Skip to content
مہاراشٹرا اسمبلی انتخابات 2024: شندے کی اگنی پریکشا
ازقلم:شیخ سلیم
(ویلفیئر پارٹی آف انڈیا)
مہاراشٹرا میں20 نومبر کو انتحابات کا اعلان ہو چکا ہے اور آنے والے آئندہ اسمبلی انتخابات میں اپوزیشن، جس کی قیادت مہا وکاس اگھاڑی (MVA) اتحاد کر رہا ہے، حکمران مہایوتی حکومت کو مختلف مسائل پر چیلنج کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔ اودھو ٹھاکرے اور شنڈے میں حساب کتاب برابر کرنے کا موقع آ گیا ہے، شرد پوار اور اجیت پوار کے بیچ میں بھی فیصلہ ہو جائے گا، ان انتخابات میں اپوزیشن متعدد اہم مسائل کو اجاگر کرے گی جنہوں نے موجودہ حکومت کے دوران ریاست کو متاثر کیا ہے۔
اپوزیشن بے روزگاری کے بڑھتے ہوئے بحران پر زور دے گی، خاص طور پر نوجوانوں کے لیے روزگار کے ناکافی مواقع۔ حکومت کی مختلف اسکیمیں، جیسے "لڈلا بھائی یوجنا”، کا مقصد نوجوانوں کی مدد کرنا ہے، لیکن اپوزیشن کا دعویٰ ہے کہ یہ اسکیمیں موثر ثابت نہیں ہوئیں۔ بے روزگاری کا مسئلہ ووٹرز کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے، خاص طور پر شہری علاقوں میں۔ لاکھوں نوجوانوں کے پاس ڈگری ہے جو کسی کام کی نہیں ہے۔ اور وہ ڈیلیوری بوائے اور اسی طرح کے دوسرے کام کرنے پر مجبور ہیں سرکاری نوکریاں نہ ہونے کے برابر ہیں ٹھیکے پر لوگوں کو عارضی طور پر رکھا جارہا ہے۔
دوسرا مسئلا کسانوں کی خودکشی اور زرعی بحران کا ہے فصلوں کی مناسب قیمت نہیں ملتی کسان نقصان میں رہتا ہے ،مہاراشٹرا میں کسانوں کی خودکشی کی شرح بہت زیادہ ہے، خاص طور پر ودربھ اور مراٹھواڑہ کے علاقوں میں۔حکومت آنکڑے بھی جاری نہیں کرتی،اپوزیشن حکومت کی ناکامی کو اجاگر کرے گی کہ وہ کسانوں کو درپیش بحران کو حل نہیں کر سکی، اور قرض معافی اور فصل انشورنس اسکیموں کا نفاذ ناکافی رہا ہے۔
سبھی بڑے بڑے کنٹریکٹ جو دیے جارہے ہیں ان میں بڑے پیمانے پر بدعنوانی کے الزامات ہیں مراٹھی کے مشہور صحافی نرنجن ٹکلے نے اس پر کئی یو ٹیوب ویڈیو پوسٹ کیے ہیں،
بڑے انفراسٹرکچر منصوبوں میں کرپشن کے الزامات بھی اپوزیشن کے ایجنڈے کا حصہ ہوں گے۔ اپوزیشن حکمران حکومت پر شفافیت کے بغیر معاہدے دینے اور مالی بدعنوانی میں ملوث ہونے کا الزام لگائے گی۔
سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد مراٹھا ریزرویشن کا معاملہ آگے نہیں بڑھ پایا منوج جرانگے نے کئی بار بھوک ہڑتال اور ریلی نکالی مغرب معاملہ وہیں ہے۔
مراٹھا ریزرویشن ایک طویل مدتی مسئلہ ہے، اور اپوزیشن حکومت کی ناکامی کو تنقید کا نشانہ بنائے گی کہ وہ اس مسئلے کا مستقل حل تلاش نہیں کر سکی۔ مراٹھا کمیونٹی ایک اہم ووٹ بینک ہے اور ان کا عدم اطمینان حکومت کے لیے مشکلات پیدا کر سکتا ہے۔
اسکے علاوہ ،اپوزیشن دیگر پسماندہ طبقات، (OBCs)، دلتوں اور مسلمانوں کے خدشات کو بھی اجاگر کرے گی۔ اپوزیشن کا کہنا ہے کہ حکومت ان طبقات کی ضروریات کو پورا کرنے میں ناکام رہی ہے۔
اپوزیشن حکمران اتحاد، خاص طور پر بی جے پی اور شیو سینا کے درمیان اندرونی اختلافات کو اجاگر کرے گی، اور دعویٰ کرے گی کہ یہ عدم استحکام حکومت کو مؤثر انداز میں ریاست کے مسائل حل کرنے سے روک رہا ہے۔
بابا صدیقی کے دن دھاڑے قتل نے ریاست کو ہلا دیا ہے جب ایک حکمران جماعت کا ایم ایل اے محفوظ نہیں تو عام آدمی کا کیا ،اپوزیشن نفرت انگیز تقاریر اور فرقہ وارانہ کشیدگی کو بھی ایک بڑا مسئلہ بنائے گی، اور حکمران جماعت کو الزام دے گی کہ اس نے تقسیم کی سیاست کو فروغ دیا ہے۔
مہاراشٹرا کے اسمبلی انتخابات میں اپوزیشن بے روزگاری، زرعی بحران، کرپشن، اور فرقہ وارانہ کشیدگی جیسے مسائل پر توجہ مرکوز کر کے ووٹرز کو متحرک کرنے کی کوشش کرے گی۔ مہا یوتی ماحول خراب کرنے کی کوشش کرکے ہندوتوا کے نام پر ووٹ حاصل کرنے کی کوشش کریگی۔ ایسے میں مسلمانوں کو ہوشمندی اور دانش مندی کا ثبوت دینا ہوگا اور فسطائیت کو ہر ممکن طریقے سے روکنے کی کوشش کرنی ہوگی ۔
Post Views: 0
Like this:
Like Loading...