میں جگہ دینا اور اس کی تحریر کو قارئین تک پہنچانا محض ادارتی فیصلہ نہیں بلکہ فکری وسعت اور ادبی کشادہ دلی کا اظہار بھی ہے۔ بلال بشیر بٹ نے میرے مضامین کو روزنامہ سرینگر جنگ میں جگہ دے کر جس اعتماد اور حوصلہ افزائی کا مظاہرہ کیا ہے، اس کے لیے میں ان کا تہہ دل سے ممنون ہوں۔ ان کے اس رویے سے یہ احساس بھی تقویت پاتا ہے کہ صحافت جغرافیائی حدود کی پابند نہیں اور ایک شہر میں لکھی جانے والی تحریر دوسرے خطے کے قارئین کے لیے بھی اتنی ہی اہمیت رکھ سکتی ہے۔

روزنامہ سرینگر جنگ: ادارتی معیار اور پیش کش میں بہتری

بلال بشیر بٹ کی صحافتی شناخت کا ایک اہم حوالہ روزنامہ سرینگر جنگ ہے۔ اس اخبار کے بانی طارق محی الدین ہیں، جبکہ بلال بشیر بٹ اس کے مالک اور مدیر اعلیٰ کی حیثیت سے اس کی ادارتی و انتظامی قیادت کر رہے ہیں۔ ان کی نگرانی میں اخبار نے اپنے مواد، پیش کش اور صفحات کی ترتیب میں بہتری پیدا کرنے کی کوشش کی ہے۔ مختلف مواقع اور موضوعات پر خصوصی مضامین، سیاسی و سماجی تجزیوں، ادبی تحریروں اور معلوماتی مواد کی اشاعت اس کے صحافتی تنوع کو ظاہر کرتی ہے۔

روزنامہ سرینگر جنگ کا مطالعہ کرتے ہوئے اس کے ادارتی صفحے کی ترتیب اور مضامین کے انتخاب پر خصوصی توجہ جاتی ہے۔ سرخیوں کی مناسبت، مواد کی پیش کش اور صفحات کا مجموعی لے آؤٹ اخبار کے معیار کو نمایاں کرتا ہے۔ بالخصوص کھیل کود کے صفحے کی ترتیب اور آرائش قابلِ ستائش ہے۔ کھیلوں سے متعلق خبروں، تصاویر اور معلومات کو جس سلیقے سے پیش کیا جاتا ہے، وہ اخبار کی ادارتی ٹیم کی پیشہ ورانہ دلچسپی اور بلال بشیر بٹ کی نگرانی میں کی جانے والی کوششوں کا اظہار ہے۔ کسی اخبار کی خوبی صرف اس کے صفحۂ اول سے نہیں بلکہ اس کے تمام صفحات کے معیار سے سامنے آتی ہے اور اس اعتبار سے سرینگر جنگ نے اپنی پیش کش کو بہتر بنانے پر توجہ دی ہے۔

روایت اور جدید ٹیکنالوجی کا امتزاج

بلال بشیر بٹ کی صحافتی سرگرمیاں صرف مطبوعہ اخبار تک محدود نہیں ہیں۔ وہ معروف نیوز پورٹل اونلی کشمیر کے بانی اور چیف ایڈیٹر بھی ہیں، جس کے ذریعے ڈیجیٹل صحافت کے میدان میں اپنی موجودگی قائم کی۔ اس پلیٹ فارم پر مقامی، قومی اور بین الاقوامی موضوعات سے متعلق خبریں، تجزیے، انٹرویوز اور خصوصی تحریریں قارئین تک پہنچائی جاتی ہیں۔ اس طرح انہوں نے پرنٹ میڈیا کے ساتھ آن لائن صحافت کو بھی اپنی پیشہ ورانہ سرگرمیوں کا حصہ بنایا ہے۔

جدید ٹیکنالوجی سے استفادے کی ایک اہم مثال جولائی 2022 میں روزنامہ سرینگر جنگ میں کیو آر کوڈنگ کا آغاز ہے۔ اس سہولت کے ذریعے قارئین مطبوعہ اخبار میں شائع ہونے والی خبروں اور مضامین سے متعلق ویڈیوز اور اضافی ڈیجیٹل مواد تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔ یہ تجربہ پرنٹ اور ڈیجیٹل میڈیا کے درمیان رابطہ مضبوط کرنے کی ایک قابلِ توجہ کوشش ہے۔ آج جب دنیا بھر میں اخبارات کو سوشل میڈیا، آن لائن نیوز پورٹلز اور فوری اطلاعات کے ذرائع سے مقابلہ درپیش ہے، ایسے میں اردو اخبار کو نئی ٹیکنالوجی سے جوڑنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

بلال بشیر بٹ کی دلچسپی مصنوعی ذہانت اور میڈیا کے مستقبل سے متعلق مباحث میں بھی رہی ہے۔ وہ اس بات کو سمجھتے ہیں کہ ٹیکنالوجی صحافت کے طریقۂ کار کو تبدیل کر رہی ہے، لیکن اس تبدیلی کے باوجود تحقیق، خبر کی تصدیق، غیر جانب داری اور صحافتی ذمہ داری کی اہمیت کم نہیں ہو سکتی۔ درحقیقت جدید ذرائع سے فائدہ اٹھانے کے ساتھ صحافت کی بنیادی اقدار کو محفوظ رکھنا ہی کسی میڈیا ادارے کی اصل کامیابی ہے۔

ادبی ذوق، فکری وسعت اور انسانی اقدار

بلال بشیر بٹ کی شخصیت کا ایک قابلِ ذکر پہلو ان کی ادبی اور فکری دلچسپیاں ہیں۔ کشمیر کے سماجی، سیاسی اور ثقافتی موضوعات پر ان کی تحریری وابستگی کے ساتھ انسانی اقدار، باہمی احترام اور رواداری کے موضوعات بھی ان کی فکر میں اہمیت رکھتے ہیں۔ وہ ’’وسودھیو کٹمبکم‘‘ کے فلسفے پر یقین رکھتے ہیں، جس کا مفہوم پوری دنیا کو ایک خاندان سمجھنا ہے۔ یہ تصور انسانیت، اخوت اور باہمی احترام کا پیغام دیتا ہے اور مختلف زبانوں، مذاہب اور ثقافتوں کے درمیان ہم آہنگی کی ضرورت کو اجاگر کرتا ہے۔

انہیں شاعری اور ادب سے بھی دلچسپی ہے۔ وادیٔ کشمیر کی نامور ادبی و صحافتی شخصیات کو یاد کرنے اور ان کی خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لیے ادبی تقریبات کا انعقاد ان کے اسی ذوق کا اظہار ہے۔ معروف کشمیری شاعر و صحافی غلام نبی خیال جیسی شخصیات کی یاد میں تقریبات کا اہتمام اس بات کی علامت ہے کہ وہ صحافت کے ساتھ ادبی ورثے کی حفاظت اور اہلِ قلم کی خدمات کے اعتراف کو بھی اہم سمجھتے ہیں۔

ان کی تنظیمی وابستگی بھی ان کی پیشہ ورانہ سرگرمیوں کا حصہ ہے۔ جموں اینڈ کشمیر ینگ جرنلسٹس ایسوسی ایشن سے ان کی وابستگی اور صحافتی حلقوں میں سرگرمی اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ وہ میڈیا کی اجتماعی ترقی اور نوجوان صحافیوں کی حوصلہ افزائی میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ کسی بھی زبان کی صحافت کو مضبوط بنانے کے لیے تجربہ کار صحافیوں اور نئی نسل کے درمیان رابطہ، تربیت اور تجربات کا تبادلہ ضروری ہے۔

قومی سطح پر اعزازات اور نمایاں کامیابیاں

بلال بشیر بٹ کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور صحافتی سرگرمیوں کا اعتراف قومی سطح پر بھی کیا گیا ہے۔ 2023 میں انہیں ایکسچینج فور میڈیا (e4m) کے باوقار اردو جرنلزم 40 انڈر 40 ایوارڈ سے نوازا گیا۔ اس اعزاز کے لیے ملک بھر سے موصول ہونے والی نامزدگیوں میں سے 40 صحافیوں اور میڈیا پروفیشنلز کا انتخاب کیا گیا تھا۔ اس فہرست میں ان کی شمولیت اردو صحافت میں ان کی سرگرمیوں اور جدید صحافتی رجحانات سے ہم آہنگ کوششوں کا اعتراف تھی۔

فروری 2024 میں روزنامہ سرینگر جنگ کو میڈیا فیڈریشن آف انڈیا کی جانب سے بہترین علاقائی اخبار (Best Regional Newspaper of the Year) کے اعزاز سے نوازا گیا۔ یہ کامیابی اخبار کی ادارتی ٹیم اور اس کی قیادت کی مشترکہ کوششوں کا اعتراف ہے۔ اسی دوران بلال بشیر بٹ کو میڈیا فیڈریشن آف انڈیا کے کشمیر ڈویژن کا صدر بھی مقرر کیا گیا، جو صحافتی حلقوں میں ان کی سرگرمیوں اور ذمہ داریوں کا ایک اور اہم حوالہ ہے۔

مصنوعی ذہانت کے دور میں میڈیا کے بدلتے ہوئے رجحانات پر ان کی دلچسپی کا اظہار نومبر 2025 میں قومی یومِ صحافت کے موقع پر منعقدہ مضمون نویسی کے مقابلے میں بھی ہوا، جس کا موضوع ’’مصنوعی ذہانت کے دور میں میڈیا کی بدلتی ہوئی نوعیت‘‘ تھا۔ اس مقابلے میں انہوں نے تیسری پوزیشن حاصل کی۔ یہ کامیابی اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ محض عملی صحافت ہی نہیں بلکہ اس کے مستقبل، نئے امکانات اور پیشہ ورانہ چیلنجز پر فکری سطح پر بھی غور کرتے ہیں۔

ان اعزازات اور سرگرمیوں کو دیکھا جائے تو بلال بشیر بٹ کا صحافتی سفر ایک ایسے مدیر کی تصویر پیش کرتا ہے جو اردو صحافت کی روایات سے وابستگی کے ساتھ اسے جدید ذرائع ابلاغ کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ان کے سامنے مستقبل میں بھی نوجوان صحافیوں کی حوصلہ افزائی، معیاری اردو مواد کی اشاعت اور پرنٹ و ڈیجیٹل میڈیا کے درمیان بہتر ربط پیدا کرنے جیسے اہم امکانات موجود ہیں۔

سالگرہ پر محبت، خلوص اور نیک تمنائیں

بلال بشیر بٹ کی سالگرہ کے موقع پر ان کی صحافتی خدمات، ادارتی صلاحیتوں اور اردو زبان و صحافت کے فروغ کے لیے کی جانے والی کوششوں کا اعتراف کرتے ہوئے انہیں دلی مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ انہیں صحت و عافیت، خوشیوں اور کامیابیوں سے نوازے، ان کے قلم میں مزید قوت، فکر میں وسعت اور پیشہ ورانہ سفر میں نئی منزلیں عطا فرمائے۔ روزنامہ سرینگر جنگ اور اونلی کشمیر ترقی کی نئی بلندیوں تک پہنچیں اور وہ اسی جذبے اور استقامت کے ساتھ صحافت، ادب اور معاشرے کی مثبت فکری رہنمائی کے لیے اپنی خدمات انجام دیتے رہیں۔

بلال بشیر بٹ صاحب! آپ کو سالگرہ کی دلی مبارکباد۔ ممبئی سے کشمیر تک قلم کا یہ خوبصورت رشتہ ہمیشہ قائم و مضبوط رہے۔

خدا کرے زورِ قلم اور زیادہ!
javedjamaluddin@gmail.com
9867647741

By Maqsood

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے