Skip to content
سابق چانسلر فیروز بخت پر ایک لاکھ کا جرمانہ
جلی حروف میں معروف اخبار میں معافی نامہ شائع کرنے کا حکم
نئی دہلی،17اکتوبر (ایجنسیز)
سپریم کورٹ نے مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کے شعبہ ماس کمیونی کیشن اینڈ جرنلزم کے پروفیسر اور سابق ڈین احتشام احمد خان کی جانب سے دائر کیے گئے مقدمے میں فیصلہ سناتے ہوئے سابق چانسلر فیروز احمد بخت کو حکم دیا کہ وہ شکایت کنندہ (پروفیسر احتشام احمد خان) کو ایک لاکھ روپے ادا کریں اور ایناڈو اخبار میں جلی حروف میں غیر مشروط معافی نامہ شائع کریں۔ اس فیصلے کے ساتھ عدالت نے یہ مقدمہ خارج کر دیا۔سپریم کورٹ نے 14 اکتوبر کو اپنے فیصلے میں مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کے سابق چانسلر فیروز احمد بخت کو ایک مہینے کے اندر تلنگانہ اور آندھرا پردیش میں سب زیادہ چھپنے والے اخبار ایناڈو کے پہلے صفحے پر جلی حرفوں میں غیر مشروط معافی نامہ چھاپنے کی ہدایت دی۔
پورا معاملہ یہ ہے کہ یونیورسٹی کے سابق چانسلر فروز احمد بخت نے اسکول آف ماس کمیونی کیشن اینڈ جرنلزم کے سابق ڈین پروفیسر احتشام احمد خان کے خلاف جنسی استحصال کا الزام عائد کرتے ہوئے ان پر جنسی شکاری جیسے نازیبا تبصرے کیے۔2018 میں، فیروز بخت نے اس وقت کے انسانی وسائل کے مرکزی وزیر پرکاش جاوڈیکر کو خط لکھ کر پروفیسر احتشام احمد پر یونیورسٹی میں دو طالبات کو جنسی طور پر ہراساں اور تذلیل کرنے کے الزامات عائد کیے۔ان الزمات پر پروفیسر احتشام احمد نے فیروز بخت کیخلاف تعزیرات ہند کی دفعہ 499 اور 500 کے تحت ہتک عزت کا مقدمہ دائر کر دیا۔ پروفیسر احتشام نے عدالت کو بتایا کہ سابق چانسلر نے یونیورسٹی کی داخلی شکایات کمیٹی کو جانچ میں ان کیخلاف کوئی ثبوت نہ ملنے کے باوجود ان کیخلاف توہین آمیز تبصرے کیے۔
عدالتی فیصلے سے یہ بات بھی واضح ہو گئی کہ ذاتی تنازع کی وجہ سے فیروز بخت کی جانب سے پروفیسر احتشام احمد پر یہ الزامات ان کی شبیہ داغدار کرنے کے لیے عائد کیے گئے۔عدالت عظمیٰ نے فیروز بخت کے توہین آمیز الزامات کی وجہ سے پروفیسر احتشام کو ہونے والی ذہنی تکلیف پر چار ہفتوں کے اندر ایک لاکھ روپے کا علامتی معاوضہ ادا کرنے کا حکم دیا ہے۔سپریم کورٹ کی جسٹس بی آر گوائی اور وی کے وشواناتھن کی بنچ نے اس معاملے کی سماعت کی۔ سماعت کے دوران سابق چانسلر فیروز بخت کی جانب سے سینئر ایڈوکیٹ ویبھا دتہ مکھیجا نے کہا کہ درخواست گزار نے 19 ستمبر کو غیر مشروط معافی مانگی ہے اور سابقہ کارروائی کے مطابق وہ اسے اخبار میں شائع کرنے کے لیے بھی تیار ہیں۔ انہوں نے عدالت کو آگاہ کیا کہ انہوں نے یہ ریمارکس جذباتی طور پر دیا۔ مکھیجا نے مزید کہا کہ ہم یہ ریمارکس واپس لینے کے لیے تیار ہیں۔درخواست گزار کی سمجھوتہ پر آمادگی کو نظر میں رکھتے ہوئے عدالت نے معافی نامہ چھاپنے اور جرمانے ادا کرنے کی سزا سناتے ہوئے مقدمہ کو خارج کر دیا۔
Like this:
Like Loading...