Skip to content
والدین بچوں کی ہر فرمائش کیوں پوری نہیں کرتے؟
از۔ ذوالقرنین احمد
(9096331543)
انسان کو اللہ تعالیٰ نے اشرف المخلوقات کا درجہ دیا ہے کیونکہ اس کے اندر سوچنے سمجھنے کی صلاحیت بھی پیدا کی خوبصورت دل بھی تخلیق کیا جس سے انسان کے اندر مختلف خواہشات جنم لیتی ہے جو بھی چیز اسے میسر نہیں ہوتی وہ اس کے لیے خواہش بن جاتی ہے۔ بچپن انسان کی زندگی کا سب سے خوبصورت دور ہوتا ہے جس میں وہ ہر طرح کی فکر و ذمہ داریوں سے آزاد ہوتا ہے نا کوئی کام کرنے کی ذمہ داری ہوتی ہے نہ کوئی اپنی خواہشات پوری کرنے کے لیے محنت کرنی پڑتی ہے بھوک لگنے سے پہلے کھانا مل جاتا ہے کھیلنے کودنے کے لیے وقت مل جاتا ہے نئے کپڑے جوتے وغیرہ خریدنے کی کوئی فکر نہیں ہوتی ہے عید آنے سے قبل سب سے پہلے بچے کے کپڑیں وغیرہ آجاتے ہیں کھیلنے کی عمر ہوتی ہے تو کھیل کود کے سامان خود ہی گھر میں مل جاتا ہے یعنی والد لاکر دیتے ہیں کھانا مائیں تیار کرلیتی ہیں، سبھی کا لاڈ پیار بھی فری میں مل جاتا ہے گرمیوں اور دیوالی کی چھٹیوں میں سیر کرنے مل جاتی ہے۔ ان سب چیزوں کے لیے بچے کو کوئی الگ سے محنت نہیں کرنی ہوتی ہے بلکہ یہ سب اسے عام خوشیوں کی طرح میسر ہوجاتی ہے جسے وہ ایک عام چیز سمجھتا ہے۔ لیکن جب بچہ بڑا ہوتا ہے اسکول جانے کی عمر ہوجاتی ہے تو پھر اس کی کچھ کچھ خواہشات پر پابندیاں لگانی شروع ہوجاتی ہے۔
بچے کی کچھ خواہشیں ضد کرنے پر بھی والدین پوری نہیں کرتے ہیں جب کہ وہ بہت چھوٹی چھوٹی ہوتی ہے اور نا ہی زیادہ مہنگی ہوتی ہے جیسے برف کا گولہ، ٹافی، آئس کریم، کلفی، غبارہ، یا آج کے دور کے مطابق موبائل فونز ،ٹیبلیٹ، ویڈیو گیم، وغیرہ وغیرہ وقت اور عمر سے پہلے جو چیز جلد ہاتھ میں آجائیں یا میسر ہوجائیں وہ چیز انسان کو فائدہ نہیں پہنچاتی ہے بلکہ نقصاندہ ثابت ہوتی ہے اسی لیے وہ چھوٹی چھوٹی چیزیں والدین بچوں کو خرید کر نہیں دیتے ہیں ایسا نہیں ہوتا ہے کہ والد کے پاس پیسے نہیں ہوتے، بلکہ پیسے ہوتے ہیں لیکن پھر بھی وہ بچے کو نہیں دیتے ہیں بچہ چاہیں کتنی ہی ضد کریں لیکن والدین اسے اسکی ہر خواہش کو پورا نہیں کرتے ہیں،
یہ بات بچپن میں نہیں سمجھ آتی ہے!
جب ہم بڑے ہوجاتے ذمہ داریاں آجاتی ہے تب ہمیں اس بات کا احساس ہوتا ہے کہ بچپن میں والدین ہماری چھوٹی چھوٹی خواہشات کو کیوں پورا نہیں کرتے تھے جو ہماری سمجھ سے باہر ہوتی تھی کیونکہ بچے تو بےفکر اپنی مستیوں میں مگن ہوتے ہیں لیکن اب سمجھ میں آتا ہے وہ ایسا کیوں کرتے تھے کیونکہ انھیں اس بات کا ادراک ہوتا تھا کہ اگر بچہ خراب چیزیں کھائیں گا جس میں بہت زیادہ جراسم ہوتے ہیں تو وہ بیمار پڑ سکتا ہے یا ایسے کھلونے جو اس کے نازک اعضاء آنکھ، ناک، منہ کے لیے خطرناک ثابت ہوسکتے ہیں اور پھر وہ پوری زندگی کے لیے کسی بڑی پریشانی کا سامنا کرسکتا ہے یہی وہ باتیں ہوتی ہے جو بڑے ہونے کے بعد سمجھ آتی ہے ہے اس میں اور بھی غور طلب بات یہ ہے کہ والدین کو بچوں کے مستقبل کی فکر لگی رہتی ہے وہ حال، سے زیادہ بچوں کے مستقبل کو لے کر سنجیدہ اور فکر مند ہوتے ہیں بچے کو ان باتوں کا ادراک نہیں ہوتا ہے کہ والد ان کی چھوٹی سی خواہش کو کیوں پورا نہیں کر رہ ہیں جبکہ پیسہ بھی ہے! لیکن والد کو یہ فکر ہوتی ہے کہ کل بچے کی اسکول کی فیس جمع کرنی ہے ہے والدہ کو بچے کے لیے ٹیفن باکس تیار کرنا ہے اسکول کی کتابیں خریدنے ہے عید کے لیے بچوں کو کپڑیں لینے ہیں، گھر کا کرانہ بھرنا ہے، لائٹ بل ادا کرنا ہے ،ٹیکس بھرنا ہے، دکھ سکھ کے لیے کچھ پیسہ بچا کر بھی رکھنے ہے چھٹیوں میں بچوں کو سیر کروانے کے لیے کچھ اضافہ خرچہ ہوگا اس کے لیے کچھ رقم کا انتظام کرنا ہوگا، گھر میں بزرگ والدین کی ضروریات کا خیال رکھنا ہوتا ہے وغیرہ وغیرہ یہ سب چیزیں حقیقت میں اس وقت سمجھ آتی ہے جب ہم بڑے ہوجاتے ہیں اور ذمہ داریاں عائد ہوتی ہے۔
والدین بچوں سے بے انتہا محبت کرتے ہیں اور یہ فطری چیز ہے ہر کسی کو اپنے بچے سب سے زیادہ عزیز ہوتے ہیں ماں کو سب سے زیادہ بچوں سے محبت ہوتی ہے لیکن اللہ تعالیٰ ستر ماؤں سے زیادہ اپنے بندے سے محبت کرتا ہے
اسی لیے اللہ تعالیٰ بھی دنیا میں انسانوں کی ہر خواہش کو پورا نہیں کرتا ہے اللہ تعالیٰ اول و آخر کو جاننے والا ہے وہ اس لیے اپنے بندوں کو کچھ چیزوں اور خواہشات سے دور رکھنا چاہتا ہے جو اس کے لیے وقت کے لحاظ سے یا کسی مصلحت کے تحت فائدہ مند نہیں ہوتی ہے جیسے ڈاکٹر مریض کی بیماری کی تشخیص کرتا ہے اور جب اسے بیماری کا ادراک ہوجاتا ہے تب وہ کچھ چیزوں کا پرہیز کرنے کے لیے کہتا ہے اور دوائی روزآنہ استعمال کرنے کے لیے کہتا ہے۔ کیونکہ وہ چاہتا ہے کہ مریض کوئی بڑی بیماری میں مبتلا نا ہوجائے، تو ذرا اندازہ لگائیے اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو برائیوں اور مشکلات سے بچانے کے لیے کتنا مہربان ہوگا۔ جسے اپنے بندوں کی دائمی زندگی کی فکر ہے۔ وہ بندوں کو ہمیشہ ہمیشہ کی کامیابی سے ہم کنار کرنا چاہتا ہے۔ لیکن اس کے لیے کچھ شرطیں ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات میں کسی کو شریک نہ کیا جائے ایک اللہ کی عبادت کی جائے اور حضرت محمّد ﷺ کو آخری نبی تسلیم کیا جائے اور قرآن و حدیث نبوی پر عمل پیرا ہوجائے یہی زندگی اصل کامیابی ہے باقی سب چھوٹی چھوٹی نفسانی و عارضی خواہشات ہیں جس میں انسان اپنی حقیقی زندگی یعنی آخرت کی لا محدود زندگی کو فراموش کر بیٹھا ہے اس لیے آج وقت اور حالات ہمارے لیے تنگ کردیے گئے ہے کیونکہ یہ ہماری اصل جگہ ہیں ہی نہیں ہمیں تو آخرت کی لامحدود زندگی کی کامیابی کی فکر کرنی ہے دنیا کی زندگی ایک مسافر کی طرح ہے جو کسی اسٹیشن پر تھوڑی دیر ٹھہرتا ہے اور پھر اپنی منزل کی طرف رخت سفر باندھ لیتا ہے اگر وہ اسٹیشن کی خوبصورتی اور وہاں کی رنگین دنیا کو دیکھ کر وہی ٹھہر جائے تو ایسا مسافر اپنی منزل کو نہیں پہنچ سکتا ہے اپنے مقصد کو سامنے رکھتے ہوئے زندگی کو گزارنے کی ضرورت ہے ہمارا مقصد آخرت ہے۔
17/10/2024
Post Views: 0
Like this:
Like Loading...