Skip to content
مودی و شاہ پر تناو ہے کیا؟ کچھ پتہ تو کرو چناو ہے کیا؟؟
ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان
مہاراشٹر اور جھارکھنڈ اسمبلی انتخابات کا بگل بجا کرالیکشن کمیشن نے دونوں ریاستوں میں تاریخوں کا اعلان کردیا۔ جموں کشمیر میں بی جے پی کو ہار کا یقین تھا اس لیے ہریانہ کو اس کے ساتھ نتھی کیا گیا تاکہ نتائج کے بعد میڈیا میں صرف جیت پر توجہ مرکوز کرکے ہار کو چھپا دیا جائے۔ یہ منصوبہ کامیاب رہاہریانہ کے نتائج میڈیا پر چھائے رہے اور جموں کشمیر کی شکست چھپ گئی ۔ اس بار مہاراشٹر میں ہار کا ڈر ہے اس لیے جھارکھنڈ ساتھ کردیا گیا ہےتاکہ کم ازکم ایک مقام پر جیت سے دوسری شکست کو چھپایا جاسکے۔ جھارکھنڈ سے تقریباً تین گنا زیادہ نشستوں والے مہاراشٹرکے اندرمیں ایک مرحلہ جبکہ جھارکھنڈ کے اندردو مرحلوں میں ووٹنگ تعجب خیز ہے۔ یہ ان لوگوں کا حال ہے جو ’ایک قوم ایک انتخاب‘ کا نعرہ لگا کر عوام کو بیوقوف بناتے ہیں۔اس کےساتھ ضمنی انتخابات کی تاریخوں کا اعلان ہوا اور ان میں کامیابی کی خاطر بہرائچ کے اندر دنگا فساد بھی شروع کردیا گیا۔
الیکشن کمشنر نے بڑے فخر سے اعلان کیا کہ جموں کشمیر اور ہریانہ میں ایک بھی لاٹھی اور گولی نہیں چلی ۔انہیں پتہ ہونا چاہیے کہ انتخاب صرف پولنگ کے دن نہیں ہوتا ۔ پچھلے کئی ماہ سے جموں کشمیر میں فوجیوں پرحملے کا لامتناہی سلسلہ جاری تھا جس سے بی جے پی کی جموں میں مددملی اور ہریانہ میں بھی ہجومی تشدد کے ذریعہ رائے دہندگان کو متاثر کیا گیا۔ مہاراشٹر کے اندر وشال گڑھ کا فساد الیکشن جیتنے کی خاطر کی جانے والی نفرت انگیزی کا حصہ تھا اور رام گیری کا بیان بھی اسی سازش کے تحت دلوایا گیا۔ تاریخوں کا اعلان توقع کے مطابق تھا کیونکہ ہریانہ اور جموں کشمیر سے فارغ ہوتے ہی ہندوستانی سیاست کے چنگو منگو مہاراشٹر اور جھارکھنڈ میں جٹ گئےتھے۔ منگو مہاراشٹر سے لوٹے تو چنگو واشیم ، تھانے اور ممبئی کے دورے پر آدھمکے۔ اسی وقت رنگونے بھی کولہاپور میں قدم رنجا فرمایا ۔ اس طرح گویا ایک بہورنگی (رنگ برنگا سیاسی ) تماشا زور و شور سے شروع ہو چکا تھا ۔
وزیر اعظم مودی تو فی الحال پردھان منتری کاچولہ تارتار کرکے پرچار منتری کا لبادہ اوڑھ رکھا ہے۔ حزب اختلاف کے رہنما راہل گاندھی کی بھی تمام توجہات کا مرکز انتخابی مہم بن گئی ہے۔ ان دونوں کے درمیان مہاراشٹر میں ’’تم ڈال ڈال ، ہم پات پات‘ کا کھیل چل رہا ہے۔ دونوں ایک دوسرے کے اثرات زائل کرنے تلے ہوئے ہیں۔ اس لیے ایک بنجارہ سماج کے لیے ٹسوے بہاتا ہے تو دوسرا پسماندہ سماج کی تاریخ چھپانے کا الزام لگاتا ہے۔ ایک اپنے مخالفین کو ’اربن نکسل‘ کے خطاب سے نوازتا ہے تو دوسرا انہیں شیواجی اور آئین کا دشمن قرار دیتا ہے۔ ایک میٹرو ریل میں سفر کرنے کا ناٹک کرتا ہے تو دوسرا ایک ٹیمپو ڈرائیور کے گھر جاکر اس سے ہمدردی کا ڈھونگ رچاتا ہے لیکن راہل گاندھی کے اندر بلا کی خود اعتمادی اور وزیر اعظم نریندر مودی کے چہرے پر شدیدتناو کے آثار صاف دکھائی دیتے ہیں۔ ایسے میں راحت اندوری کا یہ شعر معمولی ترمیم کے ساتھ یاد آتا ہے؎
مودی و شاہ پر تناو ہے کیا؟
کچھ پتہ تو کرو چناو ہے کیا؟؟
اصول و نظریہ اور اخلاقی اقدار سے بے نیاز ابن الوقی کی سیاست میں فائدہ بخش طاقت کے آگے نظریں بچھائی جاتی ہیں اور بے فائدہ کمزور سے نظرین چرائی جاتی ہیں۔ اس کا مظاہرہ فی الحال مہاراشٹر کے اندر ہورہا ہے۔ وزیر داخلہ امیت شاہ اور وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے کے درمیان پارلیمانی انتخاب کے نتائج نے ایک بہت بڑی کھائی پیدا کردی ہے۔قومی انتخاب میں ایکناتھ شندے پندرہ تا بیس نشستیں چاہتے تھے مگر انہیں پندرہ پکڑا دی گئیِ اس میں بھی واشم اور رام ٹیک کے امیدواروں کو سروے کے بہانے تبدیل کروایا گیا ۔ بی جے پی خود سب سے زیادہ اٹھائیس مقامات پر لڑی اور اجیت پوار کی این سی پی کو چار نشستوں تک محدود کردیا گیا۔ شاہ اور فڈنویس چاہتے تھے پارلیمانی انتخاب میں اپنی برتری ثابت کرکے صوبائی انتخاب میں اپنا دعویٰ مضبوط کریں مگر الٹا ہوگیا۔ ایکناتھ شندے نے پچاس فیصد کے اسٹرائیک ریٹ سے اپنے سات امیدوار کامیاب کرلیے جبکہ فڈنویس نو پر رک گئے اور ان کی کامیابی کی شرح تقریباً تیس فیصد ہی رہی ۔
بی جے پی اب اپنا پچھلا ریکارڈ یعنی دو سوپانچ قائم رکھنے کی ایک سو اسیّ نشستوں پر لڑنا چاہتی تھی اور پوار و شندے کو صرف سو نشستیں دینے کا ارادہ تھا مگر ایکناتھ کا کم ازکم 120 مقامات پر دعویٰ تھا کیونکہ عوام کے اندر بی جے پی کے خلاف شدید ناراضی کی لہر ہے ۔ ایکناتھ شندے صرف اسی پر اکتفاء نہیں کرتے بلکہ چاہتے ہیں انہیں کے چہرے پر انتخاب لڑا جائے ۔ ان کا مطالبہ معقول ہے کیونکہ پچھلی بار حالات بی جے پی کے حق میں سازگار تھے۔ اس نے ایوان پارلیمان میں اپنے بل بوتے پر تین سو پار کیا تھا۔ سرجیکل اسٹرائیک کے سبب وزیر اعظم کی مقبولیت آسمان سے باتیں کررہی تھی ۔ ریاست میں بی جے پی برسرِ اقتدار تھی اور دیویندر فڈنویس کے چہرے پر الیکشن لڑا گیا تھا مگر وہ اکثریت حاصل کرنا تو دور پہلے جیسی کامیابی بھی درج کرانے میں ناکام رہی ۔ اس بار ماحول بگڑا ہوا ہے۔ ایم وی اے کے حوصلے بلند ہیں ۔ وزیر اعظم کی مقبولیت پاتال میں ہے اس لیے پھر سے دیویندر فڈنویس کو سامنے کیا گیا تو بی جے پی کو بہت پیچھے جانا پڑے گا ۔
ایکناتھ شندے کے اس بھاو مول کا نتیجہ یہ نکلا کہ انہیں 70 نشستیں اور اجیت پوار کو 50 پر موقع دینے کی خبر ہے 155 پر بی جے پی کا لڑناطے ہو گیاہے ۔ باقی ماندہ مقامات میں سے کچھ ایکناتھ شندے اور پوار کو مل سکتی ہیں۔وزیر اعظم واشیم کا دورہ مکمل کرنے کے بعد وزیر اعلیٰ کے شہر تھانے آکر وزیر اعظم نے 12,000 کروڑ روپے سے زیادہ کے تھانے انٹیگرل رِنگ میٹرو ریل پروجیکٹ کا سنگ بنیاد رکھا اور کہا کہ بالا صاحب ٹھاکرے کو تھانے سے خاص لگاؤ تھانیز یہ آنجہانی آنند دیگھے کا بھی شہر تھا۔ مودی جی کو شاید نہیں معلوم کہ انہیں کی پارٹی کے رکن اسمبلی نتیش رانے نے بالا صاحب ٹھاکرے پر آنند دیگھے کے قتل کا الزام لگایا ہے۔ نتیش کے والد نارائن رانے نے بھی ایکناتھ شندے کو ان کی غداری پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا تھا کہ اگر وہ صحیح وقت پر اقدام نہ کرتے تو ان کا بھی آنند دیگھے جیسا حشر ہوجاتا ۔ ایسے میں بالا صاحب ٹھاکرے کے عقیدتمندوں کے لیے بی جے پی یا شندے کی حمایت کتنی مشکل ہے اس کا بہ آسانی اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔
وزیر اعظم نے میرین ڈرائیو سے باندرہ تک کی ساحلی سڑک کا ذکر تو کیا مگر اس سے اتر کرباندرہ میں ایس وی روڈ پر آتے ہی لگنے والے ٹرافک جام کو بھول گئے اور اٹل سیتو کی تعریف کرنے والے مودی کو نہایت قلیل عرصے میں اس پر پڑنے والے بدعنوانی کےگڈھے یاد نہیں آئے لیکن عوام ان کو نہیں بھول سکتے اس لیے کہ وہ ہیلی کاپٹر سے نہیں سڑک پر چلتے ہیں اور اس پُل پر جو ظالمانہ ٹول ٹیکس وصول کیا جاتا ہے وہ لوٹ مار بھی انہیں ہر روز پریشان کرتی ہے۔ ممبئی میٹرو کو 2.5 سالہ تاخیرکے لیے بی جے پی ادھو سرکارکو ذمہ دار ہےٹھہراتی ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ جب پرانے ٹھیکوں میں سے ملنے والی رشوت بند ہوگئی تو مرکزی امداد بند کرکے اسے روکاگیا ورنہ کوئی بھی صوبائی حکومت بھلا وہ کیوں روکتی؟ اس لیے لاگت میں جو 14,000 کروڑ روپے کا اضافہ ہوگیا اس کی ذمہ داری بی جے پی پر ہے۔
مودی جی نے میٹرو کو ہری جھنڈی دکھائی جبکہ انہیں زعفرانی پرچم لہرانا چاہیے تھا مگر وہ تو آگے بڑھنے سے روکنے کی علامت ہے۔ یہ حسن اتفاق ہے کہ ترقی کی علامت سبز رنگ ہے اور وزیر اعظم کو بادلِ نخواستہ اسی کو لہرانا پڑتا ہے۔ عوام کے ٹیکس سے بننے والی اس میٹرو ریل کے لیے موصوف نے جاپان کی حکومت اور جاپانی بین الاقوامی کارپوریشن ایجنسی (جے آئی سی اے) کا خاص طور پر شکریہ ادا کیا۔ پردیسیوں سے دوستی کرنے والے وزیر اعظم خود اپنے ملک کے باشندوں سے دشمنی کرتے ہیں ۔ اقتدار کی خاطر کبھی تو وہ مسلمانوں اور کبھی ہندوتوا کی علمبردار شیوسینا کے دشمن بن جاتے ہیں بلکہ سنگھ سے بھی سرد جنگ چھیڑ دیتے ہیں۔ ان کی پکی دوستی تو صرف اڈانی جیسے سرمایہ داروں سے ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی جس وقت میٹرو ریل میں سفر کرنے کا ڈرامہ کررہے تھے تو ان کے سرخ قالین بچھایا گیا تھا۔ اس پر صرف وزیر اعظم،وزیر اعلیٰ اور ان کے محافظین کو چلنے کی اجازت تھی۔ نائب وزیر اعلیٰ اجیت پوارکنارے کنارے یعنی ایک قدم اوپر اور دوسرا نیچے رکھ کر چل رہے تھے ۔ دیویندر فڈنویس تو دوچار فِٹ باہر تھے۔
ٹرین میں سب سے پہلے وزیر اعظم کو دولڑکیاں نغمہ گاتے ہوئے ملیں جوان میں سے ایک گیٹار بجا رہی تھی جبکہ ریل گاڑی میں موسیقی بجانا ممنوع ہے۔ اس کے بعد مصنوعی ذہانت کی تعلیم حاصل کرنے والے نوجوان اداکار مل گیا۔ ایک برقع پوش معمر خاتون نے اور پھر ایک ساڑی پہنےہندو عورت اور ایک اسکارف اوڑھے نوجوان دوشیزہ نے بھی وزیر اعظم کے سامنے سرکاری اسکیموں سے استفادے کا اعتراف کیا ۔ یہ ناٹک نہایت بھونڈے انداز میں کھیلا گیا۔ اس کے برعکس راہل گاندھی کولہاپور جانے سے قبل ایک گاوں میں اچانک ٹیمپو چلانے والے اجئے سندے نامی دلت کے گھر چلے گئے ۔ ان سے بات چیت کی۔ کھانا بنانے میں مدد کرنےکے بعد کھا پی کر لوٹے۔ اس طرح ایک چائے والے وزیر اعظم اور حزب اختلاف کے شہزادے کا فرق دنیا کے سامنے آگیا ۔ راہل گاندھی کے انہیں اقدامات سے مودی اور شاہ کا خون کھولتاہے کیونکہ وہ ایسا نہیں کرسکتے۔ وہ دونوں راحت اندوری کے اس شعر کی مصداق ڈر جاتے ہیں ؎
خوف بکھرا ہے دونوں سمتوں میں
تیسری سمت کا دباؤ ہے کیا؟
Post Views: 21
Like this:
Like Loading...
بہت خوب
شکریہ ۔۔۔